ہمارے قدم امن کی طرف محض تماشہ!

 

فرقہ پرستوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا استعمال ……..

 

احساس نایاب شیموگہ کرناٹک

 

مسلسل شہر کے بگڑتے حالات کو دیکھتے ہوئے حال ہی میں شہر شیموگہ میں امن، شانتی اور بھائی چارے کے نام پر تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اکٹھا کرکے ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس کا عنوان تھا

"نمّا نڑے شانتی یا کڑے” یعنی ہمارے قدم امن کی طرف، لیکن اُس وقت کئی لوگوں کا الزام تھا کہ امن شانتی کہ نام پر یہ محض ایک سیاسی پروگرام ہے , چند مفاد پرستوں کی جانب سے اپنا سیاسی مستقبل چمکانے کے لیے مسلمانوں کو استعمال کیا جارہا ہے, اسی بحث و مباحثہ کے درمیان کہیں نہ کہیں مسلمان ایک دوسرے کی مخالفت میں آگئے،

غیروں کی خاطر اپنوں کے دلوں میں خلش پیدا ہوگئی …..

خیر انہیں اعتراضات کے درمیان شہر میں پروگرام تو کیا گیا لیکن یہ پروگرام مکمل ناکام رہا …..

 

پہلی ناکامی : پروگرام کا آغاز ہی بتائے گئے وقت سے بہت تاخیر سے ہوا.

 

دوسری ناکامی : ڈاکٹر دھنن جئے سرجی جس کو پروگرام کا اسپانسر, آرگنائزرکہا جارہا تھا، جس پہ الزام تھا کہ وہ بی جے پی کا ایجنٹ ہے, اس دوران اس کی ایسی کئی پرانی ویڈیوز سوشیل میڈیا پر وائرل بھی ہورہی تھی جس میں اس نے موذی کو ایک طرح سے اپنا گاڈ فادر بتایا تھا , موذی اور بی جے پی کے گن گان گاتا نظر آرہا تھا …..

خیر ڈاکٹر دھننجئے سرجی کے مطابق امن شانتی کے پروگرام میں لاکھوں کی بھیڑ جمع ہونے والی تھی مگر افسوس یہاں پر بھی انہیں منہ کی کھانی پڑی اور پروگرام میں ان کی بتائی گئی تعداد کا 20 فیصد بھی نہیں تھا…..

 

تیسری ناکامی : انہوں نے اسکول کے طلبہ و طالبات کو بھی اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنا چاہا لیکن اللہ کو شاید یہ منظور نہیں تھا کہ ملک کا مستقبل نونہال ان فتنے بازوں کے فتنہ میں آئیں، سو صبح پروگرام کے آغاز سے قبل ہی اسکول کے بچوں کو اس پروگرام میں شامل ہونے پر پابندی لگادی گئی.

 

چوتھی اور سب سے بڑی ناکامی جو ناقابل تلافی جرم ہے, جسے ایک غیرتمند مسلمان کبھی نظرانداز نہیں کرسکتا, جو غیور مسلمانوں کے منہ پر فرقہ پرستوں کی جانب سے زوردار طمانچہ تھا کہ امن شانتی کے نام پہ ہوئے اس تماشہ میں بنائے گئے بینر پر تمام مذاہب کے رہنماؤں کی تصویر لگائی گئی لیکن ایک بھی مسلم رہنما کی تصویر لگانا انہیں پسند نہیں آیا، جبکہ اُس پروگرام میں اُس تماشہ کو کامیاب کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والے ہمارے ہی مسلم بھائی تھے, آور وہاں موجود بھیڑ میں سب سے بڑی تعداد مسلمانوں کی ہی تھی باوجود بینر پر ایک بھی مسلم رہنما کی تصویر نہیں لگائی گئی……

لیکن اس توہین اور اس طمانچہ کو بھی نظرانداز کردیا گیا , آوراس پر لکھنے بولنے والوں کو مصلحتا خاموش کرنے کی کوشش کی گئی…..

اُس وقت بھی ہم نے اس کی مذمت کی تھی, آج بھی کررہے ہیں اور ان شاءاللہ ہمیشہ کریں گے بھلے ہمارے سامنے کوئی کتنا بھی بڑا سورما کیوں نہ ہو کیونکہ رہنماؤں کی توہین پوری قوم کی توہین ہے جس کا ازالہ ناممکن ہے……

لیکن خود کو لیڈر کہلانے والے چند مفاد پرستوں نے اپنی آنکھوں پر دنیا پرستی کا ایسا چشمہ پہن رکھا ہے کہ انہیں اپنے مطلب کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا……

 

بہرحال کوئی اپنی غلطیوں کو کتنا بھی چھپانے کی کوشش کرے، غلط کو صحیح ثابت کرنے کے لئے زمین آسمان ایک کردے لیکن وقت میں وہ طاقت ہے جو ہر شر ہر فریب کو دنیا کے سامنے لے ہی آتا ہے ……

وقت نے آج ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ کل تک امن شانتی کے نام پر مسلمانوں کو فریب دینے انہیں استعمال کرنے والے بہروپیوں کو بےنقاب کردیا ہے جس کی زندہ مثال یہ تصویر ہے جس میں آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے امن شانتی کا دعوی کرنے والوں کے قدم اب بی جے پی کی طرف بڑھ کر سنگھیوں کے ہمقدم بن چکے ہیں…….

کل تک جو مسلمان ان کے نام کے قصیدے گا رہے تھے آج ان مسلمانوں کے منہ پہ کالک پوتھ کر یہ بی جے پی سے جاملے ہیں اور ہر بار کی طرح مسلمانوں کو اُن کی اوقات دکھائی گئی ہے کہ ہماری نظروں میں تمہاری اوقات محض ایک ٹشوپیپر سی ہے جب چاہا استعمال کیا پھر پھینک دیا اور ان تمام حالات کے ذمہ دار قوم کے وہ نام نہاد لیڈران ہیں, چاپلوسی جن کی فطرت ہے, لوگوں کے آگے پیچھے گھومنا جن کا شیوہ ہے، لیکن افسوس اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ سرجی نامی اس بہروپیہ کی باتوں میں ہمارے کئی داڑھی ٹوپی والے مسلم بھائی یعنی علماء حضرات اور خود کو دوراندیش, دانمشد کہلانے والے مفکران ملت بھی آگئے

اور اس شخص کو کامیاب کرنے کے خاطر معصوم بچوں و باپردہ خواتین کو استعمال کرنا چاہا وہ تو اللہ سبحان تعالی کا احسان ہے کہ اللہ نے قوم کے نونہالوں کو اس تماشہ کا حصہ بننے سے بچایا.

لیکن افسوس کہ خواتین اس تماشہ کا حصہ بنادی گئی اور ہماری باپردہ خواتین کو ان فرقہ پرستوں کے آگے ننگی زمین پہ بٹھایا گیا تھا

ہم نے اُس وقت بھی اعتراض کیا تھا

لیکن ہمارے اعتراضات پر ہربار آگے سے معمولی بھول کہہ کر نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی…..

خیر کوئی کتنا بھی نظرانداز کرلے سچائی ایک دن ہزار پردوں کو چاک کرکے عیاں ہوجاتی ہے, دکھ تو اس بات کا ہے کہ سچائی کے سامنے آنے تک خود کو دوراندیش, دانشمند کہلانے والا ایک بڑا طبقہ آنکھوں دیکھی مکھی نگل چکا ہوتا ہے, خود کو نگلتا ہی ہے ساتھ میں معصوم مسلمانوں کا بھی استحصال کیا جاتا ہے…

خیر شہر کے ذمہ داروں اور عمائدین شہر کو چاہئے کہ وہ اس دھوکہ سے سبق سیکھیں اور کچھ بھی کرنے سے پہلے ماضی, حال اور مستقبل تینوں کو سامنے رکھ کر بہتر فیصلہ کریں

ورنہ یوں کسی کے بھی پیچھے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بیل بکریوں کی طرح ہانکے جانا ایک مسلمان کی حرمت اُس کی عضمت پہ زیب نہیں دیتا نہ ہی مومن مسلمان ایک سوراخ سے دو بار ڈسا جاتا ہے……..

Comments are closed.