پسماندہ مسلم ؛اتنی بھی سادگی کا زمانہ تو ہے نہیں!
ڈاکٹر عابدالرحمن (چاندور بسوہ)
مودی جی نے حال ہی میں دہلی میں ہوئی قومی ایکزیکیٹیو میٹنگ میں پارٹی ورکرس کواقلیتوں بشمول مسلمانوں تک پہنچنے کو کہا ہے اوروہ بھی ان کے ووٹوں کی توقع کئے بغیر۔ لیکن اصل مدعا مسلمانوں نہیں بلکہ اسی پسماندہ مسلم کے اشو کو بڑھاوا دینے کا لگتا ہے جسے انہوں نے پچھلے سال حیدرآباد کی قومی ایکزیکیٹیو میٹنگ میں اچھالا تھاجس کے بعد سے میڈیا میں اس اشو کو لے کربہار آئی ہوئی ہے، بتایا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی اعلیٰ ذاتوں نے ان لوگوں کو دبا کر رکھا ہوا ہے اور ان کا استحصال کرتے رہے ہیں اور اب مودی راج میں یہ پسماندہ مسلم ملک کی دیگر پچھڑی جاتیوں کے ساتھ سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ یعنی تیر برابر نشانے پر لگا ہے۔ دراصل اس اشو کے ذریعہ مودی جی بھی یہی چاہتے ہیں کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کا جو نعرہ انہوں نے لگایا تھا اس میں مسلمانوں کی شمولیت کی تشہیر ہو اور وہ بلا تفریق مذہب غریبوں کے چیمپئن کے طور پر ظاہر ہوں۔
پسماندہ مسلمانوں سے مودی جی کی ہمدردی قابل تعریف اور لائق خیرمقدم ہے کہ اگر واقعی کتھنی اور کرنی یکساں رہی تو اس سے مسلمانوں ہی کا فائدہ ہوگا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں پسماندہ مسلم کل مسلمانوں کا ۵۸ فیصد ہیں لیکن مودی جی اور بی جے پی جیسی کھلم کھلا مسلم مخالف پارٹی کو اب آزادی کے پچہتر سال بعداچانک پسماندہ مسلمانوں کی فکر کیوں ہو رہی ہے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔کہا جارہا ہے کہ حال ہی میں رام پور اور اعظم گڑھ میں ہوئے لوک سبھا ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی جیت میں پسماندہ مسلم ووٹ کا بھی حصہ رہا ہے، اسی سے بی جے پی کو بالخصوص شمالی بھارت کے دوسرے حصوں اور بالعموم پورے ملک کے پسماندہ مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنے کی سوجھی ہے۔ لیکن انہیں رجھانے کے لئے بی جے پی کے پاس کوئی خاص پلان یا پیشکش نہیں ہے اس کے لئے انہی فلاحی اسکیموں کا شور کیا جارہا ہے جو پچھلی سرکاروں کے دور میں بھی کسی نہ کسی صورت جاری تھیں۔لیکن زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ یہ اسکیمیں مسلمانوں تک نہیں پہنچتی ،مسلمانوں کو یہ کہہ کر فلاحی اسکیموں سے خارج کردیا جاتا ہے کہ الپ سنکھیانکھ( اقلیتوں) کے لئے کوئی ندھی (سرکاری امداد ) نہیں آّئی اور اب بھی اس رویہ میں تبدیلی نہیں آئی ۔ہمیں لگتا ہے کہ مودی جی اس سے باخبر ہیں اور پسماندہ مسلمانوں سے ان کی ہمدردی کا اصل مقصد ان کی فلاح ہے بھی نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ بیان دراصل مسلمانوں کی مخالفت میں قابو سے باہر ہورہے اپنے لیڈران اور زمینی کیڈرس کو کنٹرول کرنے کا ایک پیغام ہے۔کیونکہ پچھلے وقت پسماندہ مسلمانوں کے لئے محبت کی یاترا( اسنیہ یاترا)کے بعد اب مودی جی نے پارٹی لیڈروں کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ فلموں جیسے غیر متعلقہ اشوز پر بیان بازی کرنے سے گریز کریں۔ دراصل مودی راج میں ہندوتوا کارکن اپنے آپ کو اتنے خود مختار سمجھنے لگے ہیں کہ وہ مسلم مخالفت میں سماجی اور قانونی رکاوٹوں کی بھی پروا نہیں کررہے ہیں اور ایسا اس لئے ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دراصل پارٹی یا اپنی تنظیم مادر یا سرکار کے ایجنڈے کے خلاف نہیںہے۔ اور مودی جی بھی انہیں صرف گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ان کی سرگرمیوں کو یکسر مسترد نہیں کرتے یا مشورے پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ پچھلے وقت سرکار دوعالم صلی اللہ و علیہ و سلم کی شان مبارک میں گستاخی کے معاملے میں بی جے پی نے اپنے نمائندوں پر جو کارروائی کی تھی وہ مسلم ممالک کے احتجاج کی وجہ سے کی تھی اس میں سرو دھرم سنبھاؤ کا نام تھا، روح یا اصول نہیں۔ ہو سکتا ہے اب مسلمانوں یا پسماندہ مسلمانوں سے جڑنے والی یہ بات بھی بین الاقوامی سطح پریہ ظاہر کر نے کی کوشش ہو کہ مودی جی مسلم مخالف نہیں ہیں،اور اگر ایسا ہی ہے تو یہ بھی ایک تیر سے دو نشان ہیں کہ اس کا دوسرا نشانہ مسلمانوں کی طبقاتی تقسیم کو اجاگر کرنا اور انہیں باہم دست و گریباں کر نا ہو سکتا ہے۔ لیکن مودی جی کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مسلمانوں میں ذات برادری اور طبقاتی تقسیم ایک تو بہت سخت نہیں ہے دوسرے پورے ملک میں ایک جیسی نہیں ہے اور تیسرے جیسی کچھ ہے اس کے باوجود مسلمان دین اور قومیت کے معاملے میں ایک ہیں اور موجودہ بھارت میں درپیش مسائل کو ذات برادری یا طبقات نہیں بلکہ ایک قوم کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اگر مودی سرکار سمجھتی ہے کہ دھرم سنسدوں، مسلم مخالف اشتعال انگیزیوں،سی اے اے این آرسی ،پلیسیس آف ورشپ ایکٹ کی موجودگی میں گیان واپی اور متھرا مساجد کے معاملہ میں قانونی چارہ جوئیوں، حجاب اور اذان کے معاملے میں ان کے لیڈروں کے بیانات اور صوبائی حکومتوں کے اسٹینڈ نیز مسلمانوں کی املاک پر بلڈوزر چلانے سے پسماندہ مسلمانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو وہ غلط ہیں۔
Comments are closed.