ارےصاحب!!! اب تواپنی باری آئی ہے

 

محمدطفیل ندوی

جنرل سکریٹری! امام الہندفاؤنڈیشن ممبئی

آج سے تین سال قبل وہ این آرسی والاواقعہ یادکیجئے کیامناظرتھے،کیادلخراش حالات بنائےگئےتھے،اس کامقابلہ اصلاخواتین نےکیااوروہ خواتین سڑکوں پراترآئیں ، اوراپنے تحفظات کیلئے انہوں نےہر وہ لائحہ عمل اختیارکیا جو قانونی طورپر درست اور بہترتھا یقینا کیوں کہ اس طرح کے جوشرائط عائدوپابندکئے جارہےتھے وہ ان کی وطنیت پر ایک سوالیہ نشان ضرورتھا آہستہ آہستہ یہ کاغذدکھاؤ ایک تحریک بنی اورملک کی خواتین نے اس تحریک کو وہ مضبوطی دی جوشاید تاریخ کےپنوں میں اس سے قبل ایسی تحریک جوخواتین کےنام ہو کبھی درج نہیں ہوئی جس تحریک کانام ’’شاہین باغ ‘‘پڑا حالات اتنےپیچیدہ ہوئے ، حکومتی اہل اقتدار نے اس تحریک کوناکام اور بدنام کرنےکی مکمل کوششیں کی ،لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکیں ، وہیں مسلمانوں سے متشددانہ ذہنیت افرادنے بھی مختلف الزام لگاکر بادمخالف ہواکےذریعے ناکام کرنےکیلئے مکمل راستےاختیارکرلیےمگر سلام ہو! ان خواتین کو جنہوں نے اس کامضبوطی وپوری قوت سے قانون کے دائرےمیں رہتےہوئےجواب دیا آخرکار یہ تحریک چلی اورچلتی رہیاوردیکھتےہی دیکھتے ملک کی دیگرریاستوں میں بھی یہ طریقۂ کاراختیارکیا مگر وبائی مرض کی وجہ سے انسانیت کومدنظررکھتےہوئے مستقبل کےعزائم کیساتھ وہاں سے اختتام کردیاگیا خیریہ چلتارہا اوراس کیلئے پوری کوششیں ہوتی رہی، جن کے پاس سہولیات اور ذرائع تھے انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھی، لیکن اسی درمیان حکومت مسلسل کوشاں تھی کہ ہم کاغذدیکھ کررہیں گے ،انہیں کاغذات پیش کرنےہوں گے ،لیکن وہی بیشمارنعروں میں ایک نعرہ یہ بھی تھاکہ کاغذہم نہیں دکھائیں گے ،یہ ہماراملک ہے،ہم یہی کے ہیں ،یہی رہیں گے، مگرکاغذنہیں دکھائیں گے ،اب ان حالات کو اور اس دلخراش مناظر کوتقریبا ۳؍سال کاوقفہ ہوگیا وبائی مرض (کورونا )نے ایسے حالات پیش کئے کہ سب تتربترہوگیا لیکن یادکیجئے وہ معاملہ بھی کاغذ دکھانےکاہی تھا اوراب جو معاملہ پورےشدومدکیساتھ سوشل میڈیا ،اخبارات ، پارلیامنٹ، ممبراسمبلی ہرجگہ ایک ہی آوازہے ،اوروہ ہے صاحب ڈگری دکھاؤ،کیوں کہ آپ نےجوپڑھائی کی ہے وہ کہاں تک ہے، کس کالج ویونیورسٹی سےکی ہے ،ہمیں ڈگری دکھاؤ لیکن معاملہ سمجھ سے باہر ہے یاتوپڑھائی نہیں کی جہاں تک آپ نے اپنی معلومات دی ہے ،یاڈگری جعلی بنائی ہے،افسوس اس پر ہے کہ وہ یونیورسٹی بھی فخرمحسوس نہیں کررہی ہے جہاں سے پڑھائی حاصل کی ،ورنہ یہ تودنیا کادستورہے کہ اگر کسی کےماتحت کام کرنیوالایاکسی تعلیمی ادارےسے پڑھنےوالاطالب علم جب کوئی اونچےمقام پر پہونچتاہے توہرکوئی فخرمحسوس کرتاہے ،اس کیلئے استقبالیہ دیتےہیں ، مختلف مقامات پر اس کےاشتہارلگائےجاتےہیں ، بڑےبڑے پروگرام منعقدکئے جاتےہیں، صرف اس وجہ سے کہ یہ اونچےمقام پرپہونچنے والاآئیڈیل ونمونہ ہمارے یہاں کافارغ شدہ ہے، لیکن یہاں توبالکل الٹ پھیرہے ،نہ یونیورسٹی فخریہ طورپرآگے آرہی ہے، اورنہ ہی ڈگر ی منظرعام پر لائی جارہی ہے ،البتہ ایک ڈگری تومنظرعام پر پیش کی گئی لیکن ماہرین ورسرچ نےجب اس پرتحقیق کی تومعلوم ہواکہ وہ ڈگری جعلی ہے مزیدیہ کہ جس فونٹ میں ڈگری تیارکی گئی ہے وہ فونٹ دس سال بعد کی ایجادکردہ ہے ، اورشایدجلدی میں یا پھر ٹائپنگ میں یونیورسٹی کو یونیبر سٹی لکھ دیا گیا دونوں جگہ پرہوتو سمجھ میں آتاایک جگہ ٹھیک ہے ایک جگہ یونیبرسٹی ہے، مزید جس وائس پرنسپل کی دستخط اس ڈگری پرہےوہ اس سے پہلےہی سبکدوش ہوچکےتھے مزید معلومات کےمطابق یہ بھی کہاجارہاہے کہ ۹۰؍کی دہائی تک ڈگری ہاتھ سے لکھ کردی جاتی تھی ،خیریہ تو ان رسرچ اورمحققین کی تحقیق ورسرچ ہے جو وہ اپنی قابلیت وصلاحیت کےحساب سے اپنی معلومات عامہ پیش کررہےہیں ،مگر جن کیلئے یہ پوراواویلا اور شوروہنگامہ کیاجارہاہے آخر خاموش کیوں ہے؟ کیا واقعتا آپ نے دی گئی معلومات کےمطابق پڑھائی نہیں کی ؟ کیا اس کو صحیح تسلیم کرلیاجائےکہ آپ نے جو تعلیم حاصل کی ہے وہ دی گئی معلومات سےکم ہے؟ یا آپ نے اپنی تعلیم صرف اسکول ہی تک حاصل کی ہے؟ آخرماجراکیاہے؟ آپ آئیےاورڈنکےکی چوٹ پر باآوازبلندفخریہ اندازمیں کہیے میری تعلیم پوری مکمل ہے ، جومیں نے ڈگری حاصل کی ہے وہ اصل میرےپاس موجودہے،اوراپنی اصل ڈگری منظرعام پرپیش کرکے ان تمام کےمنہ وزبان کو لگام دیجئے جو روزبروز ڈگری پرہنگامہ آرائی کررہےہیں ،لیکن یہ اس وقت ہوگا جب آپ کےپاس دی گئی معلومات کےمطابق ڈگری موجودہوگی ،اورخاموش مزاجی تویہی ثابت کررہی ہے کہ ہم دکھائیں کیا، وہ ہوتب تو، یہاں تووہ سب ندارد ہے،اورآزادی ہندکا قانون ہے کہ اگر آپ نے اپنی انتخابی امیدواری کےوقت ڈگری سےمتعلق غلط معلومات دی توبعدمیں صحیح معلومات کےحصول پر آپ کی اہمیت وقعت ختم کردی جائےگی (ایم ،ایل ،اے؍ایم پی؍نگرسیوک؍ودیگر)یعنی اس سےآپ کوسبکدوش کردیاجائیگا اگریہ ڈر وخوف ستارہاہے تو پھر کیاکیاجائے، ایک بات ضروریادرکھئےحالات جب آتے ہیں تو بڑے بڑے رستم خاں کی پیشانیاں پسینےٹپکانےلگتی ہے،حالات نے کسی کوچھوڑانہیں ہے ، اورمالک کائنات نے یہ قانون بنایاہے اوریہ قانون دیرسویرضرورآتاہے کہ اگر ہم نے اپنی ذات سے کسی بھی طور طریقے سے اپنی طاقت کی قوت سے ، مال کی قوت سے ، حکومت کی قوت سےکسی کو پریشان کیا ہے یاستایاہے تو اس کابدلہ اس دنیا کےاندربھی دکھادیاجاتاہے ، اگراس مالک کائنات نے کچھ عرصہ کیلئے حکومت کرنےکاموقع دیاہے تو یہ غنیمت سمجھیے،اوراپنی ذات کیلئے خوش قسمت سمجھیے ،کیوں کہ موجودہ حکومت ماضی کی حکومت کا ایک بلبلہ ہے ،حالیہ حکومت توالٹ پھیرہے، ہوسکتاہے مدت متعینہ کے بعد تبدیل ہوجائے،ماضی کی حکومت کی تاریخ پڑھیے کتنی طویل اور کیسی رہی لیکن تاریخ کے پنوں میں وہی حکومت آئیڈیل ونمونہ رہی جنہوں نے حکومت کرسی کیلئے نہیں بلکہ عوام الناس کے دلوں پر کی ،ان کی خدمات کو پیش نظررکھ کرکی ،یہ بھی حقیقت پرمبنی ہے کہ ہمیں اس سے کوئی سروکارنہیں کہ ڈگری جعلی ہےیااصلی ہمیں تو اس سے مطلب ہے کہ آپ نے جوسیاسی پلیٹ میں وعدوں کے رسغلے سجائے تھے اس پرکاربندرہیے ،اس کو مضبوط کیجئے،حالات پرنظررکھیے، زیادہ بولناکمال نہیں ہے ،کیوں کہ تاریخ نے کم بولنے والے کو اپنی گودمیں بٹھایااورسراہاہے ۔

 

محمدطفیل ندوی

جنرل سکریٹری! امام الہندفاؤنڈیشن ممبئی

 

Comments are closed.