بی ایم سی میں پارٹی دفتر پر قبضے کو لے کر ادھو شندے گروپ میں جنگ 

 

ممبئی پولس کے حکم کے بعد انتظامیہ نے تمام سیاسی پارٹیوں کے دفاتر کو سیل کردیا

ممبئی۔۲۹؍دسمبر: (اسٹاف رپورٹر) ممبئی میونسپل کارپوریشن میں ایک دن پہلے پارٹی دفتر کو لے کر چھڑی جنگ کے بعد بی ایم سی نے ایکشن لیا ہے، بی ایم سی انتظامیہ نے جمعرات کو بی ایم سی کی عمارت میں موجود تمام سیاسی پارٹیوں کے دفاتر کو سیل کردیا ہے یہ قدم ممبئی پولس کے حکم کے بعد اُٹھایاگیا ہے۔دراصل مہاراشٹر میں ’اصلی شیوسینا‘ کے دعوے کو لے کر وزیراعلیٰ ایک ناتھ شندے گروپ اور ادھو ٹھاکرے گروپ آئے دن متصادم رہتے ہیں، اسی سلسلے میں ایک بار پھر دونوں گروپ کے درمیان بی ایم سی ہیڈر کوارٹر میں بدھ کی شام جھڑپ ہوگئی تھی۔ شندے گروپ کے لوگوں نے بی ایم سی ہیڈ کوارٹر میں بنے شیوسینا دفتر پر قبضہ کرلیاتھا، اس دوران وہاں موجود ادھو ٹھاکرے گروپ کے لیڈران نے اس کی مخالفت کی تھی، بتایاجارہا ہے کہ اس دوران پہلے تو دونوں طرف سے جم کر بحث ہوئی پھر نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تھی حالانکہ اطلاع ملتے ہی پولس وہاں پہنچ گئی اور معاملے کو رفع دفع کیا۔ وزیر اعلیٰ مہاراشٹر ایک ناتھ شندے کی قیادت والی بالا صاحبانچی شیوسینا کی ترجمان شیتل مہاترے نے بتایاکہ بی ایم سی نے ہیڈکوارٹر میں شیوسینا، کانگریس، راشٹروادی کانگریس پارٹی اور سماج وادی پارٹی کے دفاتر کو سیل کردیا ہے۔ ایک سیاسی لیڈر نے کہاکہ وہ جب جمعرات کو ہیڈکوارٹر پہنچے تو انہوں نے بی ایم سی کے گرائونڈ میں موجود اپنے دفتر کو سیل پایا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے یہاں صبح پہنچنے سے پہلے ہی ہماری پارٹی کے دفتر کو سیل کردیاگیا تھا۔ ممبئی میونسپل کمشنر اقبال سنگھ چہل نے بتایاکہ پولس کے حکم کے بعد یہ قدم اُٹھایاگیا ہے، شمال وسطی ممبئی کے ممبر پارلیمنٹ راہل شیوالے، اسٹینڈنگ کمیٹی کے سابق چیئرمین یشونت جادھو اور شندے گروپ کی سابق کونسل شیتل مہاترے بدھ کی شام تقریباً پانچ بجے پارٹی دفتر میں داخل ہوئیں، ذرائع نے بتایاکہ اشیش چیمبورکر اور سچن پڈوال سمیت شیوسینا (ادھو گروپ) کے سابق کونسلروں نے ان کی موجودگی پر اعتراض ظاہر کیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان نوک جھونک ہوگئی۔ چہل نے بتایاکہ تقریباً ایک گھنٹے تک کشیدگی کی صورتحال بنی رہی، اور پولس کے آنے سے پہلے دونوں گروپ کے کارکنان نے نعرے بازی کی اس کے بعد تمام کو ہیڈکوارٹر سے ہٹادیاگیا، دونوں گروپ نے کچھ خبروں کی مخالفت کا دعویٰ کیا کہ کسی بھی فریق کے ذریعہ پارٹی دفتر پر دعویٰ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ کل پیش آئے واقعے میں مہاراشٹر کے وزیر دیپک کیسرکر نے کہا تھا کہ لگتا ہے کہ امن بنائے رکھناچاہئے، ادھو گروپ کو یہ تسلیم کرلیناچاہئے کہ انہو ںنے اکثریت کھودی ہے۔ گرام پنچایت چنائو میں بھی وہ پانچویں مقام پر تھے، انہیں یہ سمجھناچاہئے کہ ہم اقتدار میں ہیں انہیں صبر رکھناچاہئے۔ بتادیں کہ ۲۰ دسمبر کو ادھو ٹھاکرے گروپ کو ناگپور کے سرمائی اجلاس سے پہلے اسمبلی احاطے میں بنے شیوسینا دفتر کو خالی کرنا پڑا تھا اس جگہ پر اب وزیراعلیٰ ایک ناتھ شندے گروپ کا قبضہ ہوگیا ہے۔ یہاں ۳۰ سال سے شیوسینا کا دفتر تھا۔

Comments are closed.