حضرت مولانا محمد الیاس ندوی بھٹکلی سے ایک ملاقات

غفران ساجد قاسمی

چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظم حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ کی وفات کے معا بعد ممبئی کے سہاگ پیلیس میں منعقد ہونے والی سب سے پہلی تعزیتی نشست میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ بصیرت آن لائن حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ تعالی کی حیات و خدمات پر مشتمل ایک خصوصی شمارہ شائع کرے گا، اس مناسبت سے ہم لوگ مختلف اہل قلم سے رابطہ کرنے میں مصروف تھے کہ جمعرات کے دن ہمارے سرپرست محترم حضرت مولانا رشید احمد ندوی صاحب مدظلہ العالی نے یہ اطلاع دی کہ معروف عالم دین، ندوۃ العلماء لکھنؤ کے رکن شوریٰ اور درجنوں کتابوں کے مصنف، داعی اور ماہر تعلیم حضرت مولانا محمد الیاس ندوی بھٹکلی ممبئی میں تشریف رکھتے ہیں، انشاء اللہ جمعہ کے دن بعد نماز عصر ملاقات کا وقت دیا ہے، یقینا مولانا الیاس ندوی بھٹکلی کے کارناموں سے پوری دنیا واقف ہے اور تعلیم کے میدان میں جس طرح انہوں نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں وہ تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے، اتنا ہی نہیں غیر مسلموں میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور توحید کو پہنچایا ہے وہ قابل تحسین اور لائق تقلید کارنامہ ہے.
بہرحال ہم لوگوں نے عصر کی نماز اول وقت میں نواب مسجد پائیدھونی میں اداکی اور پھر شالیمار ہوٹل کے سامنے واقع جکتی ٹورس اینڈ ٹراویلس میں پہونچ گئے، حضرت مولانا محمد الیاس ندوی بھٹکلی نے بہت ہی گرمجوشی سے ہمارا استقبال کیا اور خبر خیریت کے بعد مختلف ملی مسائل پر گفتگو شروع ہوگئی، یوں تو مولانا کے ساتھ تقریبا دو گھنٹے سے زائد کی تفصیلی ملاقات میں بہت سارے امور زیر بحث آئے لیکن ان میں سے کچھ باتیں ایسی ہیں جو آج کے دور میں کام کرنے والے افراد کے لیے بہت اہم ہے، میں چاہتا ہوں کہ انہی اہم باتوں کا تذکرہ کردوں تاکہ کام کرنے والے افراد ان باتوں کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل طے کریں.
مولانا الیاس ندوی بھٹکلی اپنے غیر معمولی کارناموں کی وجہ سے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، وہ کام پر یقین رکھتے ہیں اور کاموں کو انجام دینے میں شریعت کی پیروی کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ خواہ کتنا ہی مفید کام کیوں نہ ہو لیکن اگر اس میں ذرہ برابر بھی شریعت کی مخالفت یا شرعی اصولوں کے خلاف جانے کا شائبہ بھی ہوتا ہے تو وہ اس کام کو ترک کردیتے ہیں، اس معاملے میں ان کا بہت واضح اصول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شریعت کی رو سے جتنے کاموں کا مکلف بنایا ہے اتنا ہی مجھے کرنا ہے، اگر شرعی حدود سے باہر جاکر کام کرنے کی نوبت آتی ہے تو گویا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا مکلف ہی نہیں بنایا ہے اس لیے میں اسے نہیں کروں گا، حالانکہ آج کل بڑی تعداد میں ہمارے سامنے ایسی نظیریں اور مثالیں موجود ہیں کہ ہم کام تو دین کا کررہے ہیں لیکن اس کے لیے خواہ کتنی ہی بے دینی کام کیوں نہ کرنا پڑے، کتنا ہی جھوٹ کیوں نہ بولنا پڑے، ہم یہ سمجھ کر سارے غیر شرعی کام کر گذرتے ہیں کہ کرتو رہے ہیں دین کا کام نا اللہ معاف کردے گا، حالانکہ یہ سوچ سراسر غلط ہے اور دینی کاموں کے لئے ناسور ہے، یہی وجہ ہے کہ آج دین کے نام پر اتنے سارے کام ہونے کے باوجود ہماری زندگیوں میں دین کا اثر پیدا نہیں ہوپا تا ہے، یہ اسی غیر شرعی کاموں کا نتیجہ ہے.
دوران گفتگو مولانا بھٹکلی نے فرمایا کہ آج کل ہمیں مسلم اسکولوں کی نہیں بلکہ خالص اسلامی اسکولوں کی ضرورت ہے، ایسے اسلامی اسکولوں کی ضرورت ہے جہاں شرعی اصولوں کی مکمل پاسداری ہو، صرف برائے نام اسلامی اسکول نہ ہو، مولانا نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اسکول تو اسلامی چلاتے ہیں لیکن طریقہ غیر اسلامی ہوتا ہے، موجودہ دور اتنا نازک ہے کہ آپ نرسری کلاس سے ہی غیر مخلوط تعلیم کا نظام بنائیں، آج کل موبائل اور الیکٹرانک گجٹس نے اتنا ماحول خراب کردیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے ہماری گمان سے زیادہ جوان ہوچکے ہیں، اس لیے یہ نا سمجھیں کہ ابھی تو صرف 5 سال کی عمر ہے، کیا فرق پڑتا ہے مخلوط تعلیم کا، لیکن ہرگز نہیں، ایسا سوچنا گویا آپ کا ذہن معاشرے کی خرابیوں سے نابلد ہے، ہرگز ہرگز نہیں، آپ کو نرسری کلاس سے ہی غیر مخلوط نظام تعلیم کی بنیاد رکھنی ہے اور اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے ہیں تو پھر آپ کے ایسے اسلامی اسکول کی مسلم سماج کو کوئی ضرورت نہیں ہے، اس کے باوجود اگر آپ نے اپنے اسکول کے نام میں لفظ اسلامی کا اضافہ کیا ہے تو گویا آپ قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں، آپ کو اللہ کے یہاں اس کا جواب دینا ہوگا.
مزید گفتگو کرتے ہوئے مولانا بھٹکلی نے فرمایا کہ اس وقت ضرورت ہے کہ برادران وطن کے درمیان اسلام کو انتہائی خاموشی کے ساتھ پہنچایا جائے، اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ غیر مسلم طلبہ و طالبات کے درمیان سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئز کمپٹیشن ،سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مقابلہ مضمون نویسی اور تقریری مقابلے منعقد کرائیں، اور اس کی تیاری کے لیے انہیں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھی گئی اکابر علماء کی مستند کتابیں تقسیم کریں تاکہ وہ مقابلے میں حصہ لینے کے لیے کم از کم اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرے، اگر 100 میں سے دس طالب علم نے بھی مقابلے میں حصہ لیا تو گویا 10 طالب علم اور ان کے اہل خانہ بالخصوص والدین تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پہونچ گئی ،اس طرح اگر اس کے ذہن میں اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے غلط فہمی ہوگی تو وہ انشاء اللہ دور ہوجائے گی اور کیا بعید کہ اللہ رب العزت اسے اس مقابلے کو اس کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنادے، مولانا بھٹکلی نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں گذشتہ دسیوں سال سے اس کا تجربہ کررہا ہوں اور صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ عرب ممالک، یورپی ممالک اور دیگر ممالک میں مجھے بہت ہی اچھا تجربہ ہوا ہے اور میں اپنے تجربات کی روشنی میں کہ سکتا ہوں کہ یہ اسلام کی حقانیت اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو برادران وطن تک پہونچانے کا بہت ہی کارآمد نسخہ ہے.
موجودہ وقت میں ایک ملک گیر تحریک جسے لوگ حفظ قرآن پلس اور عالم پلس کے نام سے جانتے ہیں اس کے تعلق سے بات کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ مجھے اس تعلق سے شرح صدر نہیں ہے اور اس سلسلے میں میرے کچھ تحفظات ہیں، جس طرح سے تحریک چلاکر مدرسہ کے ذہین بچوں کو مدرسہ سے بھٹکانے کی کوشش کی جارہی ہے، آنے والے چند سالوں میں اس کے بھیانک نتائج مرتب ہوں گے، مدرسہ کی روح ختم ہوجائے گی، مولانا بھٹکلی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کے قیام کا مقصد ہی حافظ قرآن اور عالم دین بنانا تھا، دین کا خادم آوروں داعی پیدا کرنا تھا، یہ اچانک مدرسوں میں انجینئر، ڈاکٹر کی تلاش کیسے شروع ہوگئی، یہ تو صرف 3 سے 4 فیصد ہیں جو قوم کی امامت اور رہبری کے لیے تیار کئے جارہے ہیں، خدارا انہیں تو کم از کم نہ چھیڑیں، بلکہ آپ سماج میں جائیں اور قوم کے ان 96 فیصد بچوں کو تلاش کریں جو کچھ نہیں بن رہے ہیں یا وہ کچھ بننا تو چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس مواقع نہیں ہیں، خدارا ان پر مہربانی کرنے کی بجائے قوم کے 96 فیصد بچوں پر مہربانی کرنے کی کوشش کریں، غریب اور ضرورت مند ماں باپ کی بہت دعائیں ملیں گی.
آخر میں مولانا بھٹکلی نے کہا کہ اس وقت ضرورت ہے کہ ہم نوجوان فضلا کی مختلف میدانوں میں تربیت کریں تاکہ وہ ہر سطح پر قوم کی خدمت کا فریضہ انجام دے سکیں.
ایک بات معلوم ہوئی کہ مولانا الیاس ندوی بھٹکلی صاحب اسمارٹ فون استعمال تو کرتے ہیں لیکن واٹس ایپ استعمال نہیں کرتے، ایسے وقت میں جب کہ ہر شخص اپنا زیادہ سے زیادہ وقت واٹس ایپ پر خرچ کرتا ہے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مولانا الیاس ندوی صاحب واتس ایپ استعمال نہیں کرتے، جس سے اندازہ ہوا کہ یہی وجہ ہے کہ ان کے وقتِ میں اس قدر برکت ہے، ویسے تو اور بھی کئی بڑے لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ واٹس ایپ استعمال نہیں کرتے لیکن جن دو ایسے بڑے لوگوں سے میری ملاقات ہے جو واتس ایپ استعمال نہیں کرتے ان میں پہلے شخص روزنامہ انقلاب ممبئی کے ایڈیٹر جناب شاہد لطیف صاحب ہیں اور دوسرے حضرت مولانا الیاس ندوی بھٹکلی صاحب مدظلہ العالی ہیں.
وقت کافی ہورہا تھا، مولانا کو بھٹکل کے سفر کی تیاری بھی کرنی تھی، لہذا میں رفیق مکرم حضرت مولانا رشید احمد ندوی صاحب مدظلہ کے ساتھ مولانا بھٹکلی صاحب سے سلام کرتے ہوئے رخصت کی اجازت چاہی تو جواب میں مولانا بھٹکلی نے ہم دونوں سے وعدہ لیا کہ آپ لوگ جلد ہی بھٹکل آئیں گے اور ہم لوگ وعدہ کرتے ہوئے رخصت ہوگئے.

Comments are closed.