حالاتِ حاضرہ اور ہندوستانی آئین

از قلم : محمد فداء المصطفے
(9037099731)

ملک ہندوستان عالمی طور پر ایک ایسا ملک عظیم ہے جس کی رونق کسی کے چھپانے سے چھیپ نہیں سکتی ہے کیوں کہ یہی وہ واحد ملک ہے جس میں مختلف اور متنوع قسم کے مذاہب اور ان مذاہب کے متفرق پیروکار کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہندوستان کی سرزمین سر سبزو شاداب ہوجاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے کہ اس ہندوستان میں متنوع اور مختلف ۳۶ سے زائدزبانیں بولی جاتی ہیں ۔اگر اس ملک عظیم کے آئین،دستور اور قانون کی بات کی جائے تو اس ہندوستان کی آئین، دستور اور قانون یہاں پائے جانے والے متفرق اور متنوع تمام مذاہب کے لیے یکساں ہیں اس کے مطابق جتنے بھی مذاہب اس سرزمین ہندوستان میں کئی برسوں سے موجود ہیں انہیں اپنے اپنے رسم و رواج اور اصول و ضوابط کے مطابق زندگی گزر بسر کرنے کامکمل طور پر پورا پورا حق ہے ۔ اور کوئی بھی ایک مذہب دوسرے مذہب کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا ہے کیوں کہ یہ قانون کے خلاف ہے ۔
ہمارا پیارا ملک ہندوستان کئی مذاہب ،مختلف رسم ورواج اورمتنوع و متفرق زبانوں کی آماجگاہ ہے جس کی وجہ سے آج ہندوستان ترقی کی راہ پر کامزن ہے ۔ آئین ہند میں یہ باضابطہ صراحتا لکھا گیاہے کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتاہے اور ایساکرنا دستو ر ہند کے خلاف ہے ۔ اس ملک مین جتنے بھی مختلف مذاہب موجود ہیں چاہے وہ سیکھ ، عیسائی ، ہندو اوراسلام ہی کیوں ناہو سب مذہب کے پیشواؤں اور پیروکاروں کو عزت بھری نگاہ سے دیکھنے کو یہ عدالت عظمی حکم دیتی ہے اسی لیے تو اس ملک کوڈیموکراٹک اور سیکولر ملک ماناجاتاہے ۔ اور جب اس ملک کو ڈیموکراٹک اور سیکولر ملک کہا گیا ہے تو کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب کے خلاف پروپگنڈے اور سازشیں رچنے کی اجازت نہیں اور اگر کوئی ایساکرتاہے تو ہو صراحتا قانون او ردستور کے خلاف ہے ۔
یہ ہے ہمارپیارا ملک ہندوستان اور ا س کے مقاصد ۔ او رجب ہندوستانی آئین ا س بات کی گواہ ہے کہ تمام ہندوستانی باشندے آپس میں بھائی چارگی کے ساتھ رہنااور کوئی مصیبت کا باعث نا بنناہے اور دستور ہمیں اس چیز کی تلقین کرتاہے کہ مساوات ،عدل و انصاف قائم کرنا ، ظلم وتشدد کو روکنا او راس سے باز رہنا، آپسی بھائی چارگی برقرار رکھنااور مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھنا،مذہبی منافقت نہیں پھیلانا، ذات پات کی بناپر معاملہ بندی نہیں ہونا ، سب کو آزادی کے ساتھ رہنا اور ا س ملک کی فلاح وبہبودی کے خاطر سب کو مل جل کر کام تو کرناہی چاہیے کیوں کہ یہ آئین سب کے حق میں کارآمد ہے اور اسی بات کی قانو ن بھی تلقین کرتاہے ۔ ہر ہندوستانی کاماننا ہے کہ ہمارا آئین اور دستور اپنی جگہ حق پر ہے مگر اس کے جو محافظین ہیں ان کی سستیاں اور کو تاہیاں مکمل طور پر بھری پڑی ہیں ۔ اگر کسی بھی مذہب کے ماننے والے ساتھ ایک بھی معاملہ ہو جاتا ہے تو مذہب کے نام پر تفریق کر دی جاتی ہے اور وہ انصاف سے محروم رہ جاتاہے ۔
ہمیں معلوم ہے کہ اس ہندوستان میں سکھ ، عیسائی ، ہندو اور اسلام مختلف مذہب کے ماننے والے پائے جاتے ہیں اور سب اپنے طور طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور عبادگاہوں کا انعقاد کرتے ہیں ۔ مگر جب عدل وانصاف اور مساوات آئین اور دستور کے مطابق عمل میں نہیں لایا جاتا ہے تب جاکر احتجاج دیکھنے کو آتا ہے اور سب لوگ اپنے حق کے لیے آواز ِحق بلند کرتے ہیں ۔میں اب آپ کو کچھ ایسے معاملات سے آگاہ کرانا چاہتا ہوں جس پر آپ خود بلا رکاوٹ اپنے دل سے بولنے پر مجبور ہوجائینگے کہ یہ تو میرا خود چشم دیدمعاملہ ہے اور یہ بجا ہے ان کو تو انصاف ملنا ہی چاہیے ۔ میں ہندوستانی آئین یا دستور کی پامالی نہیں کررہاہوں اور ناہی آئین ہند کے وقار کو کوئی ڈھیس پہونچارہاہوں اور ناہی اس کی بے حرمتی کر رہا ہوں بلکہ میں فقط یہ کہنے کی کوشش کررہاہوں کہ اس ملک عظیم کا جو آئین اور دستور ہے اس کے مطابق جتنے بھی متنوع اور مختلف مذہب ہیں سب کو مکمل آزادی کے ساتھ رہنے سہنے ،عبادت کرنے اور اپنے کلچر کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل طور پر پورا حق ہے اور اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کچھ اہم اور ضروری معاملات اور مسئلہ جس کو جاننا صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ اس ہندوستان کے ہر ایک فرد پر لازم ہے تو سب سے پہلے میں ذکر کرناچاہتاہوں کہ اس ملک عظیم کی آزادی میں مسلم حکمرانوں کابھی اتناہی ہے جتناکہ دیگر قوموں کے حکمرانوں کا حق ہے کیوں کہ یہ ملک فقط ان کی حمایت اور قیادت سے آزاد نہیں ہوا ہے بلکہ اس آزادی میں مسلمانوں کابھی اتناہی حصہ ہے تب جاکر ہمارا ہندوستان انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا ۔
ہندوستان کے حالات پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو ہمیں یہ با ت بالکل اچھی طرح عیاں و بیاں ہو جائیگی کہ آج کے دور جدید میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے جو اس بات پر دلالت کر تی ہے کہ اس ہندوستان سے مسلمانوں کوباہر نکال دیا جائے ۔ مثلا میں یہاں کچھ اہم اور ضرور ی مثالیں پیش کرتاہوں تاکہ آپ کے آنکھو ں کی بھی چادر کھل کرسامنے آجائے۔اب میں اصل مدے پر آتے ہوے کچھ حقائق سے آپ کو روشناس کراناچاہتا ہوں جیسے سب سے پہلے:
٭تین طلاق پر معاملہ اٹھایاگیااور ان کے مابین معاملات کو بڑھا وا دیا گیاجس کے نتیجے میں کئی روز تک تواحتجاج کا بازار گرم رہا او رہندوستان کا ماحول خراب ہوا
٭ بابری مسجد کے مسئلے کو نشانہ بنایا گیا جو مسلمانوں کے خلاف تھا جو ان کے خلاف ہی عمل میں لایا گیا جس کی وجہ پورے ملک میں احتجاج کثیر تعداد میں ہوا جس سے ہندوستان کا ماحول خراب ہوا ۔
٭ یکساں سول کوڈکے نام پر مسلمانوں کی عدل و مساوات کے تقاضے کو ٹھیس پہونچا یا گیا جس کے نتیجے میں ہندوستان کی حالت بدتر ہوئی اور ظلم و تشدد کو بڑھاوا ملاجس سے ہندوستان کا ماحول خراب ہوا ۔
٭ پھر مسلم پر سنل لاو میں مداخلت کی گئی اور اس میں غیر انصافی مسئلہ پیش کرکے ان کے حقوق کے ساتھ کھلواڑکیاگیا جس سے ہندوستان کا ماحول خراب ہوا
٭ گاؤ کشی کے معاملے میں مسلمانوںتکلف پہونچانے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے ہندوستان کا ماحول خراب ہو ا اور ہم عدل و انصاف کے دروازے پر دستک دیتے رہے ۔
٭ پھر سی اے اے اور سی اے بی عمل میں لایا گیا جس کی وجہ سے اس ملک کے ہر مذاہب کے ماننے والوں نے اس کے خلاف ا حتجاج خوب زو ر شور سے کیا اور کئی جگہوں پر کثیر تعداد میں پروٹیسٹ کا حجو م دیکھا گیا جس کی وجہ سے ہندوستان کا ماحول خراب ہو۔
٭ این آر سی عمل میں لایا گیا تاکہ ہندوستانیوں کے حالات کا جائزہ لیاجائے اورجس کی وجہ سے ہندوستان کا ماحول خراب ہوا۔
٭ جھارکھنڈ میں محمد تبریز کوقتل کردیا گیا مگر اس کو اپنا حق عدالت عظمی سے نہیں ملا اور حقوق کے تفاضوں کی بالا دستی کی گئی جس کی وجہ سے ہندوستان کا ماحول خراب ہو ۔
٭ پھر کچھ دنوں پہلے لاؤڈ اسپیکرز کا معاملہ پورے ہندوستان کے مختلف علاقوںمیں منظر عام پر رہا جس کی وجہ سے مذہبیات کو ٹھیس پہنچی اور اس کے وقار کے ساتھ کھلواڑ کیا گیاجس کی وجہ سے ہندوستان میں احتجاج کا ماحول برپاہوا اور قانون کی بالادستی کی گئی ساتھ ہی ماحول میں بگاڑ بھی پیداہوا جس کی وجہ سے ہندوستان کا ماحول خراب ہو۔
٭ کرناٹک میں حجاب پر پابندی عائد کردی گئی جس سے حقوق نسواں کے وقار کو تکلیف ہوئی جس کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاج کا منظر دیکھنے کو ملاجس کی وجہ سے ہندوستان کا ماحول خراب ہو۔
٭ عبادت گاہوں کے تقدس کو ٹھیس پہونچایا گیااور ان مساجد کو مسمار و منہدم کیا گیا جس سے مسلمانوں کو بے حد تکلیف ہوئی جس کے نتیجے میں احتجاج کرنے والوں کی تعداد کثیر تعداد میں امڈ کر باہر آئی جس کی وجہ سے ہندوستان کا ماحول خراب ہو۔
٭ کبھی لؤجہاد کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ کھلواڑ کیاگیااور ہم عدل و انصاف کے دروازے پر دستک دیتے رہے مگر ہماری فریادوں کو نہیں سناگیاجس کی وجہ سے ہندوستان کا ماحول خراب ہو۔
٭ اور آج سے کچھ دنوں پہلے محمد جاویدو آفرین فاطمہ کے گھر کو بلڈوزرس سے ڈھادیا گیا یہ بھلا کہاں کا انصاف ہے صاحب ؟ جو اپنے حق کے خاطر صدائے حق بلند کرتا ہے اسے قید کردیاجاتاہے تو آخر یہ ہندوستان کا ماحول کیسے خراب نہیں ہوگا۔
٭ پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی تو پوراعالم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگیا اور ہندوستان کے خلاف مختلف ممالک کے حکمرانوں کی ناراضگی دیکھنے کو ملی جس کی وجہ سے ہندوستان کا ماحول خراب ہوااور ہندوستانی قانون، دستور او رآئین کی پامالی ہوئی۔
٭ حال میں بلقیس بانو کے مجرموں کی جیل سے رہائی مل گئی او ربلقیس بانو قانون کے دروازے پر دستک دیتی رہی مگر کسی نے اس کی ایک نہ سنی ۔ جس کی وجہ سے ہندوستانی قانون، دستور او رآئین کی پامالی ہوئی۔
ان تمام امورپر غورکرتے ہوئے یہ کہا جاسکتاہے کہ یہ تو ہے ہندوستانی آئین اور اس کے محافظین کی کارگزاریاں۔ اور اب فی الحال ادیپور میں درجی کاقتل کردیا گیا جس کی وجہ سے ہندوستان کا ماحول خراب ہو۔یہ سراسر قانون کے خلاف ہے کوئی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتاہے بلکہ عدالت عظمی ہی کسی بھی معاملے کا فیصلہ کرتی ہے ۔
آخر یہ سب ایسا کیوں ہو رہاہے ؟ کیا ہندوستان کے محافظین خواب و غفلت کی نیند میں سو رہے ہیں ؟ کیاانہیں یہ سب چیزیں زیب دیتی ہیں ؟ کیا انہیں آئین اور دستور کی حفاظت نہیں کرنی چاہیے ؟ کیا ہندوستان کی حالت کو بہتر بنانے میں انہیں محنت سے کام نہیں کرنا چاہیے ؟ کیااسکولوں اور کالجوں کی پڑھائی کو اور بہتر بنانے کے خاطر کچھ اقدام عمل میں نہیں لانا چاہیے ؟ میرا ہی نہیں بلکہ اکثر لوگو ں کا ماننا ہے کہ جو لوگ حکومت کے تخت پر جلوہ افروز ہیں انہیں ہندوستان کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے تا کہ ہمارا ملک عظیم او رزیادہ ترقی کر سکیں۔ ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھ کر اگر کہا جائے تو ہر کوئی یہی کہے گا کہ ہندوستان کے محافظین کی کارگزاریاںکیا ہی خوب ہے اورہندوستان کے محافظین کی کارگزاریاں تو ہمہ وقت بہتر ہی رہی ہیں او ر امید قوی ہے کہ ہماری حکومت ہند ہندوستانیوں کے لیے کچھ نا کچھ لائحہ عمل ضرور بنائے گی ۔
میں یہ جو مضمون لکھا ہوں اس بات سے میرا متفق ہونا ضروری نہیں کہ حکومت کیا کررہی ہے اورکیانہیں کر رہی ہے اور میری غرض و غایت اور مقصدیہ نہیں ہے کہ اس حکومت کی خلاف ورزی کی جائے او ر ناہی میرا مطلب ہندوستانی حکمرانوں کی عزت کو ٹھیس پہونچاناہے اور ناہی ان کے حکم کی حکم عدولی کرناہے , ناہی ا ن کے حق میں برائیاں بیان کرنا ہے اور ناہی میرا مقصد ا ن کے اصول و ضوابط کی پامالی کرناہے بلکہ ان کی عزت کرنا تو میرا فرض ہے اور میرا مقصد اتنا ہے کے حکومت کی ساتھ ساتھ قوانین، دستور او رآئین کی حفاظت اچھی طرح کی جائے اور اس کی عزت کو ملحوظِ خاکر رکھا جائے تاکہ تمام باشندگان ہندو امن و آشتی کے ساتھ اس ہندوستان میں زند گی گزاریں ۔ اور اس بات کا بھی معترف ہوں کہ آج جو حکومت سکتہ میں ہے وہ اپنے جگہ پر صحیح ہے لیکن انہیں تمام باشند گان ہند کے حقوق کا مکمل طو رپر لحاظ رکھا جائے، ان کی حقوق کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو او رتمام متفرق مذاہب کے لوگ آپس میں مل جل کر اس ہندوستان میں زندگی باآسانی او رامن و سلامتی کے ساتھ گزارے اور امید ہے کہ اس ہندوستان کے محافظین کی کار گزاریاںآنے والے وقت میں بھی ہمارے لیے کارآمد ثابت ہوگا او ردیش کانام اور بھی روشن ہوگا۔ او رہندوستانیوں کے حق میں صحیح اور معتبر فیصلے لے گی جس سے سب کا خیال او رسب کا وکاس ہوگا ۔
ایک مرتبہ اور میں صرحتا یہ کہنا چاہتاہوں کہ میرامقصد نا تو اس حکومت کی خلاف ورزی کرنا ہے او ر ناہی میرا مطلب ہندوستانی حکمرانوں کی عزت کو ٹھیس پہونچاناہے اور ناہی ان کے حکم کی حکم عدولی کرناہے , ناہی ا ن کے حق میں برائیاں بیان کرنا ہے اور ناہی میرا مقصد ا ن کے اصول و ضوابط کی پامالی کرناہے بلکہ ان کی عزت کرنا تو میرا فرض ہے۔ میں ہندوستانی آئین یا دستور کی پامالی نہیں کررہاہوں اور ناہی آئین ہند کے وقار کو کوئی ڈھیس پہونچارہاہوں اور ناہی اس کی بے حرمتی کر رہا ہوں بلکہ میں فقط یہ کہنے کی کوشش کررہاہوں کہ اس ملک عظیم کا جو آئین اور دستور ہے اس کے مطابق جتنے بھی متنوع اور مختلف مذہب ہیں سب کو مکمل آزادی کے ساتھ رہنے سہنے ،عبادت کرنے اور اپنے کلچر کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل طور پر پورا حق ہے اور اس میں کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں ۔اور وہ کام میں ہر گز نہیں کروںگا جو قانون اور دستو ر کے خلاف ہے اور اس کی حفاظت کے لیے حتی الامکان جتنی کوشش ہوگی میں کروں گا۔ میں اپنی بات کو علامہ اقبال کے اس شعری کے ساتھ ختم کرنا چاہتاہوں کہ :
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیںا س کی یہ گلستاں ہمارا

 

Comments are closed.