ہم ایک وہی سبق پڑھتے جاتے ہیں

 

 

از :  راشد اسعد ندوی

امام وخطیب مسجد عمر فاروق ڈونگری ممبئی

 

ایک نامی گرامی عالم دین نے مدارس کے مشاہدے و معائنے کے دوران پیش آئے تین واقعات بیان کرکے چند نتائج اخذ کرکے تجزیہ کیا ہے کہ مدارس کے طلبہ و اساتذہ میں مرعوبیت اور خوداعتمادی کا فقدان ہے اور مدارس اسلامیہ کے تئیں اپنی گہری فکر مندی کا اظہار کیا ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ کار بھی نہیں مگر قابل غور بات یہ ہے کہ

کیا واقعی یہی صورت حال ہے؟ یا پھر ان تین مشاہدات میں ہندوستان جیسی صورت حال رکھنے والے ملک میں علم دین سے آراستہ ہو کر فارغ ہونے والے علماء کے دنیوی مستقبل کے تئیں اصحاب مدارس کی فکر مندی کا ثبوت ہے اور شاید زمینی حقائق بھی یہی ہیں

اکبر الہ آبادی نے کہا ہے :

مذہب نے پکارا اے اکبر اللہ  نہیں تو کچھ بھی نہیں

یاروں نے کہا یہ قول غلط تنخواہ نہیں تو کچھ بھی نہیں

آج ہی علی الصباح ممبئی کے ایک نامی گرامی ادارے کے دینی کارکن سے ملاقات ہوئی جو بیس سال سے زائد عرصہ سے وہاں خدمت انجام دے رہے ہیں ‘ اہل و عیال کو واپس وطن چھوڑ نے جا رہے تھے وجہ معلوم کرنے پر انھوں نے جہاں بہت سی مجبوریوں کا ذکر کیا وہیں یہ بھی بتایا کہ چار سال سے تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوا ہے جبکہ مہنگائی ہر سال بڑھ رہی ہے بلکہ آسمان کو چھو رہی ہے اب گھر کا کرایہ اور بچوں کی تعلیم کا خرچ ناقابل تحمل ہو رہا ہے اسی لیے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ

رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رولیں۔جن کو مجبوری حالات نے رونے نہ دیا

اصحاب قلم سے دست بستہ عرض ہے کہ بفحوائے ارشاد نبوی *بشرا ولا تنفرا* ڈائیلاگ بازی اور پیشین گوئیوں سے احتراز فرمائیں اور اہل مدارس کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائیں *کروڑوں کے خرچ سے عمارتیں تعمیر کرنے کے بجائے اس مجازی قاضی الحاجات کی پرورش و پرداخت پر دھیان دیں* ان شاء اللہ مدارس سے فارغ علماء خود اعتمادی سے آراستہ اور مرعوبیت سے خالی نظر آئیں گے اور اسلامی روح بھی برقرار رہے گی

لاکھوں کے بجٹ پر مشتمل صرف مدارس کے گیٹ اور گارڈن اور کروڑوں خرچ کر کے عالیشان مسجد و مینار تعمیر کرنے سے کہاں سے اسلامی روح بیدار ہوگی اور غریب بیچارہ کہاں سے خود اعتمادی لائے گا

*ترے صوفے ہیں افرنگی تیرے قالیں ہیں ایرانی*

شاد عظیم آبادی نے خوب کہا تھا

 

چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیں

افلاک ترقی پہ چڑھتے جاتے ہیں

 

مکتب بدلا کتاب بدلی لیکن

 

ہم ایک وہی سبق پڑھتے جاتے ہیں

Comments are closed.