اسلامی معاشرہ میں باہمی حقوق کا بہت لحاظ رکھا گیا ہے
ہاشمی روحانی مرکز میں منعقد اصلاحی مجلس میں میں مفتی وقاص ہاشمی کا خطاب
دیوبند،17؍ جنوری(سمیر چودھری؍بی این ایس)
گزشتہ شب ہاشمی روحانی مرکز میں ایک اصلاحی مجلس کا انعقاد کیاگیا۔ اس موقع پر مرکز کے روح رواں مفتی وقاص ہاشمی نے کہا کہ معاشرہ کا چین وسکون ، تعمیر وترقی ، فلاح وبہبود اس میں بسنے والے افراد کے اخلاق وکردار کی حفاظت اور باہمی تعلقات کی مضبوطی کا مرہون منت ہوتا ہے۔ اس لئے مختلف تہذیبوں اور معاشروں میں انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے مختلف قوانین رائج ہیں۔ مگر دین اسلام کو انسانی حقوق کے تحفظ میں سب پر برتری حاصل ہے، کیو ںکہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے نہ صرف حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیا بلکہ ان کی ادائیگی نہ کرنے والے کو دنیوی واخروی طور پر نقصان اور سزا کا مستحق بھی قرار دیا۔ مفتی وقاص ہاشمی نے کہا کہ ایک سچے مسلمان کے لئے جہاں یہ لازم ہے کہ وہ صرف اللہ کی بندگی کرے ، اسی کی حاکمیت تسلیم کرے ، اسی کی اطاعت قبول کرے ، اسی سے خوف کھائے، اسی سے محبت کرے اور اسی ذات واحد سے امیدیں وابستہ کرے۔ وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرے، عام انسانوں سے محبت اور ان کی خیر خواہی کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرہ میں باہمی حقوق کا بہت لحاظ رکھا گیا ہے اور اسلام کی نظر میں وہ ہی معاشرہ کامیاب معاشرہ ہے جس میں سب ایک دوسرے کے حقوق پہچانتے ہوں اور ان کا پاس ولحاظ رکھتے ہوں۔انہو ںنے کہا کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اس لئے نہ تو خود اس پر ظلم وزیادتی کرے اور نہ دوسروں کا مظلوم بننے کے لئے اس کو بے یارو مددگار چھوڑے اور جو کوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرے گا اور جو کسی مسلمان کی تکلیف اور پریشانی کو دور کرے گا اللہ قیامت کے دن کی مصیبتوں میں اس کی کسی مصیبت کو دور کرے گا۔ بندوں کے حقوق کی ادائیگی اور باہمی خیرخواہی ایک مضبوط معاشرہ کو جنم دیتے ہیں جو دنیا وآخرت کی فلاح کا ضامن ہوتا ہے۔ اس موقع پر ربیع ہاشمی، ڈاکٹر عاطف ہاشمی، راشد قیصر، حارث عثمانی، ذاکر ، طاہر وغیرہ موجود رہے۔
Comments are closed.