رمضان اورتقوی کےبنیادی عناصر

مفتی محمد احمد نادر القاسمی
باحث علمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

ہمارے وطن کی آج کل جو صورت حال ہے اس میں رمضان کریم میں نہایت دانشمندی کے ساتھ راتوں کو اپنے برادران وطن کا خیال کرتے ہوٸے کھانے پینے کی دکانوں کے کھولنے کا معمول بنانا چا ہیٸے تاکہ ہماری عبادتوں کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو کیونکہ رمضان ہماراہے ان کا نہیں ۔رمضان کے روزےاللہ نے ہمارے لٸے فرض کیٸے ہیں اورہمیں اس کا اہتمام کرناہے۔ ہمیں کسی بھی قسم کی ناشاٸسہ ہنگامہ آراٸی سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ ہماری عبادت کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو ۔کیونکہ جس طرح ہم سوچتے ہیں ہمیں سہولت ہو اسی طرح وہ بھی سکون چاہتے ہیں اوررمضان کی خوبی یہ ہے کہ روزہ تحمل، متانت، دوسروں کا خیال، رواداری، ہمدردی، سخاوت اور معروف کا اہتمام منکر سے مکمل بیزاری اوررحمدلی سکھاتاہے جو تقویٰ کے بنیادی عناصر ہیں ۔اگر رمضان میں ہمارے طرزعمل سے یہ چیزیں آشکار نہیں ہوتیں توپھر ہماراروزہ مکمل طاعت ربانی کی خصوصیت کا حامل نہیں کہلاٸے گا۔
”تقدیر کے پابندنباتات وجمادات
مومن فقط احکام الہی کا ہےپابند“ اس ضمن میں ایک بات یہ بھی ہمارے ذہن میں ہمیشہ کھٹکتی رہتی ہے اس پر شرعی نقطہ نظر سے ارباب افتا اوراہل علم کو غور کرناچاہیٸے کہ کیا یہ عمل از روٸے شرع درست ہے یا نہیں وہ ہے افطار وسحر کے وقت بیک وقت ساٸرن بجاٸے جانے کا مسٸلہ ۔میری ناقص فہم کے مطابق ساٸرن کابجایاجانا درست نہیں ہے نہ اطار کے وقت اور نہ ہی سحری کے وقت. افطار کے وقت تو اس لٸے درست نہیں ہے کہ جب سورج غروب ہوتاہے تو غروب آفتاب سے نماز مغرب کاوقت شروع ہوتاہے اوراس کے لٸے شریعت نے اذان کومشروع کیاہے ۔اوروہی غروب آفتاب سے روزہ کا اختتام یعنی کھانے پینے کی اجازت کاوقت بھی شروع ہوتاہے اورروزہ دار اس دن کے روزے کی قید سے آزاد ہوجاتاہے ۔اب دیکھنایہ ہے کہ غروب آفتاب کے وقت نماز مغرب کی اطلاع ضروری ہے یاکھانے پینے کا اعلان ۔میرے خیال میں نماز مغرب کی اطلاع ضروری ہے ۔اس لٸے افطار کے وقت ساٸرن نہیں بلکہ اذان ہونی چاہیٸے ۔۔۔نیز غروب آفتاب کے وقت ساٸرن بجانے میں مشرکین کی مشابہت بھی ہے. آپ نے دیکھااورسناہوگاکہ جب آفتاب غروب ہوتا ہے تواس وقت مشرکین مندروں میں سنکھ بجاتے ہیں اوردیرتک بجاتے رہتے ہیں ۔ایساخیال ہوتاہے کہ ہماری مسجدوں میں بجنے والےساٸرنوں کی آواز اس سے الگ نہیں ہے اس لٸے اس میں مشابہت کااندیشہ بھی ہے ۔اگرچہ برصغیرہندوپاک، بنگلہ دیش اوربرماوغیرہ میں عام ہونے کی وجہ سے اس طرف ہمارا ذہن نہ جاتاہو ۔اس لٸے میں افطار کے وقت ساٸرن بجانے کو غیردینی عمل تصور کرتاہوں۔ جہاں روزے کی وجہ سے دس پانچ منٹ تاخیر سے مغرب اداکرنے کی گنجاٸش کاتعلق ہے تو وہ اذان کے بعد بھی نکل سکتی ہے اور ہے اس کے لٸے اذان میں تاخیراورساٸرن کی گنجاٸش نہیں نکالی جاسکتی کیونکہ اس کی کوٸی شرعی بنیاد نہیں ہے اورمغرب میں افطار کی وجہ سے قدرے جماعت میں تاخیرکے مسٸلہ کو ”کل بین الآذانین صلاة ۔لمن شإ “ والی حدیث کی روشنی میں حل کیا جاسکتاہے۔اس بات کی گنجاٸش اس حدیث سے نکلتی ہے جس کا جی چاہے مغرب کی اذان کے نفل پڑھے یا بھوک پیاس کی شدت کو مٹانے کےلٸے تھوڑا افطار ہی کرلے کیونکہ مغرب کی اذان کے بعد سنت صرف مباح عمل ہے اورنہ پڑھنا بھی ثابت ہے جس پر ہمارا عمل ہے۔
دوسرامسٸلہ سحری میں ساٸرن بجانےکا ہے، سحری میں جگانے کے لٸے تو تھوڑی دیر کےلٸے کہ سکتے ہیں کہ یہ نیند اورغفلت کاوقت ہوتاہے ۔اس وقت نیند سے جگانے کےلٸے تھوڑا ساٸرن بجایاجاسکتاہے ۔اوراس میں دینی اور شرعی لحاظ سے کوٸی حرج نہیں معلوم ہوتا ہے، ساونڈ پولوشن کی بات الگ ہے مگر سحری کے اختتام پر جب فجرکی اذان کاوقت ہوتاہے تو اس وقت ساٸرن کی آوازوں کی ہنگامہ آراٸی کے کیامعنی ۔۔؟ اب اذان کاوقت ہوچلا تو اذان ہونی چاہیۓ نہ کہ ساٸرن بجایاجاناچاہیٸے. اس کی اجازت بظاہر شریعت سے معلوم نہیں ہوتی، کیونکہ جب اذان کا وقت ہواتو اذان دیجٸے دوسرے کسی عمل میں مشغول ہونے کی بات سمجھ سے بالاترہے اوراذان فجر کے وقت ساٸرن کےہنگامہ خیزی کی سنگینی اوربڑھ جاتی ہے جب فجر کے وقت بعض مساجد میں اذان شروع ہوچکی ہوتی ہے اوراکثر مساجد میں چاروں طرف سے ایک ناقابل برداشت دل ودماغ کی دیواروں کو متزلزل کردینے والی ساٸرن کی ہنگامہ خیزی رہتی ہے ۔ہمیں غور کرناچاہیٸے کہ کیا شریعت دین کے نام پر ایسی ہنگامہ آراٸی کی اجازت دے سکتی ہے ؟جونہ صرف یہ کہ دوسروں کےلٸے آفت ہو بلکہ ہمارے لٸے بھی کسی عذاب سے کم نہ ہو؟ اورکیایہ ہماراطرزعمل اسلامی ہے ۔اوریہ کہاں اورکب سے شروع ہواہے؟ اس کی خطرناکی اورتکلیف کے بارے میں آپ ان لوگوں سے دریافت کیجٸے جو اوپر کی منزلوں پر رہتے اورایک ساتھ چاروں طرف کی آواز کی اذیت سہتے ہیں۔
بہر حال میراخیال یہ ہے کہ ساٸرن کے مسٸلہ کو دینی لحاظ سے دیکھاجاٸے اور اس کو ترک کرکے مغرب اور فجر دونوں میں اذان سے پہلے بجاٸے جانے والے ساٸرن کے عمل کو ترک کیاجاٸے اوراس پر غور کرکے ارباب افتا اجتماعی فتوی صادر کریں ۔ یہ واضح رہے کہ یہ میری ذاتی راٸے اور انفرادی موقف ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ ۔

Comments are closed.