راہل گاندھی کی انتخابی شہادت کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں کے لیے زندگیِ نو کا پیغام !
ایک مقامی عدالت کے فیصلے پر جس انداز میں پالیمنٹ نے حکم نامہ جاری کیا،اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ صرف قانونی فیصلہ نہیں بلکہ سیاسی حکمت سب سے آگے ہے؟
صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
گذشتہ دو دنوں میں ہندستانی سیاست کی یہ سب سے بڑی خبر بن گئی کہ کانگریس سپریمو راہل گاندھی انتخابی سیاست کے لیے نا اہل قرار دیے گئے۔ ہر چند ایک مقامی عدالت کا یہ فیصلہ ہے اور راہل گاندھی کو اس مقامی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک دفاع کرنے کا قانونی اختیار ہے جس میں ہمیشہ اس بات کے امکانات ہیں کہ انھیں بری کر دیا جائے اور اُس فیصلے کو ہی عدالتِ عالیہ بدل دے۔ مگر پارلیمنٹ اور اسپیکر کے دفتر نے اگلے دن ہی انھیں پارلیمنٹ کی رکنیت سے خارج کیے جانے کا نوٹی فکیشن پیش کر دیا۔ جس کی رو سے اب وہ لوک سبھا کے رُکن نہیں رہے۔ اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ الکشن کمیشن آف انڈیا فوراً وہاں ضمنی انتخاب کے لیے اعلان نامہ پیش کردے ۔آنے والے چند دنوں میں یہ سب معاملات سامنے آئیں گے۔
اس سے پہلے اعظم خاں اور ان کے بیٹے کی رکنیت کے سلسلے سے بھی آناً فاناً اعلان نامہ جاری کیے گئے تھے۔ افسوس یہ ہے کہ اس دور میں اس تیزی سے عمل کرنے کے سرکاری پہلو پر کچھ خاص بحث نہیں ہوئی ، جو ابھی راہل گاندھی کے حوالے سے ہو رہی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ قانون کے اِسی راستے سے لالو یادو بھی نااہلیت کی سزا کا شکا ر ہوئے۔
عام طور سے عوامی حافظہ کمزور ہوتا ہے مگر یہ یاد رہنا چاہیے کہ من موہن سنگھ کی حکومت کے دوران یہ قانون بحث کے مرکز میں آیا تھا اور سیاسی حلقے سے اس میں ترمیم کی وکالت کی گئی تھی۔ایک بنیادی بات یہ تھی کہ ہزاروں مقدّمات میں مقامی عدالت میں کچھ فیصلہ ہوا اور اوپر کی عدالت میں فاضل ججوں نے اُسے بدل دیا۔ ایسی صورت میں مناسب یہی ہے کہ کسی ملزم کو انصاف کے اعلا مقام تک جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔ من موہن سنگھ کے زمانے میں ایک آرڈی ننس لانے کی بات ہوئی جس میں اس شِق کا اضافہ ہوا کہ اپیل کرنے اور اعلا عدالت کے فیصلے تک رکنیت کی منسوخی ملتوی رہے۔ یہ اگر قانون بن جاتا تو آج راہل گاندھی کی گردن زدنی نہ ہوتی مگر اُس وقت راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کرکے یہ کہا تھا کہ یہ قانون پُرزوں میں پھاڑ دینے کے لائق ہے یا ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا جانا چاہیے جس کے سبب وہ آرڈی ننس جاری نہیں ہوا۔ اس زمانے میں راہل گاندھی نے کوئی مدلّل بحث نہیں کی تھی بلکہ اپنے خاص انداز کی جذباتیت اور اُکھڑے پن کا مظاہرہ کیا تھا۔ آج اب اُس قانون کی زد پر وہ خود آ گئے ہیں تو دوسروں سے زیادہ انھیں اس بات کی یا دآنی ہی چاہیے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی پر ایک پورا حلقہ آمریت کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔حکومت دو تین لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور پُشت پر آر ایس ایس کی حکم رانی ہے۔ رام مندر کی بنیاد کے موقعے سے وزیرِ اعظم ، وزیرِ اعلا اُتّر پردیش اور شری موہن بھاگ وَت ہی مرکزِ نگاہ رہے ۔ شتروگھن سنہا طنز میں اِسے اسکوٹر پارٹی یا تھری وھیلر پارٹی کہنے لگے تھے کیوں کہ باقی تمام لوگوں کا بنیادی کاموں میں کوئی دخل نہیں ہے۔ گجرات میں مقامی عدالت نے جس انداز سے فیصلہ دیا،درخواست گزار نے اپنی کارروائی رُکوائی اور پھر جب جی میں آیا رُ کے ہوئے کام کو نئے سِرے سے شروع کرانے کی گزارش کی۔ اس بیچ جج صاحب بھی بدلے اور ایسا لگتا ہے کہ حالات کو ساز گار دیکھتے ہوئے یہ سارا ماحول تیّار کیا گیا۔قانون کی رو سے راہل گاندھی اب ٢٠٢٤ء میں ہندستان کی پارلیمنٹ میں نہیں جا سکتے اور نریندر مودی کو اس بات کا اطمینان رہے گا کہ الکشن سے پہلے کے ایک برس اور اس کے بعد راہل گاندھی کی گرم جوشانہ تقریروں اور ملامت آمیز بیانات سے بار بار سُبکی اُٹھانے کی انھیں مجبوری نہ ہو۔اسی مقصد سے ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں اور پورا نظام تبدیل ہو جاتا ہے۔
ایک نظر میں ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی نے ٢٠٢٤ء کے لیے اپنے سب سے بڑے دشمن کو راستے سے ہٹا لیا جس کے سبب انھیں متعدّد طرح کی پریشانیوں سے نجات مل جائے گی اور وہ تیسری بار حاکمِ ہندستان بننے کے خواب کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ سادہ نظری میں ملک کا ایک بڑا طبقہ اسی حساب سے سوچ رہا ہے اور شاید اسی حکمتِ عملی کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی کے گجرات کے ایم ایل اے نے مقدّمہ کیا اور وہ فیصلہ سامنے آیا۔ نہرو کے زمانے کا وہ قول عالمی سطح پر بہت مشہور رہا ہے کہ ”زندہ لوممبا سے زیادہ طاقت ور مردہ لوممبا ہوتا ہے۔” اندرا گاندھی کی وفات کے بعد راجیو گاندھی کی بے پایاں کامیابی اس بات کا ثبوت رہی کہ جو کام اندرا گاندھی اپنے جیتے جی نہ کر سکیں، اس سے بڑھ کر ان کی موت پر اُن کے بیٹے نے کر دکھایا۔ راہل گاندھی اگر الکشن کی سیاست سے وقتی طور پر یا حتمی طور پر باہر ہوتے ہیں تو کیا یہ کانگریس کے لیے اپنی تنظیم کو مستحکم کرنے ، جارح بنانے اور عوامی سطح پر انقلاب برپا کر لینے کے لیے اس سے بڑھ کر اور کون سا موقع ہو سکتا ہے۔انتخابی نا اہلی سے ہم دردی کی ایک ایسی لہر بھی پیدا ہو سکتی ہے جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے سارے انتظام کو تہس نہس کردے۔یہ بات بھی توجّہ طلب ہے کہ پورے ملک میں حزبِ اختلاف کو کانگریس اپنے پلیٹ فارم پر جمع کرسکتی ہے اور اُن سے وزیرِ اعظم کے نئے امید وار کے انتخاب کی گزارش کر سکتی ہے۔ اب اس جوڑ توڑ میں راہل گاندھی کہیں میدان میں نہیں۔ اس سے بھی اپوزیشن کے اتّحادکی راہ ہم وار ہوگی اور ممکن ہے کہ پورا اپوزیشن اس سوال کو لے کر میدانِ کارزار میں چلا آئے۔
١٩٧٧ء میں اندرا گاندھی اور سنجے گاندھی کی شکست ہوئی تھی اور مرکز میں جنتا پارٹی کی حکومت قایم ہوئی تھی۔ جنتا پارٹی نے بہت عجلت میں ماں اور بیٹے دونو ں پر مقدّمہ چلایا اور انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ ایک ضمنی انتخاب میں اندرا گاندھی پارلیمنٹ میں بھی پہنچ گئیں۔ پورے ملک اور دانش وروں کے بیچ یہ بات پھیلی کہ یہ عدالتی فیصلے حقیقت میں حکومت کے اشارے پر کیے جا رہے ہیں اور بدلے کی کارروائی ہے۔ کانگریس کا اس زمانے تک تنظیمی ڈھانچہ بگڑا نہیں تھا۔ اندراگاندھی کو جیل بھیجنے اور جنتا پارٹی کی حکومت نہیں چلا پانے کی باتوں کو کانگریس نے عوام کی عدالت تک کامیابی سے پہنچایا اور پوری دنیا نے دیکھا کہ تین برس میں جنتا پارٹی کی حکومت مٹّی میں مل گئی۔کبھی کبھی یہ شبہہ ہوتا ہے کہ راہل گاندھی کو جس طرح سے راستے سے ہٹا کر کنارے کیا گیا ہے، کہیں یہ چنگاری شعلہ نہ بن جائے اور عوامی سطح پر بھونچال نہ پیدا کر دے۔
کانگریس کو اس سلسلے سے قانونی لڑائی تو لڑنی ہی ہے مگر اس سے بڑھ کر سیاسی اور عوامی لڑائی کے لیے میدانِ عمل میں اُترنا پڑے گا۔ شہروں اور گلیوں میں احتجاجی جلسوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو اور عوام تک یہ بات پہنچائی جائے کہ موجودہ حکومت معاشی اور فلاحی نقطۂ نظر سے تو ناکام ہے ہی بلکہ اسے انتخابات میں بھی مخالفین کی ضرورت نہیں ہے اور اسی لیے ہر علاقے سے کسی نہ کسی سازش کے تحت کسی کو راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔لالو یادو کے میدان سے ہٹنے اور صحت کی معذرت کی وجہ سے پہلے سے ہی ہندستانی سیاست میں سیکولر طاقت ور چہروں کا اکال پڑا ہوا ہے، اب راہل گاندھی کے ہٹنے سے یہ میدان خالی معلوم ہوتا ہے لیکن جیسے ہی عوامی سطح پر موجودہ حکومت کی کارکردگی کے احوال جائیں گے لوگوں کے بند ذہن کھلیں گے اور بے شک نئی سیاسی صورتِ حال پیدا ہوگی۔ کون جانے تاریخی موڑ پر کانگریس زیادہ بااثر اور کامیاب سیاسی پارٹی بن جائے۔لالو یادو کی نا اہلیت کے باوجود اُنھی کے دم خم پر راشٹریہ جنتا دل بہار میں سب سے بڑی سیاسی طاقت کے طور پر کامیابی سے دکھائی دیتی ہے۔ کوئی کہہ نہیں سکتا کہ راہل گاندھی کی بے لوث سیاسی جِدّو جُہد کے سبب نریندر مودی کی سیاست اُلٹ جائے اور حزبِ اختلاف سے کوئی نیا چہرہ آ کر ہندستانی سیاست کی صورت ہی بدل دے۔راہل گاندھی اور کانگریس تاریخ کے اس موڑ پر مایوس ہونے کے بجاے جِدّو جُہد اور آگے کا راستا چنیں تو ایسا لگتا ہے کہ منزل اب زیادہ دور نہیں۔
Comments are closed.