صبح ہونے سے پہلے کا اندھیرا

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل

کچھ دنوں پہلے یہ خبر آئی تھی کہ مولانا آزاد کے نام پر وزارتِ اقلیتی امور کے ذریعے جو تعلیمی وظائف دئے جاتے تھے اس کو حکومت نے منسوخ کردیا ہے۔ پچھلے ہفتہ اخباروں میں یہ خبر چھپی کہ کونسل برائے فروغ اردو جو مرکزی وزارتِ تعلیم کے تحت چلنے والا ادارہ ہے جہاں سے اردو کی کتابیں شائع ہوتے ہیں اور اردو لکھنے والوں کو انعامات وغیرہ دیے جاتے ہیں اس کو فنڈ ریلیز نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی سرگرمیاں اس سال بڑی حد تک بند رہیں۔ ایک تو وزارت اقلیتی امور کی حیثیت کم کردی گئی اس کے آزاد وجود کو ختم کرکے اسمرتی ایرانی کو اس کا انچارج بنادیا گیا ہے اور 2022-23میں 5020.50کروڑ سے گھٹا کر 2023-24کے بجٹ میں یہ رقم محض 3097.60کروڑ کردی گئی ہے جو سابقہ بجٹ سے 38%کم ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اقلیت بالخصوص مسلمان اقلیت کے سلسلے میں حکومت کس ذہنیت سے کام کررہی ہے۔ ہمیں اس بات پر تعجب ہے اور نہ تشویش ہے بلکہ ملک میں جس طرح کی سیاست ہورہی ہے اس کا فطری نتیجہ ہے۔ حکومت دھیرے دھیرے مسلمانوں کو ملنے والی بھیک کی مقدار کم کرتی جارہی ہے اور جلد ہی اس کو پوری طرح بند کرنے کا اعلان ہونے بھی والا ہے۔
یہ کوئی نئی بات نہیںہے جس پر آپ واویلا مچائیں۔ جن لوگوں نے ڈبلو ڈبلو ہنٹر کی کتاب ’دی انڈین مسلم‘ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد مسلمانوں کو اپنا دشمن نمبر ایک مانتے ہوئے سرکاری مراعات کے سارے دروازے بند کردیے تھے۔ تعلیمی نظام، عدلیہ اور انتظامیہ میں دور رس تبدیلی کرکے اس دور کے جو پڑھے لکھے مسلمان تھے ان کو اپنے حکومتی ڈھانچے میں نا اہل قرار دے کر ان کو تمام اہم مقامات سے دستبردار کردیا اور جو لوگ مین اسٹریم میں تھے وہ یکایک حاشیہ پر چلے گئے۔ جس کو اقبال نے کہا کہ تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند۔ آزادی کے بعد کی جو صورتحال سچر کمیٹی رپورٹ سے ظاہر ہے، مگر وہ جو کہتے ہیں امیرِ شہر کے ارماں ابھی کہاں نکلے۔ غریب شہر کے تن پر لباس باقی ہے۔
حکومت نے یہ جان لیا ہے کہ الیکشن جیتنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ بروقت ہندو مسلمان کرکے ملک میں فرقہ وارانہ ماحول کو گرم رکھا جائے، اس کے لیے بہت سوچے سمجھے ڈھنگ سے اور اسکیل تشدد کے ذریعہ خوف و دہشت کا ماحول بنائے رکھا جائے تاکہ مسلمانوں میں جہاں ایک طرف عدمِ تحفظ کا احساس گہرا ہوتا جائے اور وہ نفسیاتی طور پر ڈرے سہمے رہیں، وہیں دوسری طرف ہندوؤں کو ایک جوٹ کرنے میں مدد ملے۔ یہ ایک طرح کی سیاسی حکمتِ عملی ہے جس پر پوری تندہی سے کام ہورہا ہے۔ راجستھان کے سرحدی گاؤں سے جنید اور ناصر نام کے دو نوجوانوں کو ہریانہ میں لاکر پولیس کی مدد سے بے رحمی سے زندہ جلا دیا گیا۔ اس امر پر دونوں ریاستوں کی سرکاریں سیاست سیاست کھیل رہی ہیں۔ انتظامیہ معطل ہے، پریس جانب دار ہے اور عدلیہ منہ پھیرے کسی اور طرف دیکھ رہی ہے اور مجرم نہ صرف کھلے عام گھوم رہے ہیں بلکہ حکومت کا منہ چڑا رہے ہیں۔ اس طرح کے حالات جن پر بیتی ہے وہی اس کا درد سمجھ سکتے ہیں۔ مگر اس وقت جن فرعونوں کی حکومت ہے ان کی شریعت میں یہ جائز ہے۔بنیں ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی منصف بھی۔ کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں۔
تمام تر سخت حالات کے باوجود ہمیں ڈیمولرائز اور خوف زدہ نہیں ہونا ہے۔ بلکہ خوف کی چادر کو اتار پھینکنا ہے اور پورے صبر اور عزیمت کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ ظلم کی عمر زیادہ نہیں ہوتی لہٰذا صبر اور حکمت سے پورے حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ خوف کے باوجود خوف زدہ نہیں ہونا ہے۔ اپنی طرف سے کوئی جوابی تشدد نہیں کرنا ہے۔ اپنے بچوں اور بچیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دینی ہے، ان کی صحت کا خیال رکھنا ہے۔ امداد باہمی اور آپسی اتحاد کو مضبوط کرنا ہے۔ خود کو معاشی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔ محنت اور سخت کوشی سے کام لینا ہے۔ آرام طلبی اور دوسروں کی مدد کے سہارے جینے کی عادت چھوڑنی ہے۔ سماج کے جو اچھے لوگ ہ

Website: abuzarkamaluddin.com
کالم نگار اردو کی بیسٹ سیلر بک’اکیسویں صدی کا چیلنج اور ہندوستانی مسلمان- بند گلی سے آگے کی راہ‘ کے مصنف ہیں۔

 

Comments are closed.