براڈ بیس سوشل انجینئرنگ کی ضرورت
ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل
جب اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت پہلی بار بنی تھی، اس وقت ہندتو کے پرجوش یودھاؤں نے مطالبہ کرنا شروع کردیا تھا کہ جن تین مدوں پر بے جی پی جیت کے آئی ہے اس کو پورا کیا جائے۔ تو واجپئی صاحب نے جواب دیا تھا کہ آپ ہماری واضح اکثریت کی سرکاربنائیے تو ہم آپ کو آپ کے خوابوں کا ہندوستان بناکر دیں گے۔
جب 2014میں نریندر مودی کی سرکار واضح اکثریت سے بن گئی تو پھر بھاجپا کا جو کور ایجنڈا تھا، اس پر کام شروع ہوگیا۔ رام مندر کی تعمیر مکمل ہونے جارہی ہے، آرٹیکل 370منسوخ کیا جاچکا ہے اور کشمیر کو ریاست کے بجائے دو حصوں میں بانٹ کر علاقہ زیر مرکز لا دیا گیا ہے۔ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی تیاری چل رہی ہے۔ توقع ہے کہ پارلیامنٹ کے اس سیشن میں یا اگلے سیشن میں یہ نافذ ہوجائے گا۔
بات یہیں تک نہیں رکے گی۔ حکومت کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ مہنگائی، بے روزگاری، افراطِ زر، امیر اور غریب کا فرق اور اس طرح کے دیگر عوامی مدوں پر انتخاب نہیں جیت سکتی ہے۔ اس معاملے میں اس کی کارکردگی صفر کے برابر ہے۔ لہٰذا اپنی ناکامی کو چھپانے کا اس سے اچھا ذریعہ کوئی نہیں ہے کہ عوام کو ہندو مسلم جیسے جذباتی مدوں میں الجھا دیا جائے۔ پچھلے کئی الیکشن سے ان مدوں کی وجہ سے اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود اس کو کافی کامیابی ملی ہے۔ لہٰذا بی جے پی کا تھنک ٹینک اور اس کا پورا آئی ٹی سیل اس بات میں لگا ہواہے کہ کہاں کہاں کونسا ایسا مسئلہ اٹھایا جائے جس سے ہندو مسلم تناؤ بڑھے اور ہندو ووٹ بنک مضبوط ہو اور اسے الیکشن میں جیت حاصل ہو۔
اس لیے ابھی سنگھ پریوار کے ترکش میں بہت سے تیر ہیں جو وقت وقت پر چھوڑا جانا باقی ہے۔ دھیرے دھیرے مسلمانوں کو ملنے والی سہولتیں ختم کی جارہی ہیں۔ اسمرتی ایرانی نے مولانا آزاد کے نام پر دئیے جانے والے وظائف کو بند کردیا ہے۔ مسلمانوں کو کہیں ڈپورٹ کرنا تو ناممکن ہے مگر ڈی فرنچائزکیا جاسکتا ہے۔ سی اے اے کے ذریعے اس کی شروعات کردی گئی ہے نفاذ نہیں کیا گیا ہے۔ پہاڑ پر زبردست بارش کے بعد جس طرح پہاڑی ندی کا بہاؤ تیزی سے نیچے کی طرف آتا ہے اور راستہ کی تمام چیزوں کو بہا کر لے جاتا ہے۔ مسلمان اس وقت اسی پہاڑی ندی کی زد میں ہیں۔ بھارت کا سمویدھان اور عدلیہ اس طوفان بلا کو روک سکے گا اس کا امکان نہ کے برابر ہے۔
جمہوری لباس میں دیو استبداد جس طرح پائے کوب ہے اس کو پہچاننا مشکل نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس آفت لابدی کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ سیاسی پارٹیاں اور اس کے قائدین اپنی ذاتی اور گروہی مفاد سے آگے دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ مسلمان تنہا اس صورتحال کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں۔ دلت اور کمزور طبقات کے لوگ سنگھ پریوار کے سوشل انجینئرنگ میں ان کے دام میں پھنس چکے ہیں۔ بہت تھوڑے لوگ الگ گٹ بناکر جدوجہد کررہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہندو سماج کے طبقاتی اختلاف سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی کے بجائے فواروارڈ، بیک وارڈ اور دلت طبقات اور ان کی آبادیوں سے سماجی روابط پیدا کرکے حالات کو بگڑنے سے روکا جاسکتا ہے۔ کیا اس جانب سوچا جاسکتا ہے۔ اس پر غور کیا جانا چاہیے۔
Website: abuzarkamaluddin.com
کالم نگار اردو کی بیسٹ سیلر بک’اکیسویں صدی کا چیلنج اور ہندوستانی مسلمان- بند گلی سے آگے کی راہ‘ کے مصنف ہیں۔
Comments are closed.