بہار شریف فساد:اقلیتوں کے آثار مٹانے کی مہم ہندستانی جمہوریت کی پیشانی پر بدنما داغ

رام نومی جلوس میں پولیس اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی اور ایک صدی پرانی مدرسۂ عزیزیہ کی عمارت اور لائبریری خاک میں ملا دینے کی کوشش ہوئی۔

صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
کتابوں میں تہواروں کی تفصیل یہ بتائی جاتی ہے کہ تہذیب و ثقافت اور مذہبی عقائد کے اظہار کا یہ ذاتی اور اجتماعی ذریعہ ہیں۔ اسی لیے عام طور پر انھیں عوامی جشن کے طور پر قبول کیا جاتا ہے اور جوش و جذبہ ، انہماک اور بھائی چارے کے فروغ میں تاریخی طور پر اس کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ مگر ایک مدت سے ایسی مذہبی بھیڑ اور ثقافتی جماعتوں کی یکجائی کے خطرناک نتائج بھی رہ رہ کر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ایک بڑا طبقہ کسی آنے والے تہوار کی تیاری میں اولا خدشات میں مبتلا ہوتا ہے کہ نہ جانے اس کے گائوں اور محلے یا صوبے اور ملک میں کون سی انہونی ہوجائے۔ جمہوری ادارے کے طور پر ہمارے ملک کے بہتر برسوں کا یہ مشکل اور ناپسندیدہ نتیجہ نکلے گا، اس کا کسی کو بھی پہلے سے اندازہ نہیں تھا۔ سماجی مفکرین اور دانش وروں کے بیچ یہ بات زیرِ بحث آنے لگی ہے کہ مذہبی مواقع کو اجتماعی مواقع میں بدلنے کی جو لگاتار بھول ہوئی یا جو سازش ہوئی، اسی کے نتائج ہم کچھ اس طرح سے جھیل رہے ہیں ، جس کے بعد قوم و ملک کو جائے اماں نہیں مل رہی ہے۔
رام نومی کا جلوس اس بار ملک کے گوشے گوشے میں نکلا اور سینکڑوں جگہ پر چھوٹے بڑے فسادات ہوئے۔ کہیں جان و مال کا نقصان ہوا اور کہیں خوف و دہشت سے بڑی آبادی متاثر رہی۔ کہیں کرفیو لگا اور کہیں گولی، بمباری اور پتھرائو کے بعد دفعہ ۱۴۴؍ بھی لگانا پڑا۔ ہزاروں افراد گرفتار کیے گئے اور اب بھی ان میں سے ایک بڑا طبقہ جیل میں بند ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کا یہ کھلا الزام ہے کہ یہ فسادات اور انتشارِ نظم و ضبط باضابطہ طریقے سے کرائے گئے اور اسے انجام دینے میں بلوائیوں کو بہت حد تک کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی۔ پولیس اور انتظامیہ کے افسران خاموش تماشائی بنے رہے اور اقلیت آبادی اپنی جان اور مال کی حفاظت میں تڑپتی اور مرتی رہی۔
صوبۂ بہار میں نتیش کمار کی قیادت میں ایک ایسی حکومت قائم ہے جسے عام طور پر سیکولر مانا جاتا ہے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالفت کے ساتھ میدان عمل میں ہے۔ راشٹریہ جنتا دل اقتدار میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ہے جس کی گذشتہ ۳۳؍برسوں میں سیکولر امیج مستحکم رہی ہے جس کے سپریمو لالو پرساد ہیں۔ نتیش کمار بھارتیہ جنتا پارٹی کو چھوڑ کر سیکولر محاذ کا حصہ بنے ہیں، ا س لیے ان کی حکومت پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی خاص نگاہ ہے۔ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی ہر خاص موقعے پر بہار سے تختہ پلٹنے اور نتیش کمار کو سبق سکھانے کا پیغام دیتے رہتے ہیں۔ رام نومی کے ٹھیک بعد وزیر داخلہ امت شاہ کو صوبۂ بہار کا دورہ کرنا تھا اور انھیں سہسرام کے ساتھ بہار شریف کے پڑوسی ضلع نوادہ میں متعدد پروگراموں میں شامل ہونا تھا۔ امت شاہ فساد اور بدامنی کے سبب سہسرام نہیں جاسکے مگر نوادہ میں انھوںنے عوامی سبھا میں نتیش کمار کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کا کھلا پیغام پیش کیا۔ خود کو فساد مخالف بتانے کے مرحلے میں انھوںنے یہاں تک کہا کہ ہماری حکومت ہوگی تو کسی بھی فسادی کو الٹا لٹکا دیںگے۔
صوبۂ بہار کے سماجی اور سیاسی تاریخ کے واقف کار جانتے ہیں کہ سہسرام اور بہار شریف دونوں مقامات اقلیت آبادی کے لیے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ جگہیں تاریخی طور پر بھی خاص مقام رکھتی ہیں اور سینکڑوں سال سے ان کے بارے میں دنیا جانتی ہے کہ یہ ہندستانی مسلمانوں کی خدمات کے آثار سے آراستہ جگہیں ہیں۔ سہسرام شیر شاہ سوری کے مقبرے کی وجہ سے عالمی شہرت یافتہ ہے اور اسی طرح مخدومِ جہاں شرف الدین یحییٰ منیری کی خدمات کے سبب بہار شریف صوبۂ بہار کے صوفیا کی تاریخ میں سرِ فہرست ہے۔ جو جمہوریت پسند اور انسانیت نواز لوگ ہیں، ان کی نگاہ میں ایسے آثار اور ایسے مقامات متبرک اور محترم ہیں مگر ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء کے بعد اس ملک میں ایک ایسا طبقہ سرگرم عمل ہوا جسے اپنی طاقت کے بل پر چن چن کر اقلیت آبادی کے آثار اور موقع ملے تو اقلیت آبادی کو ہی مٹاکر دم لے۔
بہار کا واقعہ یہ ہے کہ رام نومی کا جلوس اگر نکلنا ہے تو اصولاً انتظامیہ اس کے لیے راستے متعین کرتی ہے اور یہ کوشش کی جاتی ہے کہ مساجد، مقابر اور گھنی اقلیت آبادی کے راستے اس میں شامل نہ ہوں۔ جلوس کے قائدین کو ہدایت دی جاتی ہے اور ان سے معاہدہ کیا جاتا ہے کہ کوئی بدنظمی ہوئی تو اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی۔ یہی ہر مذہب کے اجتماعی معاملات میں ہوتا ہے۔ محرم کے جلوس میں مندر کے دروازے پر کھڑے ہوکر تلوار بازی نہیں کرنی ہے اور رام نومی کے جلوس میں مسجد ، مدرسے اور مقبرے کے سامنے ایسی کوئی حرکت نہیں کرنی ہے۔ جلوس کے آنے جانے کے لیے وقت بھی مقرر کیا جاتا ہے مگر اس بار تین تین دنوں تک جلوس نکلتے رہے اور ہتھیاروں کے مظاہرے کے ساتھ عوام کو دہشت میں مبتلا کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ ہر دن ہنگامے ہوئے اور انتظامیہ نے اسے عام سی بات قرار دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہار شریف میں پہلے دن سے ہی ہنگامہ اور انتشار کا ماحول تھا۔ دہشت کا یہ عالم تھا کہ اقلیت آبادی کے لوگ اپنے گھروں سے نہیں نکل رہے تھے۔ جنھوںنے دکانیں کھول رکھی تھیں، ان کی دکانیں جلا دی گئیں۔ جن کے گودام تھے، ان میں آگ لگا دی گئی اور اگلے دن ۱۹۲۴ء کا قائم کیا ہوا مدرسۂ عزیزیہ میں سینکڑوں لوگوں نے گھس کر اس طرح آگ لگائی کہ اس کی لائبریری خاک میں مل گئی اور اس کی عمارت ، اس کے فرنیچر تباہ و برباد ہوکر بہ صورتِ ماتم ہمارے سامنے ہیں۔
بہار میں صرف اقلیت موافق حکومت ہی نہیں ہے بلکہ بہار کی اعلا انتظامیہ بھی اقلیت آبادی سے ہی متعلق ہے۔ چیف سکریٹری جناب عامر سبحانی ہیں اور ڈی جی پی آر ایس بھٹی ہیں جو سکھ قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بھی معلوم رہے کہ بہار کے وزیر اعلا نتیش کمار اسی بہار شریف ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر لوگوں نے محسوس کیا کہ جب روم جل رہا تھا تو اس کا بادشاہ نیرو بنسی بجارہا تھا۔ آج تک بہار کے وزیر اعلا کو اس بات کی مہلت نہیں ملی کہ وہ جاکر اپنے وطن کی اس بدامنی میں اقلیت آبادی کے زخموں کا مرہم بن سکے۔ تین دنوں تک تو انھوںنے بڑے تکنیکی جواب پیش کیے، ایسے جواب پیش کرنے میں ان کی مہارت نریندر مودی سے بھی بڑھ کر ہے۔ انھوںنے رٹے ہوئے جملے پیش کیے کہ ہنگامہ کرنے والوں کو چھوڑا نہیں جائے گا ، کسی کو بخشا نہیں جائے گا اور اعلا سطحی جانچ چل رہی ہے، اس کا ہم انتظار کریںگے۔ لوگوں کو لالو یادو کے شروع کے زمانے میں سیتامڑھی فساد کی یاد آئی جب فساد کے دوسرے دن ہی وزیر اعلا وہاں جاکر بیٹھ گئے اور لالو یادو کا یہ بیان اخبارات میں چھپا کہ جب تک یہاں شانتی بحال نہیں ہوگی تب تک یہاں سے واپس نہ جائیںگے۔ اردو ہندی کے ایک مشہور صحافی نے سوشل سائٹس پر اپنا یہ بیان بھی درج کیا کہ آج لالو یادو سرگرم سیاست میں ہوتے تو اقلیت آبادی کی یہ بے چارگی نہیں ہوتی اور انھوںنے یہ بھی یاد دلایا کہ آج اگر مولانا ولی رحمانی امیر شریعت ہوتے تو خاموش نہیں بیٹھتے مگر افسوس اس کا ہے کہ اب بھی بانسری کی وہی لَے ہے اور سُر تال پر تھاپ دینے کے لیے بڑی ہوش مندی کے ساتھ سیاسی افطار پارٹیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس میں وزیر اعلا ، ان کے سارے اقلیتی بچولیے اور کچھ سرکاری عہدے داران اور حسبِ ضرورت کچھ علمائے دین ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک افطار کی نوٹنکی میں مبتلا ہیں۔ کانگریس کے کچھ افراد اور کچھ غیر جانب دار لوگوں نے بہار کی ان سلسلے وار افطار پارٹیوں کا بائیکاٹ کیا ہے جسے نیک فال سمجھنا چاہیے۔
بابری مسجد کے انہدام کے بعد یہ مشکل سلسلہ رواج پارہا ہے کہ اپنی طاقت کے بل پر کچھ بھی کر گزرو۔ پولیس سے لے کر عدالت تک حسبِ موقع طرف دار ہوجاتی ہے۔ شہروں کے نام اور ریلوے اسٹیشنوں کے نام بدلنے کی مہم تو الگ ہے، یہ ایک دوسرا کام ہے کہ تاریخی اعتبار سے اہم مقامات کو مسمار کرکے یہ ثبوت مٹایا جائے کہ اس ملک میں ہمارے عالوہ کوئی دوسرا بھی رہا ہے۔مدرسۂ عزیزیہ تو سَو برس پرانا تھا، اسی شہر میں خانقاہِ معظم تو سات سو برس پرانی ہے، کون جانے کل اس پر بھی حملہ ہوجائے۔ پٹنہ میں خدا بخش لائبریری بھی کبھی ایسے لوگوں کی آنکھ کی کرکری ثابت ہوجائے۔ تلوار اور بندوق سے لڑنا آسان ہے مگر جو قوم کتابوں سے اور اردو، فارسی ، عربی زبان سے نفرت کرنے لگے اور ان کتابوں اور مخطوطات میں آگ لگا کر تماشہ دیکھے ، اس کے ظلم کا آپ اندازہ نہیں کرسکتے ہیں! یہ الگ طرح کی اور شاید سب سے بڑی دہشت گردی ہے۔ بہار شریف کے واقعے میں صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کو مجرم قرار دینا سادگیِ نظر ہے، ا س میں حکومتِ بہار اور اس کے سربراہ کی رضامندی نہ ہوتی تو یہ فساد ایک گھنٹے میں کنٹرول کیا جاسکتا تھا۔ تاریخ یہ سوال بلوائیوں کے ساتھ ساتھ بہار کے وزیر اعلا سے بھی کرے گی۔
[مقالہ نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں]

Comments are closed.