لکھنؤ یونیورسٹی میں روہت ویمولا کی برسی پر ہنگامہ

 

بائیں بازو سے وابستہ اور آر ایس ایس حامی طلبہ میں تصادم

لکھنو۔۱۷؍ جنوری:  لکھنؤ یونیورسٹی میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے کارکنان منگل کو آمنے سامنے آگئے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب بائیں بازو کی تنظیم کے طلباء روہت ویمولا کی برسی پر ایک پروگرام منعقد کر رہے تھے۔ اسی دوران ودیارتھی پریشد کے کارکنان نے جئے شری رام کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔طلباء نے پولیس اہلکاروں اور پراکٹوریل بورڈ کے لوگوں سے بھی بدتمیزی کی ۔ اے بی وی پی کے حامی طلبہ کا کہنا ہے کہ ہم لکھنؤ یونیورسٹی کو جے این یو نہیں بننے دیں گے اور جئے شری رام کے نعرے لگائیں گے۔اے آئی ایس اے اور این ایس یو آئی طلباء روہت ویمولا کی برسی پر کیمپس میں ایک پروگرام منعقد کرنے جارہے تھے جس کی اے بی وی پی طلباء نے مخالفت کی۔ ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے۔قابل ذکر ہے کہ 17 جنوری 2016 کو ایک طالب علم روہت ویمولا نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ہاسٹل میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی تھی۔

Comments are closed.