مولانا یحییٰ ندوی کاسانحہ ارتحال علمی دنیا کا عظیم خسارہ

 

از: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

خاندان مونگیری کے گل سرسبد، مولانا محمد علی مونگیری علیہ الرحمہ کے بڑے صاحبزادے خانقاہ رحمانی کے دوسرے سجادہ نشین مولانا لطف اللہ صاحب رحمانی علیہ الرحمہ کے داماد، جلیل القدر محدث حضرت مولانا سید محمد یحییٰ ندوی١٦(رمضان المبارک ١٤٤٤ھ مطابق٨/اپریل٢٠٢٣کو راہی ملک بقاہوۓ اور اپنے ساتھ معلومات کا گنج گراں مایہ لے گئے۔
اناللہ وأنا الیہ راجعون ‌
مولانا مرحوم کا ہندوستان کے بڑے علماء میں شمار ہوتا تھا مولانا کی ولادت ١٩٣١ء میں بہار کے ضلع بیگو سراۓ کے سادات کی مشہور بستی "سانہا” کے ایک رئیس دین پرور گھرانے میں ہوئی۔
مولانا یحییٰ ندوی دارالعلوم ندوہ میں ١٩٤٤ داخل ہوئے جہاں ان کو اساطین علم و فضل سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا اور انہوں نے اپنی صلاحیت و صالحیت کے ذریعے بہت جلد اکابر اولیاءاللہ کے منظور نظر بن گئے۔دارالعوم ندوہ میں تعلیم کے دوران ان کو مولانا محبوب الرحمان ازہری، مولانا مصطفیٰ ندوی، مولانا ابوالحسن ندوی، مولانا عمران خان الازہری اور مولانا شاہ حلیم عطا سلونوی وغیرہم جیسے اساطین علم و فضل سےخوب خوب فیضیاب ہونے کا موقع ملا۔ اس کے بعد مولانا کا تین سال تک علی گڑھ میں قیام رہا جہاں بطور خاص مولانا عبد العزیز میمنی رحمۃ اللہ علیہ سے خصوصی استفادہ کیا،مولانا عبدالعزیز میمنی آپ سے بہت متأثر تھے، اور اعلیٰ تعلیم کے لیے م آپ کو قاہرہ بھیجنے کی تیاری کر رہے تھے مگر آپ کی والدہ کے شدید اصرار کی وجہ سے آپ کو یہیں رکنا پڑا۔
مولانا یحییٰ ندوی اکیڈمک انسان تھے،انہیں وسیع مطالعہ کے ساتھ حدیث، رجال حدیث اور عربی ادبیات پر گہری نظر تھی، مطالعہ اور کتب بینی ان کا خاص مشغلہ تھا۔
علامہ عبدالعزیز میمنی سابق صدر شعبہ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے جب قدیم ترین شاعر بشار بن برد کو اپنی تحقیقات کے ساتھ شائع کیا تو اس کی ایڈیٹنگ کے کام میں قابل قدر حصہ آپ نے بھی لیا جس کا تذکرہ علامہ میمنی نے بھی کیا ہے۔ اسی طرح تاریخ بغداد میں خطیب بغدادی نے جو احادیث جابجا ذکر کی ہیں انہیں آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ترتیب پر جمع کیا ہے، مزید کشاف کی جو شرح علامہ طیبی رحمتہ اللہ علیہ کی ہے، اس کے نسخوں کو بھی آپ نے اکٹھا کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو فن حدیث بالخصوص فن اسماء الرجال کا وسیع علم عطا کیا تھا۔
مولانا مرحوم کی سند حدیث بہت عالی تھی آپ کو مولانا مفتی عبد اللطیف رحمانی (١٨٧١-١٩٥٩)جو مولانا محمد علی مونگیری کے تربیت یافتہ تھے ان سے اجازتِ حدیث حاصل تھی۔آپ کی بین الاقوامی شہرت آپ کی قلیل واسطے والی سند حدیث سے ہی تھی، بڑے بڑے علماء آپ کی دور افتادہ بستی "سانہہ” پہنچ کر آپ کی خدمت میں زانوئے تلمذ طے کرتے اور قلیل وسائط والی سند حدیث حاصل کرتے۔ یہاں تک کہ آپ سے عالی سندوں کے حصول کے لیے ملک و بیرون ملک بلکہ عرب علماء رابطے میں رہتے تھے۔ مولانا مرحوم حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی علیہ الرحمہ سے ایک واسطے سے روایت حدیث کرتے تھے۔
علامہ معصومی اورمحدث کبیر مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمہا اللہ سے بھی آپ کے بڑے گہرے مراسم تھے۔
آپ نہایت سادہ اور اور متواضع شخصیت کے حامل تھے۔
آپ کی پوری زندگی افادہ اور استفادہ ہی میں تمام ہوئی۔
حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی علیہ الرحمہ اور محدثِ اعظم حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمتہ اللہ علیہ کے تو آپ خاص معتمد شاگرد تھے۔
سلطان القلم علامہ مناظر حسن گیلانی رحمتہ اللہ علیہ ان کے اپنے ممیاں سسر تھے۔
حضرت مولانا یحییٰ صاحب صاحب رحمتہ اللہ علیہ جمیت علماء ہند کے شیدائی انہیں جمیعت علماء ہند سے خاص لگاؤ تھا آپ ریاستی جمیعت علماء ہند نائب صدر اور ضلع صدر بھی رہے اور تاحیات جمیعت علماء کے تحت قائم مسلم فنڈ بیگوسرائے کے بھی صدر رہے۔شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ضیافت کا بھی آپ کو شرف حاصل ہوا اور انہوں نے ہی آپ کا نکاح پڑھایا تھا۔
مولانا احمد ولی فیصل رحمانی موجودہ سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر آپ کے خصوصی فیض یافتہ ہیں۔
بروز اتوار بعد نماز تراویح آپ کوآپ کے وطن مالوف "سانہا” میں سپرد خاک کیا گیا۔
آپ کے حفید سعید احمد الحی قاسمی نے نماز جنازہ پڑھائی۔
اللہ تعالیٰ ان کے حسنات کو قبول فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔
پسماندگان میں چار بیٹے پانچ بیٹیاں پوتا پوتیاں ہیں۔
مولانا یحییٰ ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا ملک کے نامور محققین میں شمار ہوتاتھاکتب بینی اور مطالعہ کا انہیں خاص ذوق تھا لاک ڈاؤن کے درمیان آپ خانقاہ رحمانی میں رہ کر مطالعہ فرماتے تھے امیر شریعت سابع حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃاللّٰہ علیہ نے اس درمیان مولانا انظر حسین صاحب قاسمی استاذ جامعہ رحمانی کو اس بات کے لیے پابند کیا تھا کہ خانوادہ رحمانی کے سلسلہ میں ان کے ساتھ لگ کر معلومات قلمبند کیجیے اس کام کے لیے یہ جہاں جانے کو کہیں چلے جائیے گا۔یہ کام کر لیجیے بڑا کام ہوجائے گا۔لاک ڈاؤن کے درمیان میرا بیٹا محمدعباد الرحمٰن بھی حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس خانقاہ ہی میں تھا گاہے بگاہے مولانا یحییٰ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے بھی ملاقات ہوتی تھی آپ نہایت شفقت کا معاملہ فرماتے ایک دفعہ آپ نے اس سے کہا تم اچھے قاری بنو باہر ملک کے علماء عالم ہونےکے ساتھ ساتھ اچھے قاری بھی ہوتے ہیں لیکن ہمارے ملک کے علماء جید قاری بہت کم ہوتے ہیں۔
احقر نے اپنی کتاب "حضرت مولانا محمد علی مونگیری علیہ الرحمہ اور خدمات ختم نبوت” پر تقریظ تحریر کرنے کے لیے دیا تھا لیکن مستقل علالت کی وجہ سے آپ کو اس کا موقع نہیں مل سکا۔ آپ کی سانحہ وفات سے پوری علمی دنیا سوگوار ہے۔
ہزاروں لوگوں نے اشکبار آنکھوں سے آپ کو الوداع کہا اللہ تعالیٰ آپ کا نعم البدل عطا فرمائے آمین یارب العالمین

Comments are closed.