ہدیہ! حصولِ محبت کا نبوی نسخہ

تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

چیف ایڈیٹر ہفت روزہ آب حیات بھوپال،ایم پی ٩٨٢٦٢٦٨٩٢٥

 

ھدیہ اسلام میں ایک مستحسن اور محبوب عمل ہے، اورتمدنی(Civilization) زندگی میں اس کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل بھی فرمایا ہے اور صحابہ کرام کو اس کی ترغیب بھی دی ہے، اماترمذی علیہ الرحمہ نے مستقل طور پر اس کا ایک باب قائم فرمایا ہے:”باب ماجاءفی حث النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی الھدیۃ” ٣٤/٢، ہدیہ کے آپسی لین دین پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ابھارنے اور ترغیب دینے کا باب، ہدیہ کے باہمی لین دین سے الفت محبت پیدا ہوتی ہے، امن و آشتی کی فضا ہموار ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "تھادوا تحابوا” ایک دوسرے کو ہدیہ لیادیا کرو کیونکہ اس سے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے۔
کسی کو کوئی چیز تحفہ،سوغات،نذرانہ،انعام اور دادودہش کے طور پر پیش کرنے کو ھدیہ کہتے ہیں۔ انگلش میں اس کی تعبیر”گفٹ”ہے۔
ہدیہ کے باہم لین دین سے دلوں میں محبت و الفت اور تعلقات میں خوش گواری پیدا ہوتی ہے،ہدیہ لینا دینا دلوں کے شبہات ذہنوں کے وساوس،خیالوں کے میل کچیل،اندرونی غضب وغصہ اور بیرونی عداوت ودشمنںی کو ختم کردیتا ہے۔
ھدیہ لینے دینےسے اس دنیا میں بہت سی آفتوں سے حفاظت کے ساتھ ساتھ عافیت و سکون بھی حاصل ہوتی ہے۔
ہدیہ وہ عطیہ ہے جو دوسرے کا دل خوش کرنے اور اس کے ساتھ اپنا تعلق خاطر ظاہر کرنے کے لیے دیا جائے اور اس کے ذریعہ رضائے الٰہی مطلوب ہو یہ عطیہ اورتحفہ اگر اپنے کسی چھوٹے کو دیا جائے تو اس کے ساتھ اپنی شفقت کا اظہار ہے، اگرکسی دوست کو دیا جائے تو یاد محبت کا وسیلہ ہے اگر کسی ایسے شخص کو دیا جائے جس کی حالت کمزور ہے تو یہ اس کی خدمت کے ذریعہ اس کی طیب خاطر کا ذریعہ ہے اور اگر اپنے کسی بزرگ اور محترم کو پیش کیا جائے تو ان کا اکرام ہے اور "نذرانہ” ہے۔
اگر کسی کو ضرورت مند سمجھ کر اللہ کے واسطے اور ثواب کی نیت سے دیا جائے تو یہ ہدیہ نہ ہوگا بلکہ صدقہ ہوگا۔ھدیہ جب ہی ہوگا جبکہ اس کے ذریعہ اپنی محبت اور اپنے تعلق خاطر کا اظہار مقصود ہو اور اس کے ذریعہ رضائے الٰہی مطلوب ہو۔ ہدیہ اگر اخلاص کے ساتھ دیا جائے تو اس کا ثواب صدقہ سے کم نہیں بلکہ بعض اوقات زیادہ ہوگا۔ ایک لفظ ہے”عطیہ” عطیہ کا لفظ ہدیہ اور نفلی صدقہ دونوں پر بولا جاتا ہے۔ ہدیہ اور صدقہ میں فرق یہ ہے کہ : ہدیہ امیر ، غریب اور ہاشمی وغیرہ سب کو دے سکتے ہیں ، جب کہ ” صدقہ واجبہ” مستحق کو دینا ضروری ہے، البتہ نفلی صدقات غریب ، امیر اور ہاشمی سب کو دے سکتے ہیں ۔
ہدیہ کے بعد، بعض صورتوں کے علاوہ رجوع کرنا مکروہِ تحریمی ہے، البتہ اگر کوئی ہدیہ کی ہوئی چیز واپس لے لے تو اس کی ملک ہوجاتی ہے، جب کہ صدقہ کردینے کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ ایسےہدیہ دے کر اسے واپس لینا بھی نہایت بری بات ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شناعت بیان فرمائی ہے آپ کا ارشادہے کہ: "کسی آدمی کے لیے یہ جائزنہیں اور درست نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی چیز عطیہ کے طور پر دیدے پھر اس کو واپس لے۔ہاں اگر باپ اپنی اولاد کو کچھ دے تو وہ اس سے مستثنیٰ ہے ( یعنی اس کے لئے واپسی کی گنجائش ہے۔ کیونکہ اولاد پر باپ کا ہر طرح کا حق ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدیہ اور عطیہ کی واپسی کی قباحت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہدیہ اور عطیہ دے کر واپس لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے کہ اس نے ایک چیز کھائی یہاں تک کہ جب خوب پیٹ بھر گیا اس کو قے کر کے نکال دیا، پھر اپنی اس قے ہی کو کھانے لگا۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی)
ہدیہ میں ثواب کے علاوہ غرض و مقصود سامنے والے کی خوش دلی اور طیبِ قلب ہوتا ہے، جب کہ صدقہ میں محض ثواب کا قصد ہوتا ہے۔ھدیہ اور صدقہ کے اس فرق کا نتیجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ شکریہ اور دعا کے ساتھ قبول فرماتے اور اس کو خود بھی استعمال فرماتے تھے۔اور صدقہ کو بھی اگرچہ شکریہ کے ساتھ قبول فرماتے اور اس پر دعائیں بھی دیتے لیکن خود استعمال نہیں فرماتے تھے بلکہ دوسروں ہی کو مرحمت فرما دیتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول و دستور تھا کہ آپ ہدیہ تحفہ قبول فرماتے تھے اور اس کے جواب میں خود بھی عطا فرماتے تھے۔(صحیح بخاری)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ: "جس شخص کو ہدیہ تحفہ دیا جائے تو اگر اس کے پاس بدلہ میں دینے کے لیے کچھ موجود ہو تو وہ اس کو دیدے اور جس کے پاس بدلہ میں تحفہ دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ (بطور شکریہ کے) اس کی تعریف کرے اوراس کے حق میں کلمۂ خیر کہے، جس نے ایسا کیا اس نے شکریہ کا حق ادا کر دیا اور جس نے ایسا نہیں کیا اور احسان کے معاملے کو چھپایا تو اس نے ناشکری کی۔ اور جو کوئی اپنے کو راستہ دکھائے اس صفت سے جو اس کو عطا نہیں ہوئی تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جودھوکے فریب کے دو کپڑے پہنے۔(جامع ترمذی،سنن ابی داؤد)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ جس کو کسی محبت کرنے والے کی طرف سے سے ہدیہ تحفہ دیا جائے تو اگر یہ ھدیہ پانے والا اس حال میں ہوکہ اس کے جواب اور صلہ میں ہدیہ تحفہ دے سکے تو ایسا ہی کرے اور اگر اس کی قدرت نہ ہو تو اس کے حق میں کلمۂ خیر کہے اور اس کے اس احسان کا دوسروں کے سامنے بھی تذکرہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کو بھی شکر سمجھا جائے گا۔ایک حدیث میں ہے کہ جس نے احسان کرنے والے بندہ کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کیا۔
(مسند احمد،جامع ترمذی)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے( اور مہاجرین نے انصار کی میزبانی اور ان کے ایثار کا تجربہ کیا) تو ایک دن مہاجرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ہم نے کہیں ایسے لوگ نہیں دیکھے جیسے یہ لوگ ہیں جن کے ہاں آکے ہم اترے ہیں ( یعنی انصار مدینہ) زیادہ ہو تو اس کو (فراخ حوصلگی اور دریادلی سے ہماری میزبانی پر) خوب خرچ کرنے والے اور کسی کے پاس) تھوڑا ہو تو اس سے بھی ہماری غمخواری اور مدد کرنے والے، محنت مشقت کی ساری ذمہ داری ہماری طرف سے اپنے ذمہ لے لی ہےاور منفعت میں ہم کو شریک کر لیا ہے (ان کی اس غیر معمولی ایثار سے) ہم کو اندیشہ ہے کہ سارا اجروثواب انہی کے حصہ میں آجائے (اور آخرت میں ہم خالی ہاتھ رہ جائیں) آپ نے فرمایا ایسانہیں ہوگا جبتک اس احسان کے عوض تم ان کے حق میں دعا کرتے رہوگے اور ان کے لئے کلمۂ خیر کہتے رہو گے۔(جامع ترمذی)
وہ چیزیں جن کا ھدیہ رد نہیں کرنا چاہیے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی کو ہدیہ کے طور پر خوشبو دار پھول پیش کیا جائے تو اس کو چاہیے کہ اس کو قبول ہی کرے رد نہ کرے کیونکہ وہ بہت ہلکی اور کم قیمت چیز ہے اور اس کی خوشبو باعث فرحت ہے۔(مسلم)ایک حدیث میں ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں بالخصوص ایسی ہیں جن کو رد نہیں کرنا چاہئے قبول ہی کرلینا چاہیے۔ تکیہ اور تیل، اور دودھ۔(جامع ترمذی)
کن لوگوں کو ہدیہ قبول نہیں کرنا چاہیے:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام وقت (یعنی حاکم اور فرمانروا کے ہدیے "غلول”( یعنی ایک طرح کی خیانت اور رشوت اور ناجائز استحصال کے قبیل سے ہیں۔(معجم اوسط للطبرانی)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے کسی شخص کے لیے (کسی معاملے میں) سفارش کی تو اگر اس شخص نے اس سفارش کی بنا پر سفارش کرنے والے کو کوئی ہدیہ پیش کیا اور اس نے وہ ہدیہ قبول کر لیا تو وہ سود کی ایک بڑی خراب قسم کے گناہ کا مرتکب ہوا۔ (سنن ابو داؤد)
اس طرح کے ناجائز ہدیوں کا تو لین دین معاشرہ میں پایا جاتا ہے لیکن افسوس ہے کہ امت میں باہم مخلصانہ ہدیوں کے لین دین کا رواج بہت ہی کم ہے بعض خاص حلقوں میں بس اپنے بزرگوں، عالموں، مرشدوں کو ہدیہ پیش کرنے کا تو پہلے کچھ رواج تھا لیکن اب ان حلقوں کی حالت بھی دگرگوں ہوگئ ہے۔
اب تو حال یہ ہے کہ ان کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنےکے بجائے انہی کی جیب خاص سے بابرکت پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح پہلے کے لوگ اپنے عزیزوں قریبوں پڑوسیوں وغیرہ کے ہاں ھدیے بھیجتے تھے لیکن اس کا بھی اپ رواج بہت ہی کم ہوگیا ہے۔ حالانکہ قلوب میں محبت و الفت اور تعلقات میں خوشگواری اور زندگی میں چین و سکون پیدا کرنے اور اسی کے ساتھ رضاۓ الہی حاصل کرنے کے لئے ہدیہ کا لینا دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتلایا ہوا نسخہ کیمیا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آپس میں ہدیے اور تحفے بھیجا کرو، ھدیے تحفے دلوں کے کینے ختم کر دیتے ہیں۔” (جامع ترمذی)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ آپس میں ھدیے تحفے دیا کرو، ھدیہ سینوں کی کدورت و رنجش دور کر دیتا ہے، اور ایک پڑوسن دوسری پڑوسن کے ہدیہ کے لیے بکری کے کھر کے ایک ٹکڑے کو بھی حقیر اور کم تر نہ سمجھے۔
لیکن افسوس صد افسوس کہ آج معاشرہ بگڑ گیا اور ماحول تخریبی سمت عمل پیرا ہے، معاشرہ کا ہر فرد "ھل من مزید،ھل من مزید” کے چکر میں ہے، آنے والی چیز خواہ جس طرف اور جس جگہ سے بھی آۓ اس سے اسے کوئی سروکار نہیں، بس آنے والی کو آنے دیا جائے،اسے روکا نہ جائے،حلال وحرام کے تمیز کئے بغیر معاشرے کا ہر فرد اسی خود غرضانہ اور مفاد پرستانہ نظریہ کا شکار ہوگیا ہے۔ اگر ایسے ماحول میں ہدیہ کی سنت پر عمل کیا جائے تو بعید نہیں کہ ایک مرتبہ پھر موجودہ دورکا مسلمان چودہ سو سالہ پیچھے کے مناظر کا نظارہ کر سکے اور پھر اس میں وہی یگانگت اور محبت کی فضا قائم ہوجائے جو اسلام کا اصل مقصود ومنشا ہے۔ بنو امیہ، بنوعباسیہ اور سلطنت عثمانیہ بلکہ اس کے بعد تک ادوار میں ہدیہ اور تحفہ کا رواج تھا۔خانقاہیں، مساجد اور مدارس میں ہدایا اور تحائف دینے والوں کی قطار لگی رہتی تھی ہر کوئی اپنی اوقات سے بڑھ چڑھ کر تحائف پیش کرتا اور نذرانے قبول کرنے کے لیے اصرار کرتا، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں اب ہر آدمی چاہتا ہے کہ کوئی مجھے ہی تحفہ دے یا میری ہی خدمت میں نذرانہ پیش کیا جائے۔
خصوصاً آجکل کے علمائے کرام کی حالت دیگر گوں ہوگئ ہے۔اس لئے علمائے کرام اور حفاظ عظام اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر ان کی خدمت کی جائے اور عوض کے طور پر ان سے دعاۓ لیل نہار اور اشک سحر گاہی لی جائے، لیکن خود غرض اور مفاد پرست وقت کو کون سمجھائے؟ سمجھانے والا ہی لعن وطعن کا شکار ہو جاتا ہےاور اس کی شخصیت آن واحد میں مجروح کر دی جاتی ہے۔
علمائے کرام، خطیبان اسلام اور واعظان حضرات پر بھی ضروری ہے کہ اپنی تقریروں خطبوں اور وعظوں میں اس امر کی طرف پوری رغبت اور انہماک سے توجہ دلائیں تاکہ موجودہ دور کے مسلمان اس متروکہ سنت پر پھر سے عمل پیرا ہوسکیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: من اَحْیَا سُنَّۃً مِنْ سُنَّتِی قَدْ اُمِیتَتْ بَعْدِی فَاِنَّ لَہُ مِنَ الاَجْرِ مِثْلَ اجر مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ الناس غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اُجُورِہِمْ شَیْئًا (ابن ماجہ شریف ص١٩) جس کسی نے بھی میری ایسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد متروک ہو (مٹ) چکی تھی تو اس کے لیے اتنا ہی ثواب ہو گا جتنا کہ اس پر عمل کرنے والوں کو ہوگا اور لوگوں کے اجر میں کچھ بھی کمی نہیں ہوگی۔
ہدیہ یا تحفہ لین دین کا رواج،ایک متروکہ سنت کے احیاء کا باعث ہے۔ اس میں دوسرے کا فائدہ کم اور اپنا ہی فائدہ زیادہ ہے۔باہم ہدیہ یا تحفہ لینے دینے والے جس طرح ماجور ہیں۔یقین ہے کہ موجودہ دور کے مسلمان اس پر عمل پیرا ہو کر انسانی معاشرہ کو اسلامی معاشرہ اور تخریبی ماحول کو تعمیری ماحول میں بدلنے کی کوشش کریں گے اور آپس میں اتحاد اور یگانگت کی پرامن فضا قائم کریں گے۔

Comments are closed.