کرناٹک میں مسلمان کو نائب وزیراعلیٰ بنانے کی بحث کیوں ؟
شکیل رشید ( ایڈیٹر، ممبئی اردو نیوز)
کرناٹک کی نئی ، غیر بی جے پی حکومت میں ، مسلمانوں کو کتنا فیصد حصہ دیا جانا چاہیے ، یا نہیں دیا جانا چاہیے ، اس سوال پر ایک ایسا مباحثہ شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، جس کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ ، مسلمانوں کو ’ ذہنی اور نفسیاتی کشمکش‘ میں مبتلا کیا جائے ۔ بلاشبہ مسلمانوں نے کانگریس کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے ، اور اس کردار کی بنیاد پر کانگریس کے لیے لازمی ہے کہ وہ مسلمانوں کو نظرانداز نہ کرے ، انہیں کابینہ میں ، وہ جس تعداد میں چُن کر آئے ہیں ، اس کی مناسبت سے حصہ دے ۔ امید رکھنی چاہیے کہ کانگریس کی اعلیٰ کمان مسلمانوں کو حصہ دے گی ۔ اس غیر ضروری مباحثہ کے درمیان جہاں ایک جانب سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اس بار کرناٹک میں کسی مسلمان کو وزیراعلیٰ ، وزیرِ مالیات یا وزیرداخلہ بنایا جا سکتا ہے ؟ وہیں ایک حلقہ سے یہ مانگ کی جا رہی ہے کہ اس بار کسی مسلمان کو نائب وزیراعلیٰ بنایا جائے ، اور کابینہ میں کم از کم پانچ مسلم چہروں کو نمائندگی دی جائے ۔ کانگریس کے ٹکٹ پر نو مسلمان چُن کر اسمبلی میں پہنچے ہیں ، اس لیے یہ مطالبہ کہ نو میں سے چھ ممبران کو بڑی ذمہ داریاں دی جائیں ، کیا واقعی مناسب ہے ؟ اس سوال پر ، انہیں جو اس طرح کا مطالبہ کر رہے ہیں ، غور کرنا چاہیے ، اور کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو بھی غور کرنا چاہیے کہ کیوں نہ اس بار کابینہ میں مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دے ؟ کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنے منتخب مسلم ممبران اسمبلی سے اس سلسلے میں گفت و شنید کرے ، اور کسی بیرونی شخص یا اشخاص کو یا باہری عناصر کو مداخلت نہ کرنے دے ، کیونکہ بیرونی عناصر پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ، ممکن ہے وہ بی جے پی یا سنگھی ٹولے کے اُن عناصر کے زیرِ اثر اپنی زبانیں کھول رہے ہوں ، جن کی ، کرناٹک سے بھگوا حکومت کے خاتمہ کے بعد ، نیندیں اڑی ہوئی ہیں ، اور وہ کوشاں ہیں کہ کسی طرح کانگریس کی حکومت سازی میں رخنے اڑائیں ۔ کرناٹک میں کانگریس کے لیے حکومت سازی کا مرحلہ نہ آسان ہے اور نہ ہی سیدھا ۔ راہ میں کئی دشواریاں کھڑی ہوئی ہیں ۔ ڈی کے شیوکمار اور سدا رمیا ، اِن دو بڑے لیڈروں میں وزیراعلیٰ کی کرسی کے لیے جو کھینچاتانی مچی ہوئی ہے ، اسے دیکھ کر بی جے پی کی بانچھیں کھِلی جا رہی ہیں ۔ یاد رہے کہ الیکشن رزلٹ آنے سے پہلے ہی بی جے پی کے ایک لیڈر آر اشوک نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت بنے گی ، یعنی انھوں نے ’ آپریشن کمل ‘ کا اشارہ دے دیا تھا ۔ کانگریس اسی لیے بہت احتیاط سے قدم اٹھا رہی ہے ، وہ یہ چاہتی ہے کہ حکومت میں ہر اُس فرقے کو شامل کیا جائے ، جس کا کانگریس کی جیت میں حصہ رہا ہے ، جیسے لنگائت ، وکالیکا ، مسلمان ، ایس ٹی اور سی ایس ٹی ۔ ہر برادری اپنی برادری کے کسی ممبر اسمبلی کو نائب وزیراعلیٰ بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے ، اس لے بہت ممکن ہے کہ کانگریس اپنی حکومت میں تین نائب وزرائے اعلیٰ بنا دے ۔ بی جے پی کے یدی یورپا جب وزیراعلیٰ تھے ، تب ان کی حکومت میں تین نائب وزیراعلیٰ تھے ، لہذا اگر کانگریس نے بھی ایسا کیا تو اس پر کوئی بھی سیاسی پارٹی اعتراض نہیں کر سکے گی ۔ کرناٹک میں جو مسلمان کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں ، انھوں نے اپنی جانب سے کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے ۔ بیلگاوی کے رکن اسمبلی آصف سیٹھ نے ایک مطالبہ ضرور کیا ہے ، لیکن وہ کسی مسلم رکن اسمبلی کو نائب وزیراعلیٰ بنانے کا نہیں ہے ، بلکہ کرناٹک پردیش کانگریس کے کارگذار صدر ستیش جرکی ہولی کو نائب وزیراعلیٰ بنانے کا ہے ۔ منتخب مسلم ممبران اسمبلی نے ، سینئر کانگریسی قائد بی زیڈ ضمیر خان کو نائب وزیراعلیٰ بنانے کا معاملہ پارٹی کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے ۔ یہ اَنا کا مسٔلہ نہیں بنایا گیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن حلقوں کی طرف سے کابینہ میں زیادہ سے زیادہ مسلم نمائندگی کی بات کی جا رہی یا وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ بنانے کی مانگ کی جا رہی ہے ، ان کا کرناٹک میں کانگریس کی جیت میں کوئی عملی حصہ نہیں ہے ، بلکہ یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ یہ بھگوا دھاریوں کے ٹولے میں رہے ہیں ، اور الیکشن کے دوران ان کی یہ پوری کوشش رہی ہے کہ کانگریس نقصان اٹھائے اور بی جے پی کو فائدہ پہنچے ۔ ریاست کے مخلص علما ء کرام اور دانشوران جب مسلمانوں کے ووٹوں کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے محنت کر رہے تھے ، تب یہ ، جو مطالبہ لے کر سامنے آئے ہیں ، اس کوشش میں تھے کہ مسلمان متحد نہ ہو سکیں ۔ اب یہ ، مسلمانوں کی نمائندگی سے متعلق ، ایک مخصوص ذہنیت کے حامل ٹی وی چینل کی مہم کا حصہ بن کر میدان میں اُتر آئے ہیں ۔ مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمان ذہنی اور نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہو جائیں اور انہوں نے جس سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے ، وہ سوجھ بوجھ ہی ان کی نظر میں مشتبہ ہو جائے ۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اس غیر ضروری بحث میں نہ الجھ کر ، اسے منتخب ممبران اور کانگریس کی اعلیٰ قیادت کی صوابدید پر چھوڑ دیں ۔ فی الحال توجہ اس بات پر ضروری ہے کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں جو باحجاب بچیاں تعلیم سے محروم ہوئی ہیں ، انہیں تعلیم گاہوں تک پہنچایا جائے ، اور جن غریبوں کی روزی روٹی چھینی گئی ہیں ، معاشی بائیکاٹ کرکے یا ملازمتیں چھین کر ، وہ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو جائیں ۔
Comments are closed.