جرأتمند صحافی ، جانباز قائد مولانا محمد علی جوہر
(۴؍ جنوری تاریخ وفات کی مناسبت سے)
پروفیسر شکیل احمدقاسمی
شعبۂ اردو اورینٹل کالج، پٹنہ
09431860419
جرأتمند صحافی، جانباز قائد مولانا محمد علی جوہر (1878-1931) کی شخصیت قائدین ملک وملت کی صف میں منفرد ، عزت نفس، دولت استغنا ان کی زندگی کا لازمی حصہ، فقیری میں شاہانہ خیالات اور پریشانی میں خودداری پر قائم رہنا دائمی خصلت ، مخلص، بہادر ، اسلام کے شیدائی اور اظہار حق میںدوست دشمن کی پرواہ کئے بغیر اپنی بات سامنے رکھنے والے ۔ مولانا محمد علی کے دل میں ملت اسلامیہ کا بڑا درد تھا، ان کی خدمات کئی لحاظ سے قابل قدر ہیں، ملک کی آزادی کی جد وجہد، تحریک خلافت، اشاعت تعلیم، فروغ اردو،صحافت کے ذریعہ عوامی بیداری میں وہ بہت کامیاب رہے۔
برطانوی حکومت نے جب کلکتہ کے بجائے دہلی کو ہندوستان کی راجدھانی بنانے کا فیصلہ کیا تو محمد علی نے ’کامریڈ‘کا دفتر بھی 14؍ستمبر 1912کو دہلی منتقل کرلیا، اور 12؍ اکتوبر کو یہیں سے ’کامریڈ‘ کا پہلا شمارہ شائع کیا، انہوں نے مسلمانوں کی آسانی کے لئے ’نقیب ہمدرد‘ نامی اردو پرچہ کا اجرا کیا، جو بعد میں روزنامہ ہمدرد کے نام سے مشہور ہوا، باشندگان ہند کو آزادی وطن کے لئے بیدار اور تیار کرنے کی غرض سے مولانا نے صحافت کو موثر ذریعہ بتایا۔ جانباز قائد اور بے باک صحافی مولانا محمد علی جوہر نے صحافت کے لئے ایک مثالی ضابطہ اخلاق وضع کیا جسے انہوں نے اپنے معروف انگریزی اخبار ’کامریڈ‘ میں 6جون 1913کو شائع کیا تھا، صحافتی حلقہ میں اس کی بڑی پذیرائی ہوئی اور لوگوں نے اسے قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا ۔یہ ضابطہ اخلاق صحافیوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوا۔ اس کے نکات اس طرح تھے: -1اخبارات کو ذاتیات سے مبرا ہونا چاہئے ، نہ کسی دشمن کے خلاف زیادہ لکھنا چاہئے نہ کسی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے چاہییں۔ مخالفت ہمیشہ اصول کے دائرے میں محدود رہے۔ 2 – جو کچھ لکھا جائے وہ عبارت آرائی کے خیال سے نہیں، نہ لوگوں کی چٹکیاں لینے کی غرض سے ، بلکہ متانت اور مناسب سنجیدگی سے لکھا جائے۔ -3 اخبار کا مقصد یہ ہو کہ اپنی قوم کو فائدہ پہونچایا جائے ۔ یہ مقصد ہرگز نہ ہو کہ کسی دوسری قوم کو نقصان پہونچایا جائے، مذہبی مباحثت سے بھی اخبار کو مبرا اور معرا ہونا چاہئے۔ 4 – اخبار خبروں کا مجموعہ ہوتا ہے، اخبار میں ہمیشہ صحیح و مصدقہ خبریں چھاپنی چاہئے۔ 5 – ایڈیٹوریل محض بھرتی کے لئے نہیں ہے۔ کسی اہم اور تازے واقعہ پر لکھا جائے اور اس کے لئے پوری محنت ، تحقیق اور مطالعہ سے کام لیا جائے۔6 – صحافی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ واقعات کو پوری صحت سے درج کرے ، اسے خیال رکھنا چاہئے کہ واقعاتی صحت کا معیار اتنا بلند ہو کہ مورخ ا س کی تحریروں کی بنیاد پر تاریخ کا ڈھانچہ کھڑا کر سکے۔ 7 – صحافی رائے عامہ کا ترجمان ہی نہیں، راہ نما بھی ہوتا ہے ، اسے صرف عوام کی تائید ہی نہیں کرنی چاہئے ، بلکہ صحافتی ہنر سے عوام کو درس بھی دینا چاہئے۔ان اصولوں کی روشنی میں صحافیوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی گئیں۔
تحریک خلافت نے ملک میں آزادی کی تڑپ پیدا کردی ہر فرد کے دل میں علی برادران کے لئے محبت جاگزیں ہوگئی، اس تحریک نے انگریزی اسکولوں، کالجوں اور سرکار کی نگرانی میں چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کو چھوڑ دینا فرض قرار دے دیا، چنانچہ تعلیمی محاذ پر ترک موالات کے لئے مولانا محمد علی نے علی گڑھ کے ایم اے او کالج سے پہل کی۔بالآخر 29اکتوبر 1920 کو جمعہ کے دن ایم اے او کالج کی مسجد میں بعد نماز جمعہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ ‘‘ کا افتتاح شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن ؒنے فرمایا۔ حکیم اجمل خاں اولین امیر جامعہ، مولانا محمد علی پہلے شیخ الجامعہ، حاجی موسی خاں سکریٹری، اور تصدق احمد شیروانی جوائنٹ سکریٹری مقرر ہوئے۔
مولانا نے کانگریس اور خلافت کے پلیٹ فارموں سے اور اپنے دونوں اخباروں کے ذریعہ اتحاد کی فضا برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ آپ نے شدھی تحریک کے جواب میں پیدا ہونے والی تنظیموں اور تحریکوں کو بند کرنے پر زور دیا تاکہ امن واتحاد برقرار رہ سکے، وہ برابر اتحاد پر زور دیتے رہے۔مارچ 1926ء کو دہلی میں مولانا کی کوششوں سے ہر طبقہ خیال کے مسلمان رہنمائوں کی کانفرنس ہوئی اور مختلف مسائل پر تجاویز پاس ہوئیں جن میں اتحاد پر زور دیا گیا جو ’دلی قرار داد‘ کے نام سے مشہور ہے۔ان کوشش وکاوش کے تناظر میں اگر مولانا محمد علی جوہر پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوگا کہ مولانا اتحاد واجتماعیت کے ساتھ چلنے کو پسند کرتے تھے اور اسی کو کامیابی کی ضمانت سمجھتے تھے۔
ڈاکٹر یوسف حسین اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ:- ’مولانا محمد علی جوہر جب بولتے تھے تو فصاحت وبلاغت کا دریا بہادیتے، گھنٹہ دو گھنٹہ چارگھنٹے متواتر تقریر کا سلسلہ جاری رہتا، مولانا محمد علی کا بولتے بولتے گلا پڑ جاتا اور کبھی کبھی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے۔‘ان کی تاریخی تقریر کا یہ حصہ جو انہوں نے گول میز کانفرنس لندن میں کی تھی ملاحظہ فرمائیں’میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا میں ایک غیر ملک میں بشرطیکہ وہ آزاد ملک ہو مرنے کو ترجیح دوں گا اور اگر آپ ہم کو ہندوستان میں آزادی نہیں دیں گے تو آپ کو مجھے قبر دینی پڑے گی۔‘(آزادی یا موت)۔عزم و ارادے کا پختہ اور قول کا سچا محمد علی بالآخر غلام ملک واپس نہیں آیا۔4؍ جنوری 1931کو ساڑھے نو بجے صبح لندن کے ہائڈ پارک ہوٹل میں جہاں ان کا قیام تھا، جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اولین شیخ الجامعہ ، ہندوستان کے صف اول کا رہنما اپنے وطن سے دور دیار غیر میں ابدی نیند سوگیا، مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے مولانا کے جسد خاکی کو پیغمبروں کے مدفن اور قبلۂ او ل بیت المقدس میں دفن کیا گیا اور وہ زبان حال سے یہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے کہ :
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جائوں گا میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جائوں گا
بقول ڈاکٹر ذاکر حسین ’محمد علی کی زندگی کابیان در اصل ایک قوم اور ایک ملت کے حال اور مستقبل کی تفسیر کرنا ہے کہ محمد علی اسلامی ملت اور ہندی قوم کے قائد تھے اور نمائندہ بھی۔‘ برطانوی ادیب ایم جی ویلز کا محمد علی کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ’محمد علی نے برک کی زبان، میکالے کا قلم، اور نپولین کا دل پایا ہے‘۔ مولانا مناظر احسن گیلانی نے ان پر باضابطہ مرثیہ لکھا ۔ سید ابوالحسن علی ندوی ؒ کے خیال میں ’انہوں نے حق کہنے میں نہ اپنے شیخ طریقت مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی پرواکی نہ اپنے سب سے محترم ومحبوب شریک کار اور جنگ آزادی کے رفیق کار گاندھی جی کی، نہ اس وقت کی سب سے بڑی سلطنت (برطانیہ) کے وزیر اعظم کی، نہ سب سے زیادہ قابل احترام سرزمین کے فرمانروا اور بانیِ سلطنت سلطان
عبد العزیز ابن سعود کی، انہوں نے ہر جگہ حق بات کہی اور صاف وبے لاگ کہی۔‘ مولانا بے حد مقبول تھے وہ ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے دہلی پہونچے تو چاندنی چوک پر ایک شاندار استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقعہ پر خواجہ حسن نظامی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا تھا
’… دہلی کی سر زمین پر کتنے ہی عظمت وجلال والے تاجدار اور شاہزادے اور حکام بلند مقام آئے اور چلے گئے لیکن سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کے بعد سے آج تک اس خلوص وعقیدت کے ساتھ شاید ہی کسی شخص کا خیر مقدم کیا گیا ہو‘۔
محمد علی جوہر کی غیرت دینی اور حمیت اسلامی، مسلمانان ہند کے لئے مشعل راہ ہے، انہوں نے وطن عزیز کے لئے جو قربانی دی وہ ناقابل فراموش ہے۔ملت کی شیرازہ بندی، ان کی تعلیمی ترقی اور جدید وقدیم مواد پر مشتمل نصاب کی تیاری سے ان کی دردمندی کا اندازہ ہوتا ہے، انہوں نے جدید اعلی تعلیم کے حصول کے بعد بھی اپنی مذہبی شناخت کو اہتمام کے ساتھ نہ صرف قائم رکھا بلکہ اس کے داعی اور مبلغ ہوگئے ۔ انہوں نے عوام کی قیادت کے ساتھ منصب قیادت کو بھی وقار بخشا اور قائدین کو رخصت کے بجائے عزیمت کی راہ دکھلائی ۔ ان کے کارنامے لائق تحسین بھی ہیں اور قابل تقلید بھی ۔
سخت دشوار ہے پابندی آداب جنوں
جس کو بننا ہے بہت سوچ کے دیوانہ بنے
Comments are closed.