ماسک نہ پہننے پر کالج پرنسپل نے مسلم طالب علم کو بری طرح مارا، والدین کے ساتھ کی بدتمیزی
احساس نایاب، شیموگہ کرناٹک
یہ معاملہ شہر شیموگہ کی ملناڈ پری یونیورسٹی کالج کا ہے، جہاں کے پرنسپل سدیش راج اراس نے اپنے ہی کالج کے طالب علم کی بےرحمی سے پٹائی کردی ۔۔۔۔۔۔
طالب علم کا جرم بس اتنا تھا کہ وہ بھول کر بغیر ماسک کے کالج چلا گیا، اس کے اس گناہ عظیم پر جناب پرنسپل صاحب اس قدر طیش میں آگئے کہ انہوں نے اپنے ہی طالب علم کے ساتھ پیشہ ور مجرموں جیسا سلوک کرتے ہوئے پہلے تو اُس کی پٹائی کی پھر اُس کے والد محمد صوفی جو الیاز نگر ساتوین کراس کے رہائشی ہیں، انہیں فون کرکے یہ کہتے ہوئے بلایا کہ وہ کالج آکر اپنے بیٹے کو لے جائیں ۔۔۔۔۔۔
اچانک کالج سے کال کرکے بلائے جانے پر محمد صوفی یعنی طالب علم کے والد گھبرا کر فورا کالج پہنچے تو انہیں پتہ چلا کہ اُن کے بیٹے کو ماسک نہ پہننے کی وجہ سے بےرحمی سے مارا گیا ہے ۔۔۔۔۔
محمد صوفی نے پرنسپل سے بات کرنے کی کوشش کی تو پرنسپل نے اُن کے ساتھ بھی بدتمیزی کرتے ہوئے اُن کے ساتھ دہشتگردوں جیسا سلوک کیا ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وائرل ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ طالب علم کے والد محمد صوفی پرنسپل سے مسلسل بات کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، اور اُن کا لہجہ نرمی بھرا ہے ۔۔۔۔۔
لیکن جناب پرنسپل صاحب کا پارہ ساتوین آسمان پہ چڑھا ہے ۔۔۔۔
ایک جگہ ٹھہر کر بات کرنے کی بجائے طالب علم کے والد کو پریشان کرنے کے لئے جان بوجھ کر ا پنے پیچھے گھما رہے ہیں ۔۔۔۔۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح پرنسپل کہلانے والا یہ شخص غنڈوں جیسی حرکت کرتے ہوئے اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک معصوم طالب علم کی بٹائی کرکے اس نے کوئی جنگ جیت لی ہے، جبکہ جناب پرنسپل سدیس راج اراس کا خود اپنا چہرہ ننگا ہے، انہوں نے خود ہی ماسک نہیں لگایا ہوا ہے.
جس ماسک کو بہانہ بناکر بھری کلاس میں ایک طالب علم کی پٹائی کی گئی وہی ماسک ان صاحب نے نہیں پہنا ۔۔۔۔۔۔۔
ایسے میں اب ان جناب کو سزا کون سنائے گا؟؟؟؟؟ انہں ماسک پہننا کون سکھائے گا؟
ایک تو خود چوری اوپر سے جناب پرنسپل کی سینہ زوری تو دیکھیں کہ امتحانات کے قریب یہ طالب علم کے والد محمد صوفی صاحب سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کی ٹی سی لے کر چلے جائیں ۔۔۔۔۔
پرنسپل کا رویہ دیکھتے ہوئے طالب علم کے والد نے جب موقعہ کی ویڈیو بنانی چاہی تو پرنسپل نے اپنی مونچھوں پر دوبارہ اُسی طرح سے تاؤ دیتے ہوئے ایک باپ کے سامنے اُس کے بیٹے کو تعلیم سے محروم کردینے کی دھمکی دے دی اور گھمنڈ میں چور پرنسپل نے یہاں تک کہہ دیا کہ کس کے پاس جاکر شکایت کرتے ہو کرومیں بھی دیکھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
وائرل ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک استاد معمار قوم کہلانے والے ان جناب کی غنڈوں جیسی باڈی لینگویج ۔۔۔۔۔۔جو اپنے کئے پہ معذرت چاہنے یا اظہار شرمندگی کے بجائے اپنی دس سینٹی میٹر لمبی مونچھوں کو کیسے تاؤ دے کر خود کو نہ ناجانے کس سلطنت کا راجا مہاراجا سمجھ رہے ہیں.
مانا یہ جناب اپنے نام سے سدیش راج ارس ہیں لیکن یہ تو خود کو سچ میں کسی سلطنت کے جہان پناہ سمجھ بیٹھے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اور یہ یہ بھول چکے ہیں کہ وہ ایک استاد ہیں جن کے ہاتھوں میں دیش کا مستقبل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال! استاد کی اس طرح کی حرکت پہ بھارت کا قانون کیا کہتا ہے ؟
آپ کی اور ان جیسے پرنسپل کی جانکاری کے لئے بتادیں کہ بھارتیہ قانون کے مطابق استاذ کا طالب علم کو مارنا یا کسی بھی قسم کا ذہنی اور جسمانی تشدد غیرقانونی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
سیکشن 23 چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت والدین اُس استاذ کے خلاف مقدمہ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔ جس کے نتیجہ میں استاذ کو تین مہینے سے ایک سال تک کی سزا بھی ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
باوجود ملک بھر سے اس طرح کے معاملات سامنے آرہے ہیں
جہان اساتذہ کی جانب سے طلبہ کے ساتھ تعصبانہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔
ایسا ہی ایک معاملہ منی پال میں پیش آیا تھا جہاں میڈیکل کالج کے پروفیسر نے میڈیکل کے ایک مسلم طالب علم کو قصاب نامی ایک دہشتگرد کے نام سے قصاب کہہ کر پکارا جس پر میڈیکل اسٹوڈینٹ نے اعتراض کرتے ہوئے پروفیسر کی اس حرکت پہ ٹوکتے ہوئے خود کو ایک دہشتگرد کے نام سے پکارنے پر مذمتی احتجاج کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
قارئین! ہمارے معاشرے میں اور
ہر انسان کی زندگی مین ایک استاد کا مقام بہت اونچا ہوتا ہے لیکن عموماً اساتذہ یہ بھول جاتے ہیں کہ معاشرے نے انہیں کس مقام پر رکھا اور معاشرے کے تئیں ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ ۔۔۔۔۔
والدین اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے، اُن کی بہتر تعلیم و تربیت کے خاطر لاکھوں خرچ کرکے اسکول کالجس میں داخلہ دلواتے ہیں،
لیکن افسوس کہ آج ویدیا کا مندر کہے جانے والے تعلیمی ادارے بھی تعصب کی آگ سے بچ نہیں پائے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر استاذ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طالب علم کو والدین کی قدر اور ان کی عزت و احترام کرنا سکھائے، اگر وہی بلاوجہ بچوں کی پٹائی کرنے لگ جائیں، بچوں کے والدین کے ساتھ بُرا سلوک کرکے انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے تو بچوں کے معصوم ذہن پر کیا اثر پڑے گا ؟؟؟؟؟
طالب علم نے اگر مسلسل ماسک نہین پہنا تھا تو اُس کو سمجھانے،ڈرانے کے اور بھی طریقے ہیں، لیکن ایک طالب علم کو پیشہ ور مجرموں کی طرح سزا دینا، پوری کلاس کے سامنے زدوکوب کرتے ہوئے اُس کی عزت نفس مجروح کرنا غیرانسانی عمل ہے اُس پہ مزید ستم کہ اُس
کے والدین کے ساتھ دہشتگردوں جیسا سلوک ۔۔۔۔۔۔
اس پورے واقعہ کے بعد ایک کم عمر بچے کے ذہن پر کتنے خطرناک اثرات پڑسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے ۔۔۔۔۔
جس قوم نے بھارت کو ابوالکلام آزاد، محمد اشفاق اللہ خان ،میزائل مین اے پی جے عبدالکلام ، سرسید احمد اور میجر عبدالحمید جیسے نایاب نگینے دیئے ہیں آج اُس قوم کے نونہالوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔
تعصب کی آگ میں جل رہے ان سنگھی ذہنیت کے لوگوں کی وجہ سے آج بھارت ہزاروں عبدالکلام اور میجر عبدالحمید جیسے ہیروں سے محروم ہوتا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
انتظامیہ کو چاہئیے کہ ایسے فرقہ پرستوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے ۔۔۔۔۔۔تاکہ کوئی دوسرا بچہ اس نفرت کا شکار نہ بنے ۔۔۔۔۔۔
ساتھ ہی قوم کے رہنماؤں اور دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جلسے جلوسوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں لیگل اویرنیس لانے کی کوشش کریں ۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ
آج مسلمانوں کی حالت زار کی سب سے بڑی وجہ اپنے حقوق اور ملکی قوانین سے لاعلمی ہے ۔۔۔۔۔۔
Comments are closed.