کچھ دن اور بھی بادیہ پیمائی کر
محمد ابوبکرعابدی قاسمی ندوی
موبائل نمبر : 8271507626
اس روئے زمین پر جتنے لوگ بھی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئے ہیں، ان میں سے اکثر نے بے پناہ محنت و مشقت، جد وجہد اور سعی پیہم سے کام لیا ہے ۔ طرح طرح کی مصیبتیں و کلفتیں برداشت کی ہیں، خود کو اپنے مقصد کے پیچھے مکمل طور پر سپرد کردیا، شب و روز کو ایک بنا لیا، تب جا کر وہ ایک عظیم انسان بنے، کامیابی و کامرانی نے ان کا قدم چوما، اہل دنیا نے انہیں اپنی آنکھوں کا تارا بنایا، اپنی پلکوں کے نیچے سجایا، دل کی گہرائیوں سے عزت و عظمت بخشی اور ان کو اپنا آئیڈیل و نمونہ بنانے کی کوشش کی ۔
یہ مسلم اصول اور قانونِ الہی ہے کہ جب صحیح تربیت کے ساتھ محنت ہوتی ہے تو خاطر خواہ نتائج بھی مرتب ہوتے ہیں ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :”والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا ، وإن الله مع المحسنين. ” اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستے ضرور دکھادیں گے اور بے شک اللہ خلوص والوں کے ساتھ ہے (العنکبوت:69) ۔ چناں چہ محنت کے بعد ہر راہ مل جاتی ہے، ہر کام آسان ہوجاتا ہے، انسان کے لئے بس جد وجہد شرط ہے ۔ ایک مشہور مقولہ ہے ” من جد وجد ” جس نے محنت کی وہ کامیاب ہوگیا ۔
مشہور ناصح شیخ سعدی کے حالات میں لکھا ہے کہ سب سے پہلے ان کے دل میں علم کا جو داعیہ پیدا ہوا اس کا سبب یہ ہوا کہ آپ ایک مرتبہ اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، بیوی کسی بات پر ناراض ہوگئی، تو جس چمچہ سے وہ دال نکال رہی تھی اسی سے مارنے لگی، تو آپ کے دل میں یہ بات آئی کہ اگر میرے پاس علم ہوتا تو اس چمچہ سے مار نہ کھاتا؛ چناں چہ اسی وقت رخت سفر باندھا اور بغداد جاکر تحصیل علم میں لگ گئے، لیکن چونکہ عمر بڑی تھی اور زبان بھی موٹی ہوچکی تھی اس لیے علم حاصل کرنے میں زبان چلتی نہیں تھی تو طلبہ ہنستے اور مذاق اڑاتے تھے ۔ ایک مرتبہ پریشان ہوکر اور علم سے مایوس ہوکر یہ طے کرلیا کہ چلو اب ڈوب مریں، پس اس ارادے سے ایک کنواں کے پاس پہنچے تو کنواں میں ایک تخت تیرتا ہوا دکھائی دیا جس پر نشان پڑ چکے تھے، پوچھا یہ نشان کیسے پڑے ہیں ؟ ایک عورت نے کہا ڈول رسی کی رگڑ کی وجہ سے اس پر نشان پڑے ہیں، فوراً آپ کے دل میں یہ بات آئی کہ جب اس تختہ پر رسی کی رگڑ کی وجہ سے نشان پڑسکتے ہیں، باوجودیکہ یہ سخت ہے، تو میری زبان تو نرم ہے، میرے شب و روز کی محنت اور جد وجہد سے کیا زبان میں سلاست پیدا نہیں ہوسکتی!؟ شیخ صاحب کے دل میں یہ بات اس طرح اثر کرگئی کہ اپنا ارادہ ہی ملتوی کردیا اور برابر علم کی جستجو میں لگ گئے اور چالیس سال تک تحصیل علم میں لگے رہے؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور ایسا زبردست علم عطا ہوا کہ رہتی دنیا تک ان کے علوم و فیوض سے علمی دنیا میں نفع ہوتا رہے گا ۔
اس واقعہ سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کو اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے مسلسل محنت اور جد و جہد کرتے رہنا چاہئے، تا آنکہ حنا اپنا رنگ نہ دکھا دے ۔ صاحب آداب المتعلمین نے مناقب موفق کے حوالہ سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہ بیان نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ : ‘ میرے بیٹے کا انتقال ہوگیا لیکن میں نہ جاسکا، اور نہ ہی اس کے جنازے میں شریک ہوسکا، تجہیز و تکفین کا کام اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے سپرد کردیا اس اندیشہ سے کہ امام صاحب رحمہ اللہ کے درس کا کوئی حصہ چھوٹ نہ جائے جس پر ہمیشہ حسرت ہوتی رہے ۔ یہ تھے امام ابو یوسف رحمہ اللہ جن کی مُسلسل محنت اور پابندی نے انہیں امام ابو یوسف بنادیا اور اپنے زمانے کے بڑے امام اور مشہوربہترین قاضی وقت بنے ۔
یہ بات تو طے ہے کہ مواظبت اور پابندی کے ساتھ اخلاص نیت ہو تو پھر مقصد کے حصول میں چار چاند لگ جاتا ہے؛ جیسا کہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے اخلاص کے بارے میں کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ فرماتے ہیں : ” میں اس طرح پوشیدہ رہنا چاہتا تھا جیسے کبھی کوئی مجھے جانے ہی نہیں؛ لیکن میری علمی سرگرمی نے مجھے لوگوں کے درمیان مشہور کردیا ” لہذا ہر شخص میں اخلاص اور لگن ایسا ہی ہونی چاہئے تب جا کر وہ عظیم انسان بنیں گے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ کامیابی و کامرانی سے سرفراز ہونے کے لئے محنت ومشقت، جد وجہد، سعی پیہم، نیز اس عمل پر مواظبت اور پابندی، اخلاص نیت کے ساتھ شرط اول ہے؛ اس لئے بلند حوصلوں اور سچی لگن کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کے لئے محنت کرتے رہیں، اس طرح بادیہ پیمائی کرتے کرتے کسی نا کسی دن منزل مقصود تک پہنچ ہی جائیں گے ۔
اسی مضمون کو شاعر یوں بیان کرتا ہے :
مل ہی جائے گی کبھی منزلِ لیلیٰ اقبال
کچھ دن اور بھی بادیہ پیمائی کر
Comments are closed.