مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
فیکلٹی ممبر کا لیکچر
علی گڑھ، 28 مارچ: شعبہ کامرس ، اے ایم یو کے پروفیسر نواب علی خاں نے یونیورسٹی آف کیرالہ اسٹڈی اینڈ ریسرچ سنٹر ، الاپوزہا کے زیر اہتمام ’نتائج پر مبنی تدریس اور اسسمنٹ‘ پر مبنی ایک ہفتہ کے مختصر مدتی کورس میں ریسورس پرسن کے طور پر مدعو لیکچر دیا۔
پروفیسر نواب علی خاں نے کہا کہ نتائج پر مبنی تعلیم، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے نتائج پر منحصر ہے نہ کہ اِنپُٹ پر۔ او بی ای میں نتائج پیمائش کے قابل ہوتے ہیں۔ درحقیقت ہر تعلیمی ادارہ اپنے نتائج بیان کر سکتا ہے۔اس کا حتمی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تعلیم اور ملازمت کی لیاقت کے درمیان باہمی تعلق ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ٹکنالوجی کی مدد سے تدریسی طریقے اور اسسمنٹ تعلیمی اداروں کو ہدف کے مطابق نتائج پیش کرنے کے قابل بنائیں گے۔
کورس میں طلباء، ریسرچ اسکالرز اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو الومنئی ایسوسی ایشن نے 344 میرٹ اسکالرشپ کا اعلان کیا
علی گڑھ 28 مارچ: علی گڑھ الومنئی ایسوسی ایشن، واشنگٹن، ڈی سی (اے اے اے ڈی سی) نے تعلیمی سال 2022-23 کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء کو 344 میرٹ کم مینس اسکالرشپ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وظائف میرٹ اور مالی حالت کی بنیاد پر اے ایم یو میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورسز کرنے والے مستحق طلباء کو دیے جاتے ہیں۔
اسکالرشپ میں ٹیوشن فیس، رہائش کے اخراجات، اور کتابوں وغیرہ کے تعلیمی اخراجات شامل ہیں۔
محترمہ شکیلہ رضا (صدر، اے اے اے ڈی سی) نے کہا کہ ایسوسی ایشن اے ایم یو میں مستحق طلبا کی تعلیم کی حمایت کے لیے پرعزم ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم سماجی اور اقتصادی ترقی کی کلید ہے، اور ہم لیڈروں اور پیشہ ور افراد کی اگلی نسل کی حمایت کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2000 درخواستوں میں سے 344 کا انتخاب تعلیمی کارکردگی، مالی ضرورت اور درخواست دہندگان کے ذاتی بیانات کی بنیاد پر کیا گیا۔ 344منتخب طلباء میں سے 200 طلباء پہلے سے اسکالر شپ پانے والے طلباء ہیں ، جب کہ 144 طلباء کو پروفیسر اکرام خاں کی قیادت میں اے ایم یو الومنئی افیئرز کمیٹی کی نمائندہ ٹیم نے منتخب کیا ہے۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا ’’ہم علی گڑھ الومنئی ایسوسی ایشن واشنگٹن ڈی سی کی فراخدلانہ حمایت کے لیے شکر گزار ہیں۔ یہ وظائف ہمارے طلباء کو بغیر کسی مالی رکاوٹ کے اپنے تعلیمی مقاصد کو حاصل کرنے کے قابل بنائیں گے۔ ہم اے ایم یو کے طلباء کی فلاح و بہبود کے لیے الومنئی ایسوسی ایشن کے عزم کی تعریف کرتے ہیں‘‘۔
علی گڑھ الومنئی ایسوسی ایشن واشنگٹن ڈی سی کا قیام 1975 میں ہوا تھا اور یہ اپنے میرٹ کم مینس اسکالرشپ کے ذریعے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اے ایم یو میں تعلیم اور ریسرچ کو تعاون دے رہی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر نوشاد علی کو ریسرچ پروجیکٹ گرانٹ منظور
علی گڑھ 28 مارچ: پروفیسر نوشاد علی پی ایم، شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (آئی سی ایس ایس آر)، نئی دہلی سے ’’ہندوستان میں لائبریریز، آرکائیوز اور میوزیمس میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ: روک تھام، تیاری اور عمل کا سروے‘‘ موضوع پر کام کرنے کے لیے 10 لاکھ روپے کی ریسرچ گرانٹ حاصل کی ہے۔
پروفیسر نوشاد نے کہا کہ ہندوستان میں لائبریریاں، آرکائیوز اور عجائب گھر اپنے منفرد جغرافیائی موسمی محل وقوع اور لوگوں سے ممکنہ خطرات کی وجہ سے مختلف قسم کی قدرتی آفات کا شکار ہوتے ہیں۔ قومی اہمیت کے ہر ادارے کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ پروجیکٹ ہندوستان میں لائبریریوں، آرکائیوز اور عجائب گھروں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے منصوبوں کی موجودہ صورتحال کا مطالعہ کرنے اور خطرات سے نمٹنے کے منصوبے اور پالیسیاں تجویز کرے گا۔
٭٭٭٭٭٭
ہوم سائنس شعبہ میں انٹریپرینئرشپ پر خصوصی پروگرام
علی گڑھ 28 مارچ: ہوم سائنس شعبہ نے ایک پروگرام کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا ’’عورت کا ایک خوبصورت سپنا، ویاپار ہو اس کا اپنا‘‘۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہنر رکھنے والے افراد نے اس پروگرام میں شرکت کی۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈوڈا) کے دو ریسورس پرسنز نے کاروبار شروع کرنے کے لیے مختلف سرکاری قرضوں کی اسکیموں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
بی ایس سی ، سال آخر کے طلباء نے ہنر مندی کی نشوونما اور انٹریپرینیئرشپ کے لیے’’نیوٹریفیسٹ بجٹ بائٹس‘‘ کے عنوان سے ایک فیسٹیول کا بھی انعقاد کیا۔ شعبہ کامرس کی پروفیسر شیبا حامد نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ مشکل حالات میں کام کرنا سیکھیں اور اپنے اسٹارٹ اپ شروع کرنے کی کوشش کریں۔
صدر شعبہ پروفیسر فرزانہ علیم نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔
٭٭٭٭٭٭
کتابوں اور جرائد کا اجراء
علی گڑھ 28 مارچ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے ایڈمنسٹریٹیو بلاک کے سلیکشن کمیٹی روم میں تقریباً ایک درجن کتابوں اور جرائد کا اجرا کیا۔
جن کتابوں کا اجراء کیا گیا ان میں شامل ہیں: ’علی گڑھ جرنل آف لنگوسٹکس‘ (شعبہ لسانیات)،’’دکما‘‘ اور ”بھامتی” (ترجمہ از پروفیسر محمد جہانگیر وارثی)، ”امورِ طبعیہ پریکٹیکل بی یو ایم ایس” (پروفیسر اشہر قدیر، شعبہ کلیات)، ”ہندی غزل کا سوندریہ شاستر” (ڈاکٹر صائمہ بانو، شعبہ ہندی )، ”ٹرانسفارمیشن اِن دی کارپیٹ انڈسٹری آف بھدوہی: فینومینا آف سوشل ایکسکلوزن” (ڈاکٹر اصفیہ کریمی، سیپی کیمی / برج کورس)، ” تفسیر الصیدلہ (یونانی فارمیسی)” (ڈاکٹر محمد بلال تفسیر، علم الادویہ)، ”ورسا، سہ ماہی اردو بین الاقوامی جریدہ” (رئیس وارثی کا ایڈٹ کردہ اور پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی، شعبہ اردو کا پیش کردہ) اور ”آفتاب ہال میمنٹو” (پرووسٹ مسٹر سلمان خلیل اور آفتاب ہال کے وارڈنز کی طرف سے پیش کردہ)۔
اس موقع پر پروفیسر منصور نے کہا کہ نئی شائع شدہ کتابیں اور رسائل ہمارے اساتذہ اور طلباء کی علمی صلاحیتوں ، اور یونیورسٹی کی فکری قدر میں اضافہ کریں گی۔
٭٭٭٭٭٭
یونیورسٹی فائن آرٹس کلب نے ڈرائنگ ورکشاپ کا اہتمام کیا
علی گڑھ، 28 مارچ: یونیورسٹی فائن آرٹس کلب (یو ایف اے سی)، کلچرل ایجوکیشن سینٹر (سی ای سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے طلباء و طالبات کو ڈرائنگ کی مختلف تکنیکوں کی معلومات فراہم کرنے کے لئے ایک ہفتہ کی ڈرائنگ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔
مہمان آرٹسٹ ڈاکٹر ارجن کمار سنگھ (چٹکارا یونیورسٹی، چندی گڑھ) نے ورکشاپ کا انعقاد کیا اور ورکشاپ کے شرکاء کی رہنمائی کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ کس طرح آسان ترین طریقے سے فنی شاہکار تیار کیے جاسکتے ہیں۔
اختتامی تقریب کی مہمان خصوصی معروف ماہر اطفال ڈاکٹر حمیدہ طارق نے مہمان آرٹسٹ کی تخلیقی صلاحیتوں اور طلباء کی پینٹنگز کو سراہا۔ انہوں نے انسانی زندگی میں فن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
مہمان اعزازی پروفیسر عارف نذیر، ڈین، فیکلٹی آف آرٹس نے کلب کی صدر ڈاکٹر اسماء کاظمی اور ورکشاپ میں شریک طلباء و طالبات کو ان کی کامیابیوں پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ”حقیقی آرٹ ورک خدا کی ستائش کرتا ہے اور انسانوں (فنکاروں) کو خدا کے قریب کرتا ہے”۔ انھوں نے فنون لطیفہ سے متعلق کئی سنسکرت شلوکوں کا حوالہ دیا۔
مہمان فنکار ڈاکٹر ارجن سنگھ نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا جسے حاضرین نے کافی پسند کیا ۔
پروفیسر ایم وسیم علی (یونیورسٹی پراکٹر) اور پروفیسر ثمینہ خان نے بھی تقریریں کیں اور آرٹ کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے اظہار خیال کیا۔ پروفیسر علی انور زیدی، پروفیسر جہانگیر وارثی، پروفیسر آفرینہ اور پروفیسر نشاط نے اس موقع پر پیش کئے گئے فن پاروں کو سراہا۔
ڈاکٹر عابد ہادی نے طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں اور مہمان فنکار کی پیشکش کو سراہا۔
ورکشاپ کے دوران ڈاکٹر سنگھ نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جس سے طلباء کو ڈرائنگ کے مختلف انداز سیکھنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ترغیب ملی۔ انہوں نے تخلیقی صلاحیتوں کی اہمیت اور اس کو بروئے کار لانے کے طریقے کے بارے میں بات کی۔
انہوں نے ورکشاپ میں چارکول اور ڈرائنگ شیٹس پر طلباء کی ڈرائنگ کی نگرانی کی اور ان کی رہنمائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف تکنیکوں کو بروئے کار لا کر آرٹ کے انداز کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
قبل ازیں افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر اسماء کاظمی، صدر، یو ایف اے سی نے مہمان فنکار کا تعارف کرایا اور موجودہ دنیا میں آرٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ورکشاپ کی افتتاحی تقریب کینیڈی آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں 55 شرکاء نے حصہ لیا۔
Comments are closed.