کرناٹک میں بی جے پی چاروں خانے چت

محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
فون نمبر:= 9933598528
کرناٹک میں ریاستی اسمبلی کی 224 نشستوں کے لیے 10 مئی بروز بدھ کو ووٹ ڈالے گئے تھے ، ووٹوں کی گنتی 13 مئی کی صبح کو شروع ہوئی، نتائج کے رجحانات آنے کا سلسلہ جاری ہوتے ہی کانگریس سبقت لے جاتی ہوئی دکھائی دینے لگی، جو آہستہ آہستہ زبردست جیت سے تبدیل ہوتی چلی گئی، وہیں بی جے پی اور جے ڈی ایس نقشہ میں سمٹتی چلی گئی ۔
واضح رہے کہ کرناٹک انتخابات میں اصل مقابلہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور حزبِ اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کانگریس اور جنتا دل سیکیولر (جے ڈی ایس) کے درمیان تھا، جبکہ دہلی اور پنجاب میں بر سرِ اقتدار عام آدمی پارٹی بھی انتخابات میں اپنا لوہا منوانے کی کوشش کر رہی تھی، ان کے علاوہ بہن مایا وتی کی قیادت میں بہوجن سماج پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا اور بیرسٹر اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین سمیت آزاد امیدوار کی بڑی تعداد بھی میدان میں تھی ۔
کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے زبردست جیت حاصل کی ہے۔ کانگریس نے 136 سیٹیں جیت کر وہاں بی جے پی حکومت کو اکھاڑ پھینکا ہے۔ اس تاریخی جیت پر کانگریس کارکنوں کا جوش و خروش عروج پر ہے۔ جبکہ بی جے پی کو اس انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ سے ان کے خیمے میں ماتم پسرا ہوا ہے ۔
تقریباً 12 بجے کرناٹک کانگریس کے سربراہ ڈی کے شیو کمار اپنے گھر کی بالکونی میں آئے، کانگریس کا جھنڈا لہرایا اور کارکنوں کے سامنے ہاتھ جوڑے۔ وہ میڈیا کے درمیان پہنچے تو جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے راہول گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کو جیت کا یقین دلایا تھا، میں نہیں بھول سکتا جب سونیا گاندھی جیل میں مجھ سے ملنے آئیں، میں نے عہدہ سنبھالنے کے بجائے جیل میں رہنے کا انتخاب کیا جس پر مجھے اعتماد تھا۔”
تقریباً 1 بجے کرناٹک کے موجودہ وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے اپنی پارٹی کی شکست تسلیم کر تے ہوئے آگے آکر کہا کہ "نتائج کا تجزیہ کریں گے، پارٹی آئندہ لوک سبھا انتخابات میں زبردست واپسی کرے گی۔ بی جے پی لیڈر بسواراج بومئی نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں کہا "ہم نشان تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں اس کے باوجود وزیرِ اعظم سے لے کر عام بی جے پی کارکن نے ان انتخابات میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے بھرپور کوشش کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کرناٹک اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کو اپنے آپ پر حاوی نہیں ہونے دیں گے بلکہ اس مشکل صورتِ حال سے بہتر انداز میں باہر آنے کا مکمل حوصلہ رکھتے ہیں ‘‘۔
دوپہر 2:30 بجے راہول گاندھی دہلی میں میڈیا کے سامنے پیش ہوئے۔ اس وقت پارٹی کے کارکنان جیت کا جشن منا رہے تھے، ڈھول نگاڑے کے بیچ کانگریس پارٹی زندہ باد کے نعروں کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دے رہی تھی، اس درمیان انہوں نے میڈیا کو 6 بار ہیلو کہا اور 2 منٹ کا وقت مانگا۔ پھر بولے کرناٹک میں غریب لوگوں نے کرونی سرمایہ داروں کو شکست دی، ہم نے یہ جنگ نفرت سے نہیں لڑی کرناٹک نے دکھایا ہے کہ ملک سے محبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے انتخابات میں ایک طرف کرونی سرمایہ داروں کی طاقت تھی تو دوسری طرف غریب عوام کی شکتی تھی۔ شکتی نے طاقت کو شکست دی۔ راہول گاندھی نے کہاکہ کانگریس اس الیکشن میں غریبوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم نفرت اور غلط الفاظ سے نہیں لڑے۔ ہم نے یہ جنگ کھلے دل سے محبت کے ساتھ لڑی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے جن پانچ گارنٹی کا وعدہ کیا ہے وہ کیبنٹ کی پہلی میٹنگ میں طے کر لیا جائے گا.
کرناٹک اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شاندار جیت پر ریاست کے عوام اور اپنے لیڈروں اور کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ جنوبی ہندوستان کی اس ریاست میں نفرت کا بازار بند ہو گیا ہے اور محبت کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ "
شام 5:19 بجے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے کرناٹک الیکشن میں کانگریس کو شاندار جیت کی مبارکباد دی۔
شام 7:15 بجے بنگلور میں ایک پریس کانفرنس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ” بی جے پی ہمیں طعنہ دیتی تھی کہ ہم کانگریس سے پاک ہندوستان بنائیں گے۔ اب یہ حقیقت ہے کہ جنوبی ہندوستان کو بی جے پی سے آزاد کرایا ہے۔ ریاست کے عوام نے فیصلہ کیا اور ہمیں 136 سیٹیں ملیں۔ 36 سال بعد ہمیں بڑی فتح ملی ہے۔” کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ” یہ کرناٹک کی عزت نفس کی جیت ہے۔ پارٹی کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ کرناٹک نے تاریخ رقم کی۔ ملک کو روشنی دکھائی ہے۔ ملک کے لاکھوں کارکنوں اور کرناٹک کے 5.5 کروڑ عوام کا تہہ دل سے شکریہ۔”
کرناٹک میں رائے دہندگان کی کل تعداد پانچ کروڑ 24 لاکھ ہے جن میں سے لگ بھگ 9 لاکھ نوجوان پہلی بار حقِ رائے دہی کا استعمال کئے ۔ ان انتخابات میں قسمت آزمائی کرنے والے 2613 امیدواروں میں 185 خواتین بھی شامل تھیں جب کہ ایک خواجہ سرا بھی حصہ لیا تھا ۔
بی جے پی نے تمام 224 نشستوں پر الیکشن لڑنے کے لیے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے تھے جب کہ کانگریس نے 223 اور جے ڈی ایس نے 207 امیدواروں کو میدا ن میں اُتارا تھا ۔
کانگریس پارٹی نے17 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دی تھی ،ان میں9 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔جن میں (۱) این اے حارث نے بی جے پی کے شیو کمار کو 7125 ووٹوں سے شکست دی، (۲) یو ٹی قادر نے بی جے پی کے ستیش کمپلا کو 22790 ووٹوں سے شکست دی، (۳) ضمیر احمدنے بی جے پی کے بھاسکر رائو 53953 ووٹوں سے ہرایا، (٤) تنویر سیٹھ نے بی جے پی کے ایس ستیش سندیش سوامی کو 31684 ووٹوں سے شکست دی، (۵) حجاب کی لڑائی لڑکر سرخیوں میں آنے والی بے باک لیڈر کنیز فاطمہ نے بی جے پی کے چندر کانت پاٹل کو 2713 ووٹوں سے شکست دی، (۶) رحیم خان نے جے ڈی ایس کے امیدوار ناگماں رمپلی کو 10780 ووٹوں سے شکست دی، (۷) اقبال حسین نے بھی جے ڈی ایس کے امیدوار نکھل کمار سوامی کو 10715 ووٹوں سے شکست دی، (۸) رضوان ارشد نے بی جے پی کے چندرا این کو 23194 ووٹوں سے شکست دی اور (۹) آصف سیٹھ نے بی جے پی کے ڈاکٹر روی پاٹل کو 2082 ووٹوں سے ہرادیا۔
بی جے پی نے 2018 کے انتخابات میں 104 نشستیں حاصل کر کے ریاست میں حکومت بنائی تھی۔ اس بار انتخابی مہم میں خود وزیرِ اعظم نریندر مودی پیش پیش نظر آئے۔ بی جے پی کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پارٹی نے کرناٹک میں کل 9125 ریلیاں اور 1377 روڈ شو منعقد کیے۔ انتخابی مہم کے آخری دو ہفتوں کے دوران وزیر اعظم مودی نے 42 ریلیاں کیں، جبکہ امت شاہ بھی پیچھے نہیں رہے اور انہوں نے 30 ریلیوں میں حصہ لیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ بی جے پی کو امید تھی کہ مودی جی کی شخصیت کا کرشمہ بی جے پی کو ریاست میں دوبارہ حکومت بنانے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ مگر کرناٹک کے عوام متفقہ طور پر مودی اور بی جے پی کو چاروں خانے چت کر دیا۔
کرناٹک کی اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی بی جے پی کے لیے اس لیے بھی اہم تھی کیوں کہ بھارت کے کئی سیاسی مبصرین کی رائے میں کرناٹک کے انتخابی نتائج آئندہ برس پارلیمانی عام انتخابات کے لیے رجحان ساز ثابت ہوسکتے ہیں۔
بی جے پی کے مقابلے میں جے ڈی ایس کی انتخابی مہم زیادہ جارحانہ نہیں تھی ۔ پارٹی کی الیکشن مہم کی قیادت سابق وزیرِ اعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی نے کی۔ مہم میں زیادہ تر مقامی ایشوز کو اٹھایا گیا اور لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی گئی کہ وہ ریاست میں صاف ستھری حکومت کا قیام چاہتے ہیں۔ لیکن عوام کو یقین ہو گیا تھا کہ اگر انہیں کامیاب کیا گیا تو وہ بی جے پی کو حمایت دے کر وہی حکمران ہمارے اوپر تھوپا جائے گا اس لئے عوام نے دونوں کو نکار دیا.
کانگریس نے ریاست میں گزشتہ پانچ سال کے دوران بی جے پی کی حکومت کی چالیس فیصد رشوت اور کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا، ریاستی حکومت کی انتظامی کمزوریوں ، مبینہ کرپشن اور بدنظمی کے الزامات کے علاوہ بی جے پی پر مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام لگایا، جب کہ قومی سطح کے کئی معاملات کو بھی مدعا بنایا گیا، کانگریس کی انتخابی مہم کی قیادت میں سابق وزیرِ اعلیٰ سدھار میا، ریاستی صدر ڈی کے شیو کمار کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے پیش پیش تھے۔ جبکہ دوسری جانب کانگریس کے مرکزی رہنما راہل گاندھی اور ان کی بہن پرینکا گاندھی نے بھی ریاست کے دورے کیے تاکہ نوجوانوں کو کانگریس کی جانب متوجہ کیا جا سکے۔ جو بھارت جوڑو یاترا کے دوران امڈتے ہوئے سیلاب کی طرح نہایت جوش و خروش کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔
انتخابی مہم کے آخری مرحلے پر کانگریس پارٹی کے صدر ملکا ارجن کھڑگے نے اپنی ہوم اسٹیٹ کرناٹک کے عوام سے یہ جذباتی اپیل کی کہ وہ ڈھلتی عمر کے دور سے گزر رہے ہیں اور ان کی جان کو بی جے پی سے خطرہ ہے۔
کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ایک دوسرے پر خوب الزامات لگائے اور تنقید کی ۔ دونوں پارٹیوں نے الیکشن کمیشن میں ایک دوسرے کے خلاف کئی شکایتیں بھی درج کرائیں۔بی جے پی نے کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی کے خلاف تازہ شکایت اس حالیہ بیان پر کی تھی جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کرناٹک کی خود مختاری کا ذکر کیا تھا، وزیرِ اعظم مودی نے میسور میں انتخابی ریلی میں خطاب کے دوران سونیا گاندھی کے مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ "کانگریس پارٹی کا شاہی پریوار چاہتا ہے کہ کرناٹک بھارت سے الگ ہوجائے۔” وزیرِ اعظم کے اس بیان پر کانگریس کے جنرل سیکریٹری رندیپ سرجی والا نے جواباً کہا تھا کہ "مودی اپنی پارٹی کی حکومت پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات کا جواب دیں۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کرناٹک کے رائے دہندگان کے نام کھلا خط جاری کر کے اپنا آخری داو بھی کھیلا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری آزادی کے امرت کال (سنہری دور) کے دوران ہم ہندوستانیوں نے ملک کو ترقی یافتہ بنانے کا عزم کیا ہے۔بھارت پانچویں بڑی عالمی معیشت ہے۔ ہمارا اگلا مقصد تین بڑی معیشتوں تک پہنچنا ہے۔یہ تب ہی ممکن ہے جب کرناٹک تیزی کے ساتھ 10 کھرب امریکی ڈالر کی معیشت بنے گا۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ خواب بی جے پی کی قیادت ہی میں شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے.” مگر عوام جب کسی کو سبق سکھانے کا ٹھان لیتی تو ساری تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں جس کا کھلا مظاہرہ کرناٹک الیکشن میں نظر آیا۔
کانگریس پارٹی کے ترجمان اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ ” کانگریس پارٹی ایک جامع جیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان انتخابات کے نتائج 2024 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے رجحان ساز نہیں ہوں گے بلکہ وہ ایک الگ اور بڑا معرکہ ہوگا "
کرناٹک اسمبلی انتخابی نتائج سے جہاں کانگریسیوں کے چہرے پر خوشی کی لہر لے کر آئے ہیں وہیں بی جے پی اور جے ڈی ایس کے لئے تو بری خبر ہے ہی لیکن سب سے زیادہ بری خبر کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کے لئے ہے کیونکہ شروع سے آخر تک رجحانات میں بھی اس کا دور دور تک کوئی ذکر ہی نہیں تھا.
کرناٹک کے انتخابی نتائج پر اب ملک کے سرکردہ لیڈران کا رد عمل آنا بھی شروع ہو گیا ہے۔ غیر کانگریسی لیڈران بھی کرناٹک کے نتائج کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ ان لیڈروں میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کرناٹک میں بی جے پی کی شکست فاش پر عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔
ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی نے کرناٹک کے ریزلٹ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’تبدیلی کے حق میں نتیجہ خیز مینڈیٹ کے لیے کرناٹک کے لوگوں کو میرا سلام۔ ظالم تاناشاہی اور اکثریت پسندی کی سیاست کی یہ شکست ہے۔ جب لوگ اکثریت اور جمہوری طاقتوں کو جیتنا چاہتے ہیں تو حاوی ہونے کے لیے کوئی بھی سنٹرل ڈیزائن ان کی چاہت کو دبا نہیں سکتا ہے۔ یہ کہانی کی اخلاقیات ہے، اور کل کے لیے سبق ” این سی پی چیف شرد پوار کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا اصل مقصد کرناٹک میں بی جے پی کو شکست دینا تھا، میں گزشتہ آٹھ دس دنوں سے عوامی جلسوں میں کہہ رہا ہوں کہ کرناٹک میں بی جے پی کی شکست ہوگی۔ بھلے ہی بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے کئی جگہوں پر میٹنگیں اور روڈ شو کیے، لیکن ہمیں یقین تھا کہ ووٹوں کے ذریعہ سے لوگ اپنا غصہ ظاہر کریں گے۔‘‘ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ آر جے ڈی لیڈر تیجیسوی یادو نے کہا کہ” بھگوان بجرنگ بلی بھاجپا سے ناراض ہیں آج جو ریزلٹ آیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ بھاجپا کی یکطرفہ ہار ہے اور یہ ہار صرف بی جے پی کی نہیں ہے بلکہ پونجی پتی، ان کے جتنے جانچ ایجنسیاں ہیں، ان کی الائنس پارٹیاں، اور گودی میڈیا سب کی کراری ہار ہے‘‘۔
کانگریس نے آج یعنی اتوار کو لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ بلائی ہے جس میں آگے کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

Comments are closed.