رؤیت ہلال اور جدید فلکیاتی فنون و حساب شریعت کی نظر
محمد احسان اشاعتی
7008684394
مذہب اسلام نے اپنے بعض عبادات و معاملات کو چاند کے نظام کے ساتھ وابستہ کیا اور بعض کا الحاق نظام شمس کے ساتھ کیا چنانچہ اوقات نماز متعلق ہیں سورج کے طلوع و غروب یا ڈھلنے اور سایے کے گھٹنے بڑھنے سے ، اور اس میں مقصود آسانی فراہم کرنا ہے تاکہ ہر عام و خاص ، دیہاتی وشہری ہر خطے و علاقے سے تعلق رکھنے والا پڑھا لکھا اور بے پڑھا شخص اس کو با آسانی سمجھ لے ، اسی طریقے پررؤیت ہلال پر رمضان و عیدین ، ایام حج و غیرہ کووابستہ کر دیا ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لا تصومو ا حتی تروہ ولا تفطروا حتی تروہ فان غم علیکم فاقدروا لہ (بخاری ۱؍۲۵۶) روزہ اس وقت تک نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو اور افطار نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو ، اور اگر چاند تم پر مستور ہو جائے تو حساب لگا لو (یعنی تیس دن پورے کر لو )
چاند کا دیکھنا من حیث المجموع واجب علی الکفایہ ہے اور اگر چاند کی رؤیت کے ثبوت پر مستحبات کا انحصار ہو تو عام لوگو ں کا دیکھنا مستحب ہے،علامہ قدامہ ؒ نے اسی حیثیت سے اس کو مستحب لکھا ہے ، غرضیکہ اس پر واجبات کا انحصار ہو تو اس کی شرعی حیثیت واجب ہے اور سنتوں کا مدار ہو تو سنت، اورمستحبات کا ہو تو مستحب ، کیونکہ ضابطہ ہے کہ وسیلۃ المقصود تابعۃ للمقصودو کلاھما مقصود ( اعلام الموقعین۳؍۱۷۵ )
اور چاند کی رؤیت کے ثبوت کے لئے عند الاحناف اگر مطلع صاف ہو ، ابر نہ ہو تو رؤیت ہلال کے ثبوت کیلئے خواہ رمضان ہو یا عید ، ایک بڑی جماعت کا دیکھنا اور اس کی گواہی ضروری ہے ، رہی بات یہ کہ بڑی جماعت سے کتنے افراد مراد ہیں تو مابین الاحناف اس تعلق سے خاصا اختلاف ہے ، دو افرادسے لیکر ہزار تک کے اقوال فقہاء کے ملتے ہیں ، بعض احناف مثلا علامہ حصکفی ؒ و طحاوی ؒ وغیرہ نے اس کی تعدادقاضی یا حاکم کی رائے کے سپرد کیا ہے ، اور علامہ ابن نجیم مصری ؒ نے عصر حاضر میں لوگو ں کی مداہنت اور تغافل کے پیش نظر اما م ابو حنیفہ ؒ کے اس قول کو اختیار کیا ہے جس میں فقط دو افراد کی خبر کو کافی کہا گیا ہے ؛ اور اگر مطلع صاف نہ ہو بلکہ ابر آلو د ہو یا گرد و غبار کی آلودگی ہو اور رمضان کی رؤیت ہلال کا مو قع ہو تو ایک معتبر (متدین ) شخص کی گواہی (خبر ) کافی ہے ، اسی طرح ایک مستور الحال شخص کی خبر بھی کفایت کرتی ہے ؛
اور مطلع کی آلودگی کی صورت میں رمضان کے علاوہ ، عید وغیرہ کے چاند کی رؤیت کے ثبوت کیلئے شہادت شرعیہ کے نصاب کی ضرورت ہوتی ہے ، دو مرد آزاد ، عاقل ، بالغ یا ایک مرداور دو عورتیں بلفظ شہادت گواہی دیں؛ واضح رہے کہ دن میں نظر آنے والے چاند کا کوئی اعتبار نہیں ، خواہ زوال سے قبل نظر آئے یا اس کے بعد ۔
رؤیت ہلال میں اختلاف مطالع کے تعلق سے فقہاء احناف میں دو مختلف اقوال ملتے ہیں، اکثرفقہاء، اور احناف میں سے علامہ شرنبلالی ؒ کے نزدیک اختلاف مطالع معتبر نہیں یعنی دنیاکے کسی خطے میںچاند نظر آجائے وہ ساری دنیا کے لئے کا فی ہے اوراسی رؤیت سے سارے خطوں کے لیے رؤیت ہلال معتبر ہوگی ، یہی نقطہء نظر مالکیہ حنابلہ اور شوافع میں سے صیمری کا ہے ، دوسری طرف احناف میں سے علامہ طحطاویؒ ، علامہ زیلعی ؒ ، اختلاف مطالع کے قائل ہیں اور اکثر شوافع نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے ، پھر اختلاف مطالع میںکتنی مسافت کا اعتبار ہوگا یعنی ایک جگہ کی رؤیت کی وجہ سے کتنی دوری تک صوم و افطار کا حکم لگایاجائے گا ، اسمیں بھی فقہاء کے مختلف اقوال ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ مسافت سفر کا اعتبار کیا جائے گا یعنی ایک جگہ چاند دیکھا گیاتو اس کی وجہ سے اس شہر یا گاؤں میں صوم و افطار کاحکم نہیں لگایا جائے گا جس کی دوری اس شہر سے مسافت سفر کے بقدر ہو ، اور ایک دوسرا قول یہ ہے کہ کسی علاقے کی رؤیت ایسی دوسری جگہ کے لئے معتبر نہیںجس کا مطلع اس سے مختلف ہو ، امام نووی ؒ اسی کے قائل ہیں ، اور تیسرا قول یہ ہے کہ ایک جگہ کی رؤیت کا اعتباردوسری جگہ اس وقت ہوگا جبکہ دونوں علاقوں کے درمیان اتنی مسافت نہ ہو کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والے شخص کا روزہ یا تو انتیس رہ جا ئے یا پھر اکتیس ہوجائے ۔
اور رہی با ت دور حاضر میں رؤیت ہلال میںجدید فلکیاتی فنون و حساب سے مدد لینے کی تو رؤیت ہلال کے ثبوت کے لئے جدیدفلکیاتی حساب کی چنداں ضرورت نہیں اورنہ جدید آلات رصدیہ ودوربین وغیرہ کے سہارالینے کی حاجت ہے ، جدید فلکیات پر اعتماد کرنا اجماع اور جمہور علماء کے نظریے کے خلاف ہے ، چونکہ علماء حق کے چند شخصیا ت (مقاتل ، سبکی وغیرہ ) کے علاوہ اور روافض کو چھوڑ کر کو ئی بھی جدید فلکیاتی حساب کا حامی نہیں ؛کیونکہ جمہور کے پیش نظر نبی کریم ﷺ کایہ فرمان رہا کہ : اذا رایتموہ فصوموا واذا رایتموہ فافطروا فاذا غم علیکم فاقدروا لہ ثلاثین ( ترمذی ۱؍۱۴۸ ) اس حدیث پاک میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب چاند دیکھو تو روزہ رکھواورافطار کرو (عیدالفطرمناؤ)اور نہ دیکھو تو نہ کرو اور جب چاند تم پر مستور ہو جائے بایںطور کہ تم پر بادل چھا جائے تو نہ روزہ رکھواور نہ افطار کرو بلکہ تیس کا عدد پورا کرو باوجودیکہ چاند موجود ہے ، غم علیکم کا جملہ یہی بتا رہا ہے ؛ معلوم ہواکہ ہلال کی رؤیت مطلوب ہے نہ کہ فقط وجود ہلا ل اور ولادت ہلال ، لہذا ہم صرف رؤیت ہلال کے مکلف ہیں اور احکام کامداربھی اسی رؤیت ہلال پرہوگا ، اس فلکیاتی حساب کی ضرورت نہ ہوگی جو محض امکان رؤیت ہلال یا امکان وجود ہلال بتائے اس لئے کہ اہل فنون فلکیات صرف امکان بتاتے ہیں جیساکہ خود ان کے ماہرین کا اعتراف بھی رہا ہے ، اور فقط امکا ن رؤیت سے ثبوت رؤیت نہیں ہوتا ، مزید یہ کہ ان کے پاس جدید فلکیات کے لئے اپنے اصول و ضوابط بھی نہیں جن کے حوالے سے کوئی پختہ بات کہہ سکیں ؛ اور جدید فلکیات کے بجائے ہلال کے ثبوت کیلئے رؤیت کومعیار و مدار مقررکرنے میں یہی مصلحت کارفرماہے کہ ہر کس و ناکس کوفلکیاتی حساب سے واقفیت نہیںہوتی اب اگر ان کواس حساب کا مکلف بنایا جائے تو حرج اور مشقت میںڈالنا لازم آئے گا والحرج مرفوع نیزاس صورت میں مسئلہ ہلال کا حل چند لوگوںتک منحصر ہوکر رہ جائے گا ۔
Comments are closed.