رائے گڑھ کے قبرستان کا منظر
احساس نایاب
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن
جب قبرستانوں میں ناچ گانا ڈی جے بجنے لگیں تو سمجھ جائیں مسلمانوں کے دل مردہ ہوچکے ہیں, اور ہم جہالت کے اُس آخری سرے پہ کھڑے ہیں جہان سے لوٹنا شاید ناممکن ہے , ایسے میں زمین پھٹ کر اللہ کا عذاب کیوں نہیں آئے گا ؟
آن کی آن میں عالیشان محلات کھنڈر کیوں نہ بنیں گے ؟ ہم پر ظالم حکمران کیوں نہین مسلط کئے جائیں ؟ ہماری دعاؤں میں تاثیر کیوں کر ہو ؟ اور ہم اپنے رب سے اپنی بربادی تباہی کی شکایتیں کس منہ سے کریں گے ؟
جبکہ یہان گنہگار کوئی ایک نہیں بلکہ جانے انجانے سارے ہین , کوئی باقاعدہ اپنے ہاتھوں سے گنہاہ کررہا ہے تو کوئی گناہ ہوتا دیکھ کر بھی خاموش رہ کر گنہگار بن رہا ہے
جبکہ احادیث مبارکہ میں کھلا فرمان ہے اگر غلط ہوتا دیکھیں تو ہاتھ سے روکو , اگر ہاتھ سے روک نہیں پاؤ تو زبان سے روکنے کی کوشش کرو اگر زبان سے بھی روکنے کی ہمت نہ ہو تو آخر درجہ دل میں بُرا سمجھو
لیکن آج ہمارے لئے ہر چیز تفریح کا سامان ہے ,گناہ بھی, کوئی گناہ کرکے مزہ لے رہا ہے تو کوئی دیکھ کر اور بڑے سے بڑے گناہ کو بھی مذاق کی حد تک دیکھا جارہا ہے اور کہیں اگر اصلاح کی گنجائش ہے تو وہاں بھی تنقید کے نام پر بس ایک دوسرے کی بُرائیاں کی جارہی ہیں اور اُس پر ہنسی ٹھٹولے ہوتے ہیں ……
افسوس کہ آج قوم مسلم میں غور و فکر کرنے والوں کا فقدان ہے اور اسلام کے شہید جانبازوں کے وارث آج سوشیل میڈیا کے مینڈک بن چکے ہیں
خیر جتنا کہا جائے کم ہے لیکن ان حالات کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے
بالخصوص 15 پندرہ شعبان کی مقدس راتوں کے مناظر
عبادتوں والی مقدس رات جس کی فضیلتیں کوئی جھٹلا نہیں
سکتا لیکن آج خود مسلمانوں کے ہاتھون اُس مقدس راتوں کی حرمت کو پامال کیا جارہا ہے , جس رات مسلمانوں کو سجدوں میں گر کر اپنے روٹھے رب کو منانا چاہئیے تھا, رب کے حضور رو کر گڑگڑ کر دعائیں مانگنی چاہئیے تھیں, مرحومین کے حق میں مغفرت کی دعائیں مانگنی چاہئیے تھی اُس وقت بھی ہم قوالیوں اور آوارہ گردی میں مصروف رہے ……..
جس کا ثبوت رائے گڑھ کا قبرستان اور دیگر کئی قبرستانوں کے مناظر ہیں جہاں انسان کی انسانیت آخری سسکیاں لے رہی ہے ……
کل تک قبرستانوں کو عبرت کا مقام مانا جاتا رہا ہے جہاں دوران تدفین یا قبروں کی زیارت کے دوران گمراہ بھولے بھٹکے ہوئے مسلمانوں کو بھی خدا یاد آتا ہے اور کچھ پل کے لئے ہی سہی وہ عارضی دنیا سے ہٹ کر اپنے رب کی حقانیت کو تسلیم کرتا ہے اور ایسے کئی واقعات بھی گزرے ہیں جس میں بڑے سے بڑے دنیا پرست شخص نے بھی یہاں پہنچ کر توبہ کرلی اور اپنے دل سے دنیا کی چاہتیں نکال کر اپنی آخرت سنوارنے میں مگن ہوگیا
لیکن افسوس آج عبرت کے یہ مقدس مقامات بھی دجالی فتنوں سے پاک نہیں رہے , بیشک یہ دجالی پیروکار ہی ہیں جو اس قسم کی حرکتیں کررہے ہیں , قبروں میں سوئی روحیں بھی ان کی اس حرکتوں سے بےچین ہوگئی ہوں گی اور سوچ رہی ہون گی کہ انہیں قبروں میں بھی سکون سے رہنے نہیں دیا جارہا
کہیں کسی قبرستان مین قوالی پروگرام ہورہے ہین , تو کہیں قبرستانوں کو برقی قمموں سے دلہن کی طرح سجایا جارہا ہے , کہیں گمراہ عقیدوں و جھوٹی محبتوں کے نام پر قبروں کو پھلوں و دیگر اشیاء سے سجایا جارہا ہے تو کہیں جہالت کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے قبرستانوں میں مختلف تقریبات کئے جارہے ہیں , ایسا لگتا ہے کہ ساڑھے چودھا سو سال قبل پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری انسانیت کو جس دور جہالت سے نکال کر ان کے تاریک دلوں میں توحید کی شمع جلائی تھی آج وہ شمع آندھیوں کی زد میں ہے اور اُمت مسلمہ ایک بار پھر دور جہالت کی طرف تیزی سے بڑھتی جارہی ہے , دنیا سے انسانیت کا مکمل خاتمہ ہونے کو ہے اور بُت پرستی کو شرک کہنے والا, پت پرستوں کو مشرک کہنے والا مسلمان بھی آج شخصیت پرستی میں غرق ہوکر اپنی دنیا و آخرت دونوں بگاڑ رہا ہے , پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام پیش گوئیاں سچ ہورہی ہیں اور ہر مسلمان کا ایمان خطرے میں ہے لیکن افسوس کہ کسی کو اس کا احساس تک نہیں رہا ………
Comments are closed.