سووَچھ بھارت مشن :گرامین کا مقصد مشقت اورغیر صحت مند حالات سے نجات دلانا ہے

 

تحریر: وِنی مہاجن

سووَچھ بھارت مشن – گرامین ایک عوامی تحریک کی شکل میں اس وسیع ملک کے کونے کونے تک پہنچ چکا ہے۔ اس نے نہ صرف برتاؤ میں تبدیلی برپا کی ہے، بلکہ اس کا ذکر ہر گھر میں ہو رہا ہے۔ محترم وزیر اعظم ہند کے ذریعہ فروغ دی گئی اس فلیگ شپ اسکیم ، سووَچھ بھارت مشن ، کا اثر کچھ ایسا ہی ہے۔

یہ جاری عمل تمام ریاستی اور ضلعی انتظامیہ، ترقیاتی شراکت داروں، غیر سرکاری تنظیموں، پنچایتی قائدین اور برادریوں سے حاصل ہونے والی حمایت کے سبب ہی انجام دیا جا سکا  ہے جو صاف ستھرے اور صحت مند بھارت کے جذبے کے تحت اپنی برادریوں کی صحت اور خیرو عافیت کے لیے تعاون دینے کی غرض سے زبردست کوششیں انجام دے رہے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے نسل پرستی مخالف کارکن اور جدید  جنوبی افریقہ کے بانی، جناب نیلسن منڈیلا نے ایک مرتبہ کہا تھا، ’’آزادی اس وقت تک حاصل نہیں کی جا سکتی جب تک کہ خواتین کو ہر طرح کے جبر سے آزاد نہیں کیا جاتا۔‘‘ ان جذبات سے ہر کوئی اتفاق رکھتا ہے۔ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ میں ایک سال سے زائد عرصہ سے کام کرنے کے ساتھ ساتھ میں خوش قسمت ہوں کہ میں ملک کے دو فلیگ شپ پروگراموں – سووَچھ بھارت گرامین اور قومی جل جیون مشن ، کے لیے بھی کام کر رہا ہوں۔ یہ دونوں ہی پروجیکٹ خواتین کو بااختیار بنا رہے ہیں اور انہیں مشقت و بیماری سے نجات دلا رہے ہیں۔

اس یوم جمہوریہ کے موقع پر، غیر صحت مند طور طریقوں اور غیر صحت بخش حالات سے آزادی کی بات کرنا فطری بات ہے ، جس کے لیے ایس بی ایم – جی مشن کام کر رہا ہے۔ جہاں اس مشن نے سماج کے تمام تر طبقات کو صفائی ستھرائی تک رسائی فراہم کی ہے ، وہیں اس ’نادار اور خواتین دوست‘ مہم نے خواتین کو رفع حاجت کے لیے اندھیرا ہونے کا انتظار کرنے سے نجات دلائی ہے، اور انہیں تحفظ، وقار اور متعدد صحتی فوائد فراہم کیے   ہیں۔

دوسری جانب قومی جل جیون مشن  ، ایک قدم آگے جاکر، ملک کے پانی کی قلت والے علاقوں کی دیہی خواتین کے لیے عطیہ الٰہی ثابت ہو رہا ہے ۔ ابھی تک، ایس بی ایم – جی اور این جے جے ایم جیسے عظیم مشنوں کے توسط سے 11 کروڑ سے زائد انفرادی گھریلو بیت الخلاء تعمیر کیے جا چکے ہیں اور 10.90 کروڑ کنبوں کو نل کے ذریعہ پانی کے کنکشن فراہم کرائے جا چکے ہیں۔

علاوہ ازیں، سووَچھ بھارت مشن – گرامین بھارت کو اقوام متحدہ کے ہمہ گیر ترقیاتی ہدف 6.2 کی حصولیابی کے راستے پر گامزن کر چکا ہے، جس کا مقصد سال 2030 تک ، سب کے لیے مناسب اور مساوی صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت تک رسائی کی فراہمی، کھلے میں رفع حاجت سے نجات، حاشیے پر موجود افراد ، خواتین اور لڑکیوں اور نازک حالات کا سامنا کرنے والوں کی ضرورتوں پر خصوصی توجہ دینا ہے۔ مطالعات سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ سووَچھ بھارت مشن (گرامین) کی وجہ سے بیت الخلاءکا  استعمال 93.4  فیصد کے بقدر ہے اور غیر معمولی اقتصادی، ماحولیاتی اور صحتی اثرات خصوصی طور پر خواتین کی اختیارکاری میں تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

 

لائٹ ہاؤس پہل قدمی: ایس بی ایم- جی کے ساتھ ملک یقیناً صحیح راستے پر گامزن ہے، حالانکہ ابھی بھی بہت کچھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سووَچھ بھارت مشن گرامین میں نجی شعبے کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اور یہ کہ ’’صفائی ستھرائی ‘‘ کا تعلق سبھی سے ہے، ڈی ڈی ڈبلیو ایس، فکی میں بھارتی صفائی ستھرائی اتحاد (آئی ایس سی) کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، جو کہ ایک کثیر  شراکت داری پلیٹ فارم ہے جو بھارت کے مواضعات میں ہمہ گیر ٹھوس اور رقیق فضلہ انتظام کاری (ایس ایل ڈبلیو ایم) حصولیابی کے لیے کارپوریٹ شراکت داروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔پہلے مرحلے کے تحت، پندرہ ریاستوں میں ماڈل اور ’لائٹ ہاؤس‘ گرام پنچایتیں قائم کرنے کا ہدف ہے جو کہ کامیابی کے ساتھ ایس ایل ڈبلیو ایم انتظامات نافذ کریں گی جسے ہمارے تمام مواضعات کو کھلے میں رفع حاجت سے مبرا پلس ماڈل بنانے  کے ہدف کی حصولیابی کے لیے ملک بھر میں توسیع دی جائے گی۔

سووَچھ سرویکشن گرامین 2023: اس پر بھی کام جاری ہے۔ یہ ایک ایسا جائزہ ہے جو ریاستوں اور اضلاع کی، اہم مقداری اور معیاری ایس بی ایم – جی پیمانوں پر ان کی کارکردگی کی بنیاد پر درجہ بندی کرتا ہے۔ ایس ایس جی 2023 کے مقاصد میں ایس بی ایم- جی مرحلہ II  کے تحت گاؤں، ضلع اور ریاستی سطحوں پر فعال شراکت داری پیدا کرنا؛ کھلے میں رفع حاجت سے مبرا پلس ماڈل مواضعات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا؛ ہم عصر کی تصدیق  کے توسط سے تجزیہ اور تربیت؛ گرامین پنچایتوں کے درمیان صحت مند مسابقت پیدا کرنا اور تمام تر سطحوں پر فاتحین کو تسلیم کرنا، شامل ہیں۔

رفتار میں مزید تیزی لانے کے لیے، ڈی ڈی ڈبلیو ایس نے مختلف مشہور مہمات کا اہتمام بھی کیا ہے جنہوں نے خاطر خواہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان میں سے ایک ریٹرو پٹ سے ٹوئن پٹ مہم ہے جو موجودہ ایک گڑھے والی بیت الخلاؤں کو دو گڑھوں والی بیت الخلاؤں میں تبدیل کرکے اور سیپٹک ٹینک والی بیت الخلاؤں کو ہوا کی نکاسی  اور سوکھ گڑھوں سے مربوط کرکے آسان ’’آن سائٹ‘‘ تکنالوجیوں کو فروغ  دیتی ہے۔ اس مہم کا مقصد دیہی گھروں میں انسانی فضلے کی کیچڑ کو محفوظ طریقہ سے ٹھکانے لگانے کے بارے میں بیداری  پیدا کرنا بھی ہے۔

سُجلم 1.0 اور 2.0 مہمات کے تحت، کم گندے پانی کو مؤثر طریقہ سے صاف کرنے کے لیے گھروں اور دفاتر میں انفرادی اور اجتماعی سوکھ گڑھے تعمیر کیے گئے۔ اس مہم نے گندے پانی کے کم سے کم جمع ہونے اور اس کے گاؤں کے تالابوں میں جاکر گرنے کو یقینی بنایا۔ دونوں مہمات کے دوران 23 ملین سے زائد سوکھ گڑھے تعمیر کیے گئے۔

جہاں تک گوبردھن کا تعلق ہے، یہ مہم مواضعات کو اپنے مویشیوں  کی حفاظت، زرعی اور نامیاتی فضلے، اور اسی فضلے کو صاف ستھرے ایندھن اور نامیاتی کھاد میں تبدیل کرنے میں تعاون فراہم کرتی ہے تاکہ ماحولیاتی صفائی ستھرائی کو بہتر بنایا جا سکے اور مچھروں و دیگر حشرات کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے۔اس سلسلے میں، حکومت ہند مویشیوں کے گوبر اور نامیابی فضلے کو محفوظ طریقہ سے ٹھکانے لگانے کے لیے ہر ایک ضلع کو تکنیکی تعاون اور فی ضلع 50 لاکھ روپئے تک کا مالی تعاون فراہم کرتی ہے۔ اب تک، ملک بھر میں 500 سے زائد گوبردھن پلانٹس قائم کیے جا چکے ہیں۔

اطلاعات ، تعلیم اور مواصلات نے ایس بی ایم- جی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور بیداری پھیلانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اور شروعات سے ہی بیشتر سرگرمیوں کے نتیجہ میں عوامی شراکت داری میں اضافہ ہوا اور اس کی وجہ سے برادریاں ہمہ گیریت کو یقینی بنانے کے لیے آگے بڑھ کر ان پروجیکٹوں کی ذمہ داری لے رہی ہیں۔سووَچھتا ہی سیوا، سووَچھتا دوڑ، سووَچھ بھارت دیوس، سووَچھتا کے لیے متحد بھارت، اس طرح کی سرگرمیوں کی چند مثالیں ہیں۔چونکہ ایس بی ایم-جی مرحلہ II کے لیے لاگت کے لحاظ سے اثر انگیز اور لاگت کے لحاظ سے قابل عمل تکنیکی دخل اندازیاں درکار ہیں، اور ساتھ ہی اثاثہ جات کی تعمیر میں خصوصی ہنرمندیاں بھی درکار ہیں، اس لیے صلاحیتوں کو تقویت بخشنے پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

ماہواری سے متعلق حفظانِ صحت انتظام کاری میں زمینی سطح کی پہل قدمیوں کی نمائش کے لیے اور ریاستوں میں مختلف کاموں کو انجام دینے کے لیے تربیت کو فروغ دینے کی غرض سے گرام پنچایتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے، حال ہی میں ایم ایچ ایم کے موضوع پر گرام پنچایتوں کے لیے ایک قومی فلم مقابلے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ماہواری سے متعلق حفظانِ صحت ابھی بھی ایک باعث تشویش مسئلہ ہے  اور اس کی وجہ علم کا فقدان، اس کو لے کر برسوں سے جاری ممنوعات، اسے کلنک سمجھنا، ماہواری سے متعلق مصنوعات اور استعمال شدہ پیڈس کو ضائع کرنے کے محفوظ نظام  تک محدود رسائی ہیں۔ ایم ایچ ایم کے بارے میں خواتین اور لڑکیوں کے درمیان حساسیت پیدا کرنے  سے طالبات کے درمیان اسکولی تعلیم چھوڑ دینے کی شرح میں تخفیف کو لے کر دور رَس اثرات مرتب ہوں گے اور ان کی صحت اور وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔

اس یوم جمہوریہ کے موقع پر، میں صفائی ستھرائی کے ہمارے سورماؤں ، گرام پنچایت قائدین اور ضلعی اور ریاستی سطحوں پر مصروف عمل کارکنان کو سلام کرتا ہوں، جنہوں نے ہمارے مواضعات میں صفائی ستھرائی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں بغیرتھکے کام کیا ہے۔ وہ بلاشبہ بھارت کو صحت مند اور صاف ستھرے ملک میں تبدیل کرنے میں مشعل بردار کے طور پر ابھرے ہیں۔

***

مضمون نگار جل شکتی کی وزارت کے تحت ، پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ کی سکریٹری، محترمہ وِنی مہاجن ہیں

 

 

Comments are closed.