آئی او ایس کے شاہ ولی اللہ ایوارڈسال 2023 کیلئے نام تجویز کرنے کی اپیل

 

نئی دہلی  ( پریس ریلیز)معروف تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نے 1999 میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی یاد میں شاہ ولی اللہ ایوارڈ کا سلسلہ شروع کیاتھا جس کے تحت سلامی اقدار کے فروغ وارتقا میں شاہ صاحب کی خدمات جلیلہ کی یادوں کو شاداب اور قلب ونظر کو منور رکھنے کی غرض سے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نے سماجیات ، ادبیات ،قانون اور اسلامیات کے میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے ممتاز علماءودانشوران کی قدر افزائی کیلئے شاہ ولی اللہ ایوارڈ سے سرفراز کیاجاتاہے ، ایک لاکھ روپے کا اعزازیہ ، ایک سپاس نامہ ، مومینٹواور ایک شال پر مشتمل یہ ایوارڈ ہر سال کسی منتخب عالم دین یا دانشور کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے ۔

ایوارڈ کی اسکیم کا انتظام وانصرام آئی او ایس کی مجلس منتظمہ کے ذریعہ مقرر کردہ ایک خودمختار بورڈ کرتاہے ،بورڈ کی طرف سے ہرسال ایوارڈ کے موضوع یا میدان کار کا تعین کرکے اس کا اعلان کیا جاتاہے اور ملک کے اہل علم سے گزارش کی جاتی ہے کہ مقرر کردہ عنوان پر نمایاں کام کرنے والی شخصیات کی تفصیلات آئی او ایس کو بھیجی جائے تاکہ ایوارڈ دینے کے سلسلے میں ان کے نام پر بھی بورڈ غوروخوض کرے ۔ سال رواں کیلئے ایوارڈ کا عنوان طے کیاگیاہے ۔” ہندوستان کی تاریخ وتہذیب کا معروضی مطالعہ “۔ آئی او ایس کی ایوارڈ کمیٹی کی اپیل ہے کہ جن لوگوں کا اس میدان میں کام ہے ، جنہوں کتابیں تصنیف کیا ہے اور لٹریچر تیار کیاہے ایسی شخصیات کے نام ایوارڈ کیلئے تجویز کیئے جائیں ۔ آئی او ایس کی ویب سائٹ پر فارم موجودہے جس کے مطابق تفصیلات آئی او ایس کے ایمیل پر بھیجی جاسکتی ہے ۔واضح رہے کہ ایوارڈ کیلئے نام تجویز کرنے کی آخری تاریخ 20 مئی 2023 ہے۔

اس کے علاوہ ہر سال ایک جونیئر کٹیگری کا ایوارڈ بھی دیاجاتاہے جس کا طریقہ کار یہ ہوتاہے کہ متعین کردوہ موضوع پر مضمون نگاری کا مقابلہ ہوتاہے جس میں سب سے بہترین مضمون لکھنے کو 25 ہزار روپے کا انعام دیاجاتاہے ۔ سال رواں مضمون نگاری کے مقابلہ کیلئے عنوان ہے ” ہندوستان میں غیر مسلموں کے ساتھ مسلم حکمرانوں کا برتاﺅ“۔اس کی آخری تاریخ بھی 20 مئی ہے ۔ اس تعلق سے پوری تفصیلات آئی او ایس کی ویب سائٹ پر موجودہے اور کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مقابلہ مقالہ نگاری میں حصہ لے سکتے ہیں۔

Comments are closed.