ہندُستانی جمہوریت

ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

       جمہوریت میں مذہب کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ ملک مذہب کی بنیاد پر حکومت نہیں کرے گا،دستور کی42 ویں ترمیم کی رُو سے اسے، ”سیکولر اسٹیٹ“ کہاگیا ہے، جہاں مذہب کا احترام ہوگا، اور مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

 کسی اسٹیٹ کے سیکولر ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس  اسٹیٹ میں مذہب کی کوئی حیثیت نہ ہو اس کے شہری کو مذہب سے لاتعلق، ناآشنا اور بیگانہ بنا دیا جائے بلکہ کسی اسٹیٹ یا ریاست کے سیکولر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ اس حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا، اس کی نظر میں تمام مذاہب برابر ہوں گے، ان کے درمیان کسی بھی  معاملے میں کوئی تفریق نہیں برتی جائے گی، مذہب فرد کا ذاتی اور نجی معاملہ ہوگا، حکومت کسی بھی مذہبی معاملے میں اس وقت تک مداخلت نہیں کرے گی جب تک وہ امن عامہ کے لیے خطرہ ثابت نہ ہو۔

 ہمارے بزرگوں نے آزادی سے جمہوریت تک کے سفر میں کتنی تکلیفیں اٹھائیں ہیں کتنے دکھ جھیلے ہیں اور کتنی قربانیاں دی ہیں، اس ملک کا کوئی گوشہ کوئی چپہ ایسا نہیں ہے جو ہمارے بزرگوں کے خون سے لالہ زار نہ ہوا ہو۔

اس ملک کی داستانِ آزادی کا ہرحرف اورہر لفظ ہمارے بزرگوں کے خونِ شہادت  سے رنگین ہے۔ آزادی کی نعمت ہمیں یونہی حاصل نہیں ہوئی ہے بلکہ دو صدیوں تک ہمارے بزرگوں نے اپنا لہو بہایا ہے تب جاکر ہمارا یہ ملک آزاد ہوا ہے۔

جب آزادی ملی تو سوال یہ پیدا ہوا کہ اس ملک کو کس رخ پر چلنا ہے، مطلق العنانی اور جبر و استبداد کی طرف یا انصاف اور مساوات کی طرف، اس وقت سیاسی لیڈروں حکومتی نمائندوں نے اتفاق رائے کے ساتھ طے کیا کہ اب شہنشاہیت اور مطلق العنانیت کا دور ختم ہو چکا ہے، آزادی کی صبح طلوع ہوچکی ہے، یہ ملک اب جبر و استبداد  کی تیرگی کے بجائے جمہوریت کی روشنی میں سفر کرے گا، اس طرح 26؍ جنوری 1950ء کو جمہوریت کی یہ نعمت ہمیں ملی۔

یہ دن آزاد بھارت میں نہایت اہمیت کا حامل ہے، اس دن وہ برطانوی ایکٹ منسوخ کیا گیا جو 1935ء سے نافذ تھا۔ اس سے قبل برسوں مسلمانوں نے اس ملک میں نہایت آن بان شان سے حکومت کی تھی؛ لیکن جب ہمارے نوابوں نے اس نعمت عظمیٰ کی ناقدری کی تو اللہ نے انہیں ثریا سے اُٹھا کر زمیں پر دے مارا، اسی طرح جب انگریزوں نے یہا ں کے باشندوں ظلم استبداد کے پہاڑتوڑے تو خدا نے انہیں بھی اس ملک سے نکال باہر کیا۔

ابھی اس ملک میں جمہوریت قائم ہے۔

 اقوام متحدہ میں بھارتی سفیر نے یہاں کی جمہوریت کے بارے میں کہا ہےکہ:

”جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ بھارت دنیا کی سب سے قدیم تہذیب ہے۔ بھارت میں جمہوریت کی جڑیں 2500 سال پرانی ہیں،  ہم ہمیشہ سے ہی جمہوری تھے۔ جہاں تک حالیہ وقت کی بات ہے، تو مُقَنِّنَہ، ایگزیکٹیو، عدلیہ اور چوتھے اسٹیٹپریس سمیت جمہوریت کے چار ستون برقرار ہیں۔ لہذا یہ ملک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ ہر پانچ برس بعد الیکشن کرکے ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوری مشق کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنی بات اپنے مطابق کہنے کے لیے آزاد ہے اور ہمارا ملک اسی طرح کام کرتا ہے۔ تیزی سے اصلاح کر رہا ہے اور بدل بھی رہا ہے اور اس کی رفتار بھی کافی متاثر کن رہی ہے۔“

تصویر کیا دوسرا رخ یہ ہے کہ 15؍ اپریل 2022ء کو براؤن یونیورسٹی میں سدھارتھ ور دراجن ایک مضمون پیش کیا ہے جن کے چند اقتباسات یہاں پیش کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہندستانی جمہوریت کی خامیاں ہمیشہ سے رہی ہیں اور یہاں کے میڈیا ان کو آئینہ دکھانے کا کام کرتا رہا ہے۔ لیکن آج میں نے جمہوریت اور میڈیا کے موضوع پر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان دونوں کی زندگی کے خطرناک دور سے گزر رہے ہیں

 بلا شبہ، آج جب ہم تمام جمہوری ستونوں، کی فیصلہ کن طور پر حالت زار کے شاہد ہیں، تو یہاں اس غفلت، بے حسی اورتخریبی رویے شبیہ کو یاد کرنا مفید ہوگا جس نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا ہے۔ یہ بات بالکل صاف ہے کہ ہم ایک دن میں اس صورتحال کو نہیں پہنچے اورجس صورتِ حال سے آج ہماری حمہوریہ دوچار ہےوہ نہ تو کسی ایک فرد یا پارٹی کی کارستانی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مستقبل کے مورخین جب کہیں گے کہ نئی دہلی  ایک دن میں تباہ نہیں ہوئی تھی، بالکل حق بہ جانب ہوں گے۔ لیکن ہمارے اندر اس بات کو تسلیم کرنے کی ایمان داری بھی ہونی چاہیے کہ ہندستانی جمہوریت کے تانے بانے کو نریندر مودی، ان کی پارٹی اور ان کی حکومت اس بری طرح سے جان بوجھ کر نقصان پہنچایا ہے کہ آج ہم ایک ایسے موڑ پر ہیں کہ جہاں سے نجات حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا 1977ء میں تھا۔ آگے آپ لکھتے ہیں کہ جمہوریت کسی عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھی جانے والی شے نہیں ہے، بلکہ ایک طرز حیات ہے، جس کے کے تحفظ و استحکام اور توسع کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ المیہ یہ ہی ہے کہ نریندر مودی جموریت کامقبرہ بنا رہے ہیں، اور یہ اسی عمارت میں ہوگا جہاں ابھی ہندوستان کی پارلیمنٹ موجود ہے۔ مزید آپ فرماتے ہیں کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ اس کے لئے آمادہ نہیں ہے کہ وہ اپنی آزادی کا استعمال کرکے کے زمینی صورتِ حال کی خبر دے۔ ہندوستانی جمہوریت کو درپیش بحران میں میڈیا کی اس بے حسی کا غیر معمولی رول ہے۔“ ریاستہائے متحدہ امریکا کے سکریٹری آف اسٹیٹ اینٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ:

”ہندستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کو میں جمہوریت کا بحرانی دور کہہ سکتا ہوں یہ ایک مسئلہ ہے جس کا سامنا امریکا بھی کر رہا ہے۔“

جس ملک میں غربت، انتہا درجے کی ہو، جہالت ، انتہا درجے کی ہو اور سماجی عدم تحفظ انتہا درجے کی ہو، اس ملک میں عوام جمہوری نہیں ہوتے اور ان کا فیصلہ بھی جمہوری فیصلہ نہیں ہوتا۔ ہمارے انتخابات کسی لحاظ سے جمہوری انتخابات نہیں ہیں، ہمارا process جمہوری نہیں، ہماری حکومت بھی جمہوری نہیں ہے؛ کیوں کہ جمہوریت کے لئے Rule of law  (رُول آف لا) یعنی قانون کی حکمرانی ہو۔ جس میں صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ، ایم پی، ایم ایل اے اور جملہ افسران کے تحفظات کا کوئی قانون نہ ہو اور آئین طاقت ور ہو، مگر یہاں  قانون کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ پارٹیاں طاقتور ہیں۔

 جس ملک میں عوام اور طاقتور طبقے کے درمیان برابر نہیں اس ملک کے نظام کو جمہوریت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

Comments are closed.