جس کا مالک اللہ ہے اسے کسی دنیاوی بادشاہ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں
عظیم الشان جلسہ دستاربندی و عطائے خلعت جامعہ رحمانیہ کلوڑ بستی پونے سے مولانا خالد ندوی غازی پوری استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کا خطاب
پونے( بصیرت نیوز ڈیسک/عدیل قاسمی ) اللہ ہمارا رب ہے وہ شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے اور جس کا رب اللہ ہو اسے کسی بھی حال میں پریشاں ہونے کی ضرورت نہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں لیکن رب وہی ہوتا ہے، اللہ ہر دسیسہ کاری اور ریشہ دوانیوں نے اچھی طرح واقف ہے، اس لیے مسلمانوں کو زیادہ گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ رب سے اپنا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر کرنے سعی و کوشش کرنی چاہیے، ان خیالات کا اظہار شہر پونہ کے معروف ادارہ جامعہ رحمانیہ کلوڑ بستی لوہ گاؤں کے سالانہ جلسہ دستار بندی و عطائے خلعت کے موقع پر کر مولانا خالد ندوی غازی پوری استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کر رہے تھے، صدر اجلاس اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ چار لاکھ مسلمانوں کا قتل عالم کرنے والا ہلاکو خان اور چنگیزی فوج کا اب دنیا میں کوئی نام و نشاں نہیں ہے اسلام اس وقت بھی محفوظ رہا اور آج و کل بھی اسلام باقی رہے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہلاکو خان جیسے حکمراں اسی وقت مسلط کیے جاتے ہیں جب اہل زمیں کا رشتہ و ناطہ آسمان والے رب سے ٹوٹنے لگتا ہے، ہم جس وقت اللہ سے رشتہ جوڑ لیں گے اسی وقت دنیا سے ظلم کا تختہ پلٹ جائے گا۔
بتا دیں کہ مدرسہ جامعہ رحمانیہ کلوڑ بستی؛ شہر پونے کا اک ایسا ادارہ ہے جہاں قیام و طعام کے ساتھ دینی علوم کے ساتھ ساتھ طلباء کرام کو عصری تعلیم سے بھی آراستہ کیا جاتا ہے، بچوں کو باضابطہ اسکول میں بھی داخل کرایا جاتا ہے۔
مدرسہ کے مہتمم مولانا شاکر رحمانی نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے عوام الناس اپیل کی ہے کہ وہ اپنی دعاؤں جامعہ رحمانیہ کو ضرور یاد رکھیں تاکہ مدرسہ کے عزائم اور تعمیرات جلد تکمیل کو پہنچ سکے، قبل ازیں جہاں مدرسہ کے طلباء نے مختلف زبانوں میں پرمغز تقاریر اور اہم اسلامی معلومات پر مبنی زبردست مکالمے پیش کرتے ہوئے خوب داد تحسین حاصل کیے وہیں عدنان عثمانی نے عمدہ خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔
اس موقع پر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر غلام مصطفی عدیل قاسمی، جناب بدر عالم کے علاوہ علماء کرام میں مفتی افروز قاسمی بستوی، مولانا اقبال قاسمی بستوی، قاری ادریس انصاری، حافظ جاوید صدیقی، مولانا اسداللہ، مولانا فیضان قاسمی، مولانا جمیل مظاہری، مولانا شمیم مظاہری، قاری اقبال عثمانی، مولانا شہاب الدین مظاہری، مفتی قمر الدین فاسمی، مفتی آفتاب مظاہری، مولانا مشتاق سر فہرست ہیں جبکہ عمائدین و ساکنین شہر میں ڈاکٹر صادق انور خان، کیپٹن قاسم، شکیل منیار، ایوب تنبولی، عبد العزیز سر، سراج آرکیٹیکٹ، آصف کھوکھر، اسلم چاچا، شفیق بھائی، عرفان انصاری، عتیق شیخ، ارباز شیخ، عارف بھائی، عبد العزیز، سمیر، مولانا فیاض، حافظ حذیفہ، مولانا آصف، حافظ تنویر، اسامہ صدیقی وغیرہ قابل ذکر ہیں انکے علاوہ عوام الناس کی بڑی تعداد اجلاس میں شریک ہوئی۔
آخر میں صدر اجلاس اور مہمان خصوصی مولانا خالد ندوی غازی پوری استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی دعاء پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔
Comments are closed.