جمعیت علماء اور آر ایس ایس کا موازنہ کرنا صحیح نہیں ہے
جمعیت علماء اور آر ایس ایس کا موازنہ کرنا صحیح نہیں ہے
مظاہرحسین عماد عاقب قاسمی
ہمارے ایک فاضل دوست نے اپنے ایک مضمون میں جمعیت علمائے ہند اور آر ایس ایس کے درمیان موازنہ کیا ہے.
وہ لکھتے ہیں :
” جمعیۃ العلماء هند 1920ء میں قائم ھوئی اور آر ایس ایس بھی 1920ء میں قائم ھوئی، دیکھئے آر ایس ایس کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور جمعیۃ العلماء ھند کہان ھے؟ جبکہ جنگ آزادی میں اس کی خدمات ناقابل فراموش ھے، ایسا لگتا ھے جنگ آزادی کے کچھ ہی عرصہ کے بعد گہری نیند سوگئی، یا پھر آر ایس ایس کچھوا کی چال چلتے چلتے اپنی منزل کو پہنچ گئی اور جمعيۃ العلماء هند خرگوش کی چال چلی تھی، طوفان کی رفتار سے چل رہی تھی؛ لیکن پتہ نہیں کس کی نظر بد لگی کہ راستہ ہی میں جمعیت کو ایسی گہری نیند آئی کہ اب تک صحیح طور پر بیدار نہیں ھوسکی، مزید برآں آپسی نزاع نے اس کی ساخت کو مجروح کیا اور اس نے اپنے آپ کو کمزور کیا اور بڑا نقصان پہونچایا، بہر حال اب تبصرہ کا وقت نہیں ھے، کام کرنے کا وقت ھے، ایک شاعر نے سچ کہا:
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ
زندگی کی فرصت باقی ھے کوئی کام لے”
مجھے اس موازنے سے سخت نفرت ہے.
اس لیے اس تحریر پر میرا تبصرہ مندرجہ ذیل ہے.
1- جمعیت علماء نے جہاد آزادی میں حصہ لیا اور آر ایس ایس نے جہاد آزادی میں حصہ نہیں لیا.
2- جمعیت علماء کا مقصد ہندوؤں سے دشمنی کرنا یا ان کو ہندوستان سے باہر نکالنا نہیں ہے.
جب کہ آر ایس ایس کا اصل مقصد مسلمانوں سے نفرت کو بڑھاوا دینا ، اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پروپگنڈے کرنا ہے ، اور اسی جھوٹے پروپگنڈے کی وجہ سے اس کی ترقی اور اس کی سیاسی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترقی ہوئی ہے ،
کافروں کو ہمیشہ استدراج ملتا ہے.
آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں نے یہ جھوٹ پھیلایا کہ ظہیر الدین بابر نے ایک بہت بڑے رام مندر کو توڑ کر بابری مسجد بنائی تھی.
ان تنظیموں نے ہندؤوں کو بھڑکا کر بابری مسجد کو شہید کروادیا اور پھر بعد میں سپریم کورٹ کے جج نے دباؤ میں آکر یا ہندوستان کے امن و امان پر منڈلاتے خطرات کا خیال کرکے مسجد کی جگہ رام للا کو دے دی ، اور یہ فیصلہ سنایا کہ مندر توڑ کر مسجد بنانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ،
کیا جمعیت علماء ہند یا کوئی اور مسلم جماعت ایسا پاکھنڈ کرسکتی ہے اور اگر کر بھی لے تو کیا اسے مسلم قوم یا بھارتی میڈیا معاف کردے گی.
جمعیت علمائے ہند یا کوئی اور مسلم جماعت جھوٹ کے سہارے آگے نہیں بڑھ سکتی ، حق پرست جماعت کو استدراج نہیں ملتا بلکہ وہ آزمائی جاتی ہے.
3- جمعیت علماء سے جڑے علماء خاص طور سے علمائے دیوبند نے جہاد آزادی کے لیے قربانیاں دیں اور آزادی کے بعد ان کی اکثریت اپنے دعوتی اور تدریسی کاموں میں لگ گئی.
اس وقت کے حالات کو دیکھتے ہوئے جمعیت علماء نے ایک مسلم سیاسی پارٹی بنانا مناسب نہیں سمجھا اور آج بھی ہندوستان کے ننانوے فیصد اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں میں مسلم پارٹیوں کا وجود خطر ناک ہے.
مسلم پارٹی وہیں کامیاب ہوسکتی ہے جہاں مسلمان پچاس فیصد سے زائد ہوں اور مقابلہ تکونہ اور چو کونہ وغیرہ ہو ،
اس لیے کہ ہندوستان میں مسلمان متعدد مسالک و مشارب اور ذاتوں میں بٹے ہوئے ہیں.
اگر آزادی کے بعد جمعیت علماء ایک سیاسی پارٹی بنا بھی لیتی تو کیا اسے بریلوی اور اہل حدیث ووٹ دیتے.
کشن گنج کے مولانا اسرار الحق قاسمی صاحب مرحوم پچیس سال کی عمر سے انیس سو سڑسٹھ سے ہی کشن گنج ضلع کے اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیتے رہے ، کبھی آزاد تو کبھی سوشلسٹ پارٹی تو کبھی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سے یا کبھی کسی اور پارٹی سے انہوں نے الیکشن لڑا مگر کبھی کامیابی نہیں ملی.
مگر جب دو ہزار نو میں ان کو کانگریس نے ٹکٹ دیا تو وہ کامیاب ہوگئے ، اور دو بارہ دو ہزار چودہ میں بھی کانگریس کے ٹکٹ پر وہ کامیاب ہوئے ، سات دسمبر دو ہزار اٹھارہ کو ان کے انتقال کے بعد یہ امید تھی کہ کانگریس مئی دو ہزار انیس کے عام انتخابات میں ان کے عالم بیٹے سعود عالم ندوی کو ٹکٹ دے گی مگر کانگریس نے کشن گنج ضلع کی دو تین اسمبلی حلقوں سے کئی بار منتخب ممبر اسمبلی جاوید کو ٹکٹ دیا اور وہ کامیاب ہوئے بہار کی چالیس سیٹوں میں صرف اسی سیٹ پر بھارتیہ جنتا پارٹی اتحاد کو ناکامی ملی تھی.
دو ہزار بیس کے اسمبلی عام انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل نے سعود عالم ندوی کو ٹکٹ دیا اور وہ ٹھاکر گنج سے اس علاقے میں مجلس کی لہر کے بعد کامیاب ہوئے ،
مسلم سیاسی پارٹی بنانا آسان ہے مگر اسے کامیاب کرانا بڑا مشکل ہےبلکہ بعض جگہوں پر مسلم سیاسی پارٹی کا انتخاب میں حصہ لینا خطر ناک ہے.
بہار اور اتر پردیش میں مجلس اتحاد المسلمین کی موجودگی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مضبوط کیا ہے ، بہار اور اتر پردیش کی سیاست پر میں نے بہت لکھا ہے اور اس میں کئی جگہ اس کا تذکرہ کیا ہے.
اسی ماہ نومبر میں بہار کے گوپال گنج اسمبلی حلقے میں وہاں کے بی جے پی ممبر اسمبلی کی موت کے بعد انتخابات ہوئے ،
مجلس اتحاد المسلمین کی طرف سے عبد السلام نامی ایک صاحب کھڑے ہوگئے
جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں جنتادل اور راشٹریہ جنتا دل کا مشترکہ امیدوار راشٹریہ جنتا دل کا موہن گپتا صرف 1794 ووٹوں سے ہار گیا ، اور بی جے پی کی کسم دیوی کامیاب ہوگئی.
عبد السلام کو 12214 ووٹ ملے ، موہن گپتا کو 68259 اور کسم دیوی کو 70053 ووٹ ملے ہیں.
عبد السلام دو ہزار بیس میں جے ایس ڈی کے امیدوار تھے ، اور انہیں 2450 ووٹ ملے تھے ، دو ہزار بیس میں جے ایس ڈی مجلس کی اتحادی پارٹی تھی.
کشمیر کو چھوڑ کر کیرل ، تلنگانہ مغربی بنگال ، آسام اور بہار کے دس بارہ پارلیمانی حلقوں اور ستر اسی اسمبلی حلقوں پر ہی مسلم سیاسی پارٹیوں کو انتخاب لڑنا چاہیے ، اور وہ ان ہی حلقوں میں کامیاب ہوسکتی ہیں.
بقیہ جگہوں پر انتخاب لڑنے سے مسلمانوں کی پریشانیوں میں کمی نہیں آتی بلکہ اضافہ ہوتا ہے.
یہ بھی یاد رکھیے کہ مسلمانوں کے لیے دلت ، پسماندہ اور برہمن برابر ہیں.
مسلمانوں سے مانگ کر کھانے والی چمارن کا بیٹا بھی مسلمان ہوجائے تو بھی وہ پورے گاؤں کے مسلمانوں کو گالیاں دیتی ہے.
ہمیں صرف انصاف کی بات کرنی چاہیے ، اور حق بات کہنی چاہیے.
مسلم دلت اتحاد نہیں چل سکتا.
چالیس پچاس سالوں یا اس سے زائد کا تجربہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی مدد سے اپنی سیاسی دکان چمکانے والے کئی دلت لیڈران آج بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ہیں.
4- اگر مان بھی لیں کہ پوری مسلم قوم جمعیت علمائے ہند کے ساتھ تھی ، توبھی پندرہ اور پچاسی میں فرق تو ہوتا ہے نا :
آر ایس ایس کے ساتھ تمام ہندو صنعت کار اور ارب پتی ہیں ، ساری دنیا میں بسے ہوئے ہندوؤں سے ان کو مالی مدد ملتی ہے.
امریکہ اور دیگر یوروپی ممالک میں مودی مودی کا نعرہ لگانے والے کرایے کے ٹٹو نہیں بلکہ جاہل مودی کے جاہل معتقد ہوتے ہیں.
یہاں مسلمانوں کا بچہ بچہ مجتہد اور دانشور ہے ، اسے معلوم ہے کہ خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک معمولی بڑھیا نے خطبے کے درمیان ٹوک دیا تھا ، اس لیے وہ ہر وقت ، پوری زندگی قربان کردینے والے شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کے لخت جگر اسی سالہ استاذ العلماء حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتا ہے.
وہ دعوتی نقطۂ نظر سے یا سیاسی اور سماجی نقطۂ نظر سے اگر آر ایس ایس کے لیڈر سے ملاقات بھی کرتے ہیں تو پورا سوشل میڈیا ان پر لعن طعن سے بھر جاتا ہے.
جمعیت علمائے ہند نے یا کسی دیگر مسلم جماعت کی کیا کیا خامیاں ہیں اسے ضرور بیان کریں ، اور یہ بیان کریں کہ وہ یہ یہ کام کرسکتی تھی مگر اس نے نہیں کیا مگر کسی بھی مسلم جماعت خاص طور سے علماء کی جماعت کا موازنہ آر ایس ایس جیسی جماعتوں سے نہ کریں.
Comments are closed.