Baseerat Online News Portal

پاکستان : سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ پر بلڈوزر کارروائی

 

پولیس زمان پارک میں گیٹ توڑ کر کے گھر میں داخل،کارکنوں پر لاٹھی چارج، ۶۰گرفتار ، بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ،اسلام آباد عدالت کے باہر پولس پر پتھرائو، توشہ خانہ کیس کی سماعت ۳۰مارچ تک ملتوی، پی ٹی آئی سربراہ کا وارنٹ گرفتاری منسوخ

بصیرت نیوزڈیسک

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس نے ہفتہ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے گھر میں گھس کر طاقت کا استعمال کیا اور پارٹی کے ۶۰ سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ خان کارروائی کے وقت توشہ خانہ کیس کی سماعت کے لیے اسلام آباد کی ایک عدالت جا رہے تھے۔پولیس نے خان کی زمان پارک رہائش گاہ پر پارٹی کی جانب سے لگائے گئے کارکنوں کے کیمپوں کو ختم کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ خان کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے، پولیس نے دفعہ ۱۴۴نافذ کر دی تھی۔ لاہور پولیس مین گیٹ کو بلڈوز سے توڑ کر گھر میں داخل ہوئی اور پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی کارروائی کے جواب میں خان کی رہائش گاہ کے اندر سے براہ راست فائرنگ اور پٹرول بموں کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔ادھر اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ متعدد کارکنان اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔کارکنان پولیس کی متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ پولیس کی موبائل جیمر سے لیس قیمتی گاڑی کے شیشے بھی توڑ دیے گئے۔ کارکنان نے ایک نجی گاڑی بھی الٹا دی۔ان جھڑپوں کے دوران پولیس نے پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان کو بھی حراست میں لے لیا۔ حالات کشیدہ ہونے کے باعث عمران خان اپنی گاڑی سے نکل کر عدالت نہ جا سکے جس کے بعد جج نے انہیں گاڑی میں ہی بیٹھ کر عدالت میں حاضری لگانے کی اجازت دی جس کے بعد وہ واپس لاہور اپنے گھر زمان پارک کے لیے روانہ ہوگئے۔توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی حاضری کے بعد عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کیا۔اے آر وائی نیوز کے مطابق توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی حاضری کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت ۳۰مارچ تک ملتوی کردی ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ ۳۰ماچ کو کیس کے قابل سماعت ہونے پر دلائل ہوں گے اور اسی دن عمران خان کو حاضری بھی ہوگی، اس دن کیا صورتحال ہوگی وہ الگ بات ہے۔تفصیلی خبر کے مطابق سنیچر کو عمران خان کے اسلام آباد کی عدالت میں پیشی کے لیے روانہ ہونے کے بعد پولیس نے زمان پارک کے علاقے کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور وہاں جانے والے تمام راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا۔پولیس کی کارروائی کے بعد آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سرچ وارنٹ کے تحت فی الحال کارروائی نہیں کی جا سکی اور پولیس ابھی بھی زمان پارک میں موجود ہے۔سرچ وارنٹ سنیچر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جج عبہر گل نے جاری کیا تھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ تحقیقاتی افسر کے ہمراہ لیڈی پولیس افسر بھی موجود ہونی چاہیے جن کا رینک انسپکٹر سے کم نہ ہو۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان نے کہا کہ پولیس کارروائی کے دوران عمران خان کی رہائش گاہ سے اسلحہ برآمد ہوا ہے اور مزید بھی وہاں موجود ہے۔انہوں نے برآمد شدہ پیٹرول بم دکھاتے ہوئے کہا کہ کارروائی کے دوران پولیس نے وہ جگہیں بھی دیکھیں جہاں پیٹرول بم تیار کیے جاتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کے باوجود پولیس نے علاقے کو کلیئر کیا اور وہاں موجود افراد کو گرفتار کیا ہے۔آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ پولیس نے تمام کارروائی ربڑ یا لائیو گولی چلائے بغیر کی اور تمام تجاوزات کو ہٹا دیا گیا ہے جس سے ٹریفک بھی متاثر ہوتی تھی۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ جیو فینسنگ اور جیو ٹیگنگ کے ذریعے تمام افراد کی شناخت کی جائے گی اور شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے، کسی بے گناہ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔بشریٰ بی بی کے حوالے سے سوال کے جواب میں آئی جی پنجاب نے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی کے بارے میں سوچا بھی نہیں ہے، کسی خاتون کو گرفتار کرنے نہیں گئے تھے۔اس سے قبل زمان پارک میں موجود پولیس اہلکاروں نے بتایا تھا کہ گھر کے اندر سے ان پر فائرنگ کی گئی ہے اور پیٹرول بم پھینکے گئے ہیں۔دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ زمان پارک میں آپریشن شر پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا ہے۔تجاوزات کو ہٹانے کے لیے پولیس کے ساتھ ضلعی حکومت کی اینٹی انکروچمنٹ فورس بھی موجود تھی جنہوں نےکرینوں کی مدد سے عمران خان کے گھر کے باہر لگے ٹینٹ اور مورچے توڑ دیے ہیں۔ زمان پارک میں گھر کے قریب تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا جس کے بعد ان پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے۔ عمران خان کے گھر کے بیرونی گیٹ کو اندر سے بند کر کے چند کارکن چھتوں پر چڑھ گئے اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کے بعد کرین کی مدد سے بیرونی گیٹ کو توڑ دیا گیا۔ پولیس کے مطابق گھر کے احاطے میں داخل ہونے کے بعد چھت سے ایک شخص نے سیدھا فائر کیا جس کی وجہ سے پولیس ایک دفعہ پیچھے ہٹی۔

Comments are closed.