رشوت آج برق رفتاری سے دوڑنے والا پہیہ بن گئی ہے
عارف عزیز
ہندوستان کے پہلے صدرجمہوریہ ڈاکٹر راجیندر پرساد کے بارے میںیہ خبریں ہم پڑھ چکے ہیں کہ انتقال کے وقت ان کے بینک اکائونٹ میں صرف سو روپے کی رقم موجود تھی، ڈاکٹر راجیندر پرساد کی شخصیت وکردار کی یہی خوبی تھی، جس نے انہیں وزیراعظم جواہرلال نہرو کو اپنے دور صدارت کی بعض بدعنوانیوں پر ایک مکتوب تحریر کرکے توجہ دلانے پر مجبور کردیا تھا۔ دوسرے صدر جمہوریہ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے بھی اپنے عہد کی بدعنوانی پر برسرعام سرزنش کرکے سیاسی حلقوں میں زلزلہ کی سی ایک کیفیت پیدا کردی تھی۔ اس وقت سے آج تک پچپن ساٹھ برس کے دوران ہمارے معاشرہ میں بدعنوانی کو جو عروج حاصل ہوا، اس کے نتیجے میں سماجی زندگی کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا بچا ہو، جس پر انگلی رکھ کر ہم دعویٰ کرسکیں کہ یہ بدعنوانی سے پاک ہے۔
کچھ عرصہ پہلے بدعنوانی کے انسداد کے لئے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ہندوستان کو دنیا کے نویں سب سے بڑے بدعنوان ملک کی حیثیت سے شناخت کیا تھا، اب اسی تنظیم کی نئی رپورٹ بتائی ہے کہ ہندوستان کرۂ ارض کے ۵۵ سب سے زیادہ بدعنوان ممالک میں سرفہرست ہے اور ایمانداری کی ترازو پر نیچے سے ۹۰ واں مقام اسے حاصل ہے، آج بھی اس کا دنیا کے ۱۰بڑے بدعنوان ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ایمانداری کی کسوٹی پر اس کو ۱۰ میں سے صرف ۸ء۲ نمبر ملتے ہیں، دوسری طرف ۷ء۹ نمبر حاصل کرکے فن لینڈ عالمی سطح پر ایمانداری میں سب سے اوپر ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے ہر سال پوری دنیا میں چار سو ارب ڈالر کی رقم بدعنوان عناصر کے قبضہ میں چلی جاتی ہے، رپورٹ کے مطابق سرکاری خرید وفروخت ، ٹھیکیداروں کے لین دین اور اس طرح کی دوسری سرگرمیوں میں دھاندلی برتنے کے باعث ہندوستانی ٹیکس دہندگان کو سالانہ سات سو کروڑ ڈالر کا غیر معمولی خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستانی کرنسی میں اس کا حساب لگائیں تو یہ رقم تقریباً ۳۲ ہزار رکوڑ روپے ہوتی ہے، اسی ادارہ کا یہ بھی انکشاف ہے کہ ہندوستان کے عام لوگ رشوت کے طور پر ہر سال قومی شعبہ کے دس محکمات کو ۷۲۸،۲۶کروڑ روپے کی ادائیگی کرتے ہیں یعنی کرپشن ملک میں محدود ہونے کے بجائے روز افزوں برگ وبار لارہا ہے اور اس پر قابو پانے کے تمامتر سرکاری دعوے اور کوششیں ناکامی سے ہم کنار ہیں، بلکہ یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ بدعنوانی نے ہمارے معاشرہ میں ایک فن اور متوازی اقصادیات کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہندوستان میںتعلیم اور صحت ایسے شعبے ہیں جو اوپر سے نیچے تک بدعنوانی میں ڈوبے ہوئے ہیں کیونکہ محکمہ صحت سے اپنا کام نکالنے کے لئے ۳۲ فیصد لوگ ۷۴۷۸ کروڑ روپے اور تعلیم کے شعبہ میں ۲۳ فیصد لوگ ۳۵۵۲ کروڑ روپے کی رقم ہر سال بطور رشوت ادا کردیتے ہیں۔ ان محکمات میں واحد اصول کوئی کارفرما ہے تو وہ یہی ہے کہ ’’اپنے عہدے کا بے جا استعمال کرکے میں تمہارے کام آتا ہوں۔ تو رقم ادا کرکے تم میرے کام آئو‘‘
ایشیا میں چین وجاپان کے مقابلہ میں ہندوستان کی سست رفتار ترقی کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ اس کی تہہ میں یہی رشوت کار فرما ہے جو ہمارے افسران اور ان کے ماتحت کارندے ریت کی شکل میں انتظامیہ کی مشنری میں ڈال کر اسے جام کررہے ہیں، وہ ایک روپیہ حاصل کرنے کے لئے قومی معیشت کے سو روپے برباد کرنے سے دریغ نہیں کرتے، ان کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ جتنا بڑا کام، اتنی زیادہ رقم، خاص طور پر نقدی کی شکل میں رشوت کی وصولی آج کرپشن کا آسان ذریعہ بن گیا ہے۔ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ سماجی زندگی اور یومیہ کے ایک ایک کام کو گناہ وثواب کی کسوٹی پر جانچنے اورپرکھنے والے ہمارے ملک ہندوستان میں رشوت اب گناہ کے دائرے سے باہر ہوگئی ہے اور سماج نے اسے منظوری دیدی ہے، خواہ رشوت لینے والا ہو یا دینے والا، دونوں کو یہ یقین ہے کہ اس کے بغیر ان کا کام نہیں چلے گا، بالفاظ دیگر رشوت ہمارے معاشرہ میں آج برق رفتاری سے دوڑنے والا پہیہ بن گئی ہے جس کے فٹ ہوتے ہی سست رو سرکاری مشنری تیزی سے حرکت میں آجاتی ہے، اسی لئے ہرکس وناکس اپنا کام نکالنے کے لئے رشوت کا سہارا لیتا ہے، جس کا کوئی واحد طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک کثیر پہلو عمل ہے، جب اعلیٰ افسران اپنے دفاتر کے عملے، خاص طور پر اردلیوں، چپراسیوں اور سرکاری گاڑیوں کو اپنے ذاتی کام کیلئے استعمال کرتے ہیں، غیرسرکاری لوگوں سے تحائف قبول کرتے ہیں، اپنے عہدے کے لحاظ سے رعایتوں کی خواہش ومطالبات کرتے ہیں، سبکدوشی کے بعد ان پرائیویٹ کمپنیوں میں ملازمت قبول کرتے ہیں، جن کے ساتھ ملازمت کے دوران ان کی ڈیلنگ ہوتی رہی ہے تو وہ یقینا بدعنوانی کی سب سے آسان لیکن نقصان دہ قسم رشوت خوری کی مرتکب ہوتے ہیں۔
ہندوستان کے چیف ویجیلنس کمشنر کا تجزیہ ہے کہ قومی اقتصادیات میں آج چار خاص محکمات کسٹم، ایکسائز، انکم ٹیکس اور زرمبادلہ ڈائریکٹریٹ کی مجرمانہ غفلت بلکہ بدعنوانی کے سبب سے ملک کی معیشت میں سیاہ دولت کا حجم چار ہزار کروڑ روپے کے اعداد کو پار کرگیا ہے، جے پی کرپلانی کی زیر صدارت ریلوے کے بارے میں تشکیل دی گئی کرپشن انکوائری کمیٹی کا تجزیہ ہے کہ بدعنوانی کو چار درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے (۱) معمولی سطح کی بدعنوانی (۲) اعلیٰ سطح کی بدعنوانی (۳) نوکر شاہی کی بدعنوانی (۴) سیاسی بدعنوانی، لیکن حالیہ عرصہ میں بدعنوانی کا ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے یعنی سماج کی خدمت کے نام پر خود کی بہبودکی فکر کرنا، گزشتہ چند سالوں کے دوران صحت، تعلیم، خواتین واطفال بہبود، ماحولیات کا تحفظ اور دفاع جیسے شعبوں میں ترقیاتی کام انجام دینے کے لئے حشرات الارض کی طرح غیر سرکاری تنظیمیں (این جی او) کام کرنے لگی ہیں، جو افسران بالا کے اشتراک سے مذکورہ شعبوں میں فلاحی امور کی انجام دہی کے نام پر کروڑوں روپے کی سرکاری گرانٹ ہضم کر جاتی ہیں اور متعلقہ شعبوں تک اس کا فائدہ کافی کم پہونچتا ہے۔
ہندوستان میں بدعنوانی کی تاریخ نئی نہیں ہے ملک کی آزادی سے پہلے انگریزوں کے دورِ اقتدار میں دوسری جنگ عظیم کے بعد اس کا آغاز ہوا اور بڑھتے بڑھتے پچھلی صدی میں ۹۰ کی دہائی بدعنوانی کے تعلق سے نقطہ عروج پر نظر آتی ہے، اس دہائی میں سابق وزیر اعظم سے سابق وزراء اعلیٰ ، وزراء اور گورنروں پر بھی بدعنوانی کے سنگین الزامات عائدہوئے اور ایک کے بعد ایک اسکیم یعنی گھوٹالے عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھے، چارہ گھوٹالہ، تیلگی اسٹامپ اسکینڈل، تابوت اور چینی کی خرید میں بدعنوانی، سرکاری مکانوں کے الاٹمنٹ میں جانبداری وغیرہ۔ بااثر سیاست دانوں کے ساتھ انتظامیہ اور عدلیہ کے ذمہ داروں کے نام مذکورہ بدعنوانیوں میں ملوث ضرور ہوئے لیکن ان کے خلاف عوام میں کوئی خاص ردعمل نظر نہیں آیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام لوگوں نے بدعنوانی کو برداشت کرکے اس کے ساتھ زندگی گزارنا قبول کرلیا ہے۔
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں جہاں عدلیہ نے بدعنوان افسروں اور سیاست دانوں پر گرفت کی، وہیں خود عدلیہ کے نظام بالخصوص نچلی عدالتوں میں اس کا اثر ونفوذ فکر وتشویش کا باعث بن رہا ہے، ایک ماہر انصاف کے مطابق نیچے کی عدالتوں میں ۹۵ فیصد عملہ رشوت خور ہوتا ہے، عوام کا تجربہ اس سے زیادہ تلخ ہے، عدالتوں میں مقدمات کی تعداد بڑھنے کی ایک اہم وجہ عملہ کی بدعنوانی بھی ہے، اگر آپ کے پاس خرچ کرنے کے لئے رقم ہے تو مقدمہ کی کارروائی کو برسوں طول دیا جاسکتا ہے۔
کرپلانی کمیٹی نے بدعنوانی پر قابو پانے کے لئے انتظامیہ میں اصلاحات اور قانونی چارہ جوئی کے علاوہ اصلاحی مہم میں اعلیٰ افسران کی سرگرم شرکت پرزور دیا تھا، جاپان کے مقابلہ میں چین کی شکست کے بعد چینگ پونے لکھا تھاکہ ’’موجودہ زمانہ میں مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے یہاں معیاری ادارے نہیں ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں دماغی طور پر ایماندار لوگوں کی کمی ہے، جس برق رفتاری کے ساتھ کنزیومر ازم کی زہریلی بیل پھل پھول رہی ہے، اس کے پیش نظر یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ بدعنوانی کا دائرہ مستقبل میںمزید وسیع ہوگا، اور اس وقت عوامی زندگی میں ایمانداری کو برقرار رکھنا سیاسی قیادت کے لئے بہت بڑا چیلنج بن جائے گا۔٭
Comments are closed.