کرناٹک اسمبلی الیکشن 2023 اور کرناٹک کی مسلم سیاست
4،5،6،7قسط
*کرناٹک اسمبلی الیکشن 2023 اور کرناٹک کی مسلم سیاست*
مظاہر حسین عماد عاقب قاسمی
*قسط 4/5/6/7
*انیس سو اکہتر میں کرناٹک سے منتخب مسلم ارکان لوک سبھا*
انیس سو اکہتر میں ریاست میسور ( کرناٹک ) سے دو مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، میسور( کرناٹک ) کے کل ارکان لوک سبھا کی تعداد ستائیس تھی ،
1- فخر الدین حسین محسن صاحب دھارواڑ جنوبی سے لگاتار تیسری بار انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ،
فخرالدین صاحب کو اس بار 197901 ووٹ ملے تھے اور ان کے قریبی حریف پرجا سوشل انڈین نیشنل کانگریس او کے مملے ڈیسائی کو 83959ووٹ ملے تھے ،
ان کے متعلق تفصیلات تیسری قسط میں گزرچکی ہیں ،
2- بنگلور شہر سے متصل کنکا پور لوک سبھا حلقے سے سی کے جعفر شریف صاحب انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، اس زمانے میں میسور ریاست میں لوک سبھا کی کل ستائیس نشستیں تھیں ، دو ہزار آٹھ میں کنکا پور لوک سبھا حلقے کو تحلیل کردیا گیا ہے اور اس کی جگہ بنگلور دیہی لوک سبھا حلقے کی تشکیل ہوئی ہے ،
انیس سو اکہتر میں انڈین نیشنل کانگریس کے امیدوار سی کے جعفر شریف صاحب کو 243987 ووٹ ملے تھے اور ان کے قریبی حریف انڈین نیشنل کانگریس آرگنائزیشن کے امیدوار ایم وی راج شیکھرن کو 57468 ووٹ حاصل ہوئے تھے ، اور جعفر شریف 186519 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے ،
سی کے جعفر شریف صاحب
سی کے جعفر شریف ( 3/نومبر 1933 – 25 نومبر 2018) انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر ترین رہنماؤں میں سے ایک تھے۔
ان کا اصل نام چلے کریم جعفر شریف ہے ، وہ تین نومبر 1933 کو چالکیرے ، چتردرگا ، سلطنت میسور میں پیدا ہوئے ، وہ کل سات بار لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے تھے
وہ کنکا پور سے انیس سو اکہتر میں پہلی بار ممبر لوک سبھا منتخب ہوئے ، اس کے بعد انیس سو ستہتر ، انیس سو اسی، انیس سو چوراسی ، انیس سو نواسی ، انیس سو اکیانوے ، انیس سو اٹھانوے اور انیس سو ننانوے میں بنگلور نارتھ لوک سبھا حلقے سے منتخب ہوئے ،
انیس سو چھیانوے میں انہوں نے انتخاب نہیں لڑا، ان کی جگہ عبید اللہ شریف کو کانگریس نے ٹکٹ دیا تھا مگر وہ ہار گئے ، عبید اللہ شریف کو 265348 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ جب کہ جنتادل کے کامیاب امیدوار سی نارائن سوامی کو 398650 ووٹ ملے تھے،
دو ہزار چار ، اور دو ہزار نو میں انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا ، وہ دوسرےنمبر پر رہے ، دو ہزار چار میں انہوں نے 443144 ووٹ حاصل کیے تھے ، جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کامیاب امیدوار ڈاکٹر ایچ ٹی سانگلیا نے 473502 ووٹ حاصل کیے تھے ،
دو ہزار نو میں جعفر شریف صاحب نے 393255 ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کامیاب امیدوار ڈی بی چندرے گوڑا نے 452920ووٹ حاصل کیے تھے ،
دو ہزار چودہ میں کانگریس نے جعفر شریف کو ٹکٹ نہیں دیا اور انہوں نے الیکشن نہیں لڑا ، دو ہزار انیس کے انتخابات سے چھ ماہ قبل جعفر شریف صاحب کا انتقال ہوگیا ،
دو ہزار چودہ اور دو ہزار انیس میں بنگلور نارتھ سے کانگریس نے کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا ،
افسوس کی بات یہ ہے کہ کانگریس میں جعفر شریف کا بدل یا نعم البدل کوئی نظر نہیں آتا،
وہ انیس سو اسی تا انیس سو چوراسی اندرا گاندھی کی تیسری وزارت میں ریلوے کے وزیر مملکت رہے ،
وہ اکیس جون 1991 سے سولہ اکتوبر 1995 تک نرسمہا راؤ کی وزارت میں حکومت ہند کے وزیر ریلوے رہے ، وزیر ریل ہونے کی حیثیت سے انہوں نے کرناٹک کو خوب فائدہ پہونچایا ،
*وفات*
سی کے جعفر شریف 25 نومبر 2018 کو بنگلورو میں 85 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ۔
________________________________________
*انیس سو ستہتر میں کرناٹک سے منتخب مسلم ارکان لوک سبھا*
انیس سو ستہتر میں کرناٹک سے دو مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے، اور دونوں کانگریسی تھے ، اس انتخاب میں کرناٹک کی تمام اٹھائیس لوک سبھا نشستوں میں سے چھبیس نشستیں انڈین نیشنل کانگریس کو ہی ملی تھیں ، اور دو نشستیں بھارتیہ لوک دل ( جو جنتا پارٹی میں ضم ہوگئی تھی ) کو ملی تھیں ، شمالی ہند کی زیادہ تر سیٹیں جنتا پارٹی کو ملی تھیں اور جنوبی ہند کی زیادہ تر سیٹیں کانگریس کو ملی تھیں ، مجموعی طور پر جنتا پارٹی کو دو سو پچانوے اور کانگریس کو ایک سو چون لوک سبھا نشستیں حاصل ہوئی تھیں ،
1- سی کے جعفر شریف صاحب بنگلور نارتھ سے پہلی بار کامیاب ہوئے تھے ، انیس سو اکہتر میں وہ کنکاپور لوک سبھا سے منتخب ہوئے تھے،
انیس سو ستہتر میں بنگلور نارتھ میں جعفر شریف صاحب کو 198669 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور ان کے قریبی حریف بھارتیہ لوک دل کے ایم چندر شیکھر کو 158495 ووٹ ملے تھے ،
سی کے جعفر شریف صاحب کے متعلق تفصیلات اوپر گزرچکی ہیں،
2- فخر الدین حسین محسن صاحب لگاتار چوتھی بار دھارواڑ جنوبی سے انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، پہلی بار وہ اسی حلقے سے انیس سو باسٹھ میں اور دوسری بات انیس سو سڑسٹھ میں کامیاب ہوئے تھے ، انہیں اس بار 239210 ووٹ ملے تھے ، ان کے قریبی حریف بھارتیہ لوک دل کے امیدوار سی ایم ابراہیم کو 147270ووٹ ملے تھے ، سی ابرہیم ( پیدائش چودہ اگست 1948) باحیات ہیں, وہ انیس سو چھیانوے تا اٹھانوے دیوے گوڑا اور آئی کے گجرال کی سرکاروں میں مرکزی وزیر شہری ہوا بازی ، مرکزی وزیر سیاحت اور مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات رہ چکے ہیں ، فی الحال سترہ اپریل دو ہزار بائیس سے جنتادل سیکولر کے کرناٹک اکائی کے ریاستی صدر ہیں ،
فخر الدین حسین محسن صاحب کے متعلق تفصیلات اس مضمون کی تیسری قسط میں گذر چکی ہیں ،
________________________________________
*انیس سو اسی میں کرناٹک سے منتخب مسلم ارکان لوک سبھا*
انیس سو اسی میں کرناٹک سے تین مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے، اور تینوں آندرا گاندھی کے حامی کانگریسی تھے ، اس انتخاب میں کرناٹک کی تمام اٹھائیس لوک سبھا نشستوں میں سے ستائیس نشستیں انڈین نیشنل کانگریس کو ہی ملی تھیں ، اور صرف ایک نشست بنگلور جنوبی پر جنتا پارٹی کے ٹی آر شمنا کامیاب ہوئے تھے ،
ڈھائی سال کے اندر ہی جنتا پارٹی میں تقسیم ہوگئی تھی اور وسط مدتی انتخابات کرانے پڑے تھے ، مجموعی طور پر جنتا انڈین نیشنل کانگریس اندرا کو تین سو ترپن جنتا پارٹی کو اکتیس اور جنتا پارٹی کو اکتالیس لوک سبھا نشستیں حاصل ہوئی تھیں ،
1- سی کے جعفر شریف صاحب بنگلور نارتھ سے لگاتار دوسری بار کامیاب ہوئے تھے ،
انیس سو اسی میں بنگلور نارتھ میں جعفر شریف صاحب کو 219108 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور ان کے قریبی حریف جنتا پارٹی کے بی چنابیری گوڑا کو 102573 ووٹ ملے تھے ،
سی کے جعفر شریف صاحب کے متعلق تفصیلات اوپر گزرچکی ہیں،
2- فخر الدین حسین محسن صاحب لگاتار پانچویں بار دھارواڑ جنوبی سے انڈین نیشنل کانگریس اندرا کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، انہیں اس بار 226083 ووٹ ملے تھے ، ان کے قریبی حریف انڈین نیشنل کانگریس یو کے امیدوار بنکر بساونپا گوڈلپا کو 75050ووٹ ملے تھے ، فخرالدین صاحب کا یہ آخری انتخاب تھا ، انیس سو چوراسی میں فخر الدین صاحب نے انتخاب نہیں لڑا ،ان کی جگہ انڈین نیشنل کانگریس نے عزیز سیٹھ کو ٹکٹ دیا تھا اور وہی کامیاب ہوئے تھے ،فخرالدین حسین محسن صاحب انیس سو باسٹھ تا انیس سو چوراسی کل بائیس سال ممبر لوک سبھا رہے اور لگاتار پانچ انتخابات جیتے ، تہتر سال کی عمر میں تین ستمبر انیس سو چھیانوے کو انتقال کرگئے ،
فخر الدین حسین محسن صاحب کے متعلق تفصیلات اس مضمون کی تیسری قسط میں گذر چکی ہیں ،
3- ایس ٹی قادری صاحب ( پیدائش دس اکتوبر 1932) انڈین نیشنل کانگریس اندرا کے ٹکٹ پر شیموگہ لوک سبھا حلقے سے کامیاب ہوئے تھے ، انہیں 246232 ووٹ حاصل ہوئے تھے، ان کے قریبی حریف جنتا پارٹی کے امیدوار کے ایم تھمایا کو 75386 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔
ایس ٹی قادری کوپل ضلع رائچور کے باشندے ہیں ، عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے تعلیم حاصل کی ہے ، نوجوانی سے ہی انڈین نیشنل کانگریس کے کارکن تھے ، ابھی باحیات ہیں یا وفات پاگئے ، معلوم نہیں ،
_________________________
کرناٹک اسمبلی الیکشن 2023 اور کرناٹک کی مسلم سیاست
قسط (5)
*انیس سو چوراسی میں کرناٹک سے منتخب مسلم ارکان لوک سبھا*
انیس سو چوراسی میں کرناٹک سے صرف دو مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، می کرناٹک کے کل ارکان لوک سبھا کی تعداد اٹھائیس تھی ،
بنگلور نارتھ سے سی کے جعفر شریف صاحب کامیاب ہوئے تھے اور دھارواڑ جنوبی سے عزیز سیٹھ صاحب کامیاب ہوئے تھے اور دونوں کانگریسی تھے ،
1- سی کے جعفر شریف صاحب بنگلور نارتھ سے لگاتار تیسری بار کامیاب ہوئے تھے ، انیس سو اکہتر میں وہ کنکاپور لوک سبھا سے منتخب ہوئے تھے،
انیس سو چوراسی میں بنگلور نارتھ میں جعفر شریف صاحب کو 260279 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور ان کے قریبی حریف جنتا پارٹی کے جارج فرنانڈیز کو 218733 ووٹ ملے تھے ،
سی کے جعفر شریف صاحب کے متعلق تفصیلات چوتھی قسط میں گزرچکی ہیں،
2- دھارواڑ جنوبی لوک سبھا حلقے سے عزیز سیٹھ پہلی بار کامیاب ہوئے تھے، وہ اس سے قبل انیس سو سڑسٹھ سے ممبر اسمبلی کرناٹک تھے ، عزیز سیٹھ کو 257834 ووٹ ملے تھے اور ان کے قریبی حریف جنتا پارٹی کے عبد النیر صاحب کو 200227 ووٹ حاصل ہوئے تھے ،
*عزیز سیٹھ ایک ممتاز اقلیتی رہنما*
عزیز سیٹھ (15 مارچ 1926 – 28 دسمبر 2001) ایک ہندوستانی سیاست دان تھے جنہوں نے 1972 سے 1984 تک کرناٹک کے ٹرانسپورٹ، سیاحت، لیبر وقف محکمہ اور صنعت و تجارت کے وزیر مملکت کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ کانگریس پارٹی کے ایک ممتاز اقلیتی رہنما تھے ، انہوں نے 1967 اور 2001 میں اپنی موت کے درمیان چھ بار قانون ساز اسمبلی میں نرسمہاراجہ حلقہ کی نمائندگی کی ۔
عزیز سیٹھ کا تعلق ایسے بزاز خاندان سے تھا جس کے سرپرستوں میں میسور کا شاہی خاندان بھی شامل تھا۔ ان کے والد عبد الستار سیٹھ کا کلاک ٹاور کے سامنے لکشمی کمپلیکس میں ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور تھا۔ عوامی زندگی میں آنے سے پہلے عزیز سیٹھ نے 17 سال تک اس دکان میں کام کیا۔
1952 میں عزیز سیٹ نے منڈی محلہ میں ایڈوکیٹ محمد شریف کی مہم کا انتظام کیا۔ وہ ایک سرگرم مزدور رہنما بھی تھے۔ وہ میسور ڈسٹرکٹ بیڑی مزدور فیڈریشن کے بانی صدر تھے۔ وہ میسور، منڈیا، کوڈوگ اور ہاسن کے لیے قانون ساز کونسل (MLC) کے رکن کے طور پر منتخب ہونے والے پہلے مسلمان تھے۔
ایم ایل سی کے طور پر اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد وہ پہلی بار 1967 میں ریاستی اسمبلی کے لیے نرسمہا راجہ حلقے سے منتخب ہوئے تھے۔
وہ 1973 سے 1977 تک کرناٹک ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین رہے۔ انہوں نے1984 میں دھارواڑ سے انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا کا انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے لیبر، ٹرانسپورٹ، سیاحت، وقف اور ریونیو کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ریاستی قانون ساز کونسل کے پہلے مسلمان رکن ہونے کے علاوہ، وہ 1967 سے دسمبر 1984 تک لگاتار سترہ سال تک نرسمہا راجہ حلقے سے ممبر اسمبلی تھے ۔ 1989- 1994اور 1999-2001 کے درمیان بھی وہ نرسمہا راجہ حلقے سے ممبر اسمبلی تھے، وہ اس حلقے سے چوبیس سال ممبر اسمبلی تھے ، انیس سو سڑسٹھ سے انیس سو ننانوے کے درمیان اس حلقے میں کل آٹھ انتخابات ہوئے ، پچاسی کے انتخابات میں انہوں نے حصہ نہیں لیا اس لیے کہ وہ انیس سو چوراسی میں دھارواڑ سے ممبر لوک سبھا منتخب ہوچکے تھے ، انیس سو چورانوے کے انتخاب میں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ماروتی راؤ سے ہارگئے تھے ، بقیہ تمام چھ انتخابات میں انہوں نے کامیابی درج کی ، انیس سو چورانوے تا ننانوے نہ وہ ممبر اسمبلی تھے ، نہ ممبر پارلیمنٹ اور ممبر کونسل ، درمیان کے ان پانچ سالوں کو چھوڑ کر انیس سو ساٹھ سے اٹھائیس دسمبر دو ہزار ایک میں ہوئی اپنی وفات تک وہ یا تو ممبر کونسل تھے یا ممبر اسمبلی یا ممبر پارلیمنٹ،
عزیز سیٹھ نے انیس سو سڑسٹھ میں سمیکت سوشلسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر نرسمہارا راجہ حلقے سے پہلی کامیابی حاصل کی تھی ،
انیس سو بہتر ، انیس سو اٹھہتر، انیس سو نواسی ، اور انیس سو ننانوے میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر نرسمہارا راجہ حلقے سے کامیاب ہوئے تھے،
عزیز سیٹھ وزیر اعلی کرناٹک دیوراج کی وزارت میں وزیر ٹرانسپورٹ تھے۔ وہ ایک تجربہ کار سیاست دان تھے،
وہ بنگارپا کابینہ میں بھی وزیر تھے۔ 1982 میں وہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے اور کرناٹک میں پہلی غیر کانگریسی حکومت میں وزیر بنے۔
1994 کے اسمبلی الیکشن میں عزیز سیٹھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ماروتی راؤ پوار نے شکست دی تھی۔ 1999 میں انہوں نے شکست کا بدلہ لیا اور اسی نرسمہاراجہ حلقہ سے ریاستی اسمبلی میں واپس آئے ۔
عزیز سیٹھ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) مین اقلیتی ونگ کے قومی چیئرمین بھی تھے۔
عزیز سیٹھ نے ان عہدوں کو عزت بخشی
1945 سے پرجو سوشلسٹ پارٹی کے رکن؛ اس پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور 22 اپریل 1962 کو کانگریس میں شامل ہوئے ۔
1953 سے 1962 تک میونسپل کونسلر
1960-1966 ایم ایل سی (ممبر لیجسلیٹو کونسل)
1967-1984 نرسمہا راجہ حلقے سے کرناٹک اسمبلی کے رکن
1984-1989ھارواڑ جنوبی (لوک سبھا حلقہ) سے لوک سبھا کے رکن 1989- 1994 نرسمہا راجہ حلقے سے کرناٹک اسمبلی کے رکن
1999- 28/دسمبر 2001 نرسمہا راجہ حلقے سے کرناٹک اسمبلی کے رکن
عزیز سیٹھ چوبیس سال ممبر اسمبلی ( ایم ایل اے) ، چھ سال ممبر کونسل ( ایم ایل سی) اور پانچ سال ممبر لوک سبھا ( ایم پی ) تھے ،
1972 سے 1984 تک کرناٹک کے ٹرانسپورٹ، سیاحت، لیبر وقف محکمہ اور صنعت و تجارت کے وزیر مملکت،
ان کے علاوہ درجنوں سماجی اور اصلاحی تنظیموں کے چیئرمین ، سرپرست اور رکن تھے ،
وفات
اٹھائیس دسمبر دو ہزار ایک کو 80 سال کی عمر میں، عزیز سیٹھ کا دل کا دورہ پڑنے سے میسور کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
ان کے بیٹے تنویر سیٹھ سیاست میں ہیں ، اور والد کی وفات کے بعد سے ہونے والے تمام اسمبلی انتخابات میں نرسمہا راجہ حلقے سے کامیاب ہوئے ہیں،
________________________________________________________________
*انیس سو نواسی میں کرناٹک سے منتخب مسلم ارکان لوک سبھا*
انیس سو نواسی میں کرناٹک سے صرف دو مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، کرناٹک کے کل ارکان لوک سبھا کی تعداد اٹھائیس تھی ،
بنگلور نارتھ سے سی کے جعفر شریف صاحب کامیاب ہوئے تھے اور دھارواڑ جنوبی سے بی ایم مجاہد صاحب کامیاب ہوئے تھے اور دونوں کانگریسی تھے ،
1- سی کے جعفر شریف صاحب بنگلور نارتھ سے لگاتار چوتھی بار کامیاب ہوئے تھے ، جعفر شریف صاحب بنگلور نارتھ سے انیس سو ستہتر ، انیس سو اسی اور انیس سو چوراسی میں بھی کامیاب ہوئے تھے،
انیس سو اکہتر میں وہ کنکاپور لوک سبھا سے بھی منتخب ہوئے تھے،
انیس سو نواسی میں بنگلور نارتھ میں جعفر شریف صاحب کو 390460 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور ان کے قریبی حریف جنتا دل کے لاورنیس فرنانڈیز کو 217407ووٹ ملے تھے ،
سی کے جعفر شریف صاحب کے متعلق تفصیلات چوتھی قسط میں گزرچکی ہیں،
2- دھارواڑ جنوبی لوک سبھا حلقے سے بی ایم مجاہد پہلی بار کامیاب ہوئے تھے، بی ایم مجاہد کو 339235 ووٹ ملے تھے اور ان کے قریبی حریف جنتا دل کے بی جی بناکر کو 310587ووٹ حاصل ہوئے تھے,
________________________________________________________________
*انیس سو اکیانوے میں کرناٹک سے منتخب مسلم ارکان لوک سبھا*
انیس سو اکیانوے میں کرناٹک سے صرف دو مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، کرناٹک کے کل ارکان لوک سبھا کی تعداد اٹھائیس تھی ،
بنگلور نارتھ سے سی کے جعفر شریف صاحب کامیاب ہوئے تھے اور دھارواڑ جنوبی سے بی ایم مجاہد صاحب کامیاب ہوئے تھے اور دونوں کانگریسی تھے ،
1- سی کے جعفر شریف صاحب بنگلور نارتھ سے لگاتار پانچ ویں بار کامیاب ہوئے تھے ، جعفر شریف صاحب بنگلور نارتھ سے انیس سو ستہتر ، انیس سو اسی انیس سو چوراسی اور انیس سو نواسی میں بھی کامیاب ہوئے تھے،
انیس سو اکہتر میں وہ کنکاپور لوک سبھا سے بھی منتخب ہوئے تھے،
انیس سو اکیانوے میں بنگلور نارتھ میں جعفر شریف صاحب کو 252272 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور ان کے قریبی حریف جنتا دل کے سی نارائن سوامی کو 191955ووٹ ملے تھے ،
سی کے جعفر شریف صاحب کے متعلق تفصیلات چوتھی قسط میں گزرچکی ہیں،
2- دھارواڑ جنوبی لوک سبھا حلقے سے بی ایم مجاہد لگاتار دوسری بار کامیاب ہوئے تھے، بی ایم مجاہد کو 231473ووٹ ملے تھے اور ان کے قریبی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی کے پی جی بناکر کو 157702ووٹ حاصل ہوئے تھے,
افسوس ہے کہ بی ایم مجاہد صاحب کے متعلق مزید تفصیلات معلوم نہیں ہوسکیں ،
_______________________________________________
کرناٹک اسمبلی الیکشن 2023 اور کرناٹک کی مسلم سیاست
قسط (6)
*انیس سو چھیانوے میں کرناٹک سے منتخب مسلم رکن لوک سبھا*
انیس سو چھیانوے میں کرناٹک سے صرف ایک مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، کرناٹک کے کل ارکان لوک سبھا کی تعداد اٹھائیس تھی ،
کرناٹک کے شمالی ضلع گلبرگہ کے گلبرگہ لوک سبھا حلقے سے قمر الاسلام صاحب جنتا دل کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، ان سے پہلے یہاں سے کوئی مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب نہیں ہوا تھا ، قمر الاسلام صاحب کو 203521 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے بسوا راج پاٹل کو 187976 ووٹ حاصل ہوئے تھے ،
قمر الاسلام صاحب کے بعد انیس سو ننانوے اور دو ہزار چار میں انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر اقبال احمد سرداگی کامیاب ہوئے تھے ،
دوہزار نو کی نئی حد بندی میں گلبرگہ کو شیڈول کاسٹ کے لیے ریزرو کردیا گیا ہے اب وہاں سے کوئی مسلمان انتخاب بھی نہیں لڑسکتا ، وہاں سے کانگریس کے موجودہ صدر ملکا ارجن کھرگے دو ہزار نو سے الیکشن لڑتے ہیں ، دو ہزار نو اور دو ہزار چودہ میں وہ کامیاب ہوئے تھے مگر دو ہزار انیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ڈاکٹر امیش جادھو سے ہارگئے ، اور اب وہ راجیہ سبھا ممبر ہیں ،
*کرناٹک کے چاند قمر الاسلام*
قمر الاسلام صاحب کالبرگی ( گلبرگہ) میں 27/جنوری 1948 کو نور الاسلام صاحب کے ہاں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے پی ڈی اے کالج آف انجینئرنگ ، گلبرگہ سے مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلر ڈگری مکمل کیا ۔ وہ سب سے پہلے پی ڈی اے کالج میں انتخابات میں کھڑے ہوئے اور طلباء یونین کے صدر بنے، اور پی ڈی اے کالج میں طلباء یونین کے صدر کے عہدے پر فائز ہونے والے پہلے اور آخری مسلمان طالب علم بن گئے۔
وہ پیشہ ورانہ طور پر انجینئر تھے۔ ڈاکٹر قمر الاسلام کو اردو سے لگاؤ تھا اور وہ کبھی کبھار شاعری بھی لکھتے تھے۔ زندگی بھر اردو کے مختلف ادبی پروگراموں کی صدارت کی۔
*سیاسی زندگی*
انیس سو اٹھہتر میں وہ تیس سال کی عمر میں بطور آزاد امیدوار اسمبلی کا انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئے، اس کے بعد وہ انڈین یونین مسلم لیگ میں شامل ہوئے ، انیس سو چورانوے تک مسلم لیگ میں رہے ، اس کے بعد انڈین نیشنل لیگ میں شامل ہوئے ، انیس سو چھیانوے میں جنتادل میں شامل ہوئے ، ان کی آخری منزل انڈین نیشنل کانگریس تھی ، انیس سو ننانوے میں وہ انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے اور اپنی وفات تک انڈین نیشنل کانگریس میں ہی رہے ،
*بطور ممبر اسمبلی*
وہ ریاست کرناٹک سے چھ بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔
انیس سو اٹھہتر میں بطور آزاد گلبرگہ اسمبلی نشست سے کامیاب ہوئے اور انیس سو تراسی تک ممبر اسمبلی رہے
انیس سو نواسی میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پرگلبرگہ اسمبلی نشست سے کامیاب ہوئے اور انیس سو چورانوے تک ممبر اسمبلی رہے ،
انیس سو چورانوے میں انڈین نیشنل لیگ کے ٹکٹ پرگلبرگہ اسمبلی نشست سے کامیاب ہوئے اور انیس سو چھیانوے تک ممبر اسمبلی رہے ،
قمر الاسلام صاحب انیس سو ننانوے میں انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر گلبرگہ اسمبلی نشست سے کامیاب ہوئے اور دو ہزار چار تک ممبر اسمبلی رہے ،
دو ہزار چار میں قمر الاسلام صاحب بھارتیہ جنتا پارٹی کے چندر شیکھر پاٹل سے ہارگئے
دو ہزار آٹھ اور دو ہزار تیرہ میں قمر الاسلام صاحب کالابورگی اتر ( گلبرگہ شمال ) سے کامیاب ہوئے
*بطور ممبر پارلیمنٹ*
قمر الاسلام صاحب انیس سو چھیانوے میں جنتادل کے ٹکٹ پر گلبرگہ سے ممبر لوک سبھا منتخب ہوئے ، تفصیلات اوپر گذرچکی ہیں ،
قمر الاسلام صاحب نے انیس سو اٹھانوے میں بھی گلبرگہ لوک سبھا سے جنتا دل کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا ، مگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے بسوا راج پاٹل سے 131798 ووٹوں کے فرق سے یار گئے ، بسوا راج پاٹل کو 328982 ووٹ اور قمر الاسلام صاحب کو 197798 ووٹ ملے تھے ،
*بطور وزیر کرناٹک*
قمر الاسلام صاحب اکتوبر 1999 سے مئی 2004 تک چیف منسٹر ایس ایم کرشنا کی وزارت میں ہاؤسنگ اور لیبر کے کابینہ وزیر بھی رہے۔ اور مئی 2013 سے جون 2016 تک وزیر اعلیٰ سدارامیا کی وزارت میں پبلک انٹر پرائز ، مائنارٹی ڈیولپمنٹ اور وقف کے وزیر تھے ۔
*وفات*
قمر الاسلام صاحب 18/ دسمبر 2017 کو انہتر سال کی عمر میں انتقال کرگئے ،قمر الاسلام 18 ستمبر 2017 کو بنگلورو کے ایک اسپتال میں کارڈیوجینک شاک اور دیگر اعضاء کے فیل ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ ان کے جنازے میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا ، اور ممبر پارلیمنٹ گلبرگہ ملکارجن کھرگے ( موجودہ کانگریسی صدر ) اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔
*سیاسی جانشین*
قمر الاسلام صاحب کی سیاسی جانشین ان کی اہلیہ کنیز فاطمہ( پیدائش اکیس اگست 1959) ہیں , کنیز فاطمہ سیاست میں نہیں آنا چاہتی تھیں مگر انڈین نیشنل کانگریس کے ملکا ارجن کھرگے جیسے کئی بڑے بڑے لیڈران نے ان سے بار بار ملاقات کرکے انہیں سیاست میں آنے پر آمادہ کرلیا ، انہیں گلبرگہ شمال سے دو ہزار اٹھارہ میں ٹکٹ دیا گیا اور وہ ممبر اسمبلی منتخب ہوئیں دو ہزار تیئیس کے حالیہ الیکشن میں بھی انہیں انڈین نیشنل کانگریس نے ٹکٹ دیا ہے اور ان شاء اللہ وہ ضرور کامیاب ہوں گی ،
*انڈین نیشنل لیگ*
قمر الاسلام صاحب کے تذکرے میں انڈین نیشنل لیگ کا تذکرہ آیا ، مناسب سمجھتا ہوں کہ انڈین نیشنل لیگ اور اس کے بانی جناب ابرہیم سلیمان سیٹھ صاحب کا بھی تذکرہ ہوجائے ،ب
چھ دسمبر انیس سو بانوے کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد انڈین یونین مسلم لیگ کے قومی صدر اور ممبر لوک سبھا جناب ابرہیم سلیمان سیٹھ نے اپنی پارٹی سے کہا کہ وہ کیرل میں کانگریس کی قیادت والی صوبائی سرکار سے الگ ہوجائے ، مگر کیرل کی مسلم لیگ نے کہا کہ سرکار سے الگ ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے ، ہم سرکار میں رہ کر قوم کی زیادہ خدمت کرسکتے ہیں ، ہمارے چار وزراء ہیں جو سرکار میں رہ کر مسلمانوں کے لیے کام کرتے ہیں ، پورے ہندوستان میں کیرل میں ہی مسلم لیگ زیادہ مضبوط ہے ، انیس سو اکیانوے میں کیرل کی ایک سو چالیس رکنی اسمبلی میں انیس ارکان کامیاب ہوکر آئے تھے ، اور یہ انڈین یونین مسلم لیگ کی سب سے بڑی کامیابی تھی ، کرناٹک اسمبلی میں قمر الاسلام صاحب مسلم لیگ کے رکن تھے ، اور ایک رکن مہاراشٹر اسمبلی میں تھے ، پورے ہندوستان میں مسلم لیگ کے صرف ممبران اسمبلی تھے ،
چونکہ پورے ہندوستان میں کیرل میں ہی مسلم لیگ زیادہ مضبوط ہے ، اور یہیں مسلم لیگ پارٹی کے ارکان زیادہ ہیں اس لیے انڈین یونین مسلم لیگ کی کیرل اکائی نے اپنے صدر جناب ابرہیم سلیمان سیٹھ کو ہی پارٹی سے نکال دیا ، اور غلام محمد بنات والا کو اپنا صدر بنالیا ،
غلام محمد بنات والا کو صدر بنائے جانے کے بعد کالی کٹ سے پچیس کلومیٹر دور کوئلانڈی میں ایک بڑا جلسہ ہوا ، جس کا باقاعدہ آغاز میری تلاوت سے ہوا تھا ، میں نے سورہ غاشیہ کی تلاوت کی تھی ، تلاوت کرنے کے بعد میں جب مڑا تو اسٹیج پر پہلی لائن میں درمیان میں بیٹھے غلام محمد بنات والا نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنے دائیں طرف والی کرسی پر بٹھایا ، کچھ دیر تک میں نے ان سے باتیں کیں ، میں تو اس پروگرام کے آخر تک رہنا چاہتا تھا اور مناسب موقع پاکر غلام محمد بنات والا سے تیکھے سوالات کرنا بھی چاہتا تھا ، مگر میرے ساتھ گئے میرے ملیالی دوست مجھے بار بار نیچے آنے اور واپس چلنے کا اشارہ کر رہے تھے ، در اصل میں تیس کلومیٹر دور سے گیا تھا اور ہمیں فجر بعد کلاس بھی کرنا تھا ، اس وقت میں صرف اکیس سال کا تھا ،
ابراہیم سلیمان سیٹھ کا ساتھ کرناٹک کے اکلوتے مسلم لیگی ممبر اسمبلی قمر الاسلام صاحب اور کیرل کے انیس ممبران اسمبلی میں چار ممبران اسمبلی نے دیا ، مگر وہ چاروں انیس سو چھیانوے کے کیرل اسمبلی انتخابات میں انڈین نیشنل لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب نہیں ہوسکے ،
کیرل میں مسلم لیگ کے بعد انڈین نیشنل لیگ دوسری بڑی مسلم پارٹی ہے ، گرام پنچایت ، بلاک پنچایت اور ضلع پنچایت ، اور میونسپلٹی وغیرہ میں اس کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں ، مگر اس کے اب تک دو ممبران ہی کامیاب ہوسکے ہیں ، کالی کٹ دو سے دو ہزار چھ میں پی ایم عبد السلام انڈین نیشنل لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، اور دو ہزار اکیس میں احمد دیور کوول کالی کٹ ساؤتھ سے کامیاب ہوئے ہیں اور دو ہزار اکیس سے کیرل کی صوبائی حکومت میں وزیر بندرگاہ ، میوزیم اور آثار قدیمہ وغیرہ ہیں ،
کالی کٹ دو کے ہی اکثر علاقے دو ہزار نو میں ہوئی نئی حد بندی کے بعد کالی کٹ ساؤتھ میں آتے ہیں ،
اب تک پورے ہندوستان میں انڈین نیشنل لیگ کے تین ہی ممبران اسمبلی ہوئے ہیں،
1994 میں گلبرگہ سے قمر الاسلام صاحب انڈین نیشنل لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے،
دو ہزار چھ میں پی ایم عبد السلام انڈین نیشنل لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، اور دو ہزار اکیس میں احمد دیور کوول کالی کٹ ساؤتھ سے کامیاب ہوئے ہیں،
*ابرہیم سلیمان سیٹھ صاحب*
ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب (3/ نومبر 1922- 27/اپریل 2005) بڑے نیک ، شریف اور دل دردمند رکھنے والے انسان تھے ، وہ بہت اچھے مقرر تھے ، اردو اور انگریزی میں ان کی تقریریں بڑی جاندار اور اسلامی ہوتی تھیں ، بات کرنے کا انداز بڑا پر وقار ہوتا تھا ، وسیع المطالعہ تھے ، ان کا ددھیال بنگلور میں تھا تو ننہیال اور سسرال کیرل میں تھا ، ان کا چہرہ اور دل دونوں تابناک اور روشن تھا ، لباس مکمل اسلامی اور ہندوستانی تھا ، وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک اہم ممبر تھے ، اور ان کے واسطے سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی آواز پارلیمینٹ تک پہونچتی تھی ،
آزادی کے بعد جب دس مارچ انیس سو اڑتالیس کو ہندوستان میں رہ جانے والے مسلم لیگی ارکان نے انڈین یونین مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی ، اس وقت چھبیس سالہ ابراہیم سلیمان اسٹیج پر بیٹھے قائدین میں سے سب سے کم عمر تھے ،
ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب نے چوالیس سالوں تک مسلم لیگ کو اپنے خون پسینے سے سینچا ، ان کی خدمات کے اعتراف میں کیرل کی مسلم لیگ نے انیس سو ساٹھ میں اپنا پہلا راجیہ سبھا ممبر بنایا ، اور قائد ملت اسماعیل صاحب ( 5/ جون 1896- 5/ اپریل 1972 ) کی وفات کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کا صدر بنایا ، انیس سو سڑسٹھ سے انیس سو اکیانوے تک کے تمام پارلیمانی انتخابات میں انہیں ٹکٹ دیا اور کامیاب کرایا ، مگر بابری مسجد کی شہادت نے سلیمان سیٹھ اور کیرل کی مسلم لیگی قیادت کے افکار میں اختلاف پیدا کردیا ، اور دونوں کی راہیں الگ ہوگئیں ،
ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب دل کی آواز سن رہے تھے اور کیرل کی مسلم لیگی قیادت دماغ کی آواز سن رہی تھی ، ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب کانگریس سے نالاں تھے اور وزارتوں کی قربانی دے کر کانگریس کو سبق سکھانا چاہتے تھے ،اور کیرل کی مسلم لیگی قیادت کم نگاہ تھی اور وہ صرف ظاہری فوائد دیکھ رہی تھی ،
ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب انیس سو ساٹھ سے انیس سو چھیاسٹھ تک راجیہ سبھا ممبر تھے ، انیس سو سڑسٹھ سے انیس سو چھیانوے تک لوک سبھا کے ممبر تھے ، اور یہ تمام انتخابات انہوں نے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر جیتا تھا ، وہ انیس سو بہتر سے انیس سو چورانوے تک مسلم لیگ کے صدر تھے ، انہوں نے تین اپریل انیس سو چورانوے کو انڈین نیشنل لیگ کی بنیاد رکھی ، انہوں نے انیس سو اکیانوے کے بعد کوئی الیکشن نہیں لڑا ، ان کی وفات ستائیس اپریل دو ہزار پانچ کو ہوئی ،
اللہ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کا نعم البدل ہندوستانی مسلمانوں کو عطا فرمائے آمین ثم آمین
______________________________________________
کرناٹک اسمبلی الیکشن 2023 اور کرناٹک کی مسلم سیاست
قسط (7)
*انیس سو اٹھانوے میں کرناٹک سے منتخب مسلم رکن لوک سبھا*
انیس سو اٹھانوے میں کرناٹک سے صرف ایک مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، بنگلور نارتھ سے سی کے جعفر شریف صاحب کامیاب ہوئے تھے،
سی کے جعفر شریف صاحب بنگلور نارتھ سے چھٹی بار کامیاب ہوئے تھے ، انیس سو ستہتر سے انیس سو اکیانوے تک ہوئے تمام پانچوں انتخابات میں بنگلور نارتھ سے کامیاب ہوئے تھے ،اس سے قبل وہ انیس سو اکہتر میں کنکاپور لوک سبھا سے منتخب ہوئے تھے،
انیس سو اٹھانوے میں بنگلور نارتھ میں جعفر شریف صاحب کو 399582 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور ان کے قریبی حریف لوک شکتی کے ڈاکٹر جیوراج الوا کو 327135ووٹ ملے تھے ،
سی کے جعفر شریف صاحب کے متعلق تفصیلات چوتھی قسط میں گزرچکی ہیں،
_____________________________________________
*انیس سو ننانوے میں کرناٹک سے منتخب مسلم ارکان لوک سبھا*
انیس سو ننانوے میں کرناٹک سے صرف دو مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، بنگلور نارتھ سے سی کے جعفر شریف صاحب کامیاب ہوئے تھے اور گلبرگہ سے اقبال احمد سرداگی صاحب کامیاب ہوئے تھے، کرناٹک کے کل ارکان لوک سبھا کی تعداد اٹھائیس تھی ،
سی کے جعفر شریف صاحب بنگلور نارتھ سے لگاتار دوسری بار اور مجموعی طور سے ساتویں بار کامیاب ہوئے تھے ، اور یہ ان کی آخری کامیابی تھی ، وہ دو ہزار چار اور دوہزار نو میں بھی انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر بنگلور نارتھ سے امیدوار تھے مگر کامیاب نہیں ہوسکے دوسرے نمبر پر رہے ،
جعفر شریف انیس سو ستہتر سے انیس سو اکیانوے تک ہوئے تمام پانچوں انتخابات میں بنگلور نارتھ سے کامیاب ہوئے تھے،انیس سو چھیانوے میں انہیں ٹکٹ نہیں ملا تھا ،اس سے قبل وہ انیس سو اکہتر میں وہ کنکاپور لوک سبھا سے منتخب ہوئے تھے،
انیس سو ننانوے میں بنگلور نارتھ میں جعفر شریف صاحب کو 525523 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور ان کے قریبی حریف جنتادل یونائیٹڈ کے مائیکل بی فرنانڈیز کو 349928 ووٹ ملے تھے ،
2- کرناٹک کے شمالی ضلع گلبرگہ کے گلبرگہ لوک سبھا حلقے سے اقبال احمد سرداگی صاحب کامیاب ہوئے تھے ، ان سے قبل گلبرگہ سے قمر الاسلام صاحب جنتا دل کے ٹکٹ پر انیس سو چھیانوے میں کامیاب ہوئے تھے ، قمر الاسلام صاحب سے پہلے یہاں سے کوئی مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب نہیں ہوا تھا ،
انیس سو ننانوے میں گلبرگہ اقبال احمد سرداگی صاحب کو 352359 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور ان کے قریبی بھارتیہ جنتا پارٹی کے بسوا راج پاٹل کو 282522 ووٹ حاصل ہوئے تھے ،
___________________________________________
*دو ہزار چار میں کرناٹک سے منتخب مسلم رکن لوک سبھا*
انیس سو ننانوے میں کرناٹک سے صرف ایک مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، گلبرگہ سے اقبال احمد سرداگی صاحب کامیاب ہوئے تھے، کرناٹک کے کل ارکان لوک سبھا کی تعداد اٹھائیس تھی ،
کرناٹک کے شمالی ضلع گلبرگہ کے گلبرگہ لوک سبھا حلقے سے اقبال احمد سرداگی صاحب لگاتار دوسری بار کامیاب ہوئے تھے اور یہ کرناٹک کے آخری مسلم ممبر لوک سبھا ہیں ،
___________________________________________
*دو ہزار نو ، دو ہزار چودہ اور دو ہزار انیس کی ناکامی*
*دو ہزار نو کی ناکامی*
دو ہزار نو کے لوک سبھا انتخابات میں انڈین نیشنل کانگریس نے کرناٹک سے دو مسلم امید واروں کو اتارا تھا ، مگر وہ دونوں ناکام رہے ،
بنگلور نارتھ سے جعفر شریف دوسری بار بھی ہار گئے ، وہ 1977, 1980 ،1984 ، 1989, 1991 ،1998, اور 1999 میں کامیاب ہوئے تھے ، 1996 میں انہیں ٹکٹ نہیں ملا تھا ، اور دو ہزار چار میں وہ ہارگئے تھے اور دوسرے نمبر پر تھے ، جعفر شریف صاحب کا یہ آخری انتخاب تھا ، دو ہزار چودہ میں انہیں کانگریس نے ٹکٹ نہیں دیا اور نہ انہوں نے بطور آزاد یا کسی اور پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا ، اور دو ہزار انیس کے انتخابات سے چھ ماہ قبل وہ اللہ کو پیارے ہوگئے تفصیلات گذر چکی ہیں ،
دو ہزار نو میں بنگلور نارتھ سے بی جے پی کے امیدوار ڈی بی چندرے گوڑا کامیاب ہوئے تھے ، گوڑا کو 452920 اور جعفر شریف صاحب کو 393255 ووٹ حاصل ہوئے تھے ،
کانگریس کے دوسرے مسلم امیدوار ہاویری لوک سبھا حلقے سے سلیم احمد صاحب تھے ، سلیم احمد صاحب بھی 342373 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر تھے ، اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے شیو کمار چنا بسپا 430293 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے تھے ،
دو بزار نو میں بنگلور سینٹرل سے جنتادل سیکولر نے بی زیڈ ضمیر احمد خاں کو ٹکٹ دیا تھا مگر وہ 162552 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر تھے ، دوسرے نمبر پر کانگریس کے ایچ ٹی سانگلیا تھے جنہیں 304944 ووٹ حاصل ہوئے تھے ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کامیاب امیدوار پی سی موہن کو 340162 ووٹ ہوئے تھے ،
دو ہزار چودہ میں بنگلور سینٹرل سے نے رضوان ارشد ( پیدائش 1979) کو ٹکٹ دیا تھا مگر وہ 419630ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے ، ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کامیاب امیدوار پی سی موہن کو 557130 ووٹ ملے تھے ،
___________________________________________
*دو ہزار چودہ کی ناکامی*
دو ہزار چودہ میں بھی کانگریس نے کرناٹک سے دو مسلم امید واروں کو اتارا تھا ،
ہاویری لوک سبھا حلقے سے سلیم احمد کانگریس کے امیدوار تھے ، وہ 479219 ووٹ حاصل کر کے بھی ناکام رہے ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کامیاب امیدوار شیو کمار چنا بسپا کو 566790 ووٹ ملے تھے ،
سلیم احمد صاحب کو کانگریس نے دو ہزار نو اور دو ہزار چودہ میں ہاویری لوک سبھا حلقے سے ٹکٹ دیا مگر وہ دونوں بار ہار گئے ،
کانگریس کے دوسرے مسلم امیدوار بنگلور سینٹرل لوک سبھا حلقے سے پینتیس سالہ رضوان ارشد صاحب تھے ، رضوان ارشد صاحب بھی 419630 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر تھے ، اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے پی سی موہن 558130ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے تھے ,
___________________________________________
*دو ہزار انیس کی ناکامی*
دو ہزار انیس میں کرناٹک میں انڈین نیشنل کانگریس اور جنتادل سیکولر نے مل کر لوک سبھا کا الیکشن لڑا اور صرف ایک مسلمان کو ٹکٹ دیا ، بنگلور سینٹرل سے چالیس سالہ رضوان ارشد کو ٹکٹ ملا تھا مگر وہ 531885 ووٹ حاصل کر کے بھی ناکام رہے اور دوسرے نمبر پر رہے ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کامیاب امیدوار پی سی موہن کو 602853 ووٹ ملے تھے ،
رضوان ارشد صاحب کو کانگریس نے دو ہزار چودہ اور دو ہزار انیس میں بنگلور سینٹرل لوک سبھا حلقے سے ٹکٹ دیا مگر دونوں بار ہار گئے ،
انیس سو باون سے دو ہزار انیس تک کے تمام مسلم ممبران لوک سبھا کا تذکرہ مکمل ہوا ، اب اگلی اقساط میں انیس سو باون سے اب تک منتخب ہوئے تمام مسلم ممبران راجیہ سبھا کا تذکرہ ہوگا ،
________________________
Comments are closed.