کنگ چارلس اورآنجہانی ملکہ الزبتھ میں فرق
سمیع اللہ ملک
70سال سے زائدعرصہ تک حکومت کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم بالآخر96برس کی عمرمیں انتقال کرگئیں۔انہوں نے ایسے وقت میں تاج وتخت سنبھالاتھاجب دنیاکے مختلف خطوں میں بادشاہ اورملکہ بظاہرسیاسی طورپربہت بااختیاررکھنے والوں کی گرفت کمزورپڑناشروع ہوگئی تھی۔الزبتھ دوم نے جب اقتدارکاتاج اپنے سرپرسجایاتوان کی بادشاہت کوبھی کئی طرح کے خطرات درپیش تھے۔میڈیازورپکڑرہاتھااورکبھی بھی قابل گرفت نہ سمجھے جانے والے ادارے اوربادشاہتیں شدیددباؤکاشکارہورہی تھیں۔عوام کی بڑی تعدادبھی بادشاہت کے ساتھ پہلے والالگاؤاورانسیت ظاہرنہیں کرتے تھیں۔اب ریاست سکڑکرایک جزیرے تک محدودہوکررہ گئی ہے اورسماج میں بھی کئی تبدیلیاں رونماہوگئیں ہیں۔
ملکہ الزبتھ دوم میں خطرات کومواقع میں بدلنے کی ایک خدادادصلاحیت تھی جس نے ان کے اقتدارکودوام بخشابلکہ وہ بادشاہت کے ادارے کوبھی بچانے میں کامیاب رہیں۔ جو میڈیا بادشاہت سے زیادہ اچھارویہ نہیں رکھتاتھاملکہ الزبتھ نے کمال ذہانت سے اسی میڈیاکوشاہی خاندان کے امیج کوبہترکرنے پرلگادیا۔ملکہ الزبتھ دوم کی تاج پوشی کی تقریب وزیر اعظم ونسٹن چرچل کی مخالفت کے باوجودٹی وی پربراہ راست نشر کی گئی اورکروڑوں لوگوں نے اسے دیکھابلکہ ملکہ الزبتھ دوم ہی پہلی شخصیت ہیں جن کابراہِ راست کرسمس کاپروگرام ٹی وی پرنشرہوااورجنہوں نے بی بی سی کی ٹیم کوخودبلاکراپنے معمولات پردستاویزی فلم بنوائی اورشاہی خاندان کوبرطانوی عوام کے قریب لے گئیں۔یہ ملکہ الزبتھ دوم ہی تھیں جنہوں نے اپنے پوتوں سے سوشل میڈیاپراکاؤنٹ بنوائے جوبرطانوی عوام کے ساتھ مزیدقربت کاباعث بنے۔
دوسرابڑاچیلنج سکڑتی ہوئی سلطنت تھی کیونکہ تیزی سے نوآبادی نطام ختم ہورہاتھااورمختلف ریاستوں اورملکوں کی آزادی کے ساتھ بادشاہت پربھی سوال اٹھ رہے تھے۔تاجِ برطانیہ کے زیرنگیں علاقے سکڑکر8ملکوں تک رہ گئے تھے۔ملکہ الزبتھ دوم نے دولتِ مشترکہ کواپنااولین ہدف بنایااورآج جب وہ ملکہ نہیں رہیں تودولت مشترکہ کی تعداد8سے بڑھ کر54 ہوچکی ہے۔دولتِ مشترکہ ممالک کی تعدادبڑھنااس لئے اہمیت رکھتاہے کہ جب بادشاہت پرسوال اٹھ رہے تھے اوراس کی بنیادکمزورپڑرہی تھی توملکہ الزبتھ دوم نے دولتِ مشترکہ کوآزادملکوں کاایک دوست گروپ بنادیااوراس گروپ کومضبوط کرکے انہوں نے برطانیہ میں بادشاہت کے جوازکونہ صرف قائم رکھابلکہ اس ادارے کوبھی جدیدبنادیا۔
عام تاثریہ ہے کہ ملکہ یاشاہی خاندان کاملکی سیاسی معاملات میں کوئی دخل نہیں لیکن سوئزبحران میں یہ کرداردیکھنے کوملا۔ 26/اکتوبر1956کوبرطانیہ اورفرانس نے اسرائیل کے ذریعے مصرپرحملہ کروایا،جس کی وجہ یہ تھی کہ جمال عبدالناصرنے سوئزکینال کوقومی ملکیت میں لے لیاتھاجس پراس سے پہلے برطانیہ اورفرانس کاقبضہ تھا۔اگلے ہفتے برطانیہ اور فرانس نے بھی اسرائیل کی مددکیلئے فوجیں اتاردیں،اسرائیل نے جزیرہ نماسیناپرقبضہ کرلیالیکن بین الاقوامی رائے عامہ اورامریکی دباؤپر برطانیہ اورفرانس کوفوجیں واپس بلانا پڑیں اوراسرائیل نے جزیرہ نمائے سیناخالی کردیا۔
اس سوئزآپریشن کیلئے برطانوی وزیراعظم ہیرالڈمیکملن نے ملکہ کواعتمادمیں نہیں لیاتھااوران کی پارٹی میں بھی اس آپریشن پر بغاوت ہوگئی اورانہیں1963میں استعفیٰ دیناپڑا۔ان کے بعدکنزرویٹوپارٹی کسی کے نام پرمتفق نہ ہوسکی اورحکومت کی تشکیل کابحران پیداہوگیا۔اس وقت ملکہ الزبتھ نے آئینی طورپربادشاہت کوباخبررکھے جانے کامعاملہ بھی اٹھایااور نئے وزیراعظم کے چناؤکامیکنزم نہ ہونے پربات کی،یوں ملکہ نے سیاسی کرداراداکیااورنئے وزیراعظم کے انتھونی ایڈن کی نامزدگی ملکہ الزبتھ کی مداخلت پرممکن ہوئی اورسیاسی بحران کاخاتمہ ہوا۔
ملکہ الزبتھ کی زندگی کے ساتھ مزیدکئی سیاسی تنازعات جوڑے جاتے ہیں اوریہ سب فلموں اورڈرامے میں دکھائے جاچکے ہیں۔ لارڈماؤنٹ بیٹن کابینک آف انگلینڈاورکئی بااثر شخصیات کے ساتھ مل کرحکومت گرانے کامنصوبہ اورملکہ الزبتھ دوم کی طرف سے ان کی سرزنش کاواقعہ نیٹ فلیکس پردکھائی گئی ڈرامہ سیریزکوئین کی وجہ سے مشہورہوالیکن اس کاکوئی دستاویزی ثبوت موجودنہیں۔اس طرح سرونسٹن چرچل کی طرف سے ملکہ پرحاوی ہونے کی کوشش کاقصہ بیان کیاجاتاہے لیکن ملکہ اورچرچل کی دوستی اس سے زیادہ مشہورہے اور چرچل کے جنازے کیلئے ملکہ الزبتھ دوم کاپروٹوکول کوبالائے طاق رکھنناتاریخ کاحصہ ہے۔برطانوی شاہی روایات کے مطابق ملکہ یابادشاہ کسی بھی تقریب میں پہنچنے والاآخری فردہوتاہے لیکن ملکہ الزبتھ دوم چرچل کے جنازے میں اس روایت کوتوڑکرپہلے پہنچیں تاکہ اس کے خاندان کوتسلی دے سکیں۔
ملکہ کے بعدان کے بڑے بیٹے چارلس بادشاہ بن گئے ہیں اورانہوں نے چارلس سوم کالقب اختیارکیاہے۔ بکنگھم پیلس نے یہ اعلان کیاہے کہ کنگ چارلس کی تاجپوشی6 مئی2023کوویسٹ منسٹر ایبی،لندن میں ہوگی اوراس کاانعقاد کینٹربری کے آرچ بشپ کریں گے۔1661 میں چارلس دوم کیلئے بنایاگیاوہی تاج پہنیں گے جوسونے اور جواہرات سے جڑالیکن اس قدر بھاری ہے کہ اسے پہن کرسراٹھانابھی ایک مرحلہ ہے۔یہ تاج ان کی والدہ ملکہ الزبتھ دوم نے بھی پہنااورملکہ کے والدجارج ششم نے بھی پہنا تھا ۔ اس تاج کاوزن اپنی جگہ،مگراس کے ساتھ بادشاہت کابھاری بوجھ بھی کنگ چارلس سوم کے سراورکاندھوں پرہوگا۔لوگ ملکہ الزبتھ دوم کے طویل اقتدارکے عادی ہوچکے ہیں اورکیاکنگ چارلس سوم ملکہ الزبتھ دوم کی طرح ذمہ داریاں نبھاپائیں گے؟یہ اہم سوال ہے جس پرسب کی نظریں ہیں۔
لوگ ملکہ الزبتھ دوم کے طویل اقتدارکے عادی ہوچکے ہیں اورکیاکنگ چارلس سوم ملکہ الزبتھ دوم کی طرح ذمہ داریاں نبھاپائیں گے؟یہ اہم سوال ہے جس پرسب کی نظریں ہیں۔
یہ سوال بھی بنتاہے کہ ملکہ الزبتھ دوم کوبرطانیہ اوردولتِ مشترکہ ممالک میں جوپیاراوراحترام حاصل تھا،کیاکنگ چارلس سوم کیلئے بھی ویساہی ہوگا؟کنگ چارلس نے پہلے شاہی فرمان میں اسی کی توقع کی تھی۔ملکہ الزبتھ نے چارلس کواس دن کیلئے طویل عرصے سے تیاری کرواناشروع کردی تھی اورانہیں دولت مشترکہ کی سربراہی بھی سونپ دی تھی۔شہزادہ چارلس بھی اپنے دورِ اقتدارکیلئے دولتِ مشترکہ کواوّلین ترجیح بنائے ہوئے تھے۔
2020کے اکنامک فورم میں انہوں نے اپنے جذباتی تقریرمیں کہاتھاکہ کیاہم تاریخ میں اپنانام اس حوالے سے لکھواناپسندکریں گے کہ جب دنیاتباہی کے دہانے پرکھڑی تھی اورہم اس تباہی کوروکنے کے قابل تھے لیکن ہم نے کچھ نہیں کیا۔کنگ چارلس سوم ملکہ کے برعکس فیصلہ کن اندازمیں اسلام اوردیگرموضوعات پربھی کھل کربات کرتے ہیں۔ملکہ الزبتھ توتاثرات تک چھپانے کی کوشش کرتی تھیں مگرشہزادہ چالس کہہ چکے ہیں کہ جب وہ بادشاہ بنے تووہ اپنی والدہ کے نقشِ قدم پرچلتے ہوئے عدم مداخلت کواپنائیں گے۔
Comments are closed.