میرا پیارا شہر ٹنڈوالہ یار
مہوش خولہ راؤ
ٹنڈوالہ یار میری جائے پیدائش ہے۔ٹنڈوالہ یار سے صرف پڑھائی سلسلے میں چھ سال کے لیے جدا ہوئی تھی۔باقی عمر کا اب تک کا حصہ یہیں گزرا ہے۔یہ مجھے اللہ کے گھر کے بعد دنیا کی ہر جگہ سے زیادہ پیارا ہے۔اس کے علاؤہ دو جگہ سے انس ہوا اک اپنے ننھیالی قصبے سامارو سے جہاں سے محبتیں سمیٹیں۔ اور اک شہر کراچی جہاں قرآن و حدیث تعلیم سلسلے میں زندگی کا سنہری وقت گزرا وہاں سے علم اور محبت دونوں ہی سمیٹیں۔لیکن ٹنڈوالہ یار کی جگہ کوئی نہیں لے سکا۔سامارو میں مجھے اک شہری کا پروٹوکول ملتا۔جب کہ کراچی گئ تو وہاں کے ساتھی فیلوز گاؤں سے آئی ہوئی لڑکی سمجھ کر سوال کرتے۔
’’کی ہے تمھارا گاؤں؟‘‘میں شہر اور وہ بھی ضلع کو گاؤں کا درجہ دینے پر چڑ جاتی۔میں کہتی کہ "اک ملک میں دو چار بڑے شہر ہی نہیں ہوتے بڑے بھی ہوتے ہیں، چھوٹے شہر بھی ہوتے ہیں۔”چڑتے دیکھ کر مزید چھیڑا جاتا۔
’’اچھا یہاں جیسی اونچی عمارتیں ہوتی ہیں؟‘‘میرا جلا بھنا جواب ہوتا "نہیں ہمارے کچے مکان ہوتے ہیں۔کنویں سے پانی بھرنے جاتے ہیں۔اور لکڑیوں پر کھانا پکاتے ہیں۔”مجھے اپنے وطن کا کوئی کمپلیکس نہیں یہ گاؤں ہوتا تب بھی میرے لیے قابل فخر تھا۔لیکن قارئین اس مردم خیز شہر کا جس نے مجھ جیسے کو پیدا کیا۔اک اچھا سا تعارف ضرور ہو۔
ٹنڈوالہ یار پاکستان کے صوبہء سندھ کے حیدرآباد ڈویژن کا اک ضلع ہے۔سن 2005 میں حیدرآباد ڈویژن سے علیحدہ کر کے اسے ضلعی حیثیت ارباب غلام رحیم نے دی تھ۔اس کی آباد کاری کی تاریخ 312سال پرانی ہے۔اس وقت ہندوستان کی گدی پر مغلیہ سلطنت کے آٹھویں بادشاہ محمد معظم کی حکومت تھی۔اور صوبہء سندھ اس وقت کلہوڑا اور تالپور خان حکمرانوں کے قبضے میں تھا۔ شہر کی بنیاد سن 1709 عیسوی میں میر اللہ یار خان نے رکھی۔اور یہاں مٹی سے اک قلعہ بھی تیار کروایا۔اب یہ قلعہ تباہ ہوچکا ہے اور کچا قلعہ کے نام سے مشہور ہے۔قارئین جب میر اللہ یار خان نے اس شہر کی بنیاد رکھی تو اپنے نام کی نسبت سے اس شہر کا نام ٹنڈوالہ یار رکھا۔سن 1906میں انگریزوں نے یہاں ریلوے اسٹیشن کی بنیاد رکھی جس سے اس جگہ کی صورتحال تبدیل ہو کر رہ گئ۔آمدورفت میسر آنے سے شہر کا معیار زندگی بہتر ہونے لگا۔یہ قدیم ترین ریلوے نظام آج بھی موجود ہے۔انگریزوں نے یہاں کے قلعے کو دفتری مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا۔ یہ صوبہء سندھ کے زرخیز اضلاع میں سے اک ضلع ہے۔یہاں کی زمین بہت مہنگی ہے۔یہاں سندھی اردو مارواڑی میواتی پنجابی بلوچی زبانیں بولیں جاتیں ہیں۔مشہور سوسائٹیز کی بات کی جائے تو راشد آباد تقریباً سو ایکڑ پر مشتمل فلاحی کالونی ہے۔ یہ اپنے صحت و تعلیم کےمنصوبوں کی وجہ سے مشہور ہے۔جس میں آغوش دار السکون جیسا قابل فخر ادارہ بھی موجود ہے۔ان گنت پروجیکٹس جن سے مخلوق خدا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ہمارے شہر کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔جن مراکز کی میرے ملک کو ضرورت وہ الحمدللہ میرے شہر میں موجود ہیں۔یہ پورا علاقہ اپنے تعمیری حسن کا بھی منہ بولتا شاہکار ہے۔اکثر دوسرے شہر سے آنے والے مہمانان راشد آباد دیکھنے کی خواہش کرتے ہیں۔ آپ جب ٹنڈو الہ یار آئیں ہر صورت اس مرکز علم و فن کا مطالعاتی دورہء ضرور ہی کیجئے۔میرے ہی شہر ٹنڈوالہ یار میں پاکستان کا پہلا تاریخی دینی مدرسہ اشرف آباد کی زمین پر دارالعلوم اسلامیہ دیوبند کے نمونے پر بنا۔یہاں کی تعلیمی سرگرمیوں نے اعتماد و نام پیدا کیا۔مدرسے کے ابتدائی اساتذہ میں حضرت مولانا جمشید احمد امت برکاتہم رائیونڈ والے جیسے اکابر امت ٹنڈوالہ یار دارالعوام مدرسے کے مدرس مقرر ہوئے۔حضرت میرے ہم قبیلہ راؤ راجپوت تھے۔ میرے والد کے خالہ زاد بھائی تھے۔اسی ہی مدرسے کے شیخ الحدیث مولانا اشفاق الرحمن کاندہلوی رحمتہ اللہ مولانا مودودی رحمتہ اللہ کے حدیث وفقہ کے استاد ہیں۔لہٰذہ کسی بھی علمی ادارے کے علمی مقام کا اندازہ اس کے اساتذہ شیوخ اور تلامذہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ان تمام عظیم شخصیات کی وجہ سے میرے شہر سے مرکز علم وہنر کے زمزمے پھوٹے ۔یہ دار العلم دار الافتاء بنا۔یہاں کے باشندگان کو علماء فقہا اور صوفیہ کی صحبت ملی۔
یہاں اقلیت قوم ہندوؤں کی بڑی عبادت گاہ بھی موجود ہے۔اک شخصیت راما پیر جنھوں نے پست ذات کہلانے والے ہندوؤں کو ذات پات کی تقسیم والے نظام میں عزت و احترام سے نوازا تھا۔یہی وجہ کہ وہ انھیں اوتار تصور کرتے ہیں۔سو جس کھتری محلہ کی میں رہائشی ہوں وہاں راما پیر کا میلہ 150 برسوں سے ہر سال بھادوں کے مہینے ماہ ستمبر میں سجتا ہے۔ پورے پاکستان سے پیدل شرکاء قافلوں کی صورت ٹنڈوالہ یار پہنچتے ہیں۔ راما پیر میلے کی اہمیت سندھ کے کسی میلے کا مقدر نہیں بن سکی۔میرے شہر کی دھرتی پر اقلیت کے ساتھ حسن و سلوک کا رویہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ میرے شہر کے تعارف میں ٹنڈو سومرو کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ٹنڈو سومرو ضلع ٹنڈو الہ یار کا منفرد گاؤں ہے۔اسے یونیسیف نے ماڈل ولیج کا ایوارڈ دیا ہے۔یہاں دو سیکیورٹی چیک پوسٹ ہیں۔ شناخت کے بغیر اندر نہیں جانے دیاجاتا۔ہم کئ اک مرتبہ ٹنڈو سومرو فام ہاؤسز کی سیر کے لیے گئے۔تو حوالہ بہن کے کولیگ احمد دین نظامانی تھے۔جن کے گھر کی سندھی بریانی اور ٹنڈے کی سبزی کے کھانے کا اروما کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔پورے سندھ میں اس جیسا دوسرا گاؤں نہیں۔ٹنڈوالہ یار میں کئ سو اولیائے کرام اور بزرگان دین کی قدم قدم پر درگاہیں خانقاہیں ہیں۔لیکن درگاہوں پر شرک کی حد ہے مندر اور درگاہ میں فرق ہی معلوم نہیں ہوتا۔
سندھ کے بہلول دانا وتایو فقیر کی آخری آرام گاہ بھی ہے۔وتایو کے قصے اور داستانیں ضرب المثل ہیں۔لیکن بات ہے ٹنڈو الہ یار کی سندھی کی ضرب المثل ہے۔
*کہاں منہ مریم کا کہاں ٹنڈو الہ یار*
اس مشہور ضرب المثل کے پیچھے کئ کہانیاں جن میں سے ایک یہ ہے کہ نصرپور میں تالپوروں نے اک توپ بنائی جس کا نام مریم رکھا گیا۔جب اس توپ کا گولہ ٹنڈوالہ یار کی طرف داغنا چاہا تو وہ آڑا ہو کر پلٹ گیا۔تو یہ ضرب المثل مشہور ہوئی۔ٹنڈو الہ یار کے شہر نصرپور میں بننے والے ہاتھ کے فن پارے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔اس کا تاریخی قدیمی قبرستان کا نام گل غیبی ہے۔
یہ خوشحال لوگوں کا کاروباری شہر ہے۔پرائیوٹ نوکریوں کے قلت ہے لیکن روزگار کے بہت مواقع ہیں۔البتہ اس کے نواح میں موجود گاؤں میں غربت ضرور ہے گاؤں میں ذریعہ معاش زراعت ہے۔شوگر مل کی وجہ سے بھی یہاں ابتداء ہی سے گیس بجلی کی سہولیات موجود تھیں۔یہاں کے لوگ ماڈ فیشن زدہ ہیں اویرنس اچھی ہے لیکن فیشن میں در آنے والی بے باکیت تیزی سے ہماری روایات اقدار بدل رہی ہے۔حال حلیے سے پہچانے نہیں جاسکتے کہ کراچی کے رہائشی نہیں البتہ گفتگو کے انداز سے پہچانے جاسکتے کہ ٹنڈو الہ یار کے رہنے والے ہیں۔خواتین کی بھی بھاری آوازیں سپاٹ لب و لہجہ ہے۔کیونکہ شہر میں مہاجر کمیونٹی زیادہ ہے تو انڈیا کی جن ریاستوں سے ہجرت کی زبان و لہجے میں وہیں کے اثرات ہیں سندھی لہجے کی آمیزش نہیں ہے۔یہاں کے لوگ زیادہ تر گھر کے کھانے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن فاسٹ فوڈ رواج تیزی سے پھل پھول رہا ہے۔چند اک روڈ خصوصاََ چمبڑ روڈ کو تو مابدولت نے فوڈ اسٹریٹ کا نام بھی دے دیا ہے۔ہوٹلنگ رواج بھی پرورش پارہا ہے میرا گھرانہ دوست احباب تو جب رواج نہیں تھا تب بھی ہوٹلنگ کیا کرتے تھے۔ہمارے بچپن میں حق موجود اور جمیل باورچی ہوٹل مشہور تھے۔اب سپر مدینہ اور سپر مکہ کی مکھنی روٹی ہانڈی کا شہریوں کو نشہ ہے۔یہاں کا تافتان نوابشاھ تک سپلائی ہوتا ہے اور اے ڈی کی قلاقند کا بھاؤ بھاشانی مٹھائی جتنا ہے۔شہر پرامن ہے جرائم شرح کم ہے۔ خواتین آسانی سے موو کرتیں ہیں اور شام کی سیر کے لیے خوبصورت پارکس میں بھی جاتی ہیں۔اس کا مضافات ہرا بھرا ہے ٹو ان ون مزے ہیں۔گاؤں جیسی فضا خوراک ہے جبکہ شہر جیسی سہولیات ہیں۔اس کے آم ملک اور ملک سے باہر دونوں جگہ پسند کیے جاتے ہیں۔مارٹس ہیں شاپنگ کے لیے بڑا بازار ہے۔سوتی کپڑا اعلیٰ ہے۔یہاں کے بازار میں نواحی علاقوں کے لوگ بھی خریداری کے لیے آتے ہیں۔ البتہ ہم شہر والے برینڈڈ بیگز جوتوں کے لیے حیدرآباد کراچی شاپنگ کے لیے ضرور سفر کرتے ہیں۔دراصل شہریوں نے معیار بڑھا لیا ورنہ محتاجگی کسی دوسرے بازار کی نہیں ہے۔ بازار کی مہنگائی طارق روڈ جیسی ہے۔میں یہاں کے علاؤہ کراچی رہی تو وہاں کے لوگوں سے مزاج کا موازنہ کرتی ہوں تو میرے ہم وطنوں کے مزاج میں بڑے شہر جیسی چالاکی نہیں چھوٹا شہر چھوٹی ہی خامیاں خوبیاں ہیں۔ کراچی والوں کی طرح مسافرت اور بازار خریداری میں بہت مینرز والے لوگ نہیں ہیں۔ دوران مسافرت اور دکاندار گاہک کے جھگڑے عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔البتہ یہاں سخاوت مہمان نوازی خوب ہے۔علاوہ ازیں کوئی بھی شہری سفر آخرت پر روانہ ہو تو بغیر جان پہچان کے بھی تقریباً شہر جنازے میں شرکت کرے گا اور اعزہ کو لازم پرسہ دیں گے۔پڑوسی اک دوسرے کی خوشی غمی میں شریک اک دوسرے سے باخبر اور قابل بھروسہ ہیں۔البتہ بچوں کے گلی میں کھیلنے کا رواج اب نہیں رہا۔اپنی روایات و اقدار پر چلتے ہیں۔برادری سسٹم پنچائیت جرگے کبھی رستے زندگی اک دوجے کے لیے تنگ بھی کردیتے ہیں اور کبھی پنچائیت انصاف کرکے نعمت بھی ثابت ہوتی ہے۔لٹریٹ لوگ ہیں ڈاکٹرز انجینئرز دینی و عصری و علوم سے آشنا لوگوں کی اک کھیپ یہاں سے نکل رہی ہے۔وہ ادارے جن سے شہر کے طالب علم فیضیاب ہورہے ہیں ان میں مہران یونیورسٹی، لمس ،سندھ یونیورسٹی جامشورو ،زرعی یونیورسٹی مختلف مکاتب فکر کے مدارس ہیں۔پرائیوٹ اسکولز کی بہتات ہے جن میں میری ابتدائی درس گاہ کے کے اسکول کی عمارت نہایت پرشکوہ ہے۔طبی سہولیات میں سرکاری ہسپتال کے ساتھ کئ اک پرائیویٹ ہسپتال جن میں اک الخدمت بھی ہے۔یہاں کے لوگوں کی سیاست میں دلچسپی گفتگو کی حد تک تو بہت ہے۔لیکن عملی طور سے ناخواندہ ہی ہیں۔شہری دیہاتی ووٹ عصبیت میں منقسم ہے۔سیاسی حالات بدلنے کا کوئی جذبہ معلوم نہیں ہوتا۔ پریس کلب ہے سٹی اخبار بھی نکلتے ہیں۔اک نیوز سٹی چینل بھی ہے۔ٹنڈو الہیار کو اک مرتبہ اسلحے کا باڑہ بھی قرار دے دیا گیا تھا۔صاف ستھری سڑکیں لیکن ٹریفک جام رہتا ہے۔اس کی خامیوں کے باوجود بھی میں حب الوطنی جذبے سے سرشار اس کے لیے دعا گو ہوں۔
اللہ تعالٰی میرے پیارے شہر کو امن والا بنا دیں۔اس کے پیمانے صاع مد میں برکت دے کر اس کے ثمرات ہمیں نصیب کریں۔اس کے نیک لوگ ہمارے پسندیدہ ہوں۔
اے شہر بے مثال تیرے بام و در کی خیر
اے حسن لازوال تیرے بام و در کی خیر
تسخیر تجھ کو کون کرے گا جہان میں
تو ہے خدا اور اس کے نبی کی امان میں
Comments are closed.