دین و شریعت کے خلاف عمل رمضان المبارک کے احترام کے خلاف ہے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( مولانا ڈاکٹر) ابوالکلام قاسمی شمسی

رمضان شروع ہونے والا ہے ، یہ مبارک مہینہ ہے ، اسی مبارک مہینہ میں قرآن کریم نازل کیا گیا ، اس مہینہ کا روزہ فرض اور بڑے ثواب کا کام ہے ، اور تراویح مغفرت کا ذریعہ ہے ، اس مبارک مہینہ کا احترام ہم سب پر لازم ھے ، احترام کا تقاضہ ہے کہ اس مہینہ میں ہمارا جو بھی عمل ھو وہ دین و شریعت کے مطابق ہو، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ رمضان المبارک کا احترام نہیں کرتے ہیں ، دین و شریعت کے خلاف کام کرتے ہیں ، اس لئے رمضان کے مبارک موقع پر روزہ اور رمضان کے احترام کے سلسلہ چند ضروری باتیں تحریر ہیں

(1) روزہ مذہب اسلام کا ایک اہم رکن ہے ، اس سے روزہ داروں میں تقوی پیدا ہوتا ہے ، اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اچھے اور پاکیزہ عمل کریں ، تاکہ ہمارے روزے میں تقوی پیدا ہو ، نماز کا اہتمام کریں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، تراویح میں شرکت کریں ، زکوٰۃ ادا کریں ، ان کے علاؤہ اچھے اور نیک اعمال کریں ، اور برائیوں سے دور رہیں ، اپنے ہاتھ ، پاؤں ، زبان اور نگاہوں کو برائیوں سے بچائیں ، جھوٹ نہ بولیں ، کسی کی غیبت نہ کریں ، گالی گلوج اور جھگڑے تکرار سے دور رہیں ، خلوص دل سے تقوی کے حصول کے لیے روزے رکھیں ،

(2) رمضان المبارک کی اہم عبادت تراویح ہے ، تراویح میں قرآن کریم کو سننے کا اہتمام کریں ، قیامت کے دن روزے اور تراویح دونوں سفارش کریں گے ، تراویح رمضان المبارک کے پورے مہینہ پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہتے ، تراویح میں قرآن کریم کو ترتیل سے پڑھنا چاہیے ، قرآن کریم کو جلدی جلدی پڑھنے سے منع کیا گیا ھے ، ہمارے ملک میں تراویح میں چند دنوں قرآن کریم کو ختم کر کے فراغت حاصل کر لینے کی روایت قائم ھے ، یہ صحیح نہیں ہے ،چند دنوں میں قرآن کریم ختم کرنے سے نقصان یہ ھوتا ھے کہ حفاظ کرام قرآن کریم کو اس قدر تیزی اور جلدی جلدی پڑھتے ہیں کہ ترتیل کی رعایت نہیں ہوتی ہے ، بہت سی مرتبہ تو یہ بھی نہیں پتہ چلتا ھے کہ وہ کیا پڑھتے ہیں ، اس طرح قرآن کریم کی توہین ہوتی ہے ،نیز چند دنوں میں قرآن سننے کے بعد جب قرآن کریم تراویح میں مکمل ہو جاتا ھے ،تو تراویح پڑھنے والے سمجھ لیتے ہیں کہ اب تراویح بھی ختم ہوگئی ، پھر وہ چند دنوں کے بعد تراویح پڑھنا بھی چھوڑ دیتے ہیں ، جبکہ رمضان المبارک کے پورے مہینہ میں تراویح پڑھنے کا حکم ہے ، اس لئے بہتر ہے کہ رمضان المبارک کے پورے مہینہ میں تراویح میں قرآن کریم پڑھنے کا اہتمام کیا جائے ،تاکہ قرآن کریم کو صاف صاف ،ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پرھنے اور سننے کا موقع ملے

(3) موجودہ وقت میں حفظ قرآن کریم کی جانب بہت توجہ ھے ، ہمارے ملک میں بڑی تعداد میں حفظ مکمل کر کے بچے حافظ ہورہے ہیں ، اب بہت سے حفاظ کرام کو مساجد میں تراویح پڑھانے کا موقع نہیں ملتا ھے ، جس کی وجہ سے ان کو مایوسی ہوتی ھے ،اور قرآن کریم کے بھول جانے کا اندیشہ ہے ،اس لئے اس کی ضرورت ہے کہ شہر کے اپارٹمنٹ میں یا مکان کے بیٹھک وغیرہ میں بھی تراویح کا اہتمام ھو ، اور یہاں ان حفاظ کرام کے لئے تراویح کا اہتمام کیا جائے ، جنہیں مساجد میں تراویح پڑھانے کا موقع نہیں ملتا ہے ، تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ھو اور وہ قرآن کریم یاد رکھ سکیں

(4) رمضان المبارک میں سحری کھانا بھی سنت ہے ، ہمارے یہاں سحری کے لئے جگانے کی روایت چلی آرہی ھے ، موجودہ وقت میں بہت سی جگہوں پر لوگ اپنے دائرہ سے بڑھ جاتے ہیں ، سحری کے وقت مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہیں ، اس پر قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دیتے ہیں ،ںعت خوانی کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے کبھی دوسرے لوگوں کو اعتراض بھی ھوتا ھے ، جبکہ بہت سے صوبوں میں رات کے وقت لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگادی گئی ہے ، علمائے کرام بھی اس جانب توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ سحری کے نام پر ایسا کام نہ کیا جائے ،جس سے کسی کو تکلیف پہنچے ، اس لئے سحری کے وقت لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے پہلے سرکاری ہدایت اور حکم کا مطالعہ کرلیں ، بہرحال قانون شکنی سے بچیں ، اپنی عبادت کو عبادت سمجھیں اور کوئی ایسا کام نہ کریں ،جس کی وجہ سے کوئی دشواری پیش آئے

رمضان المبارک کا مہینہ مبارک مہینہ ہے ،اس کا احترام کریں ،دن میں روزہ رکھیں اور رات میں عبادت کریں ، اپنی عبادت کو خالص بنائیں ،اس کو خرافات سے بچائیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کے احترام کی توفیق عطا فرمائے

 

( مولانا ڈاکٹر) ابوالکلام قاسمی شمسی

Comments are closed.