23مارچ کاپیغام
سمیع اللہ ملک
سب مل کراللہ کی رسی کومضبوط پکڑلواورتفرقہ میں نہ پڑو۔اللہ کے اس احسان کویادرکھوجواس نے تم پرکیاہے۔تم ایک دوسرے کے دشمن تھے،اس نے تمہارے دل جوڑدیے اوراس کے فضل وکرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے،اللہ نے تم کواس سے بچالیااس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتاہے شایدکہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کاسیدھاراستہ نظرآجائے۔(العمران:103)
اس دنیامیں بسنے والے تمام انسان اول سے آخرتک دوقوموں میں تقسیم ہیں ایک وہ قوم ہے جودین اسلام کومانتی ہے جس کو مومن ومسلم کہاجاتاہے جبکہ دوسری قوم وہ ہے جودین اسلام کا انکارکرتی ہے جس کوکافرکہاجاتا ہے۔ قرآن کا واضح اعلان ہے :اللہ وہی ہے جس نے تم کوپیداکیا(جس کاتقاضہ تھاکہ اس پرسب ایمان رکھتے اورسب مومن ہوتے لیکن ) پھرتم میں سے بعض کافرہوگئے اوربعض مومن رہے۔اس آیت سے معلوم ہواکہ انسانوں کی تخلیق کے ابتدائی دورمیں کوئی انسان کافرنہ تھا،یہ کافراورمومن کی تقسیم بعدمیں کچھ لوگوں کے کافرہو جانے سے وجودمیں آئی۔ یہی بات اس حدیث میں بیان فرمائی گئی ہے:ہربچہ فطرت سلیم پرپیداہوتاہے(جس کاتقاضہ مومن ہوناہے)پھراس کے ماں باپ اس کو یہودی یاعیسائی وغیرہ بنادیتے ہیں۔
قرآن مجید کی اس آیت سے معلوم ہواکہ تمام انسان دوقوموں میں تقسیم ہوگئے ہیں کافراورمومن اوراس تقسیم کاسبب کفرہے ورنہ ابتداسب مسلمان تھے اورکفرکی وجہ سے مومن برادری سے خارج ہوگئے جبکہ مسلمان خواہ کسی ملک اورخطے کاہوکسی بھی رنگ اورقبیلے کاہو،کوئی زبان بولتاہو،ان سب کوقرآن نے ایک برادری قراردیا:مسلمان توسب(ایک دوسرے کے) بھائی ہیں اوردوسری طرف اسلام نے قیامت تک کیلئے یہ قانون بنادیاکہ مسلمان وکافراگرچہ آپس میں باپ بیٹے یاحقیقی بھائی ہوں تب بھی وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے۔نبی اکرم ﷺ کاارشادہے کہ: مسلمان کافرکاوارث نہیں ہوسکتااورکافرمسلمان کاوارث نہیں ہوسکتا۔
کافرکوئی بھی عقیدہ رکھے ایک ہی ملت ہیں۔حدیث میں ارشادہے کہ:کفرایک ملت ہیں۔اس طرح قرآن و سنت نے دنیاکے تمام انسانوں کودوالگ الگ ملتوں میں تقسیم کرکے فیصلہ کردیاکہ مسلمان ایک ملت اورکافردوسری ملت ہیں اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کوہدایت کی گئی ہے کہ کافروں کے ساتھ حسن سلوک،انصاف،خیرخواہی،مدارات توکرولیکن محبت ودوستی کسی صورت میں تمہارے لئے جائزنہیں ہے اورکہ ان کواپنارازداربنااورنہ ہی ان کے طور طریقے اختیارکرو بلکہ جوکفارتم سے لڑیں،تمہارے دین کے درپے ہوں ان کا مقابلہ کرو۔ایسے کافروں کے بارے میں قرآن نے ہدایت کی ہے کہ ہم حضرت ابراہیم ؑاوران کے اصحاب کی تقلید کریں جنہوں نے اپنے ایسے ہی کافرہم وطنوں اوراہل خاندان سے صاف کہہ دیا تھا کہ:ہم تم سے اوران (بتوں)سے بیزارہیں جن کی تم اللہ کے سواعبادت کرتے ہوہم تمہارے منکرہیں اورجب تک تم اللہ واحد پرایمان نہ لاؤگے ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کھلم کھلا عداوت اوردشمنی رہے گی(المتحنہ۔آیت:4)عہدرسالت اورخلافت راشدہ میں کافروں سے جتنے جہادہوئے وہ اسی دوملی نظریہ پرمبنی تھے۔ساری صلیبی جنگیں اسی بنیادپرلڑی گئیں۔انبیاسابقین کوکافروں سے جتنے معرکے پیش آئے ان سب میں یہی دوملی نظریہ کارفرما تھا۔دنیا میں مدینہ پہلی اسلامی ریاست تھی جوکہ اسی نظریہ کی بنیادپرقائم ہوئی تھی اس کے بعد مملکت خداداد پاکستان وہ ریاست ہے جوکہ اسی نظریہ کی بنیادپرقائم ہوئی۔اس وقت دنیامیں جوممالک موجودہیں ان سب کی بنیادجغرافیائی سرحدیں ہیں جوکہ دراصل مغرب کانظریہ ہے اہل مغرب نے خاندانی ،نسلی اورقبائلی بنیادوں میں ذراوسعت پیداکرکے قومیت کی بنیادیں جغرافیائی حدودپراستوارکیں جبکہ پاکستان کی بنیادنہ تورنگ زبان ونسل ہے اورنہ ہی جغرافیائی حدودبلکہ اس کی بنیادلااِلہ اِلااللہ ہے کہ ایک عقیدہ اورایک کلمہ کی بنیادپرجوقوم بنی ہے یعنی امت مسلمہ اورملت اسلامیہ وہ سب اس مملکت کے باشندے ہیں۔
اسی نظریہ کی بنیادپربرصغیرہندوپاک کے مسلمانوں نے طویل قربانیوں کے بعداس مملکت کوحاصل کیا۔برصغیرمیں مسلمان ہزارسال حکومت کرنے کے بعدجب حکمرانوں اور بادشاہوں کی کوتاہیوں اوردین سے دوری کے باعث غلام بن گئے اورانگریزکاغلبہ ہوگیاجوکہ تقریباڈھائی سوسالوں پرمحیط عرصہ ہے۔ اس عرصہ میں مسلمانوں کے قائدین ومفکرین اورعلمانے آزادی کی جدوجہد مسلسل جاری رکھی۔1885میں ہندوں نے کانگریس کی بنیاد ڈالی اورظاہر یہ کیا کہ وہ ملک کی تمام قوموں کو ان کے حقوق دلوائیں گے لیکن بعدمیں پتہ چلاکہ وہ صرف اپنے حقوق کاتحفظ چاہتے ہیں۔ان حالات میں1906میں کل ہندمسلم لیگ کے نام سے مسلمانوں کی الگ تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی۔
اسی زمانے میں پہلی جنگ عظیم چھڑگئی جس میں انگریزکامقابلہ جرمنی سے ہوااورترکی نے جرمنی کاساتھ دیا،ہندوستان کے مسلمان چونکہ ترکی کے سلطان کوحجازکی خدمت کرنے کی وجہ سے خلیفہ اسلام سمجھتے تھے اسی لئے انہوں نے مالی اورطبی امدادبہم پہنچائی جس کی وجہ سے حکومت برطانیہ کومسلمانوں سے عنادپیداہوگیالیکن انہوں نے مسلمانوں سے وعدہ کیاکہ ہم کواس جنگ میں کامیابی ملی توترکی کوکوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے لیکن یہ ان کاوعدہ فریب تھا۔جب انگریزکوفتح ملی توانہوں نے ترکی کی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ہندکے مسلمانوں کواس فریب کی وجہ سے سخت تکلیف پہنچی اورانہوں نے خلافت کے تحفظ کیلئے مولانامحمدعلی جوہراوران کے بڑی بھائی مولاناشوکت علی کی رہنمائی میں تحریک خلافت شروع کی لیکن اسی زمانے میں ہندوں نے مسلمانوں کوہندوبنانے کیلئے شدھی تحریک شروع کی اورمسلمانوں کوختم کرنے کیلئے سنگٹھن کی تحریک بھی شروع کی۔
پھر1928میں کانگریس نے جوہندورپورٹ شائع کی اس میں مسلمانوں کیلئے علیحدہ نمائندگی کااصول جووہ12سال قبل تسلیم کرچکے تھے بالکل نظر اندازکردیا توپھرمسلمانوں میں بڑاجوش پیداہوااورانہیں یقین ہوگیاکہ چونکہ ان کادین ان کی تہذیب اوران کی معاشرت سب کچھ مسلمانوں سے مختلف ہے اس لئے کسی حالت میں ہندوں سے تعاون نہیں ہوسکتا چنانچہ1930میں مسلم لیگ کے الہ آباد والے اجلاس میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن(پاکستان)بنانے کی تجویزپیش کی،چارسال کے بعد جب قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی صدارت کامستقل عہدہ قبول کیاتو انہوں نے اس تجویزکوعملی جامہ پہنانے کی کوشش شروع کردی۔آخرکار23مارچ 1940کویعنی82سال قبل انہوں نے لاہورکے اجلاس میں واضح طورپر اعلان کردیاکہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں ایک آزادمسلم ریاست قائم کی جائیاس اعلان کوقرارداد پاکستان کانام دیاگیاجس کی روسے مسلمانوں کی آزاداورخودمختارحکومت قائم کرنے کافیصلہ ہوا،اورمسلمانوں نے یہ نعرہ بلندکردیاکہ پاکستان کامطلب کیا:لاالہ الااللہ۔اس زمانے میں ہندو کانگریس نے مسلمانوں کواپنی اکثریت کے جال میں پھانسنے کیلئے ہندومسلم بھائی بھائی کانعرہ لگایاتومسلمانوں نے مسلم مسلم بھائی بھائی کاجوابی نعرہ بلندکیاجس سے پورابرصغیرگونج اٹھا،یہ صرف جذباتی نعرہ نہ تھابلکہ یہ مسلمانوں کے عقیدے اورایمان کی آوازاورسیاسی منشورکاعنوان تھا۔
یہ قرآن وسنت کاعطاکردہ دوملی نظریہ تھا،اسی نظریہ کی طاقت پرمسلمانوں نے بیک وقت تین طاقتوں انگریزوں،ہندوں اورسکھوں سے چومکھی لڑائی لڑکرپاکستان حاصل کیا۔ یہی وہ نظریہ ہے جس پراس مملکت کاوجودمنحصرہے بلکہ امت مسلمہ کاوجوداس کی ترقی اورکامیابی بھی اسی نظریہ پرقائم رہنے پرہے اوریہ طاقت ہے جس کا مقابلہ دنیاکی باطل قوتیں نہیں کرسکیں۔اورہماراشاندارماضی اس پرشاہدہے کہ یہی وہ اسلامی برادری اورایمان اخوت تھی جس نے تھوڑے ہی عرصے میں مشرق ومغرب شمال وجنوب،کالے وگورے،امیرو غریب،عرب وعجم کے بے شمارافرادکوایک لڑی میں پرودیااور مسلمان دنیاکی سب سے بڑی طاقت بن گئیاورجب مسلمانوں نے اس میں کمزوری دکھائی توہرجگہ پسپائی سے دوچار ہوناپڑااوردشمنوں نے رنگ وزبان وطن اورعلاقہ نسب وقبائل کے مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ان کوباہم ٹکرادیا۔اسپین سے مسلمانوں کی ہزارسال کی حکومت کاخاتمہ اسی وجہ سے ہوا،ترکی کی خلافت عثمانیہ اسی ٹکراکے نتیجہ میں پارہ پارہ اورپھوٹ کی نذرہوئی اورسقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ کیلئیبھی بھارت نے اسی وطنی اورلسانی قومیت کوآلہ کاربنایا ۔ اب موجودہ پاکستان میں لسانی اوروطنی قومیت کے نئے بت تراش لئے گئے ہیں جن کی بنیادپرمسلمانوں کی ملت واحدہ کوپھرٹکڑے ٹکڑے کیاجارہاہے۔لسانی اوروطنی عصبیتوں نے
ایسااندھاکردیا ہے کہ مشرقی پاکستان کی طرح اب پھربھائی بھائی کاگلاکاٹ رہاہے۔حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے حجتہ الوداع میں بڑی دل سوزی سے یہ وصیت فرمائی تھی کہ:میرے بعدکافرنہ ہوجاناکہ آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگو۔جن گھنانی عصبیتوں کاصورپھونکاجارہاہے،ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کایہ ارشادہر مسلمان تک پہنچ جانا چاہئے کہ:وہ شخص ہم میںسے نہیں جوعصبیت کی طرف بلائے اوروہ شخص ہم میں سے نہیں جس کی موت عصبیت پرآئے۔
اس صورتحال کی پشت پرہمارے دشمنوں کی سازشیں توکارفرماہیں ہی لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ کوئی بیرونی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اسے ہماری ایسی کمزوریاں ہاتھ نہ آجاتیں جن کے ذریعہ وہ اپنے مکروفریب کاتانابانابن سکیں۔اس حقیقت سے انکارنہیں کیاجاسکتاکہ ہماری سب سے بڑی کمزوری وہ ظلم بدعنوانیاں اورحق تلفیاں ہیں جن کی وجہ اموجودہ سرمایہ دارانہ اورجاگیردارانہ نظام ہے اورجواس ظالمانہ نظام کی بے دین فضانے قدم قدم پرپھیلا رکھی ہیں۔نئی نسل اس صورت حال پرمضطرب ہے اوراس اضطراب کوبنیادبناکربیرونی سازشوں نے اس پرلسانی اورصوبائی عصبیت کاجال پھینکا ہے۔
ہمارااصل مسئلہ پنجابی پٹھان سندھی یامہاجرنہیں،ان میں سے کسی طبقہ کوعلی الاطلاق ظالم اوردوسرے کوعلی الاطلاق مظلوم قراردیناپرلے درجے کی بے انصافی ہے بلکہ ہمارااصل مسئلہ وہ بے دینی اورخدافراموشی ہے جوظالم کوبے خوف وخطرظلم پر آمادہ کرتی ہے،یہی وہ ذہنیت ہے جس نے ہر جگہ مظالم اورحق تلفیوں کابازارگرم کیاہواہے۔یہی ذہنیت دوسروں سے ہروقت اپنے نام نہادحقوق کامطالبہ کرتی رہتی ہے لیکن اسے نہ اپنے فرائض کا کوئی احساس ہے نہ دوسروں کے حقوق کاپاس۔اس سب کاعلاج یہ ہے کہ نظریہ پاکستان کوحقیقی جامہ پہناکرقرآن وسنت پرمبنی اسلام کے نظام معیشت اورنظام عدل کوعملانافذ کرکے ان مظالم بدعنوانیوں اورحق تلفیوں کاخاتمہ کردیاجائے۔
اس وقت اگرآپ پاکستانی سیاست کاتجزیہ کریں توہمیں تاریخی آئینہ سے جس چہرے کے خدوخال نظرآتے ہیں وہاں پچھلی سات دہائیوں سے زائد ’’اوفو بالعہد ‘‘کاجس بری طرح تمسخراڑایاگیاہے،کس طرح غلط لوگوں کی حکومت،غلط سوچ اورغلط پالیسیوں کی بنا پرارضِ وطن میں بربادی پیداکررکھی ہے اورغلط معاشی اورسودی پالیسیوں کی بنا پرعالمی مالیاتی اداروں نے نہ صرف درپردہ غلام بناکررکھ دیاہے بلکہ غیرپیداواری معاشی ثقافت نے پاکستان کے آپریشنل باڈی کوناکارہ بناکررکھ دیاہے۔اس کے وجوداورآزادی کواس کے اپنے سیاسی حکمران چیلنج کررہے ہیں۔ملکی توشہ خانہ سے ہاتھ رنحنے والوں کی فہرست نے توتمام سیاستدانوں کوننگاکردیاہے کہ بے بے شرمی اورڈھٹائی سے ان تمام سیاستدانوں نے اپنے اپنے دورحکمرانی نے اس ارض وطن کوبے رحمی سے لوٹا۔
23مارچ کویوم پاکستان مناتے ہوئے ایسے تجدید عہدکی ضرورت ہے جہاں ہم اس کرپٹ نظام سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے اپنی قومی آزادی اور پائیدارمستقبل کیلئے قرآن سے رجوع کریں۔اسی میں اس مملکت کی بقااورترقی پوشیدہ ہے اوریہی 23مارچ کاپیغام ہے۔
Comments are closed.