مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ : قومی یکجہتی کا امام

 

ڈاکٹر سید عروج احمد

(قاضیِ شہر کھاچرود و ناگدہ، ایم پی)

 

امتِ مسلمہ کسی ایک خطے اور علاقے کے بجائے الہی قوانین سے نوع انسانی کو روشناس کرانے کے لئے عالمی سفیر کی حیثیت رکھتی ہے؛ اس لئے ہر زمانے اور ہر علاقے کی اقوام سے اپنے تعلقات کو مستحکم و مضبوط بنانا اور اُسے استمرار و دوام دینا اس کی دینی ذمے داری ہے۔ خاص طور پر جہاں ربانی ہدایات کی تبلیغ و اشاعت کی زیادہ ضرورت ہو، وہاں وہ مصائب و مشکلات کو بھی برداشت کرکے مرافقت و معاونت کی روش اختیار کرنے کی پابند ہے۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مسلمانوں کی یہ ذمہ داری زیا دہ ہی بڑھی ہوئی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی ظرف نگاہی سے اس کو محسوس کر کے اپنی تحریروں و تقریروں میں بار بار اس بھولے ہوئے سبق سے امت مسلمہ کو آگاہ کیا ہے۔ سطور ذیل میں آں جناب کے انھیں خیالات کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

انگریز ایک حملہ آور اور جارح کی حیثیت سے ہندو ستان میں آئے تھے۔ اور اپنی حکومت کے استحکام و استقلال کے لئے انھوں نے ظلم و زیادتی، باشندگان ہند کی تذلیل و استخفاف کے ساتھ مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنا اپنی پہچان بنالی تھی۔ انجام کار انگریزوں کے خلا ف پورے ملک میں ہنگامہ بر پاہوگیا۔ اس ہنگامے کو ایندھن فراہم کرنے میں ملک کی جو مقتدر شخصیات تن من دھن سے مصروف تھیں، ان میں سرفہرست ایک نمایاں نام، مولانا ابوالکلام آزادؒ کا بھی ہے۔ مولانا موصوف نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے ملک کے طول و عرض میں مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں میں بھی انگریزوں کے خلاف بغاوت و عداوت کی آگ لگادی تھی۔ تحریک ریشمی رومال، جمعیت علماء اور کانگریس کے پلیٹ فارم سے جب ترک موالات کا اعلان ہوا، تو اسی کے ساتھ آزادیِ وطن کے لئے ہندو مسلم دوستی و رفاقت کا بھی اسٹیج تیار ہوگیا۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ جو تنہا انگریزوں سے برسرِ پیکار تھا۔ اس کو مولاناؒ نے مختلف طریقوں سے ہندو مسلم اتحاد کے لئے آمادہ کیا۔ اپنے ایک خطبے میں کہتے ہیں:

”میں نے اپنے ہم مذہبوں کو اس طرف بلایا کہ وہ علاحدگی کی پالیسی پر قائم رہ کر اپنی ہستی کو ملک کی آزادی کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، انھیں چاہیے کہ اپنے ہندو بھائیوں پر اعتماد کریں۔“ (خطبات آزاد، ص: 194)

ایک طرف (ایک غیرمسلم قوم) انگریز، سے ترک موالات، و محاربہ کی دعوت! اور دوسری طرف (ایک دوسری غیر مسلم قوم) ہندو، سے رفاقت ہی نہیں؛ بلکہ امت کو اُس پر اعتماد کی دعوت دی، تو کچھ لوگوں کو اس میں اشکال ہوا اور قرآن میں پارہ نمبر 28، سورة الممتحنة کی آیات نمبر 1 اور 9 سے اعتراض کیا۔ مولاناؒ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ:

” اگر ایک طرف اسلام کے فریقِ محارب کے مقابلے میں ترکِ موالات بتایا گیا تو دوسری طرف یہ حقیقت کھول دی کہ جن قوموں نے مسلمانوں پر حملہ نہیں کیا ہے، ان کی آبادیوں پر قبضہ نہیں کیا ہے، ان کے لئے اللہ کی وہ شریعت جو دنیا میں ایک عالم گیر برادری کا اور محبت کا سبق دے اور تمام کرہ ارضی کو خدا کی محبت کا ایک گھرانہ بنانے کے لئے آئی ہے، محال ہے کہ وہ ایک منٹ کے لئے حکم دے کہ مسلمان دنیا میں کسی قوم کے ساتھ محبت اور عہدِ اتفاق نہ کریں۔“ ( خطبات آزاد، ص: 51)

سورہ ممتحنہ کی ایک دوسری آیت نمبر ۸ سے مولانا آزادؒ نے اپنا موقف پیش کیا۔ جس کا ترجمہ درج ذیل ہے:

”اللہ تو تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دِین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، اُن کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ کرو، یقینا اللہ انصاف کر نے والوں کو پسند کرتا ہے۔

”مفتی محمد تقی عثمانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”یعنی جو غیر مسلم مسلمانوں سے نہ جنگ کرتے ہیں، اور نہ اُنہیں کوئی تکلیف دیتے ہیں، ان سے اچھا برتاؤ اور نیکی کا سلوک، اللہ تعالیٰ کو ہرگز ناپسند نہیں ہے، بلکہ انصاف کا معاملہ کرنا تو ہر مسلم اور غیر مسلم کے ساتھ واجب ہے۔“ (توضیح القرآن آسان ترجمہ قرآن، جلد:3، ص: 1718)

ہندوؤں سے رفاقت! یہی نہیں کہ قرآنی ہدایات کے مطابق درست اور مستحسن ہے، بلکہ اس رفا قت ودوستی کی عظمت و اہمیت سے مسلمان کا عقیدہ اور آستھا، جڑا ہوا ہے۔ مولانا آزادؒ فرماتے ہیں:

”بہرحال ہندو مسلمانوں کے اتفاق کے سلسلے میں آپ کے سامنے یہ حقیقت لانا چاہتا تھاکہ اگر مسلمانوں نے محبت کاہاتھ، یکجہتی کاہاتھ، رفاقت کاہاتھ، اپنے ہمسایوں کی طرف بڑھایا ہے، تو ان کا یہ عمل محض کوئی وقتی اور دفا عی نہیں ہے۔ پولیٹیکل چال نہیں ہے۔ بلکہ ان کو یقین کرنا چاہیے کہ مسلمانوں نے محبت کا آغوش خود نہیں کھولا ہے۔ بلکہ ان کے خدا نے، ان کے قوانینِ شریعت نے کھلوایا ہے۔ چوں کہ اس کی بنیاد شریعت پر ہے؛ اس لئے عزیز من! یہ سب کچھ آج ترکِ مولا ت کے سلسلے میں نہیں، بلکہ بیس سال پہلے بھی میرا یہی اعتقاد تھا۔“ (خطبات آزاد، ص: 52)

انگریزوں سے آزادی کے بعد ملک کا دستوری نظام جمہوری بننے والا تھا۔ اور جمہوریت میں سروں کو گِنا جاتا ہے اور پھر زیادہ سروں کی بنیاد پر حکومت تشکیل پاتی ہے۔ چو ں کہ اقلیت و اکثریت الفاظ کے مصداق میں مسلم اور ہندو کا تصور جوڑ دیا گیا۔ اس بنیاد پر انگریز، مسلمانوں کو اکثریت (ہندوؤں) کا خوف دلا کر ہندو مسلم اتحا د کوختم کرنا چاہتے تھے؛ کیوں کہ سطحی طور پر ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اکثریت اپنے جذبات ومعتقدات اور اپنی ضروریات و حوائج اور مصالح کے مطابق قوانین وضع کرنے کی پوزیشن میں ہوگی اور مسلمان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے آزاد ملک میں ہوتے ہوئے بھی آزادی اور اس کے برگ و بار سے محروم رہ سکتے ہیں۔ بد قسمتی رہی کہ یہ سوچ اتنی مضبوطی کے ساتھ ذہنوں میں بیٹھ گئی کہ چند شرپسند عناصر اکثریت اور اقلیت کی دہائی دے کر اپنے تخریبی جذبات اور بہیمانہ جبلت کو آسانی سے تسکین پہنچاتے رہتے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ صدیوں سے ملک میں مختلف قومیں پیار و محبت سے رہ رہی ہیں کسی بھی قوم پر کوئی اُفتاد آتی ہے، تو یہی نہیں کہ صرف اس کے ہم مذہب لوگ، مدد گار بن کر کھڑے ہوتے ہیں؛ بلکہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی پورے خلوص ومحبت کے ساتھ مبتلا کی پریشانی دور کرنا اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ اقلیت و اکثریت کے مصداق کے لئے انصاف پسند اور غیر انصاف پسند کاتصور قائم ہوتا تو معاملہ درست تھا۔ ایسی صور ت میں غیرانصاف پسند لوگ اقلیت میں ہوتے۔ جن کی بیخ کنی آسان تھی؛ لیکن اقلیت اور اکثریت کے مصداق میں مسلم اور ہندو کے تصور نے دو قوموں کے درمیان خلیج پیدا کر نے والوں کی بہت ہی حو صلہ افزائی کی ہے۔ مولانا اقلیت و اکثریت سے متصور اِس مصداق کے نتیجے میں پیدا شدہ، غرور و ڈر کو ختم کرنے کے لئے مسلمانوں کو بڑی خوش اسلوبی سے سمجھاتے ہیں:

”تول تعداد کی نسبت کا نہیں، خود تعداد اور اس کی نوعیت کا ہے۔ کیا انسانی مواد کی اتنی عظیم مقدار کے لئے اس طرح کے اندیشوں کی کوئی جائز وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ ایک آزاد اور جمہوری ہندوستان میں اپنے حقوق و مفاد کی خود نگہداشت نہیں کرسکے گی۔“(خطبات آزاد، ص: 267)

ایک طرف اقلیت و اکثریت کا ہوا کھڑا کرکے انگریزوں نے غیر انصاف پسند، انتہائی قلیل اقلیت کو فرقہ وارانہ ٹکراؤ کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ تو دوسری طرف مولانا آزاد نے ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ بلند کرتے ہوئے، جمہوری ملک میں مظلوموں اور مسلمانوں کو اپنے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے باشندگان وطن کی ہمدردیاں بھی، دلانے کی کو شش کی۔ جمہوری ملک میں مولانا کایہ خیال ایک حقیقت بن کر ہمارے سامنے ہے۔ کسی بھی قوم پر ظلم ہوتا ہے تو اکثریت کی طرف سے اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف صدائے احتجا ج بھی بلند ہوتی ہے اور مدد بھی ملتی ہے۔ اس لئے اقلیت و اکثریت (یعنی ہندو مسلم) کا ٹکراؤ نہ کل تھا نہ آج ہے۔ البتہ ایک چھوٹی اقلیت، ان اصطلاحی الفاظ کو دو قوموں کے درمیان اختلا ف کے لئے استعمال کرتی رہتی ہے۔ ایک طرف ہندو نام سے فسطائی جماعتیں وجود میں آئیں تو دوسری طرف مسلمانوں میں بھی ایسی جماعتیں پیدا ہوئیں، جنہوں نے ”ہم اقلیت “ کی دہائی دے کر ملک اور ہم مذہب قوم کا بیڑا غرق کیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں طبقوں میں ایسے غیر انصاف پسند لوگ اقلیت میں ہیں۔ ملک کی اکثریت، کسی بھی مذہبی طبقے سے تعلق رکھتی ہو، ظلم و ناانصافی کے خلاف ہے۔ چوں کہ اکثریت انصاف پسند ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے دل میں اکثریت کی پُر فریب اصطلاح کے نتیجے میں، جو ڈر اور خوف پیدا کیا گیا اس کو مولانا آزاد کے اِسی یقین و اعتماد کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ جو فی الواقعہ نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس رفاقت میں پہل کرنا مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے۔ اور اگر غیروں کی طرف سے یا خود مسلمانوں میں کسی تنظیم کی طرف سے اکثریت کا ڈر دِلا کر ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف بستہ کیا گیا یہ تو دونوں لحاظ کے لئے ہلاکت و خسارے کی تمہید ہوگی۔

مولانا کہتے ہیں:

” دو قوموں کا نظریہ، حیاتِ معنوی کے لئے مرض الموت کا درجہ رکھتا ہے اس کو چھوڑ دو۔“ (خطباتِ آزاد، ص: 318)

جیسا کہ مسلم لیگ اور دوسری بعض مسلم تنظیموں نے اکثریت(ہندؤوں) کا خوف دلاکر اقلیت (یعنی مسلمانوں) کو گمراہ کیا تھا۔ اُن کے دام تزویر میں گرفتار، مسلمانوں کو آج یقینااحساس ہو رہا گا کہ مولانا کا قول بالکل درست تھا اور یہ اختلاف و تقسیم کا خا کہ شرعی و عقلی

نقطہ تحدد نظر سے بالکل غلط تھا۔ آزاد ایک جگہ لب کشا ہیں:

”ایک قوم جو ریگستانِ عرب سے دیوارِ چین تک آباد ہے، اس کو زمین کے کسی خاص ٹکڑے کا تغیر کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے۔“ (خطباتِ آزاد، ص: 27)

اقلیت و اکثریت یعنی ہندو مسلم طبقے کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کو مولانا بنیادی طور پر غلط قرار دیتے ہیں۔

”متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ بنیادی طور پر غلط تھا۔“(خطبات ِ آزاد، ص: 319)

اتحاد و یکجہتی کی عظمت، اہمیت اور مسلمہ اِفادیت کے پیش نظر اپنی ذات کے بارے میں فخریہ طور پر گویا ہیں کہ:

”میں ناقابلِ تقسیم ایک متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں۔“ (خطبات آزاد، ص: 280)

مولانا آزاد کے نزدیک ہندو مسلم اتحاد، کتنا محبوب اور عزیز رہا ہے؟ اس کا اندازہ مولانا کی اُس تقریر سے کیا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے اختلاف کے ساتھ حاصل ہونے والی آزادی کو پُر زور الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ:

” آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بدلیوں سے اتر آئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج چوبیس گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے، بشرطیکہ ہندوستان، ہندو مسلم اتحاد سے دستبردار ہوجائے، تو میں سوراج سے دستبردار ہوجاؤں گا، مگر اس سے دستبردار نہ ہوں گا؛ کیوں کہ سوراج کے ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا؛ لیکن اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہے۔“ (خطبات آزاد: 193-192)

چند نمایاں قائدین کی رہبری و رہنمائی میں کچھ مسلمان مختلف مدارج اور جہتوں میں ہندؤوں سے علاحدگی اختیار کیے ہوئے تھے۔ مولانا نے مسلمانوں کوان راستوں کو چھوڑ کر ہندو، مسلم اتحاد کے شاہ راہ پر لا کھڑا کیا۔ اپنی اس کاوش کے بارے میں کہتے ہیں۔

”مسلمان اپنے ہندو بھائیوں سے تمام کاموں میں الگ تھلگ تھے، علی گڑھ پالیسی، مسلمہ قومی پالیسی سمجھی جاتی تھی کہ وہ ہندؤوں سے علاحدہ رہیں۔ میں نے دعوت دی کہ اگر مسلمان ہندوستان کی زندگی میں بحیثیت مسلمان ہونے کے، اپنے عظیم الشان فرائض انجام دینا چاہتے ہیں تو ان کا فرض ہونا چاہیے کہ اتفاق کا قدم بڑھائیں اور بائیس کروڑ ہندوؤں کے ساتھ ایک ہو جائیں، مسلمانوں کے لئے ایسا کرنا ان کے مذہبی عمل میں سے تھا۔“ (خطبات آزاد، ص: 52)

”خطبات آزاد“ کے مندرجہ بالا اقتباسات سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ مولانا کے نزدیک اسلامی نقطہِ نظر سے ہندو مسلم اتحاد کتنا وزنی تھا۔ قانون اسلامی کے لحاظ سے مولانا کا موقف بہت ہی مضبوط تھا؛ اس لئے ایک چھوٹی تعداد کے علاوہ کثیر تعداد میں مسلمانوں نے مولانا کی آواز پر لبیک کہا اور ہندوستان میں ہندوؤں کے ساتھ دوستی و رفاقت کو ہر قیمت قائم و دائم رکھنے کی کو شش کی اور اس رفاقت کے لئے عام ہندؤوں کی طرف سے تعاون بھی ملا، آج مسئلہ، ہندو مسلم اکثریت واقلیت کا نہیں ہے۔ مسئلہ انصاف پسندی اور شرپسندی کے لحاظ سے ملک میں اقلیت اور اکثریت کا ہے۔ اور اس لحاظ سے یقیناً شرپسند، اقلیت میں ہیں اور انصاف پسندوں کو اکثریت حاصل ہے؛ اس لئے ہندوؤں کی طرف سے موہوم اندیشوں سے ذہن کوصاف کر کے، اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مسلمانوں کو برادانِ وطن کی طرف ہم آہنگی اور دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے اور ہندومسلم دوستی کو مضبوطی فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اسی میں ملک کی تعمیر و ترقی اور خود مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ مضمر ہے۔ نیز برادرانِ وطن کو کسی شرپسند جماعت کی شر انگیزی پر توجہ دینے کے بجائے ملک کے استحکام کے لئے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف، مزید قوت کے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ تاکہ موہوم اکثریت کا ڈر بتا کر، مسلمانوں کو فرقہ وارائیت کی گمراہی میں کوئی مبتلا نہ کر سکے۔

Comments are closed.