ہمارے مسائل کا تاریخی پس منظر
ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل
اگر ہم فلیش بیک میں جاکرہندوستانی مسلمانوں کے زوال اور اضمحلال کا جائزہ لیں تو اس کی شروعات انیسویں صدی کے نصف سے ہوجاتی ہے۔ اس وقت مسلمان اپنی ہاری ہوئی سیاسی بازی پر ماتم کناں تھے اور اپنی زخموں کی مرہم پٹی میں مصروف تھے۔ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے؟
یہی وہ وقت تھا جب ان پر تین طرفہ حملے شروع ہوئے۔ ایک طرف انگریز تھے جو ان کو حاشیہ پر ڈھکیلنے اور سیاسی اور معاشی طور پر کمزور کرنے کے لیے نت نئی سازشیں کررہے تھے۔ دوسری طرف ملک کی اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف بدگمان کرکے صف آرا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ تو تیسری طرف جب مسلمان کمزور ہونے لگے تو ان کے اندر انتشار کی قوتوں نے سر اٹھانا شروع کردیا اور ان کی رہی سہی اجتماعیت پارہ پارہ ہونے لگی۔ ان سب کا ملا جلا اثر یہ ہوا کہ ملت نیم جان ہوگئی اور اس نے مایوس ہوکر خود کو حالات کے حوالے کردیا۔
بیسویں صدی کے اوائل سے ملک کے اندر زبردست مسلمان مخالف تحریک شروع ہوگئی جس نے ملک کی آزادی کے بجائے پورا زور مسلمانوں کے استیصال پر صرف کردیا۔
ملک کی آزادی کی تحریک جیسے جیسے بڑھتی گئی، مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کا سلسلہ بھی بڑھنے لگا اور باضابطہ فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کی وجہ سے دونوں قوموں کے تعلقات میں تیزابیت بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ ایک خونی ڈرامے کے ساتھ ملک تقسیم ہوگیا۔
ملک کی تقسیم کے بعد ہندوستانی مسلمان اس یتیم بچے کی طرح ہوگئے جن کے ماں اور باپ دونوں کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو۔ کانگریس کے چوٹی کے رہنما بالخصوص گاندھی اور نہرو جس سیکولر اور لبرل ٹریڈیشن میں پلے بڑھے تھے اور جس طرح کی تعلیم انھوں نے حاصل کی تھی اور ان کا جو تاریخی شعور تھا اس کی وجہ سے انھوںنے اس جذباتی ماحول میں بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے بجائے اس کو ایک سیکولر، سوشلسٹ جمہوریہ بنانے کا عزم کیا۔ ایساکرنے کے پیچھے مسلمان نہیں تھے بلکہ اس ملک کے دلت اور آدی باسی منواسمرتی پر مبنی طبقاتی سماج کو تسلیم نہیں کرتے اس لیے انھوں نے تمام دباؤ کے باوجود بھارت کو سیکولر جموریہ بنایا۔امبیڈکر نے یہ کہا کہ ہم نے دستور سیکولر تو بنادیا ہے لیکن ہمارا سماج سیکولر نہیں ہے۔
ہندتووادی فوسرز کا اصرار رہا کہ جب ملک دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بٹ گیا ہے تو آبادی کا مکمل تبادلہ ہونا چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ملک کے مسلمانوں کو تمام شہری حقوق سے محروم کرکے ان کو دوسرے اور تیسرے درجہ کا شہری بنادیا جائے اور ملک کو ہندو راشٹر گھوشت کردیا جائے جس کا مطلب ہے ہندوؤں کی برتری اور غیر ہندوؤں کی غلامی۔
آزادیٔ ہند کے بعد ملک کئی مرحلوں سے گزرا۔ بالآخر نوے کی دہائی کے بعد ان قوتوں کو عروج حاصل ہوا اور اب بہت ساری ریاستوں میں اور مرکز میں ان کی مضبوط حکومت قائم ہے۔ جس کا آگے بھی قائم رہنے کا امکان ہے۔
مسلمان قائدین، علماء، دانش وران، صحافی اور عوام ان حالات کا صحیح ادراک کرنے اور اس کا تدارک ڈھونڈنے میں ناکامیاب ہوگئے۔ اس وقت ملک میں آزادی کا امرت مہوتسو چل رہا ہے۔ ایک قوم کا عروج ، دوسری قوم کا زوال ہوتا ہے جب سورج ایک حصہ میں چمکتا ہے تو کرئہ ارض کا دوسرا حصہ تاریک ہوتا ہے۔ یہ قدرت کا اصول ہے۔ اس سے فرار ممکن نہیں ہے۔ یہ صورتحال مایوس ہونے کی نہیں بلکہ سنجیدہ غوروفکر کی دعوت دیتی ہے۔ برسوں کی غلطی لمحوں میں سدھاری نہیں جاسکتی۔ لیکن یقین اور اعتماد کے ساتھ مثبت جدوجہد سے بڑے بڑے مسئلہ حل کیے جاسکتے ہیں۔
Website: abuzarkamaluddin.com
کالم نگار اردو کی بیسٹ سیلر بک’اکیسویں صدی کا چیلنج اور ہندوستانی مسلمان- بند گلی سے آگے کی راہ‘ کے مصنف ہیں۔
Comments are closed.