معاون اردومترجم :چندافرادکی وجہ سے آٹھ سوامیدواروں کی فہرست میں تاخیرسراسرناانصافی

کونسلنگ کے آٹھ ماہ بعدبھی لسٹ جاری نہیں ہوسکی ،دستاویزی شرط پوری کرنے والوں کاشکوہ ،جلداجراکی اپیل
پٹنہ27مارچ(پریس ریلیز)معاون اردومترجم کے وہ امیدارجوجنرل زمرے سے ہیں یاای ڈبلیوایس سے ہیں یااوبی سی،ایس سی ایس ٹی کے وہ امیدوارجنھوں نے بی ایس ایس سی کی شرائط اور نوٹیفکیشن کے مطابق ضروری دستاویزات کونسلنگ میں دکھادی ہیں،ان کی فائنل فہرست میں تاخیرکیوں کی جارہی ہے؟کورٹ میں ان امیدواروں کامعاملہ ہے جن کے پاس بی ایس ایس سی کے نوٹیفکیشن کے مطابق دستاویزات نہیں ہیں،لیکن جوامیداردستاویزی شرائط پوری کرچکے ہیں،کونسلنگ کے آٹھ ماہ بعدبھی ان کی فائنل فہرست نہیں جاری کی جاسکی ہے۔اگر1294ویکنسی کایہ حال ہے تواگلے دوبرس میں بہارسرکارکس طرح دس لاکھ نوکریاں دے گی؟یہ اپنے آپ میں ایک سوال ہے۔ لہٰذاسرکاراگرنوجوانوں کونوکری دیناچاہتی ہے تواسے سنجیدگی دکھاناہوگی۔بہارحکومت معاون اردومترجم کے ان امیدواروں کی فائنل فہرست جلدجاری کرے جنہوں نے کونسلنگ میں بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن کی شرط کے مطابق ساری دستاویزات دکھادی ہیں،کچھ لوگوں کی وجہ سے ہزاروں امیدواروں کی فہرست کوروکے رکھنا ناانصافی ہے۔بہارکی حکمراں جماعتیں انصاف پرمبنی حکومت کادعویٰ کرتی ہیں،لیکن موجودہ صورت حال اس کے برعکس ہے ۔لہذاانصاف کاتقاضاہے کہ دستاویزی شرط پوری کرنے والے امیدواروں کو’گناہ ناکردہ ‘کی سزانہ دی جائے ۔دوسرے لوگوں کی وجہ سے ان کارزلٹ روکے رکھناسراسرناانصافی ہے ۔یہ مطالبہ راشد انور ، ذکی احمد،تبسم فاطمہ،زریں ،محمدساجد،محمداشرف،صدف آفریں،بلال انصاری،شفیع احمد،محمدسلمان انصاری سمیت ہزاروں معاون اردومترجم کے کامیاب کاہے۔
ان امیدواروں کاکہناہے کہ دوتین سوامیدواروں کی وجہ سے ہم آٹھ سولوگوں کی فائنل فہرست کیوں روکی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نتیش کماراقلیتوں کے مسائل کے تئیں بے حدسنجیدہ ہیں،لگتاہے ان تک ہماری بات نہیں پہونچی ہے ورنہ وہ فوری اقدام کرتے،ضروری ہے کہ حکمراں پارٹیوں میں جومسلم لیڈران ہیں وہ اس اہم مسئلہ کی طرف وزیراعلیٰ کی توجہ مبذول کرائیں کہ وہ بی ایس ایس سی کودستاویزی شرائط پوری کرنے والے امیدواروں کی فہرست جاری کرنے کاحکم دیں۔تبسم فاطمہ نے کہاکہ جولوگ کورٹ گئے ہیں وہ معاملہ لٹکاناچاہتے ہیں،جس کی ان کے پاس کوئی منطقی بنیاد نہیں ہے۔وہ لوگ کورٹ جاکرسوگئے ہیں،ان کے وکیل بات کرنے کوتیارنہیں،یہ لوگ اردواورقوم کے دشمن ہیں،لہذاان کاکیس فوری طورپرمستردکیاجائے،کیوں کہ اگران کے مطالبے کومان لیاجاتاہے تواردومترجم کے ان امیدواروں پراس کافرق پڑے گاجن کی تقرری ہوچکی ہے اورجوچندماہ سے کام بھی کررہے ہیں،ظاہرہے کہ حکومت یہ رسک نہیں لے گی کہ جن کوخودتقرری نامہ دیاہوان کوپھرکالعدم کردے، کورٹ جانے والے امیدواروں کے مطالبے کوماننے سے یہی دشواری ہوگی۔لہذاان کامطالبہ نہ صرف مستردکردیاجائے بلکہ ان پرجرمانہ بھی لگایاجائے تاکہ آئندہ یہ لوگ ایسی حرکت سے بازرہیں،کیس کومستردکرنے کی مضبوط بنیادبی ایس ایس سی کا 2019کانوٹیفکیشن ہے۔بلال انصاری نے کہاکہ کچھ افراداپنی وجہ سے پوری اردواورملت کانقصان کررہے ہیں،ان سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنی درخواست واپس لیں کیوں کہ ویسے بھی ان کا کیس مستردہوجاناہے۔ان کے وکیل بھی دل چسپی نہیں لے رہے ہیں کیوں کہ جولوگ اس وقت جوش میں کورٹ چلے گئے اب ان کے پاس وسائل نہیں ہیں کہ وکیل کوخرچ دیں یہی وجہ ہے کہ کیس لٹکاہواہے۔لہذاہم جیسے ایسے آٹھ سوسے زائدامیدوارہیں جواوبی سی،ای ڈبلیوایس ،ایس سی ایس ٹی سے ہیں اوران کے پاس بی ایس ایس سی کے مطابق دستاویزات موجودہیں ،اسی طرح جنرل امیدارہیں،ان سب کی تقرری کچھ لوگوں کی حماقت اورضدکی وجہ سے لٹکی ہوئی ہے۔لہٰذاحکومت بہار سے اپیل ہے کہ کم ازکم جنرل ،اوبی سی ،ایس سی ،ایس ٹی اورای ڈبلیوایس کے ان امیدواروں کی فائنل جاری کی جائے جودستاویزی شرائط پوری کرچکے ہیں۔اب مزیدتاخیرکی گنجائش نہیں ہے۔ محمداشرف نے کہاکہ جولوگ کورٹ گئے ہیںان کی نیت ٹھیک نہیں ہے وہ اپنے چکرمیں سبھوں کانقصان کررہے ہیں،یہ لوگ اردوکے دشمن ہیں ،قوم کے دشمن ہیں،یہ لوگ بحال ہوکربھی کون سااردوکابھلاکردیں گے،یہ لوگ کیس کولٹکاناچاہتے ہیں،لہذاحکومت بہاران کی سازش کوکامیاب نہ ہونے دے کیوں کہ اگربحالی میں مزیدتاخیرہوئی توحکومت بہارکی بدنامی ہوگی اورالیکشن میں اچھااثرنہیں جائے گا،حکومت سے اپیل ہے کہ وہ ایسے افسران کی بھی خبرلے جوحکومت کے نوکری د ینے کے ایجنڈے کوپوراکرنے میں تاخیرکررہے ہیں۔ شفیع احمدنے جماعت اسلامی بہار،امارت شرعیہ،ادارہ شرعیہ،ملی کونسل،جمعیۃ علماءبہارجیسی ملی تنظیموں اوراداروں نیزجدیو،راجد،کانگریس میں شامل مسلم لیڈران سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکارکی توجہ اس کی طرف دلائیں اورجلدازجلددستاویزی شرائط پوری کرنے والے امیدواروں کی فائنل فہرست جاری کرانے کی کوشش کریں تاکہ ہزاروں خاندان کی دعائیں اوراعتمادان کوحاصل ہوسکے۔

Comments are closed.