بھارت جوڑوایک نئے عزائم کی یاترا

محمدطفیل ندوی
جنرل سکریٹری ! امام الہندفاؤنڈیشن
اس وقت ہماراوطن عزیز مختلف مسائل کےشکنجےمیں ہے ہرچہارجانب اضطرابیت کاپہاڑہے، کسی کادل امن وسکون میں نہیں ہے،غرباءطبقہ بھی اپنےکو بےچینی کےعالم میں محسوس کررہاہےتووہیںامراء بھی اس اضطرابیت سے باہرنہیں ہے ،سب سےبڑامسئلہ یہ ہےکہ کسی بھی معاملہ کو حکمراں طبقہ سنجیدگی سے نہیں لیتا ایسالگتاہےکہ رات کی تاریکی میں یہ فیصلہ دماغ میں سوچاگیا اوردن کےاجالےمیں اس کونافذکردیاگیا بغیرکسی صلاح ومشورہ کے جس کانتیجہ ہےکہ مثبت نتائج سامنےنہیں آتے،جس وقت نوٹ بندی کامسئلہ پیش آیااس وقت کےمناظرکو سامنےلائیے عوام الناس نے کن مصائب وآلام کوبرداشتکئے، اورکتنی جانیں اس دنیاسے رخصت ہوگئی ،لیکن حکمراں چہرےپر کوئی ملال تک نہیں آیا،اس غلط فیصلےسے ملک کس قدرخستہ حالی کی کھائی میں گرتاچلاگیا جو اب تک اس میں جوجھ رہاہے ،اسی طریقے سے افواج کے سلسلےمیں اگنی پتھ کافیصلہ جس نے ملک کےنوجوانوں کےدلوں کوجھنجھوڑدیا جس کے نتیجہ میں نوجوانوں نے اپنےغصہ کااظہاراس قدرکیاکہ ملک کی کروڑوں املاک تباہ وبربادہوگئی ،اسی طریقےسے شہروں کانام تبدیل کرکے فضول اخراجات سےملکی معیشت کوکمزورکیاگیا،اگران روپیوں سےشہروں کی ترقیات پرکام کیاجاتا تویہ ملک کیلئے فائدہ مندہوتانیز روزبروز مہنگائی کی رفتار نے سب کوحیرت میں ڈالدیا اس وقت حال یہ ہےکہ ہر ایک شخص مہنگائی سے پریشان ہے ،نوکریاں نہ ملنےکی وجہ سے ملک کانوجوان بےسکونی کےذہنی تناؤمیںہےاورکتنے نوجوانوں نےخودکشی کرکے اپنی جان گنوادی ،مزید جو سرکاری کمپنیاں تھی وہ پرائیویٹ میں تبدیل ہوگئیں ، کسان اپنی الگ کہانیاں بیاں کررہےہیں ، تعلیم یافتہ اپنی الگ داستاں لےکر رونارورہےہیں،ضعیف العمر اپنی پیشن ختم ہونے سے الگ کہانی پڑھ رہےہیں ،مظلوموں کوانصاف دینےکےبجائے ظالموں کاوالہانہ استقبال کیاجارہاہے، مجرموں کو گلےمیں ہارڈال کر ان کی مجرمانہ کرتوت پرحوصلہ بڑھایاجاتاہے، چاہےوہ بلقیس بانوکےمجرم ہوں یاہاتھرس میں درندوں کی شکارہونیوالی لڑکی کےظالم ان تمام امورکودیکھتےہوئے اہل حکمراں کو آگاہ کیاجاتاہےاوراس کیلئےمختلف احتجاجی مظاہرہ، خاموش مظاہرہ، بھوک ہڑتال، کالی پٹی،ریل روکو ،جیل بھروتحریک اوردیگر طریقے اپنائے جاتےہیں،یہ ماضی میں بھی اختیارکیاگیا اورآج بھی ہندوستان اوراس کےعلاوہ دیگرممالک میں اختیارکیاجاتاہے،اس سے قبل کئی سیاسی رہنماؤں نےیاترانکالی جس میںسب سے اہم مہاتماگاندھی کی نمک یاترا نےہندوستان کی سماجی اورمنفعت کےطورپرمقبولیت حاصل کی ،اس یاترامیں تقریباہرمذاہب کےلوگوں نے شرکت کی ،اس یاتراکااصل مقصد انگریزوں کی طرف سے نمک پر لگائے گئے ٹیکس کیخلاف تھا یادرکھناچاہیےکہ جب بھی ظلم واستبداد زیادہ بڑھ جائیں تو اس کےخاتمہ کیلئے ہمیشہ کسی نہ کسی طورپرکوششیں کی گئی، چاہےوہ دورفرعون مصرکاہویامرورزمانہ میں اہل حکمراں کا ،جھوٹ اورظلم وجبر ہمیشہ کیلئے نہیں ،زوال کوبھی عروج ہے اورعروج کوبھی زوال ہے، یہ دنیاکی تاریخ رہی ہے ،اورغروروتکبر دل ودماغ میں پیوست ہوجائے تو پھر زیادہ دن کاانتظارنہیں ہوتا ہندوستان کی جوموجودہ حکومت ہے آج سے ۸؍سال قبل اقتدار کےحصول میں کامیاب ہوگئی، اور اسی وقت بیشمار اپنے وعدوں کی فہرست ملک کیلئے پیش کیں، لیکن کتنے پورے ہوئے اور اس کےسلسلےمیں کیاطریقہ اپنایاگیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ، وزیرداخلہ سے جب ان وعدوںکی تکمیل پرسوال کیاگیاتو وہ یہ کہتےہوئے آگے بڑھ گئے کہ یہ انتخابی جملہ ہوتاہے ،اسی طریقےسے فی الوقت جہاں بھی انتخاب کاوقت ہوتاہے وعدوں کی ایک طویل فہرست عوام الناس کےسامنے پیش کردی جاتی ہے، لیکن انتخاب کی تکمیل پر ان وعدوں کی فہرست کوڑےدان میں ڈالدی جاتی ہے ،مہنگائی کےسلسلےمیں سابقہ حکومت کو خوب کوسہ گیا یہاں تک کہ وطن عزیزکےپہلےوزیراعظم پنڈت جواہرلعل نہروکو بھی ذمہ داربتاکر اپنادامن جھاڑلیاگیا لیکن اب ان ہی سوالات کوپیش نظررکھ کر حکمراںطبقےسےسوال کیاجائےتو کوئی مثبت جواب نہیں ملتا وہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو پکوڑےتلنے پر روزگارسے جوڑدیتےہیں ،مہنگی پیازپر سوال کیاجائے تو جواب آتاہے پیازہم نہیں کھاتے،روپیہ گرنےاورڈالرکی مضبوطی پرسوال کیاجائے تواس کاجواب آتاہے روپیہ گرانہیں بلکہ ڈالرمضبوط ہواہے، فی الوقت کوئی اشیابچی نہیں ہے جس پرمہنگائی کاڈنڈانہ چلاہوپیٹرول وڈیزل ہو، گیس ہو، غلہ ہو ،کھانےکی اشیاءبسکٹ چاکلیٹ ، تعلیمی اشیاءقلم پینسل ،کاپی کتابیں ، دوائیاں ہرچیز اس کی گرفت میں ہے، ان تمام چیزوں کولےکراپنےعزائم اورحوصلوں سے سرشارکانگریس کےسابق صدر راہل گاندھی نےبھارت جوڑویاترا۷؍ستمبر ۲۰۲۲ءکنیاکماری سےکشمیر تک شروع کی،اگرچہ اس تحریک کوکاورپہلےنکلناچاہیےتھا خیر دیرآیددرست آید ا،س وقت پورے ہندوستان اوردیگرممالک میں اس یاتراپرگفتگواور بحث ہورہی ہے،اس میں کوئی دورائے نہیں کہ یہ ایک نئے عزائم کی یاترا ہے، ہرمذاہب کےلوگ شریک ہورہےہیں ،ان کی ملاقات مذاہب کےپیروکاروں سےہورہی ہیں ، ان کی گفتگوسنی جارہی ہیں ،ان سے ان کےاحوال دریافت کئےجارہےہیں،لیکن اس یاتراکو میڈیامیں جو اہمیت ملنی چاہیے تھی اس سے اہل میڈیانےاپنی نظریں چرالی،البتہ خاموشی کی راہ بھی اختیارکی جاتی تو کچھ حدتک ممکن تھا مگرخاموشی اور اہمیت دینےکےبجائے مختلف الزامات سے جوڑدیاگیا اوہیں دوسری طرف حکمراں طبقہ کی جانب سے کئی الزامات عائدکئے گئے اوراس یاتراکو کمزورکرنےکی کوشش کی گئی، کبھی ان کی ٹی شرٹ کو لےکرتو کبھی کسی سے مصافحہ اورگلےملنے سے واہیات کوہوادی گئی ،لیکن جن عزائم کو لےکر یاتراانہوں نے نکالی تھی اس پر پوری مستعدی کیساتھ وہ اپنےقدم آگےبڑھاتےرہے ،اوران کی اس ہمت وحوصلوں کودیکھ کر آہستہ آہستہ عوام کی کثیر تعداداپنےکو اس میں شامل کرنا فخر محسوس کرنےلگی ،کیابوڑھے،کیاجوان، کیابچے،کیامرد ،کیاخواتین ،کیاسیاستداں، کیاوکیل ،کیاسماجی وملی کارکنان سب آتےگئے ،پھرکیاتھا آواز میں آوازملائی گئی ،بھارت جوڑونفرت چھوڑو،پھروہ جوش اورجذبہ دیکھنےکو ملاجس کاشاید کسی کو یقین نہیں تھا جس ریاست میں یاتراداخل ہوئی وہاںکی عوام نے والہانہ استقبال کیا،اورجس ریاست میں قومی کھیل، قومی ڈریس،قومی ڈش وہ سب ان کو پیش کئےگئے،ان کو منظرعام پر پیش کیاگیا کوئی دوڑکر راہل گاندھی سے ملتاہےتو کوئی اپنی سابقہ مصائب وآلام سے دلبرداشتہ ہوکر ان سے لپٹ جاتاہے، کوئی ٹھوکروں پہ ٹھوکرےکھاکر ان سے مصافحہ کرنےکی کوشش کرتاہے،یعنی ایک جوش ہے جو قدم آگےبڑھانےپر مجبور کررہاہے ،ایسالگتاہے جیسےسب راہیں تاک رہےتھےکہ کوئی آئے جوہم سے پوچھے حالات کےبارےمیں ، تعلیم کے بارےمیں ، مہنگائی کےبارےمیں شاید یاترانے ان کی یہ آواز سن لی ،لیکن ایک بات ضروریادرکھناچاہیے کہ احتجاج یاکسی بھی مظاہرہ کی کامیابی خصوصاسیاسی مظاہرہ توا س کی اصل کامیابی کاسہرااسی وقت باندھاجائیگاجب یہ کثیرتعداد انتخاب کی کامیابی میں تبدیل ہوجائےکیوں کہ احتجاجی مظاہرےتوہوں گے حکومت کی جانب سے بھی اوراپوزیشن کی طرف سے بھی لیکن جب تک آپ کے ہاتھ میں زمام اقتدارنہیں آجائے تو پھر حالات ویسےہی رہیں گے، البتہ حقیقت یہ بھی ہے کامیابی مسلسل کوششوں کانتیجہ ہوتی ہے ، جس کی سب سے بڑی مثال ہماراملک انگریزوں کےناپاک منصوبوں اورسازشوں سے چندسال میں آزادنہیں ہوابلکہ سالہاسال لگیں اور بیشمارقربانیاں پیش کی گئیں ،آخرکار مسلسل کوششوں کےبعد ہماراملک ان انگریزوں سے آزادہوگیا ،خیرفی الوقت مذکورہ یاتراکےسلسلےمیں تویہی کہاجاسکتاہے کہ بھارت جوڑوایک نئے عزائم کی یاتراہے جس نےانگریزوں کیخلاف نکلنےوالی مہاتماگاندھی کی مقبول نمک یاتراکی یاددلادی ،ہم امیدکرتےہیں کہ اس ملک کی پرفضاماحول کیلئے مذکورہ یاترا لائق تحسین اورقابل تعریف ہو۔

 

 

 

 

 

Comments are closed.