امیش پال اغوا کیس میں عتیق احمد کو عمر قید کی سزا ،بھائی اشرف بری

پریاگ راج (ایجنسی) امیش پال اغوا کیس میں عتیق احمد، دنیش پاسی اور ان کے وکیل خان صولت حنیف کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔ ایم پی/ایم ایل اے عدالت نے ان سبھی کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تینوں پر پانچ پانچ ہزار جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب عدالت نے عتیق کے بھائی اشرف عرف خالد عظیم سمیت سات ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا ہے۔ عتیق اور اشرف کی پیشی کے پیش نظر عدالت اور جیل کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ دونوں بھائیوں کو پیر کو دو مختلف جیلوں سے پریاگ راج لایا گیا تھا۔
قبل ازیں عتیق احمد اور ان کے بھائی خالد عظیم عرف اشرف کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ دونوں کو بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے اس وقت کے ایم ایل اے راجو پال قتل کیس کے گواہ امیش پال کے اغوا کے سلسلے میں پیش کیا گیا تھا۔
عتیق اور اشرف پر گزشتہ ماہ 2005 میں راجو پال کے قتل کے اہم گواہ امیش پال کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔ 24 فروری کو پریاگ راج میں امیش پال اور ان کی حفاظت میں تعینات دو پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پال کی بیوی جیا کی شکایت پر احمد، اس کے بھائی اشرف، بیوی شائستہ پروین، دو بیٹوں، معاونین گڈو مسلم اور غلام اور نو دیگر کے خلاف پریاگ راج کے دھومان گنج پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
25 جنوری 2005 کو بی ایس پی ایم ایل اے راجو پال کے قتل کے بعد اس وقت کے ضلع پنچایت ممبر امیش پال نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ اس قتل کا عینی شاہد ہے۔ امیش نے الزام لگایا تھا کہ اسے 28 فروری 2006 کو اس وقت اغوا کیا گیا جب اس نے عتیق احمد کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ اس معاملے میں عتیق، اس کے بھائی اشرف اور چار نامعلوم افراد کے خلاف 5 جولائی 2007 کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ کیس میں عدالت میں پیش کی گئی چارج شیٹ میں 11 ملزمان کا ذکر ہے۔
پھولپور سے سماج وادی پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کو جون 2019 میں گجرات کی سابرمتی سینٹرل جیل منتقل کیا گیا تھا۔ عتیق کو اس وقت سابرمتی جیل بھیج دیا گیا جب اس پر اتر پردیش کی جیل میں رئیل اسٹیٹ کے تاجر موہت جیسوال کے اغوا اور حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ عتیق احمد امیش پال قتل کیس سمیت 100 سے زائد مجرمانہ مقدمات میں نامزد ہے۔ حکام نے بتایا کہ جولائی 2020 سے بریلی ڈسٹرکٹ جیل میں بند اشرف کو سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان پیر کی شام نینی سینٹرل جیل لایا گیا۔ ان کے ساتھ پولیس کی ایک ٹیم پیر کی صبح بریلی سے پریاگ راج کے لیے روانہ ہوئی۔

Comments are closed.