کیوں گھیر رہی ہے راہل گاندھی اور ممتا بنرجی کو بی جے پی ؟

عارف شجر
حیدرآباد، تلنگانہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2024 کا انتخاب جیسے جیسے قریب تر ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے بی جے پی اور انکی ٹول کیٹ سر گرم ہو گئی ہیں۔سرگرمی تعمیری نہیں بلکہ تخریبی کہی جائے گی ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ 2024 کا انتخاب جیتنے کے لئے بی جے پی نے اپنا پرانا حربا اپنانا شروع کر دیا ہے یہ بات واضح ہے کہ بی جے پی نے ریاستی انتخاب ہو یا عام انتخاب اقتدار کی کرسی پانے کے لئے ملک کے امن پسند لوگوں کے بیچ نفرت اور رنجش پیدا کرکے اور دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کو توڑ کر ہی مسند اقتدار پر بیٹھی ہے۔ اب جبکہ اس بار کا 2024کا انتخاب بے حد اہم اور دلچسپ ہونے والا ہے اور بی جے پی نے ابھی سے ہی ملک میں نفرت کی آگ کو ہوا دینے کا پلان بنانا شروع کر دیا ہے جوکسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ رام نومی کا تہوار اس کا جیتا جاگتا مثال ہے جہاں دنگا اور فرقہ وارانہ تشدد بھڑکا کر بی جے پی ووٹوں کی پولورائزیشن کرنے میں مصروف عمل ہے یہ بات مغربی بنگا ل کی سی ایم ممتا بنرجی اور بہار کے سی ایم نتیش کمار کے علاوہ ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو واضح طور سے کہہ چکے ہیں کہ بنگال اور بہار میں فرقہ وارانہ تشدد کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ ہے۔بہار کے نالندہ ضلع میں بہار شریف، روہتاس سے مونگیر میں ساسارام، مغربی بنگال میں ہاوڑہ میں اسلام پور-شیو پور، شمالی دیناج پور میں دالکھولا سے ہگلی، مہاراشٹر میں سمبھاجی نگر، اورنگ آباد، پونے، ممبئی میں ملاڈ میں مالوانی، جلگاؤں میں پالدھی جیسی رپورٹیں آئی ہیں۔ جھارکھنڈ کے مشرقی سنگھ بھوم میں ہلدی پوکھر، کرناٹک میں ہاسن، بنگلور، گجرات میں احمد آباد میں اونا، وڈودرا میں فتح پورہ اور کمبھرواڑہ، گڑگاؤں، جو ہریانہ میں گروگرام بن گیا، اور اتر پردیش میں لکھنؤ یونیورسٹی قابل ذکر ہیں جہاں ایک منصوبہ بند طریقے سے تشدد کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی گئی۔بنگال سے کرناٹک تک، بہار سے گڑگاؤں تک پیٹرن بغیر کسی استثنا کے ایک جیسا ہے۔ رام نومی کے بہانے – معروف فرقہ پرست تنظیموں کے جلوس مسلمانوں کی آبادی کے علاقوں سے گزرنا، اشتعال انگیز تقریریں کرنا، تلواریں، ترشول اور بندوقیں لہرانا اور اشتعال انگیز نعرے لگانا، اس کے بعد بھی اگر کوئی جواب نہ ملے تو نماز کے وقت مسجدوں کے سامنے کان کو پھاڑ دینے والی لائوڈسپیکر کا استعمال کرنا، افواہیں پھیلا کر، اپنے ہی جلوس میں بھگدڑ مچانا اور پھر وہی صورت حال پیدا کرنا جو اس رام نومی کے دن مذکورہ بالا تمام جگہوں پر موجود تھی۔
مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ بی جے پی اس بار کے عام انتخاب میں وہی رول اپنانے والی ہے جو قبل میں اپنا کر اقتدار کی کرسی پر جا بیٹھی تھی، در اصل بی جے پی مغربی بنگال کی سی ایم ممتا بنرجی اور کانگریس کے سابق ایم پی راہل گاندھی کو لے کر کافی فکر مند ہے۔ خصوصی طور سے یہ دونوں قائدین بی جے پی کی آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں ۔ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات میں جس طرح سے ممتا بنرجی نے اپنے حکمت عملی سے بی جے پی کو دھول چٹایا تھا اور پی ایم مودی ائنڈ کمپنی کے وقار کو جس طرح سے عوام کے سامنے ایکسپوز کیا تھا اس کی ٹیس ابھی بھی بی جے پی کو رہ رہ کر ہوتی رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ ممتا حکومت کو بدنام کرنے کے لئے بی جے پی مغربی بنگال میں اپنی شاطر چال چل رہی ہے حالانکہ ہر بار ممتا بنر جی نے بی جے پی ائنڈ کمپنی کو ایکسپوز کرکے انکی شاطر چال کو عوام کے سامنے لا دیا ہے پھر بھی بی جے پی اپنی ناپاک منصوبے ممتا حکومت کے لئے بناتی رہتی ہے ۔ مغربی منگال میں ہاوڑا اور ہگلی میں جس طرح کی فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلا کر ممتا بنر جی کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ 2024 کے انتخابات میں بی جے پی کو مغربی بنگال سے اس بار 40 سیٹیں چاہئے اس کے لئے ہی بی جے پی اپنی پوری طاقت جھونکنے میں لگی ہے ، بی جے پی کو یہ بخوبی پتہ ہے کہ جب تک ممتا بنرجی کا مضبوط قلعہ ہے ایسا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ بی جے پی ممتا حکومت کو بدنام کرکے ووٹوں کا پولورائزیشن کرنے میں ابھی سے ہی مصروف عمل ہے۔
دوسری طرف اگر ہم راہل گاندھی کی بات کریں تو راہل گاندھی پہلے ہی سے بی جے پی کی آنکھوں کا کر کری بنے ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے جس طرح سے راہل گاندھی اور کانگریس کو مضبوط کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیںہے۔ راہول گاندھی کوئی عام پارٹی لیڈر نہیں ہیں۔ وہ ایک ایسی پارٹی کے ممتاز رہنما ہیں جس نے ہندوستان پر چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک حکومت کی ہے۔ وہ، ان کے خاندان اور ان کی ٹیم کے پاس پوری دنیا کا وسیع تجربہ ہے۔ ان کے مقابلے میں نریندر مودی اور بی جے پی دو لیڈر اور ایک پارٹی ہیں۔ ان دونوں کے پاس کم سے کم تجربہ اور علم ہے۔راہل گاندھی جب بولتے ہیں تو اپنے پورے ورثے کے تجربے کے ساتھ بولتے ہیں، بی جے پی والوں نے ان کے پس منظر کو نظر انداز کیا اور عام لوگوں میں پپو-پپو کہہ کر انہیں ناتجربہ کار بنانے کی کوشش کی اور مودی کو ایک بہت بڑا تجربہ قرار دیا جب کہ مودی-بی جے پی کو دیکھیں تو کانگریس اور راہول گاندھی، ان کے تجربات میں آسمان اور زمین کا فرق ہے۔ اس بات کی بی چرچہ ہو رہی ہے کہ راہول گاندھی کے بار بار انتباہ کے باوجود، پی ایم مودی نے ان کی اپیل پر کوئی توجہ نہ دے کر ہندوستان کے لوگوں کو ناقابل تصور تباہی میں ڈال دیا ہے ،لیکن نریندر مودی اپنی ہی من گھڑت جعلی پروپیگنڈہ مہم میں قید رہے۔ مشورے کو نظر انداز کردیا۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان میں خوفناک بے روزگاری اور غربت ہے۔دوسری طرف راہول گاندھی کے پاس کانگریس کا بھرپور ورثہ ہے جو ملک کے ہر مسئلے پر حقیقی گرفت رکھتے ہیں۔ پالیسیوں کی گہری سمجھ۔ ایسے میں پی ایم مودی کو اقتصادی بحران اور بدعنوانی کے حوالے سے راہول گاندھی کی رائے پر توجہ دینی چاہیے تھی اور ان کے مشورے پر عمل کرنا چاہیے تھا، لیکن مودی اور ان کے ساتھیوں نے ان کی رائے کو نظر انداز کر کے ملک کو مستقل جہنم کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے ہندوستان کے عوام اور دولت کا ناقابل تصور نقصان ہوا ہے۔ راہل گاندھی کی باتیں سننے کے بجائے انہیں نظر انداز کردیا۔ ان کی رکنیت ختم کرنا اپنے آپ میں ایک مخالفانہ اقدام ہے۔ اس سے راہل گاندھی کے الفاظ کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بحران ہے، جمہوریت خطرے میں ہے۔ اڈانی لوٹ رہے ہیں۔ یہ تمام چیزیں تصدیق شدہ ہیں۔
بہر حال ! بی جے پی، سی ا یم ممتا بنرجی اور راہل گاندھی کے چہرے پر روشن مستقبل دیکھ رہی ہے ۔ پی ایم مودی کو یہ پتہ ہے کہ ان دونوں عظیم قائدین پر نکیل نہیں کسا گیا تو انکے اور انکی پارٹی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی گلیاروں میں چرچہ یہ بھی ہے کہ اگر ممتا بنرجی کی پارٹی نے 2024 کے عام انتخابات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں تو انکے لئے پی ایم کی کرسی نزدیک ہو جائے گی۔ کیوں کہ کانگریس ایک بڑی پارٹی ہونے کے باوجود بھی راہل گاندھی کو چھوڑ کر کوئی چہرہ نظر نہیں آتا اور راہل گاندھی پر جس طرح کے بی جے پی نے الزام لگا کر انہیں انتخاب لڑنے سے ہی بے دخل کر دیا تو راہل گاندھی پی ایم کے دعویدار نہیں ہو سکتے انکے لئے مشکل گھڑی ہو سکتی ہے وہیں ٹی ایم سی کی اچھی کارکردگی رہی تو ممتا بنرجی پی ایم کی دعویدار ہو سکتی ہیں اس کے لئے کانگریس کے علاوہ تمام سیکولر پارٹیوں کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ راہل گاندھی کے بعد اگر کسی کو بی جے پی سے براہ راست لڑنے اور انہیں دوٹوک جواب دینے کی قوت ہے تو وہ ہیں مغربی بنگال کی سی ایم ممتا بنرجی اس لئے ممتا بنرجی اور کانگریس کو بھی چاہئے کی اپنے سیاسی گلے شکوے بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر آ کر کام کریں ورنہ بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Comments are closed.