انعام بابو کی وفات حسرت آیات
بقلم : شکیل الرحمن ندوی
مکہ مکرمہ ، سعودی عرب
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
آج فجر سے پہلے حرم مکی شریف کی حاضری کے لئے تیاری کر رہا تھا کہ جدہ سے اچانک ڈاکٹر رئیس الرحمن صاحب کا فون آیا اور انہوں نے دلگیر آواز میں اس سانحہ کی اطلاع دی جسے سننے کے لئے نہ کان تیار تھے اور نہ دل کسی طرح ماننے کو آمادہ تھا ۔۔۔مگر چونکہ یہ دنیا سرائے اور مسافر خانہ ہے ، چند روزہ اور فانی ہے ، یہاں کسی ذی روح کو دوام و بقا نہیں اور ” كل نفس ذائقة الموت ” کا ربانی اور اٹل فیصلہ ہے جس سے خدا کی محبوب ترین ہستی اور فخر کائنات بھی جان بر نہ ہو سکی ۔۔۔اس لئے اس دلخراش خبر پر یقین کرنا پڑا کہ برادر گرامی جناب انعام الرحمن صاحب اس دار فانی سے دار بقاء کو سدھار گئے ۔۔۔اور اپنے پیچھے تین بچیوں سمیت پورے خاندان اور اہالیان ململ کو سوگوار چھوٹ کر رب کریم کے حضور جا پہونچے ۔۔۔إنا لله و إنا إليه راجعون …
انعام بھائی ہم لوگوں سے عمرمیں چند سال ہی بڑے تھے ۔۔۔لیکن خاندانی شرافت ، معاشرتی وجاہت ، علمی لیاقت ، عزم و ہمت ، حوصلہ و شجاعت اور خوب سے خوب تر صلاحیت و صلاحیت میں اپنے تمام ہم عصروں میں لائق و فائق تھے ۔۔۔اخلاق و کردار کی بلندی ان کا وصف امتیاز تھا ، زبان کی چاشنی ، ہونٹوں کی مسکراہٹ ، اور پوری اپنائیت کے ساتھ بغلگیر ہو کر پرتپاک انداز میں خیرمقدم کرنا ان کے بلند اخلاق کا اعلی نمونہ تھا ۔
انہوں نے حیات مستعار کی تقریبا چھ دہائیاں علم و عمل ، درس و تدریس ، خدمت خلق اور افادہ و استفادہ کی نذر کردی اور آنا فانا اس دنیا سے اس حال میں رخصت ہوگئے کہ کسی کو اپنی خدمت کا ذرہ برابر بھی موقعہ نہ دیا ، کشن گنج کالج میں جہاں وہ اپنی ذات اعلی صفات سے تشنگان علم کو سیراب کر رہے تھے ، ان کے طلبہ ان پر اپنی جان کس طرح نچھاور کرنے کو تیار رہتے تھے اس کا اندازہ ان کے فیس بک کے پوسٹس اور تصویروں سے ہوتا تھا کہ ہر پروگرام میں وہ اپنے طلبہ کے جھرمٹ میں ہوتے تھے اور ہر بچہ ان کا قرب حاصل کرنے کا خواہش مند ہوتا تھا جس سے ان کی ذات کی مقبولیت اور ہردلعزیزی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی ، آج جب ان کے طلبہ و طالبات اور اسٹاف کو یہ جانکاہ خبر ملی ہوگی تو بجلی بن کر گری ہوگی ، اس خبر پہ یقین کرنا ان کے لئے مشکل ہورہا ہوگا اور اپنے ہر دلعزیز استاد اور مربی کی جدائی کا غم ان کے لئے بھی ناقابل برداشت ہوگا ۔۔۔
برادر عزیز اکرام الرحمن صاحب نے ململ و اطراف کے لئے جس علمی انقلاب کی نوید سنائی تھی ، اور ابھی کچھ ہی دنوں پہلے جو تعلیمی و تربیتی مظاہرہ پیش کیا تھا اس کی کامیابی کے پیچھے انعام بابو کی محنت ، ان کی ذاتی دلچسپی ، اور انتظام و انصرام کی غیر معمولی صلاحیت کار فرما تھی ، اس حادثئہ فاجعہ سے اکرام بابو کو جو صدمہ پہونچا ہے اس کا تصور بھی محال ہے ۔۔۔لیکن اللہ والوں کے لئے ہر مشکل گھڑی آسان ہوجاتی ہے کیونکہ ایسے موقعوں پر ان کا تعلق مع اللہ صبر و شکر کا دامن چھوڑنے نہیں دیتا اور فیصلئہ الہی پہ راضی برضا رکھتا ہے ۔۔۔اس المناک گھڑی میں ہم اکرام بابو اور ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔۔۔
دعا ہے کہ اللہ پاک انعام بابو کی بال بال مغفرت فرمائے ، قبر کے مرحلہ کو آسان کردے ، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ، ان کی بچیوں سمیت تمام پسماندگان و جملہ لواحقین کو صبر ایوبی سے نوازے اور ہم سب کا خاتمہ ایمانن پر فرمادے ۔۔۔
Comments are closed.