امامت و قیادت

 

ندائے فلک

 

مولانا محمد انواراللہ فلک قاسمی

مؤسس و معتمد ادارہ سبیل الشریعہ رحمت نگر آواپور شاہ پور سیتامڑھی بہار و رکن تاسیسی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
ملک و ملت ، قوم و سماج اور تنظیم و ادارے کی قیادت و سیادت ، امامت امارت بڑی نازک اور اہم ذمہ داریاں ہیں یہ پھولوں کا سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا اسٹیج ہے جو لوگ اس منصب کو صرف اور صرف عہدے کی عزت و عظمت کی حیثیت سے حاصل کرتے ہیں وہ در حقیقت اپنی زندگی کو شعلوں کے حوالے کر دیتے ہیں قوم کے امام و قائد کی ذرا سی چوک سے پوری قوم کو اس کی پاداش کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔ غور کی نظر اس حقیقت کو آشکارا کر دے گی کہ ایک مسجد کا امام جو محراب میں ہوتا ہے اور اس وقت وہ اپنے تمام مقتدیوں کا پیشوا ہوتا ہے اور جب اس سے کوئی چوک ہوجاتی ہے تو اس کی پاداش میں اس کے ساتھ تمام مقتدیوں کو سجدہ سہو کرنا پڑتا ہے یہ ہے امام کی امامت کے سہو کا نتیجہ جو ظاہر کرتا ہے کہ ذمہ داری کتنی اہمیت رکھتی اور ذمہ داروں کو کس قدر محتاط رہنا چاہیے ورنہ تو پوری قوم ان کے ساتھ ابتلاء و آزمائش میں مبتلا ہو جاتی ہے یہاں غلطی صرف ایک سے ہوئی ہے لیکن وہ اپنی قوم کا امام ہے اس لیے جو لوگ بھی اس کے ماتحت ہیں سب کو سجدہ سہو سے گذرنا پڑتا ہے یہی حال تقریباً زندگی کے دوسرے مواقع پر بھی ہوتا ہے کبھی تو اس کا ادراک بر وقت ہو جاتا ہے اور کبھی وقت کے گذرنے کے ساتھ قوم پر عیاں ہو جا تا ہے اس لیے قوموں کی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنا قائد اور اپنا پیشوا سوچ سمجھ کر منتخب کریں اور جب انتخاب صحیح عمل میں آ جائے تو پھر قوم کے پیشوا اور اس کے امام و قائد کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہے کہ وہ ہمہ وقت بیدار اور اپنی قوم کے تئیں باخبر رہیں تاکہ ان کی تھوڑی سی غفلت پوری قوم کی چولیں ہلا کر نہ رکھ دے ؛ ہر ذمہ دار اپنے ماتحتوں کے تعلق سے عند اللہ مسئول ہوگا یہ بات ہم سبھوں کو یاد رہنی چاہیے ۔
اللہ پاک ہم سبھوں کو اس کی توفیق دے ۔
آمین یارب العالمین ۔

Comments are closed.