Baseerat Online News Portal

آج ڈی سی آفس میں اذان دی ہےان شاءاللہ ایک دن پارلیمنٹ میں بھی اذان دیں گے!

 

احساس نایاب شیموگہ کرناٹک

ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن

 

ریاست کرناٹک کے شیموگہ میں احتجاج کے دوران ایک نو جوان نے ڈی سی آفس کے احاطہ میں اونچائی پہ چڑھ کر بلند آواز میں اذان دی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈی سی آفس کے اطراف و اکناف کا سارا علاقہ سبز پرچم کے ساتھ نعرہ تکبیر اور اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی جانکاری کے لئے ہم بتادیں کہ وہ پورا علاقہ کٹر سنگھیوں کا اکھاڑا ہے ۔۔۔۔۔

بہرحال پورا معاملہ در اصل یہ ہے کہ شیموگہ میں مرکزی سنی جمعیت علما کمیٹی کی جانب سے بی جے پی کے سابق وزیر کے ایس ایشورپا جس نے اذان اور اللہ سبحانہ تعالی کی شان میں گستاخی کی تھی ، اس ملعون کے خلاف کل بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی سی کو میمورنڈم پیش کیا جانا تھا۔۔۔

جس کے چلتے وقت مقررہ پر مسلمانان شہر ڈی سی آفس میں جمع ہونے لگے۔ کثیر تعداد میں نو جوان بھی وہاں پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔ اور نوجوانوں نے اپنے ایمانی جذبہ کا ایسا مظاہرہ کیا کہ وہاں موجود فرعونی طاقتوں کے دانٹ کھٹے کردیئے ۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک نو جوان فورا ڈی سی آفس کی سیڑھیوں پر چڑھ کر بلند آواز میں اذان دینے لگا جسے سُن کر وہاں موجود پولس و انتظامیہ فورا حرکت میں آگئی اور نوجوان کو روکنے کے لئے پولس جیسے ہی آگے بڑھی وہاں موجود دیگر نوجوانوں نے اذان مکمل ہونے تک انسانی زنجیر بنا کر اذان دے رہے نوجوان کو تحفظ فراہم کرنے لگے اور اذان کو روکنے کے لئے پولس کی ساری کوششیں ناکام رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔

 

اذان دیئے جانے کو لے کر پولس اور نوجوانون کے درمیان کافی ہنگامہ ہوا یہاں تک اطلاع ملی ہے کہ پولس نے نوجوانوں کو گندی گالیاں دیں اور معاملہ گرفتاریوں تک پہنچ گیا ۔۔۔۔۔۔ لیکن دشمنان اسلام کے سامنے صدائے حق بلند کرنے والوں کو اللہ سبحانہ تعالی نے بچالیا ۔۔۔۔۔۔

 

لیکن نوجوانوں کے غم و غصہ میں کمی نہیں آئی اور ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نوجوانوں نے کہا کہ مسلمان اللہ اور نبی کی شان میں گستاخی کبھی برداشت نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔ ہم ڈی سی آفس ہی نہیں بلکہ پارلمینٹ میں بھی اذان دیں گے۔۔۔۔۔۔۔

 

اس طرح ہمارے مسلم نوجونوان نے طاغوتی طاقتوں کے سامنے اپنی جرات و غیرت ایمانی کا ثبوت پیش کیا ۔۔۔۔۔

سلام ہے اپنے ان بھائیوں کی جراءت پر جنہوں نے فرعونی طاقتوں کے سامنے اسلام کا پرچم بلند کیا،

اس بھائی اور احتجاج میں موجود اس جیسے تمام بھائیوں کی جراءت اور اسلام کے تئیں ان کی محبت کو لے کر ان کے جوش ان کی تڑپ پر ہم اور ہم جیسی اُمت کی تمام بیٹیاں قربان ہیں ……..

Comments are closed.