مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ اورقصصی ادب
ڈاکٹرسراج الدین ندویؔ
9897565066
پوری دنیا جانتی ہے کہ حضرت مولانا علیہ الرحمہ کی ذات گرامی ایک ہمہ جہت اور جامع شخصیت کی مالک تھی،انہوں نے دعوت وتبلیغ،اصلاح وارشاد، تعلیم وتربیت،تالیف وتصنیف ،تحقیق وتنقید،ادب وصحافت ،وعظ وخطابت ، قیادت وسیادت وغیرہ جملہ میادین حیات وشعبہ ہائے زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دیئے اور اپنے عہد کی تاریخ پر انمٹ نقوش ثبت کئے ہیں۔
ادبی دنیا میں آپ ایک صالح انقلاب کے نہ صرف داعی تھے بلکہ آپ نے اپنی تصنیفی کاوشوں سے اردو اور عربی زبان میں بیش قیمت ،صالح ، پاکیزہ اور تعمیری ادبی سرمایہ کا اضافہ کیا۔ آپ نے سماج کے مختلف طبقوں کے لیے لکھا اور کسی کو نظر انداز نہیں کیا۔ بچے بھی سماج کا ایک عنصر بلکہ اہم عنصر ہیں۔ بچے کسی قوم اورملک کی قسمت اور مستقبل ہوا کرتے ہیں۔ ان کے ناتو اں کاندھوں اورکمزور کلائیوں پرملک وملت کے مستقبل کا بھاری اور ذمہ دارانہ بوجھ ہوتا ہے اس لیے صحیح نہج پر ان کی تعلیم اور فکری وذہنی تربیت ضروری واہم ہے۔ حضرت مولانا ؒ کی نظر سے یہ نکتہ کیسے اوجھل رہ سکتا تھا اور وہ اپنی خدا داد صلاحیتوں سے بچوں کو کیوں کر محروم رکھ سکتے تھے۔ چنانچہ آپ نے ادب اطفال پر نظرڈالی اور اس نقطہ تحقیق پر پہنچے کہ بچوں کا ادب یا تو بہت کم ہے یا وہ صالح مقاصد کی تکمیل نہیں کرتا حتیٰ کہ ندوۃ العلماء کے نصاب میں بھی کامل کیلانی کی وہ کتابیں داخل تھیں جن کے بارے میں مولانا عبدالماجد دریا بادیؒ نے اپنے کرب وبے چینی کا اظہار کرتے ہوئے آپ کو لکھاتھا:
’’حال میںندوہ کی ایک ابتدائی درسی کتاب پر محض اتفاق سے نظر پڑگئی، بڑا ہی دل دکھاتصویر کی وہ بھرمارکہ شاید عبارت بھی اتنی نہ ہو، سرورق سے لے کر آخر تک جاندار مخلوق کی تصاویر رنگین ،اللہ ورسول کا شروع سے آخر تک نام نہیں، لغو قصے،قدیم جن وپری کے طرز کے، حیرت ہوئی کہ یہ کتاب اور سید صاحب کے اور ڈاکٹر صاحب کے زمانہ میں؟ خط دونوں صاحبوں کو لکھا ہے۔ چوں کفر از کعبہ برخیزد’’کفرکعبہ ہی سے کیوں اٹھتا ہے‘‘ مصری کتابیں تعلیمی نقطہ نظر سے بھی ہرگز ندوی طلبہ کے لیے مفید نہیں ہوسکتیں۔
(کاروان زندگی ،ج۱،ص۲۱۶)
چنانچہ حضرت مولانا سید ابوالحسن ندویؒ نے فیصلہ کیا کہ وہ عربی میں کہانیوں کی بچوں کے لیے ایسی کتاب ترتیب دیں گے جو قصہ گوئی کی تمام خوبیوں کے ساتھ بچوں کی ذہنی وفکری تربیت میں اہم رول ادا کرسکے۔ چنانچہ آپ نے تین بنیادی نکات کو سامنے رکھتے ہوئے کتاب کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور بچوں کے لیے قصہ نگاری کا ایک معیاری نمونہ پیش کیا۔ مولانا مسعود عالم ندویؒ نے جب یہ کتاب دیکھی تو فرمایا:
’’اس کتاب میں زبان اور دین کو اس طرح پیوست کردیا ہے جیسے گوشت اور خون۔‘‘
مولانا عبدالماجد دریابادیؒ نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’اس کتاب کے ذریعہ بچوں کا علم کلام تیار ہوگیا ہے۔‘‘
سید قطب شہیدؒ نے اس کتاب پر مقدمہ لکھتے ہوئے تحریرفرمایا تھا:
’’میں نے کثرت سے وہ کتابیں پڑھی ہیں جو بچوں کے لیے لکھی گئیں اور جن میں انبیاء کرام کی حکایات وقصص بھی شامل ہیں خود ایک سلسلہ کتب کی ترتیب میںمیںنے شرکت کی جو ’’القصص الدینی للاطفال‘‘ کے نام سے مصر میں مرتب ہوا اور جس کے لیے مواد قرآن مجید سے اخذ کیا گیا تھا لیکن میں تکلف اور خوشامد کے بغیر اس کا اعتراف کرتا ہوں کہ ’’القصص الدینی للاطفال‘‘ کے مصنف کا کام (جس کاایک نمونہ حضرت موسیٰ کے قصہ میں نظر آتا ہے) ہمارے وضع کئے ہوئے سلسلہ سے زیادہ کامیاب اور مکمل ہے اس لیے کہ اس میں ایسی لطیف رہنمائیاں ، قصے کے مقاصد پر روشنی ڈالنے والی تشریحات اور بین السطور میں ایسے اشارات آگئے ہیں جو بیش قیمت ایمانی حقائق کی نقاب کشائی کرتے ہیں۔‘‘ (کاروان زندگی ،ج۱،ص۲۱۸)
کہانی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کا پلاٹ اتنا زور دار ہوکہ کسی مرحلہ میں بھی کہانی پن ختم نہ ہونے پائے۔ قارئین جب کہانی شروع کریں تو آگے اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھے اس کے پڑھنے کا ذوق بھی بڑھتا جائے اور قارئین شروع سے آخرتک کہانی میں کھوئے رہیں۔ مولانا کی لکھی ہوئی کہانیاں’’ قصص النبین‘‘ اس نقطہ نظر سے کمال درجہ کی حامل ہیں۔ جب بچے یہ کہانیاںشروع کرتے ہیں تو اول تا آخر ان کی دلچسپی نہ صرف برقرار رہتی ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوتارہتا ہے۔ کہانی پن کسی وقت بھی کم نہیں ہوتا اور نہ ہی کہانی میں الجھائو یا فکری ژولید کی محسوس ہوتی ہے۔
کہانی کا فن اور تکنیک زبان وبیان سے گہرا تعلق رکھتا ہے، زبان کی سلاست وروانی شگفتگی وبرجستگی ،اظہار بیان کی بے ساختگی وبے تکلفی،حسن کلام وحسن تاثیر کو دوبالاکرتی ہے۔مولاناؒ زبان وبیان میں بچوں کی نفسیات ، ان کی ذہنی اور علمی استعداد کا بھرپور خیال رکھتے ہیں۔ وہ الفاظ وفقرات کی تکرار سے نہ صرف یہ کہ کلام میں حسن ونغمگی پیدا کرتے ہیں بلکہ بچوں کوالفاظ ومعانی کی حفاظت وصیانت کا وافر موقع فراہم کرتے ہیں۔
آپ ایسے ذیلی عنوانات جماتے ہیں جوبچوں کے تحریک وتشویق اور جذب وکشش کا باعث بن کر انہیں پڑھنے کے لیے آمادہ کرتے ہیں۔قصص النبین کے عنوانات میرے اس دعوے کی بین دلیل ہیں۔
ایک اچھی کہانی کی علامت یہ ہے کہ اس میں کردار کم سے کم ہوںتاکہ بچوں کاسادہ ذہن کرداروں کی کثرت سے الجھائو محسوس نہ کرے۔ مولانا نے جو کہانیاں لکھی ہیں ان میں کردار گنے چنے ہیں۔ ہرقصہ کا بنیادی کردارجسے موجودہ اصطلاح میں کہانی کاہیرو کہا جاتا ہے بار بار بچوں کے پردہ ذہن پرنمودار ہوتا ہے اور کسی مرحلہ پر بھی بچے کرداروں کے سلسلہ میں کسی الجھائو وپیچیدگی کو محسوس نہیں کرتے۔
کرداروں کے مکامات بالکل فطری اور حسب حال ہیں۔ کرداروں کی شخصیت ان کی نفسیات ،مقام ،وقت ، ماحول کے مطابق کامیاب مکالمہ نگاری کی گئی ہے۔ بادشاہ شاہی لب ولہجہ میں گفتگو کرتاہے ، وزیر افسرانہ اندازِ تکلم اختیار کرتے ہیں،رعایا عوامی زبان بولتی ہے،باغی وسرکش تمرد ونخوت کے انداز میں بات کرتے ہیں۔ نیک نفوس کے مکالمات سے شرافت نفس ٹپکتی ہے، پیغمبر پیغمبرانہ شان سے کلام کرتاہے۔
کامیاب کہانی کی ایک علامت یہ ہے کہ کہانی کار جوتاثر قائم کرنا چاہتا ہے اور جو فضا اپنی کہانی میںسمونا چاہتا ہے وہ تأثر اور فضا ہر مرحلہ پر قائم ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا علی میاںؒ اپنی کہانی سے جوتأثر دینا چاہتے ہیں اس تأثر کو آپ کہیں مجروح نہیں ہونے دیتے۔ ایک ایک عنوان، ایک ایک پیرایہ، بلکہ ایک ایک سطر سے وحدت تأثر کی فضا بندھتی ہے۔
آپ کی کہانیوں میں جگہ جگہ منظر نگاری ،واقعات کے تانوں بانوں کو نہایت ہم آہنگ اورخوبصورت بنادیتی ہے، کہیں کہیں کہانی کے گرد وپیش ، مقام،وقت، اور سازوسامان کی مصور کشی،پلاٹ اورکرداروں کے درمیان سنہری کڑی کا کام کرتی ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ کہانی کار کا اسلوب اور تکنیک ابلاغ کے سلسلہ میں سب سے زیادہ موثر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ صدیق الرحمن قدوائی اپنے ایک مقالہ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’کہانی میں تکنیک کا معاملہ بھی قابل غور ہے۔تکنیک کے سارے انداز اگر احساس کی کسی نئی کروٹ کو راس نہ آئیں توکہانی خود اپنے ساتھ کوئی نئی تکنیک لے کر آتی ہے جو نئی بھی ہوسکتی ہے پرانی بھی۔ نئے اور پرانے کے درمیان کوئی اختراع بھی۔‘‘
حضرت مولاناؒ نے قصص النبین کے لیے جو اسلوب اور تکنیک اپنائی ہے وہ بچوں کی نفسیات،ان کی افتاد طبع اور ان کی ذہنی وعلمی استعداد کے عین مطابق ہے۔ آپ نے کہانی کے ذریعہ عربی الفاظ وتراکیب کا استعمال بھی سکھایا اور طلبہ میں پیغمبرانہ فکر پیدا کرنے کی بھی کوشش کی۔
ایک اچھی کہانی کا بنیادی وصف یہ بھی ہے کہ وہ فلسفیانہ گتھیوں، فکری بھول بھلیوں ، گنجلک تصورات، پیچیدہ انداز بیان اور ژولیدہ خیالات سے پاک ہو بقول ڈاکٹر عظیم الشان صدیقی:
’’جہاں تک عام قاری کا سوال ہے وہ کہانی کولائٹ لٹریچر اور ہلکا پھلکا ادب تصور کرتاہے ،اور اپنے اردگرد کے ماحول کے حوالہ سے زندگی کو دیکھنا اور سمجھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ کہانی کے ساتھ طویل اور پرخار وادیو ںکا سفرکرنے کے لیے بھی تیار رہتاہے لیکن اس کا محدود وقت اور فرصت کے چند لمحات خشک فلسفیانہ گتھیوں، وجود اور عدم وجود کی بحث ، ناشعور کی بھول بھلیوں ، گنجلک خوابوں اور ژولیدہ بیانوں کا متحمل نہیں ہوتا۔‘‘
حضرت مولانا علیہ الرحمہ کی قصہ نگاری میں یہ بنیادی وصف بدرجہ اتم موجودہے۔ نہایت سادہ وبسیط جملے، سلجھی ہوئی عبارتیں ،مفہوم ومدعا کو واضح کرنے والے فقرے، بچوں کے دل ودماغ میں اترنے والے پیراگراف،آپ کی کہانیوں کا بنیادی وصف ہے۔
مولاناؒ نے جس دو ر میں قصص النبین کی تالیف شروع کی اس وقت ہر زبان وادب کے قصہ نگار مغربی فکشن سے متاثر ہورہے تھے۔ آپ مغربی افکارونظریات پرگہری نظر رکھتے تھے مگر آپ کی قصہ نگاری پر مغربی چھاپ نظر نہیں آتی۔ مشرقی روایات اورکلاسیکی خصوصیات آپ کی کہانیوں میںخون کی طرح دوڑتی نظر آتی ہیں۔ آپ نے اپنی کہانیوں کے لیے قرآنی ونبوی اسلوب اختیار کیا جس سے بہتر اور مؤثر کوئی دوسرا اسلوب ہوہی نہیں سکتا۔
آپ قصہ برائے قصہ یا کہانی برائے کہانی کے قائل نہ تھے بلکہ بلند مقاصد کے لیے آپ نے یہ کہانیاں لکھیں ہیں۔ توحید ورسالت اور آخرت پر کامل یقین،کفروشرک کی گمراہی اور ان کی ناکامی وخسران کو آپ نے اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا اور ان حقائق کو انبیائی کہانیوں کے ذریعہ بچوں کے ذہن ودماغ میں ایسا پیوست کردیا کہ تادم آخر ان کے عقائد میں کوئی تنزل پیدا نہ ہوسکے،اور بچے اس اباحیت پسند دور میں بھی اسلامی تعلیمات کو سینہ سے لگائے رہیں۔
تارہ، چاند اور سورج کے طلوع وغروب کے جس واقعہ کو قرآن نے اشارۃً بیان کرکے توحید کا ثبوت پیش کیا ہے ۔اس واقعہ کو جب آپ بچوں کے لیے لکھتے ہیں تو اس واقعہ کی منظر کشی اس طرح فرماتے ہیں کہ بچوں میں شروع ہی سے راست وغوروفکر ،تدبر وتفکر اور اخذ نتائج کی صلاحیت وقابلیت پیدا ہوسکے بلکہ ان کے اندر پیغمبرانہ فکر وسوچ پرورش پاسکے۔
ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ بچوں کی اسلامی نہج پر تربیت کے لیے قرآنی قصوں کاانتخاب کرتے ہیں اور قرآنی اسلوب وتکنیک کا سہارالے کر ایک ایسا بدیع اسلوب اختیار فرماتے ہیں جو بچوں کی فطرت کے عین مطابق ہے۔
مختصر یہ ہے کہ حضرت مولانا علی میاں نور اللہ مرقدہ نے بچوں کی سطح پر اتر کر ان کی نفسیات اور ذہنی استعداد کے پیش نظر فنی ترتیب ، کرداروں کی سچی نمائندگی، جاندار مکالمہ نگاری ،ماحول ومناظر کی دلچسپ تصویر کشی،وحدت تاثیر کی فضا اور اپنے ابلاغ کے اعتبار سے ایسی کئی کہانیاں لکھی ہیں جو عربی ادب اطفال میں زندہ جاوید رہیں گی۔
Comments are closed.