اک قائد مخلص چلاگیا
مظاہر حسین عماد عاقب قاسمی
سابق امیر جماعت اسلامی بہار قمر الہدی صاحب آج صبح تقریبا ساڑھے تین بجے اس دار فانی سے دار بقا کو کوچ کر گئے،
انا لله و انا الیہ راجعون
ان کی عمر اسی سے متجاوز تھی
وہ مدھوبنی ضلع کی مشہور تعلیم یافتہ بستی ململ کے باشندہ تھے ،
مگر زائد از نصف صدی سے وہ پٹنہ میں مقیم تھے ، انہوں نے وکالت کی تعلیم حاصل کی تھی ،
مگر جب وکالت کی پریکٹس شروع کی تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ کام ان کے فکر و خلوص و مزاج کے مطابق نہیں ہے ، اس کے بعد انہوں پٹنہ سکریٹریٹ میں ملازمت ڈھونڈ نکالی ، اور وہاں اپنے سینیئر عہدہ داروں اور جونیر ملازمین کے درمیان نیک نامی اور خلوص کا لوہا منوایا ، اسی درمیان وہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے ، اس زمانے میں سید ضیاء الہدی صاحب جماعت اسلامی حلقہ بہار کے امیر تھے ، وہ بھی بڑے مخلص اور خدا ترس آدمی تھے ، وہ ارریہ یا کشن گنج ضلع کے رہنے والے تھے ، 1976 کے بعد بعض فکری اختلافات کی بنیاد پر وہ جماعت اسلامی سے الگ ہوگئے تھے ، یا کنارہ کش ہوگئے تھے ،ان کا درس قرآن بڑا موثر ہوتا تھا ،
انہوں نے ایک درس قرآن میں سورہ حدید کی آیت ” الم یأن للذین آمنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ الخ ”
ترجمہ : کیا ایمان والوں کے لیے اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل خدا کی نصیحت کے اور جو دین حق نازل ہوا ہے ،اس کے سامنے جھک جائیں ، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جن کو ان کے ( مسلمانوں کے) قبل کتاب دی گئی ، اور پھر ان پر زمانہ گذر گیا ، پھر ان کے دل سخت ہوگئے ، اور ان میں سے بہت سے آدمی آج کافر ہیں
ڈاکٹر ضیاء الہدی صاحب کا اس آیت کا درس قرآن بھی بڑا موثر تھا اور دل کو نرم کردینے والا تھا ،
اس درس نے قمر الہدی صاحب مرحوم کے نہاں خانے سے حب دنیا نکال پھینکا تھا ،
اس درس کے بعد ضیاء الہدی صاحب مرحوم نے قمر الہدی صاحب مرحوم سے فرمایا دفتر ( دفتر جماعت اسلامی حلقہ بہار ) میں آپ جیسے مخلص و منتظم کی ضرورت ہے ،
قمر الہدی صاحب نے پوچھا کب سے آجاؤں ، ضیاء الہدی صاحب نے فرمایا ، کل سے
قمر الہدی صاحب اسی دن اپنے دفتر گئے اور اپنے آفیسر کو استعفی نامہ پیش کردیا آفیسر نے کہا تمہاری ترقی ہونے والی ہے ، تم آفیسر بننے والے ہو ، اگر نوکری چھوڑنی ہی ہے تو آفیسر بننے کے بعد چھوڑو تاکہ زیادہ پینشن ملے ،
مگر قمر الہدی صاحب مرحوم کی نظر میں اب حب دنیا کی کوئی جگہ نہیں تھی ، وہ تو قوم و ملت اور دین کے لیے خود کو وقف کر چکے تھے ،
ضیاء الہدی صاحب مرحوم کے بعد جماعت اسلامی بہار کے سب سے بڑے کھیون ہار قمر الہدی صاحب مرحوم ہی تھے ، دبلے پتلے اور کمزور سے تھے مگر تواضع ، انکساری اور جوش عمل میں اپنی مثال آپ ،
بیس پچیس سالوں تک جماعت اسلامی حلقہ بہار کے امیر حلقہ رہے ، اور گذشتہ چند سالوں سے وہ جماعت اسلامی حلقہ بہار کے شعبہ تربیت کے ذمے دار تھے ، ساڑھے پانچ سال قبل اپریل دو ہزار سترہ میں دفتر جماعت اسلامی حلقہ بہار کی نئی عمارت دیکھنے اور وہاں کے حضرات سے ملاقات کرنے کی غرض سے جمعہ کی نماز پڑھنے وہاں گیا تو دیکھتے ہی مجھے پہچان لیا اور نماز بعد اصرار کرکے اپنی قیام گاہ میں لے گئے اور چائے بسکٹ وغیرہ سے ضیافت کی ،
وہ دو ہزار چھ میں جامعہ اسلامیہ شانتاپرم کیرالا تشریف لائے تھے ، اور وہیں پہلی ملاقات ہوئی تھی اور مین نے بھی اپنی قیام گاہ پر انہیں ایک عصرانے پر بلایا تھا،
لا ولد تھے ، اس لیے ان کی پوری توجہ جماعت اسلامی حلقہ بہار پر تھی ،
ان کے جیسے مخلص لوگ آج جماعت اسلامی میں کمیاب ہی نہیں نایاب ہیں ، اور یہی حال تمام جماعتوں کا ہے ،
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ،
ان کے بڑے بھائی شمس الہدی صاحب باحیات ہیں ، اور ان کے بیٹے نجم الہدی ثانی صاحب ہیں جو اعلی تعلیم یافتہ اور فعال ہیں ،
قمر الہدی صاحب مرحوم کے خاندان کے ایک صاحب اکرام صاحب ہیں جو متحدہ عرب امارات میں کسی بڑے عہدے پر اچھی تنخواہ پر ملازم ہیں انہوں نے اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر ململ میں جدید طرز کا ایک ادارہ قائم کیا ہے ، اس کے ایک اہم ذمے دار قمر الہدی صاحب مرحوم کے بھتیجے نجم الہدی ثانی صاحب بھی ہیں ،
*نماز جنازہ
آج ڈیڑھ بجے دوپہر دفتر جماعت اسلامی ہند،پتھر کی مسجد پٹنہ میں ہوگی۔ جنازے کی دوسری جنازے کی نماز انشاء اللہ دوسرے دن 10بجے دن (یکم جنوری ٢٠٢٣) کو ان کے آبائی گاوں ململ،مدھوبنی میں بھی ہوگی،
جنازے میں شرکت کے خواہش مند حضرات حسب سہولت ان مقامات پر شریک ہوسکتے ہیں،
*قمر الہدی صاحب مرحوم کے پسماندگان
اہلیہ کا انتقال دس سال قبل ہو چکا ہے ، کوئی صلبی اولاد نہیں ہے ،
بڑے بھائی شمس الہدی صاحب ، اور بھتیجے اور پورا خاندان ، پورا ململ اور پوری جماعت اسلامی ان کے پسماندگان میں سے ہے ،
اللہ تعالی ان کے تمام پس ماندگان کو ان کی طرح مخلص و فعال بنائے اور صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین
Comments are closed.