برادران وطن سے توحید پرستی کی تلقین!جائزہ

ترجمانی: ڈاکٹرآصف لئیق ندوی
8801589585
اسلام چونکہ وہ ہمہ گیز مذہب ہے جو کفروشرک،جہالت ولاقانونیت، قتل وغارت گری اور ظلم وناانصافی کیساتھ بت پرستی سے مکمل بیزاری اور توحید پرستی کی مکمل تعلیم دیتا ہے،اسی میں پوری انسانیت کی فلاح و بہبوداور اسکی نجات پوشیدہ ہے، مگر افسوس!ان عقلوں اور ارباب اقتدار پرجو اپنے فرض منصبی سے ہی منہ چرانے لگے،ضمیرفروشی کرنے لگے تووہ عوام وخواص کا کیا بھلاکریں گے! جب دل ہی نہ مانے تو بہانے ہزار ہیں!لاکھ دعوت دے دی جائے مگر دل پر جب مہر لگادی گئی تو ہدایت پانا بہت مشکل کام ہے، ملک ہندوستان میں اسوقت جو پالیسیاں اختیار کی جارہی ہیں وہ اسلام مخالف پالیسی ہے، ایسی حکومت سےاصلاح کی امید موہوم ہے، جس کے ذریعے بربادی صرف معیشت ومعاشرت کی نہیں!بلکہ انسانیت کی ہمہ گیر تباہی منسلک ہے،اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہی نیت میں اگر کھوٹ پیدا ہوجائے تو یہی تمام بیماریوں اور مصیبتوں کی جڑ ہے،جوملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا بھی اصلی سبب ہے، کیونکہ جیسی نیت ہوگی ویسی ہی برکت نازل ہوگی، جیسا بیج بویا جائے گا، ویسی ہی کھیتی ہوگی!!آج اسی نیت کے نتائج مشاکل ومسائل کے پھل کی شکل میں ہماری آنکھوں کے سامنے ہے،ملک میں اقلیتوں کی جان ومال،عزت وآبرو، کاروبار وتجارت اور انکے مکانوں کی نیلامی وانہدام کے بے شمار واقعات ہیں! جسکا باربار تذکرہ قارئین کرام کیلئے طوالت کا باعث ہوگا اور تمام احباب ورفقاء ہر بات سے واقف ہیں۔

ملک کے طول وعرض میں کون سا ایسا حصہ ہے جوفساد وبگاڑ اور ظلمت وجہالت سےبالکل پاک وصاف ہو!ملک کی تعمیرو ترقی کا ہر شعبہ پستی وبدحالی سے دوچار ہے! غبن اور غصب کے معاملات نے جو روزبروزبڑھتے ہی جارہے ہیں، ملک کی معیشت کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے، بینکوں میں جمع شدہ پیسوں کے غبن ہوجانے کے واقعات بھی اب رونما ہونے لگے ہیں، اڈانی کے سوارب ڈالرکی ہیرا پھیری کیا ملک کی معیشت کا نقصان نہیں ہے!؟ جسکے تازہ واقعہ نے پارلیامنٹ میں بڑا ہنگامہ کھڑا کر کے رکھ دیا ہے، معاملہ سپرم کورٹ کے سپرد ہے۔

زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جو اسوقت برے حالات سے متاثر نہ ہو، علمی وفکری ،اخلاقی ومعاشرتی،دعوتی واصلاحی اور مذہبی ودینی حلقوں اور مراکز میں بھی بے چینی و اضطراب کی پوری کیفیت محسوس کی جارہی ہے، امن وامان اور چین وسکون کا زبردست فقدان ہے اور اسی وجہ سے پورا ملک تباہ کن موڑ پر کھڑا ہوگیا ہے، دوسری طرف اسلامی فوبیا عروج پر ہے، ملک کوجمہوری نظام سے ہندوراشٹریہ میں بدل دینے کی کوشش زوروشور سے چل رہی ہے، تنگ نظری اور خودغرضی کا معاملہ عام ہوتا جارہا ہے،ہرطرف عدل وانصاف کا گلا گھونٹا جارہا ہے، ظلم وزیادتی کے بڑھتے واقعات سے عدل پسند احباب بے قراری کے عالم میں ہیں، شرپسند عناصر اور تخریب کار تنظیموں کی جانب سے کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، دستورمخالف بیانات جاری ہورہے ہیں، نسل کشی کی پلاننگ ہورہی ہے، مسلمانوں سے نفرت وعداوات کا بیج بویا جارہا ہے، غرض کہ ملک میں سیاسی پستی کیساتھ ساتھ مذہبی بے راہ روی، اخلاقی انارکی، طبقاتی کشمکش ، علمی وفکری تنزلی اور معاشرتی لاقانونیت کے اس نقطے پر پہونچ گئی ہے کہ اب آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیت علمائے ہند کے ذمہ داروں نے ملک میں امن وامان ،یکجہتی ویگانگت ، اخوت ومودت اور اتفاق واتحاد کی بحالی کا بیڑہ اٹھایا ہے، اللہ کرے ، یہ تمام کوششیں کامیاب ثابت ہوں، بورڈ نے چند دن قبل ندوۃ العلماء میں اپنی میٹنگ کے بعد جو بیان جاری کیا ہے، وہ ارباب اقتدار، منتظمہ، عدلیہ،میڈیا سمیت جملہ احباب ورفقاء اور برادران وطن سے متعلق ہے۔

گذشتہ کل جمعیت علما ہند(م) کے اسٹیج سے دہلی کے مشہور رام لیلا میدان میں حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہ العالی نے جو دعوتی خطاب کیا ہے، جسکو انہوں نے تاریخ ادیان کیساتھ ساتھ قرآن و حدیث سے مدلل پیش کیاہے، دیگر مذاہب کےرہنماؤں کا بھی منو اور اوم کے سمجھنے میں مدد لی ہے، وہ بیان سننے کے لائق ہے،ایک طرح سے وہ جمعیت علمائے ہند (م)کے اسٹیج سے کئے گئے تمام خطابات کا لب لباب بھی ہے اور اسلام کی سچی دعوت اور بہترین ترجمانی بھی ہے، اس دور میں جبکہ مسلمانوں کے نسل کشی کی باتیں کی جارہی ہیں، انکے حقوق کو ہرجگہ اور ہرمحاذ پر تلف کیا جارہا ہے، اسوقت مولانا کا قافلۂ انسانیت کو اسلام اور مسلمان کا بصیرانہ معنی ومفہوم سمجھانا اور اسلامی سائے میں داخل ہوجانے کی اپیل کرنا بڑا عالمانہ اور پرمغز خطاب ہے، جس نے اس اجلاس کا کفارہ ادا کردیا ہے، پیری و ضعیفی کے باوجود مولانا نے جو زوردار اور طاقتور خطاب کیا ہے جس نے پھرسے ان کی اور انکے آباء و اجداد کی جرأت مندی اور بہادری کا واضح ثبوت پیش کردیا ہے، اللہ نے ملک کی راجدھانی میں لاکھوں کے مجمع سے توحید کا پیغام دنیائے انسانیت کے نام پہونچانے کا ان سے جوبڑا کام لیا ہےجسے کہنے کے لئے جرأت اوربلند حوصلہ سے بھرا کلیجہ اورشاہیں کا جگر چاھئے، جسے ہم کلمۃ حق عند سلطان جائر کا بہترین نمونہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

چیتے کا جگر چاھئے شاھیں کا تجسس
دنیا نہیں مردان جفاکش کیلئے تنگ

مگر افسوس ! اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ، بگڑتے حالات اور امتحان وآزمائش سے لبریز اس پرفتن دور میں مولانا نے اسلام کاجو ہمہ گیر پیغام سنایا، جس پر بڑے مدنی اٹل بھی ہیں،مجمع میں بعض جہت سے کچھ اختلاف بھی سامنے آیا مگر چھوٹے مدنی کااے بی وی پی نیوز چینل پر جاکر جینی دھرم گرو سے ایک بار نہیں بارہا معافی طلب کرنا مولانا کی تقریر کے اثر کو برباد کرنےاور اپنے گھر کو پھوٹ کا شکار بنانے کے مترادف ہے، جو بہت ہی غیر مناسب بات ہے، جبکہ مولانا نے دین اسلام کوصرف ہندوستانیوں ہی کا دین و مذہب نہیں بلکہ ہندو، جین، نصاری اور یہودیوں کا ایک عالمگیر مذہب قرار دیاہے جس کے داعی اوّل منو یعنی آدم علیہ السلام تھے، جو دیگر جگہوں کے بجائےاس خوش نصیب ملک یعنی ملک ہندوستان میں اتارے گئے، بدقسمتی سے یہاں کے لوگوں نے منو یعنی آدم کی خداپرستی اور پسندیدہ دین یعنی اسلام سے ہٹ کربت پرستی کا راستہ اختیار کرلیا جو نہ منو کا بتایا ہوا راستہ ہے اور نہ انکے بعد آنے والے انبیاء اور رسولوں کا دین ومذہب ہے بلکہ بت پرستی خود ساختہ طریقہ اور گمراہی وضلالت کا راستہ ہے، جس پر چل کر دنیا بھی بگڑتی ہے اور آخرت بھی برباد!!بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج اس ملک میں منو کے خالق کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے بجائے وہ لوگ کروڑوں معبودان باطل کے آگے سجدہ ریز ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں،مضحکہ خیز اور شرمناک صورتحال یہ ہے کہ منو یعنی آدم کے پیغام برحق پر عمل کرنے والوں اور اللہ کے سچے پرستاروں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرتے ہیں، انکی شریعت کیساتھ چھیڑ خوانی کرتے ہیں، چھیڑ چھاڑ میں حد سے اتنا تجاوز کرگئے ہیں کہ مولانا نے فرماتے ہوئے کہ آج ہمیں صحیح گھر واپسی کی صحیح صحیح باتیں کہنی پڑ رہی ہیں حالانکہ میرا اس موضوع پر کبھی بولنا نہیں ہوا مگر جب ملک میں لوگوں نے منو یعنی آدم اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے دین و شریعت کو چھیڑا تو ہمیں بھی اب چھیڑنے کا موقع ملنا چاہئے اور ہدایت کی طرف لوگوں کو دعوت دینے کا اوسر ہاتھ آنا چاہئے۔ اسلئے میں ایک ایشور یا اوم کیطرف سب کو بلاتا ہوں تاکہ پوری انسانیت گمراہی وضلالت سے نکل کر فلاح وبہبودکے راستے پر پھر سے گامزن ہوسکے جسکا منو یعنی آدم کو اسکے خالق یعنی اللہ نے پیغام حق لے کر بھیجاہے اور انہوں نے اس پیغام کو عام کر نے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔

خداپرستی اور توحید پر مبنی رام لیلا میدان میں مولانا ارشد مدنی کا وہ ایمان افروز بیان جس پر پورے ملک میں بڑا چرچا ہورہا ہے، میڈیا میں اس پر بحث ومباحثہ ہورہا ہے، جو مولانا مدنی نے دہلی کے میدان میں کھچاکھچ بھرے مجمع سے برجستہ خطاب کیا ہےجسکو پورا مجمع اور رام لیلا میدان ہمیشہ یاد رکھے گا اور وہ ان شاء اللہ قیامت کے دن بھی حجت کے طور پر پیش کیا جائے گا، جہاں کی مٹی اس پیغام حق کو نہ تسلیم کرنے والوں کے خلاف گواہ ہوگی اور توحید کے پیغام سے انکار کرنے والوں کے خلاف گواہی دے گی،وہ خطاب واقعتا ایک اسلامی خطاب تھا، جو بجلی کا کڑکا بن کر باطل کے ایوانوں پر گرا اور باطل کی چیخ و پکار نے ثابت کردیا کہ تیر نشانے پر لگا ہے اور یہ بھی سمجھنا آسان ہوا کہ نبیوں کی دعوت پر اسوقت کے کفار کیسے تلملاتےرہے ہونگے ۔ جیسا کہ عرب دیش کے کفار ومشرکین نے بنی آخر الزماں کی دعوت حق پر تلملایا تھا۔مگر اللہ نے انکو سمجھ عطا کی اور وہ توحید پرست بن گئے۔ اللہ ہمیں اور برادران وطن کو بھی توحیدپرست بنائے۔

وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی

Comments are closed.