رمضان میں اصحاب مال حساب کر کے زکوٰۃ نکالیں،مدارس اوردیگر نادار طلبہ،مقروض اورمساکین کو زکوٰۃ دی جائے
آل انڈیا ملی کونسل کے ویبنار سے علماء کا اظہار خیال
پھلواری شریف،25/مارچ(پریس ریلیز)
آل انڈیا ملی کونسل بہار کے زیراہتمام ایک دے بینار ژوم ایپ پر مولانا انیس الرحمن قاسمی قومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل کی صدارت میں منعقد ہوا،جس میں رمضان میں زکوٰۃ کی ادائیگی زکوٰۃ اداکرنے کی مہم،زکوٰۃ دینے کے دنیوی واخروی فوائد،زکوٰۃ کا مقصد اوراس کی ادائیگی کا طریقہ،غربت،قرض اوردیگر مصارف میں زکوٰۃ دینا اورمدارس ودینی اداروں کو زکوٰۃ دیے جانے جیسے اہم موضوع پر شرکاء نے خطاب کیا۔مولانا انیس الرحمن قاسمی قومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے خطاب میں کہاکہ رمضان کے روزے کا اثر انسانی صحت، عبادت،اخلاق،معاملات،اہل حاجت کی مدد اورانسانی رشتوں کی بہتری پر ہوتا ہے۔مال پر انسانی زندگی کھانے پینے،کپڑے،مکان،تعلیم وغیرہ کی بنیاد ہے اوراللہ نے مال میں بعض لوگوں کو بعض پر فوقیت دی ہے اوریہ آزمایا ہے کہ مال والے دوسروں پر کتنا خرچ کرتے ہیں،کبھی کبھی انسانوں پر سخت حالات آتے ہیں تو اس وقت ضروریات زندگی کے ضروری خرچ کے علاوہ تمام مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہوتا ہے۔اللہ نے عام صدقہ کے بارے میں یہ بھی ہدایت دی ہے کہ”جو بھی مال تم خرچ کرو اسے والدین،قریب ترین رشتہ داروں، یتیموں، مسکینو ں اورمسافروں پر خرچ کرو“۔ اللہ نے مساکین وفقراء پر خرچ کرنے کاحکم دیا ہے اورفی سبیل اللہ،مؤلفۃ القلوب،مقروض،مسافر اورنظام زکوٰۃ پر متعین افراد پر خرچ کیا جائے۔عام حالات میں مساکین وفقراء پر خرچ کو ترجیح دیا جائے گا۔ہندوستان جیسے ملکوں میں اجتماعی نظام کے تحت مدارس اوردینی ادارے صدقات وزکوٰۃ کی وصولی کرتے اوراس کو صحیح مصرف میں خرچ کرتے ہیں،اس سے نادار طلبہ کی کفالت اورتعلیم وتربیت اورامت کے رشدوہدایت افراد کار کی تیاری ہوتی ہے؛البتہ اس وقت عصری تعلیم پانے نادار طلبہ پر خرچ کرنا بھی ملی ضرورت ہے؛اس لیے اس پر خرچ کرنا چاہیے۔مؤلفۃ القلوب کے مسئلہ پر وسیع پیمانہ پر غور وفکر کی ضرورت ہے۔مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی،نائب صدر آل انڈیاملی کونسل بہار نے کہاکہ اسلام میں زکوٰۃ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔لوگوں کے ذہن کوتیار کرنے کی ضرورت ہے کہ محتاج وضرورت مند کی مدد کریں اوران کو زکوٰۃ کی رقم دیں،مقروض اورمظلوم مسلم لڑکوں کی مدد بھی زکوٰۃ کی رقم سے کرسکتے ہیں۔مدارس دین کی تعلیم اوراشاعت کا اکم کرتے ہیں ان پر خرچ کرنا چاہئے۔حضرت مولانا پروفیسر محسن عثمانی صاحب دہلی نے کہاکہ زکوٰۃ کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے،زکوٰۃ کی رقم جن لوگوں کوہم دے رہے ہیں اس کی تحقیق ضروری ہے،جو مدارس مشہور ہیں،ان کو دینے سے زکوٰۃ کی ادائیگی ہوجائے گی؛لیکن نئے مدارس کو دینے سے پہلے تحقیق کرلینی چاہیے کہ وہاں طلبہ ہیں یا نہیں؟انہوں نے عصری تعلیم کے غریب طلبہ کو بھی زکوٰۃ کی مد سے دینے کا اظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے موجودہ حالات میں مؤلفۃ القلوب کا مد بہت ہی اہمیت کا حامل ہے،حضرت عمر فاروق ؓ نے اسلامی شان وشوکت کی بلندی کے پیش نظر ان کے اوپر خرچ کو اپنے زمانے میں روکا تھا؛لیکن قرآن میں موجود مصرف کو ختم نہیں کیا تھااورکس کی مجال ہے کہ وہ قرآن میں مذکور مدات میں سے کسی بھی مد کو ختم کردے،اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ اسلام میں زکوٰۃ کا اجتماعی نظام ہے،ہندوستان میں تنظیموں کو چاہیے کہ اس کو اجتماعی شکل میں قائم کریں۔مولانا رضوان احمد اصلاحی،امیرجماعت اسلامی بہار نے کہاکہ رمضان غم گساری کا مہینہ ہے،ہرسال ہندوستان میں انفرادی طور پر تقریباپندرہ ہزار کروڑروپے زکوٰۃ کے لوگ ادا کرتے ہیں،لیکن یہ کہاں خرچ ہوتے ہیں اورمسلمانوں کے کتنے مسائل حل ہوتے ہیں،اس کا علم نہیں ہے اورنہ ہی کوئی مؤثر نتیجہ سامنے آتا،اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔زکوٰۃ اجتماعی نظام کے تحت ہی ہونی چاہیے،تبھی یہ نظام مؤثر ہوگا۔اجتماعی نظم ہی کی صورت میں عاملین وغیرہ مصارف ہوں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے بعد کے خلفا کے زمانے میں زکوٰۃ کا اجتماعی اوربہترین نظام تھا،جو اس وقت موجود نہیں ہے،جس کی لوگ من مانی کرتے ہیں اورغرباونادار کا حق مارتے ہیں۔اس لیے اجتماعی نظام کو رواج دینے کی ضرورت ہے۔مولانا ابرار احمد مکی دہلی نے کہاکہ جمعہ کا خطبہ ایک اچھامیکنزم ہے،لہٰذاائمہ رمضان میں زکوٰۃ کے تعلق سے گفتگو کریں اورزکوٰۃ کی ادائیگی پر توجہ دلائیں تو اس سے فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے موجودہ حالات میں مؤلفۃ القلوب کے مد میں خرچ کرنا چاہیے،اس سے غلط فہمیوں کے ازالے میں مدد ملے گی۔ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں اوراکثریت دوسرے مذاہب کی ہیں اوریہ کیفیت دنیا کی ایک سو چالیس ملکوں میں ہے،ان تمام ملکوں میں زکوٰۃ کی مد سے غیرمسلموں پربھی حسب ضرورت خرچ کرنا چاہیے،اس سے تالیف قلب بھی ہوگی اوردعوت دین کی راہ بھی آسان ہوگی۔مولانا محمد عالم قاسمی،جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہارنے کہاکہ بلاشبہ زکوٰۃ حولان حول کے بعد فرض ہے؛لیکن رمضان میں نکالنے میں آسانی ہے،رمضان المبارک میں انسان کا دل نرم ہوتا ہے،وہ غرباومساکین کی ضرورت کو سمجھتا ہے۔رمضان کے موقع سے جمعہ کے خطبہ میں ایک مہم کے طور پر زکوٰۃ کی ادائیگی کی ترغیب دی جاتی ہے۔زکوٰۃ کے سلسلے میں ضروری بات یہ ہے کہ صاحب مال پورے مال کا حساب کرکے زکوٰۃ ادا کرے،شہرمیں اس اہتمام کم ہوتا ہے،اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔زکوٰۃ دینے سے مال صاف وپاک ہوتا ہے اورآخرت میں وہ سرخروہوگا۔ریاستی یا ضلعی سطح پر اجتماعی شکل میں زکوٰۃ کی وصولی ممکن نہ ہونے کی وجہ اتحادکی کمی ہے،لیکن مختلف ادارے جو زکوٰۃ کی وصولی کرتے ہیں،وہ بھی ایک اجتماعی شکل ہے،مدارس ومکاتب کی جانب سے زکوٰۃ کی وصولی ہوتی ہے،وہ اجتماعی شکل ہے۔اس وقت کچھ ایسے ادارے زکوٰۃ وصول کرنے لگے ہیں،جو مصارف کا علم نہیں رکھتے ہیں،اس لیے اہل علم کی نگرانی میں زکوٰۃ کی وصولی کا نظام بنانے کی ضرورت ہے۔عصری تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے طلبہ وطالبات پر زکوٰۃ کے رقوم دینے کے لیے ایک نگراں کمیٹی بنادی جائے اوراس کی نگرانی میں خرچ کیا جانا چاہیے۔غریب ونادار لوگوں کے علاج ومعالجہ میں زکوٰۃ کی رقم سے کرنے کے سلسلے میں علماء کی نگرانی میں ایک کمیٹی بنادی جائے اورخرچ کیا جائے۔مؤلفۃ القلوب کے مسئلہ پر علماء واصحاب افتاء سے مشورہ کے بعد آئندہ اس پر دوبارہ غورکیا جائے۔مفتی نافع عارفی،کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیاملی کونسل بہارنے کہاکہ زکوٰۃ ادا کرنے والوں کو چاہیے کہ حساب کرکے زکوٰۃ کو نکالیں،ضرورت اس بات کی ہے جس طرح تبلیغی جماعت والے نماز کی دعوت دیتے ہیں،اسی طرح علماء کی ایک جماعت ہونی چاہیے کہ ہر محلہ میں اس سلسلے میں پروگرام کرے اورزکوٰۃ کے مسائل کو بیان کرے۔پورے ملک کی سطح پر اجتماعی نظام قائم کرنا مشکل ہے؛لیکن ضلعی یا صوبائی سطح پرشاید ممکن ہے۔ملی تنظیموں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔
Comments are closed.