خانقاہ عارفیہ، سید سراواں، الہٰ آباد کی حاضری: تعارف، مشاہدات و تاثرات 

 

از: سید احمد اُنیس ندوی

 

آج سے تقریباً سات آٹھ سال پہلے راقم سطور نے خانقاہ عارفیہ، سید سراواں، کوشامبی، الہٰ آباد کا تذکرہ اپنے عزیز دوست برادر مکرم مولانا علی عثمانی ندوی سے سنا تھا، اس کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے بھی وہاں کے ”مخصوص نہج“ اور ”علمی کاموں“ سے متعارف ہوتا رہا۔ اِدھر پچھلے دو سالوں سے سیدی و مرشدی حضرت مولانا محمد قمر الزماں صاحب الہ آبادی دامت برکاتہم کی خدمت میں ہر کچھ دنوں بعد حاضری کا معمول ہے، چنانچہ الہ آباد کے ہر سفر میں یہ ارادہ ہوتا تھا کہ ”خانقاہ عارفیہ“ کی بھی زیارت کر لی جائے مگر وقت کی کمی کی وجہ سے ترتیب بن نہیں پاتی تھی۔ اب کی بار مورخہ 13؍ نومبر 2022ء کے سفر میں میرا پہلے سے ہی یہ ارادہ تھا کہ خانقاہ عارفیہ بھی ضرور حاضر ہونا ہے، چنانچہ اپنے کرم فرما برادر مکرم ڈاکٹر عبداللہ (پروفیسر IIIT, Allahabd) جن سے ہمارے گھرانے کا عم محترم مولانا سید سعدی قاسمی حفظہ اللہ کے توسط سے بڑا گہرا اور پرانا تعلق ہے اور اکثر الہ آباد میں وہی ہم لوگوں کے میزبان ہوتے ہیں، اُن سے راقم نے جب وہاں ساتھ چلنے کی فرمائش کی تو وہ بھی بخوشی راضی ہو گئے۔

حضرت مولانا قمر الزماں صاحب دامت برکاتہم کی صبح کی مجلس سے فارغ ہو کر کچھ دیر حضرت کے پاس بیٹھے اور پھر تقریبا 11 بجے ہم تین لوگ (راقم سطور، پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ اور ہمارے عزیز دوست اور رفیقِ سفر برادرم سید یونس ابراہیم) خانقاہ عارفیہ، سید سراواں کے لیے روانہ ہوگئے۔ میں نے الہ آباد حاضری سے پہلے ہی خانقاہ عارفیہ سے وابستہ معروف قلم کار مولانا ناصر رام پوری مصباحی سے رابطہ کر لیا تھا اور پھر ان کے توسط سے شاہ صفی اکیڈمی کے ایک ذمہ دار مولانا ڈاکٹر ذیشان مصباحی سے بھی بات ہو چکی تھی اور ان سے ہی معلوم کر کے سفر کی ترتیب طے ہوئی تھی۔

چنانچہ ہم لوگ تقریباً 12؍ بجے خانقاہ عارفیہ، سید سراواں پہنچ گئے، وہاں مولانا ڈاکٹر ذیشان مصباحی، جناب مفتی رحمت علی مصباحی اور دیگر بعض حضرات پہلے سے منتظر تھے، سب سے مصافحہ و معانقہ ہوا۔ سامنے ہی اِس پورے ادارے اور خانقاہ کے روح رواں، ناظم اعلیٰ اور سجادہ نشین داعیِ اسلام شیخ ابو سعید احسان اللہ صفوی دام ظلہ سے ملاقات ہوئی۔ شیخ صفوی مدظلہ نے بہت ہی محبت اور خندہ پیشانی کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔ سب کے تعارف کے بعد ہم مدرسے کی زیریں منزل میں بنے ہوئے ”Studio“ میں بیٹھ گئے۔ شیخ ابو سعید احسان اللہ صفوی مدظلہ اور جامعہ کے بعض اساتذہ کرام بھی وہیں آ گئے۔ تقریباً 40-45 منٹ بہت ہی خوشگوار نشست رہی۔ شیخ صفوی مدظلہ نے خانقاہ کا اور یہاں کے مشایخ کا تعارف کرایا اور بڑی اہم و مفید گفتگو فرمائی۔ اسی درمیان تمام حاضرین مجلس کو چائے پیش کی گئی۔ اس کے بعد شیخ صفوی مدظلہ کسی کام سے تشریف لے گئے اور دیگر حاضرینِ مجلس خصوصاً مولانا ڈاکٹر ذیشان مصباحی سے تبادلہ خیال کا موقعہ ملا۔ پھر ہم لوگوں نے ان ہی حضرات کی رہبری میں Studio سے نکل کر پورے مدرسے کی زیارت کی، زیر تعمیر وسیع و عریض جامع مسجد دیکھی، خانقاہ اور جامعہ کے احاطے میں موجود مشایخِ عظام کے ”مزارات“ پر حاضر ہو کر فاتحہ خوانی کی، پھر ان ”مزارات“ سے ہی متصل قدیم مسجد میں نمازِظہر باجماعت ادا کی اور نماز کے بعد ظہرانہ تناول کر کے بڑی تشنگی کے ساتھ وہاں سے محبت اور اکرام کی یادگار سوغاتیں سمیٹ کر واپس ہوئے۔

 

شیخ ابو سعید صفوی مدظلہ کے علاوہ مولانا ڈاکٹر ذیشان مصباحی، مولانا ناظم اشرف مصباحی، مولانا ذکی ازہری، مولانا اصغر علی مصباحی، مولانا طارق رضا قادری وغیرہ سے بہت یادگار ملاقات رہی اور محض ڈھائی گھنٹے کے اس سفر میں بڑی اپنائیت کے احساس کے ساتھ واپس ہوئے۔

 

خانقاہ عارفیہ، جامعہ عارفیہ کی تاریخ اور اس کے روح رواں و ذمہ دار اعلیٰ کے بارے میں:

 

بستی سید سراواں، کوشامبی، الہ آباد: آٹھویں صدی ہجری میں معروف بزرگ شیخ سید محمد بن علی حسینی سبزواری سہروردی المعروف بہ ”میر سید محمد حقانی“ قدس اللہ سرہ نے اس بستی کو اپنا مستقر بنا لیا اور یہ بستی آپ ہی کی طرف منسوب ہو کر ”سید سراواں“ کہلاتی ہے۔ آپ حضرت مخدوم سید شعبان الملۃ علی مرتضیٰ سہروردی جھونسوی قدس سرہ کے داماد اور خلیفہ و مجاز تھے۔ حضرت میر سید محمد حقانی قدس سرہ کی وفات آٹھویں صدی ہجری کے اواخر میں ہوئی اور یہیں سید سراواں میں آپ کا مزار موجود ہے۔

 

اللہ تعالی نے حضرت سید محمد حقانی قدس سرہ کے بعد اس سرزمین سے علومِ معرفت کی تجدید کے لیے اسی بستی کے ”عثمانی“ خانوادے کے ایک فرد حضرت مخدوم شاہ عارف صفی محمدی قدس سرہ (م 1320ھ) کو قبول فرمایا۔ آپ کے جد امجد شیخ بہاؤ الدین عثمانی غزنوی ساتویں صدی ہجری کے اوائل میں سید السادات حضرت سید محمد قطب الدین حسنی مدنی (کڑا مانک پور) قدس سرہ کے لشکر کے ساتھ بحیثیت سپہ سالار ”غزنی“ سے ”ہندوستان“ تشریف لائے تھے۔

 

حضرت مخدوم شاہ عارف صفی محمدی قدس سرہ سب سے پہلے اپنی باطنی اصلاح کے لیے دیوا، بارہ بنکی کی معروف بزرگ شخصیت حاجی سید وارث علی شاہ قدس سرہ (متوفی 1323ھ) کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور پھر ان ہی کے حکم پر اپنے شیخ و مربی شاہ عبد الغفور محمدی صفوی بارہ بنکوی معروف بہ ”قل ھو اللہ شاہ“ قدس سرہ (م 1324ھ) سے مسترشدانہ تعلق قائم فرمایا جو بہت ہی معروف بزرگ حضرت مخدوم شاہ محمد خادم صفی محمدی صفی پوری (م 1278ھ) کے مرید و خلیفہ تھے، ان حضرات کا سلسلہ تصوف بانی سلسلہ صفویہ حضرت مخدوم شاہ عبد الصمد صفی قدس سرہ (م 945ھ) سے ہوتا ہوا حضرت مخدوم شاہ مینا لکھنوی قدس سرہ (م 884ھ) کے واسطے سے سلطان المشایخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء قدس سرہ (725 ھ) تک پہنچتا ہے۔

 

حضرت مخدوم شاہ عارف صفی محمدی قدس سرہ نے اپنے شیخ و مرشد کے حکم پر اپنے ہی وطن ”سید سراواں“ میں حضرت مخدوم میر سید محمد حقانی قدس سرہ کے مزار کے قریب ہی ایک خانقاہ ”خانقاہ عارفیہ“ سن 1300ھ مطابق 1883ء میں قائم فرمائی۔ خلقِ خدا کا آپ کی طرف زبردست رجوع ہوا، مگر مشیتِ الہی سے آپ محض 42 سال کی عمر میں 18؍ ذی قعدہ سن 1320ھ مطابق 1903ء میں اس دار فانی سے رحلت فرما گئے۔

حضرت مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہ کے خلفاء بڑی تعداد میں تھے، البتہ ان میں سے یہ چند حضرات بڑے معروف و مشہور ہوئے:

(۱) آپ کے سب سے بڑے صاحبزادے اور جانشین اول حضرت مخدوم شاہ صفی الله محمدی عرف شاہ نیاز احمد عثمانی میاں صاحب قدس سرہ (سید سراواں،الٰہ آباد)

 

(۲) حضرت مخدوم شاہ ظہور الله محمدی عرف سید عبد اللطیف قدس سرہ (پرخاص،الٰہ آباد)

 

(۳) حضرت مخدوم شاہ علیم الله محمدی قدس سرہ (نیم سرائے، الٰہ آباد)

 

(۴) حضرت مخدوم شاہ نعمت الله محمدی عرف مولانا حاجی سید محمد امین الله قدس سرہ (کلکتہ)

 

حضرت مخدوم شاہ صفی الله محمدی عثمانی (عرف شاہ نیاز احمد میاں صاحب) قدس سرہ نے اپنے برادر خورد حضرت مخدوم شاہ احمد صفی محمدی عثمانی (عرف شاہ ریاض احمد محمدی صفوی) قدس سرہ کو اپنا خلیفہ و جانشیں مقرر فرمایا۔

اور اس کے بعد حضرت مخدوم شاہ احمد صفی محمدی عثمانی (عرف شاہ ریاض احمد محمدی صفوی) قدس سرہ (م 1400ھ) نے اپنے حقیقی بھتیجے حکیم آفاق احمد عثمانی قدس سرہ کے صاحبزادے اور موجودہ سجادہ نشین داعئ اسلام شاہ ابو سعید احسان الله صفوی دام ظلہ کو 17 / ذی قعدہ سن 1398ھ مطابق 21؍ اکتوبر سن 1978ء میں محض 20 سال کی عمر میں اپنا خلیفہ و جانشین مقرر فرمایا، اور تب سے لے کر آج تک شیخ ابو سعید احسان اللہ صفوی مدظلہ وہاں بیٹھ کر علم و عرفان کی سوغات بانٹ رہے ہیں اور ہزاروں تشنگانِ معرفت جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے ہیں۔

 

شیخ ابو سعید احسان اللہ صفوی مدظلہ نے سالہا سال تک مطالعہ کتب اور راہ سلوک کی ریاضتوں و مجاہدات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا، جس کی برکتیں آج ان کے ذریعے سے ہو رہے مختلف دینی کاموں کی شکل میں ظاہر ہو رہی ہیں۔ آپ ایک ماہر مربی و شیخ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین انشا پرداز مضمون نگار, با ذوق شاعر اور واعظ و ناصح ہیں۔

شیخ ابو سعید احسان اللہ صفوی مدظلہ کا تعلق صوفی صفوی چشتی سلسلے سے ہے، آپ نے وسطیت اور اعتدال کو اپنی خاص شناخت بنایا ہے، مشایخ طریقت کے بارے میں یہ جو مشہور ہے کہ ان کو علم و تحقیق سے دل چسپی نہیں ہوتی، شیخ ابو سعید احسان اللہ صفوی مدظلہ نے اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے یا یوں کہیں کہ ایک نئے منہج سے لوگوں کو متعارف کرانے کے لیے سن 1993ء میں خانقاہ عارفیہ کے احاطے میں ہی ”جامعہ عارفیہ“ کی بنیاد ڈالی، اور پھر سن 2004ء میں ”شاہ صفی میموریل ٹرسٹ“ کے ذریعے متعدد رفاہی اور سماجی خدمات شروع کیں اور پھر اس کے بعد علمی و تحقیقی کاموں کے لیے سن 2008ء میں ”شاہ صفی اکیڈمی“ قائم فرمائی۔

 

شیخ ابو سعید احسان اللہ صفوی دام ظلہ کو اپنے مشرب و منہج میں مشایخ صفویہ و چشتیہ کا حقیقی وارث و جانشین کہا جا سکتا ہے، پچھلے ڈیڑھ سو سالوں میں بر صغیر میں ”دیوبندیت و بریلویت“ کے عنوان پر امت میں زبردست تقسیم ہوئی، نیز ایک دوسرے کے خلاف ”تکفیری مہم“ اور ”شرک و بدعت“ کا جو شور ہوا اس کے نتیجے میں ملت کا شیرازہ بڑا منتشر ہوا اور آپس میں بڑی دوریاں پیدا ہوئیں، بعض مسائل جن کو مخلصانہ طور پر خالص علمی انداز سے ساتھ بیٹھ کر سلجھایا جا سکتا تھا، ان مسائل کو بڑی شدت سے اٹھایا گیا اور امت لخت لخت ہوتی چلی گئی۔ اس پس منظر میں شیخ ابو سعید احسان اللہ صفوی مدظلہ کا یہ بڑا کارنامہ بلکہ ملت اسلامیہ ہندیہ پر ان کا ایک احسان ہے کہ انہوں نے اس خلیج کو پاٹنے کی زبردست کوشش کی اور اپنے دائرہ کار میں وہ ان دوریوں کو ختم کرنے یا کم از کم ان دو بڑے حلقوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے۔ آپ نے اور آپ کی تربیت یافتہ جماعت نے جن کی اکثریت جامعہ ازہر کے علاوہ ہندوستان کے ان تعلیمی اداروں سے فارغ ہے جن کا عام طور سے ”بریلوی“ مکتبہ فکر کے اداروں میں شمار کیا جاتا ہے، اِن ہی حضرات نے اکابر دیوبند کی جن عبارتوں پر بعض حضرات کی طرف سے ”تکفیری مہم“ چھیڑی گئی ان عبارتوں کی توجیہات و تاویلات پیش کر کے اس تکفیری مہم سے پورا اختلاف درج کرایا اور اس پورے موضوع کو بہت سنجیدگی اور سلیقے کے ساتھ خالص علمی انداز میں اُس حلقے کے درمیان پیش کیا جو ان عبارات کو بنیاد بنا کر ایک منٹ کے لیے بھی ”اکابر دیوبند“ کو ”کافر“ سے کم ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔

 

اکابر دیوبند کے خلاف اس تکفیری مہم سے عدم اتفاق کے باوجود شیخ صفوی مدظلہ متعدد متقدمین مشایخ و صوفیا کے اس طریق پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہیں جن میں اہم سمجھے جانے والے بہت سے افعال کو ”حلقہ دیوبند“ میں قبولیت حاصل نہیں ہے۔ میرے علم کے مطابق مجلس سماع، عرس اور محفل میلاد وغیرہ کا اس طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے وہ اپنا تعارف و انتساب سنیت، حنفیت، صوفیت، چشتیت، صفویت کی جانب ہی کرنا پسند فرماتے ہیں۔ ایک دل چسپ بات کا ذکر اور کردوں کہ شیخ صفوی مدظلہ کے تربیت یافتہ مولانا ڈاکٹر ذیشان مصباحی اس وقت ایک کتاب تصنیف فرما رہے ہیں اور اسی کتاب کے حوالے سے انہوں نے مجھ سے یہ بات کہی کہ شاہ اسماعیل شہید دہلوی رحمہ اللہ کو ان کے محبین اور مخالفین دونوں نے ان کی تصنیف ”تقویۃ الایمان“ کو ہی محبت و مخالفت کی بنیاد بنا رکھا ہے؛ حالاں کہ اگر شاہ اسماعیل دہلوی کی دوسری کتاب ”صراطِ مستقیم“ کو سامنے رکھا جائے تو ”موحد شاہ اسماعیل“ ایک بہت بڑے ”صوفی شاہ اسماعیل“ کی شکل میں نظر آتے ہیں اور یہ کتاب ان کے محبین و مخالفین دونوں کے جوش کو کم کردے گی۔ ڈاکٹر ذیشان مصباحی نے اس کتاب کے متعدد اقتباسات ہم لوگوں کو پڑھ کر سنائے جو واقعی ہمارے لیے حیرت انگیز تھے۔

 

شیخ صفوی مدظلہ ”اکرام مسلم“ بلکہ ”احترام انسانیت“ کے بھی پرزور داعی ہیں۔ ان کے دروازے تمام انسانوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں، ہر مسلک اور جماعت کے مسلمانوں سے وہ اس قدر اپنائیت، محبت اور اکرام کے ساتھ پیش آتے ہیں کہ ان کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی عنوان سے ان کے یہاں تفریق بین المسلمین کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ ہر شخص کے اندر خیر کا پہلو چھپا ہوا ہے، ہمیں مناظرانہ لب ولہجے کے بجائے ہر ایک کو محبت کے ساتھ اپنے سے قریب کر کے اس کے خیر کے پہلو کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور سب سے پہلے اس کے تعلق مع اللہ میں اضافے کی کوشش میں لگ جانا چاہیے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ ہر جماعت اور طبقے میں ہزاروں اللہ کے نیک بندے ہیں؛ لہذا کسی بھی مسلمان میں کوئی دینی عیب یا نقص محسوس ہو تو اس کی تاویل کریں اور اس کو محبت دیں اور اس کو اپنے سے قریب کریں۔ شیخ صفوی مدظلہ مشایخ و صوفیاء کو اس سلسلے میں اسوہ بنانے پر زور دیتے ہیں اور ان کی تعلیمات سے اخذ و استفادے کی تلقین کرتے ہیں جن کی روحانی تعلیمات اور اخلاقِ حسنہ کی برکت سے ہزاروں بندگانِ خدا کو ہدایت کی نعمت نصیب ہوئی۔

 

شیخ احسان اللہ صفوی مدظلہ کی نگرانی میں ان کی جامعہ و اکیڈمی کے فارغین اتحادِ ملت کی خاطر اس سلسلے کا لٹریچر/رسائل اور کتابیں مستقل شائع کر رہے ہیں۔ شیخ صفوی مدظلہ زمانے اور حالات کے بھی بڑے نبض شناس ہیں، دنیا بھر میں آپ نے اسفار کیے ہیں؛ لہذا زمانے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے آپ میڈیا کے ذریعے بھی صوفیا و مشایخ کی تعلیمات اور دیگر علمی نشریات کو عوام و خواص تک پہنچا رہے ہیں۔ بندہ نے اس مختصر سی ملاقات میں یہ تاثر بھی لیا کہ شیخ صفوی دام ظلہ ایک ”ماہر نفسیات“ بھی ہیں جنہیں مختلف فکر و خیال کے افراد سے حسب موقع متاثر کرنے والی گفتگو کا بھی زبردست سلیقہ نصیب ہوتا ہے۔

 

شیخ صفوی مدظلہ کی سب سے بڑی خوبی آپ کی سادگی، کسر نفسی اور تواضع ہے، راقمِ سطور کو پہلے سے ہی یہ معلومات تھیں اور پھر تھوڑی ہی دیر میں مشاہدہ بھی ہوا اور آپ کے اعوان و رفقا کے تاثرات بھی سنے کہ شیخ صفوی مدظلہ بہت ہی مشفق اور کریمانہ اخلاق کے حامل ہیں، آپ اپنے متعلقین/ مریدین / تلامذہ یہاں تک کہ ادارے کے خدام سے بھی بہت ہی شفقت، اپنائیت اور محبت کا معاملہ فرماتے ہیں۔ ہر ایک آپ سے بغیر کسی پریشانی کے ملاقات کر سکتا ہے، آپ کا ہر ایک سے براہ راست رابطہ رہتا ہے۔ آپ کے زیر انتظام جو بھی مزارات ہیں وہ سب ہر قسم کی مالی خرافات سے محفوظ ہیں، یہاں تک کہ وہاں کوئی ”چندہ پیٹی“ بھی نہیں رکھی جاتی۔ چونکہ یہ خانوادہ نسلوں سے ”زمیں دار“ ہے؛ اس لیے اللہ تعالی نے شیخ صفوی مدظلہ کو بڑا مستغنی قلب بھی عنایت فرما دیا ہے، آپ اپنے مشن پر یکسوئی سے گامزن ہیں اور ہزاروں لوگوں کو فیض پہنچا رہے ہیں۔

 

شیخ صفوی مدظلہ کے تربیت یافتہ حضرات خود اصحابِ قلم و افتا ہیں، بڑے بڑے اداروں کے فارغین ہیں، مگر سب شیخ صفوی مدظلہ کے مرید باصفا اور آپ کی شخصیت کے گرویدہ ہیں، آپ کی تعلیمات کا رنگ آپ کے ادارے کے اساتذہ و ذمہ داران یہاں تک کہ طلبہ پر بھی صاف محسوس ہورہا تھا، یہ ”مردم سازی“ اس دور میں بڑی مفقود ہے جو راقم سطور کو شیخ صفوی مدظلہ کی خانقاہ میں محسوس ہوئی۔ وہاں کے فارغین جن میں بطور خاص مولانا ناصر مصباحی رام پوری اور مولانا ڈاکٹر ذیشان مصباحی سے راقم سطور اس حیثیت سے بطور خاص واقف ہے کہ یہ حضرات اپنی تحریروں اور مضامین کے ذریعے امت کے مختلف حلقوں اور طبقوں کے مابین شیرازہ بندی کی جو کوششیں فرما رہے ہیں وہ بہت ہی مفید اور اہم ترین دینی خدمت ہے۔ مجھے اس جامعہ کی لائبریری میں دیوبند و بریلی کے اکثر اکابر کی کتابیں نظر آئیں، یہاں تک کہ مولانا سید ابوالاعلی مودودی اور مولانا وحیدالدین خان کی کتابیں بھی وہاں موجود تھیں۔

 

راقم سطور اور ہمارے رفقا کے ساتھ شیخ صفوی مدظلہ کے تربیت یافتہ وہاں کے اساتذہ و طلبہ اس محبت کے ساتھ پیش آ رہے تھے کہ میں نقل نہیں کرسکتا۔ ہم نے مولانا ڈاکٹر ذیشان مصباحی سے اصرار کر کے ذرا جلدی رخصت ہونا چاہا تو برادر عزیز مولانا ناظم اشرف مصباحی نے ہم کو کار سے اتار لیا اور کہا کہ بغیر ”ماحضر“ تناول کیے ہم لوگ نہیں جانے دیں گے۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی اور ساتھ ہی یہ بات بھی بالکل واضح تھی کہ ہمارے درمیان فکر و نظر میں بلکہ متعدد مسائل میں یقینی طور پر ”اختلاف رائے“ بھی ہے؛ لیکن اس سب کے باوجود ”اکرامِ مسلم“ کا وہ شاندار نمونہ وہاں دیکھنے کو ملا جو واقعی دیگر بہت سے حلقوں کے لیے ایک بہترین نظیر اور مثال ہے۔

شیخ صفوی مدظلہ کے جامعہ کو عالمِ اسلامی کے مشہور تعلیمی ادارے جامعہ ازہر سے خاص نسبت ہے، یہاں کے متعدد طلبہ وہاں داخلہ لیتے ہیں، مصر کے اساتذہ کرام بھی Lock Down سے پہلے تک جامعہ عارفیہ میں تدریسی فرائض انجام دے رہے تھے؛ اس لیے وہاں کے فارغین کی علمی استعداد بھی بڑی نمایاں ہوتی ہے۔

 

حضرت شاہ مینا لکھنوی قدس سرہ کے پیر و مرشد حضرت شاہ سارنگ کے نام نامی سے منسوب ایک انگریزی میڈیم اسکول (St. Sarang Convent School) بھی شیخ صفوی مدظلہ نے چند سال پہلے قائم فرمایا، نیز شیخ صفوی مدظلہ کی خود اپنی قائم کردہ یونانی ادویات کی ایک کمپنی ہے جس میں خود شیخ صفوی مدظلہ کے تیار کردہ نسخوں سے ادویات تیار کی جاتی ہیں، اس وقت 60 سے اوپر ادویات تیار ہو کر متعلقہ محکمہ سے منظوری کے بعد بازار میں موجود ہیں۔

 

شیخ صفوی مدظلہ کی نگرانی اور قیادت میں یہاں سالانہ عرس بھی ہوتا ہے، جس میں سالکین و مریدین کی بڑی تعداد دور دراز سے شریک ہوتی ہے۔

اکابر دیوبند سے متعلق ”تکفیری مہم“ سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے بعض حلقے شیخ سے بہت نالاں بھی رہتے ہیں؛ لیکن شیخ صفوی مدظلہ اپنے موقف پر متصلب ہیں اور کسی بھی مخالفت کی پروا کیے بغیر ہر ایک کے لیے اپنے دامنِ محبت میں گنجائش لیے ہوئے اپنا فیض عام کر رہے ہیں۔

 

میرا یہ شوق ہے کہ بغرض استفادہ اور امت کے مختلف حلقوں کے درمیان دوریاں کم کرنے کے لیے سب کے یہاں حاضر ہوا جائے، چنانچہ دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوۃ العلماء، مظاہر علوم سہارن پور، جماعتِ دعوت و تبلیغ سے تو ہمارا رشتہ نسلی طور پر ہے اور بچپن سے ان سب کی محبت ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے؛ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ مجھے جماعت اسلامی ہند، جماعت سلفیہ سمیت بعض دیگر حلقوں/جماعتوں کے ذمہ داران و کارکنان سے ملاقات اور ان کے مراکز میں حاضر ہونے کا بھی بفضل اللہ موقع ملا ہے، اور میں پورے انشراح و انبساط کے ساتھ سب کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں، البتہ قدیم مشایخ و صوفیا کی طرف نسبت کرنے والے اور ماضی قریب کے بہت سے ”جھگڑوں“ سے دور جو صوفیا و مشایخ حضرات ہیں ان میں سے کسی سے اس طرح تفصیلی ملاقات کا اب تک موقع نہیں ملا تھا۔ یہ مختصر سا سفر اس سلسلے کا ہی ایک حصہ تھا، چنانچہ وہاں پہنچ کر بہت خوشی ہوئی، بہت اپنائیت کا احساس ہوا اور بلاشبہ شیخ صفوی مدظلہ کی مختصر گفتگو میں بھی استفادے کے بہت سے پہلو عیاں ہوئے۔

 

ہم کو چاہیے کہ اپنے فکر و منہج پر دلائل کی روشنی میں تصلب کے ساتھ ساتھ امت کے مختلف حلقوں اور طبقوں کے درمیان اتفاق و اتحاد کے لیے کوششیں کرتے رہیں۔ امت کو جوڑنے کی فکر کریں، صوفیا و مشایخ نے جو راستہ اختیار کیا تھا اس کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اتر جائیں، ان کے دکھ درد میں ان کے مخلص ہم درد اور غمگسار بنیں، پھر ہم دیکھیں گے کہ ان شاء اللہ کس طرح فاصلے کم ہوں گے! اور ملت کی شیرازہ بندی ہوگی۔

بلاشبہ دیگر بہت سے کاموں کی طرح یہ بھی ایک دینی ضرورت ہے۔

 

(خانقاہ عارفیہ اور سید سراواں کی تاریخ میں بہت سی معلومات دوران ملاقات مولانا ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی کی گفتگو سے ہم نے نوٹ کی تھیں اور بقیہ جہاں ضرورت ہوئی ”وکی پیڈیا“ کا سہارا لیا۔)

Comments are closed.